روز نامہ آساپ اور تربت میں ذرائع ابلاغ کا زوال


کیچ کا صحافتی سفر ادھورا رہے گا جب تک آساپ کا ذکر نہ آئے۔ آساپ کا جنم بھومی علاقہ۔ ماہنامہ سے ہفت روزہ پھر ہفت روزہ سے روزنامہ کا سفر روزنامہ آساپ نے کیچ کی سرزمین پر طے کرکے کیا۔ دشتی بازار میں واقع آساپ کا پرنٹنگ پریس بطور نشانی اب بھی آساپ اخبار کی موجودگی کا پتہ بتا دیتی ہے۔ یہ کیچ میں ذرائع ابلاغ کا عروج کا دور تھا جب واحد اخبار آساپ اپنے قارئین کو صبح صبح اخبار کی تازہ خوشبو پہنچایا کرتا تھا۔

آساپ اخبار نے صحافتی شکل یکسر بدل کر رکھ دی۔ ناممکن کو ممکن میں بدل ڈالا۔ حکومتی اشتہارات سے محرومی اور زمینی صورتحال نے آساپ کو کیچ میں اپنا سفر مکمل کرنے پر مجبور کیا۔ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی آج بھی اہلِ مکران کو اخبارات سے جڑا پا رہی ہے صبح کا اخبار شام کو موصول ہوجائے تو بھی غنیمت قرار پائے۔

کیچ آمد کا چوتھا دن تھا جن دوستوں سے بذریعہ سوشل میڈیا رابطہ تھا انٹرنیٹ کی عدم دستیابی نے ہمیں ان کو مطلع کرنے سے محروم رکھا۔ کیچ کی صحافی برادری سے ملنا تھا۔ اپنی آمد کی اطلاع اسد بلوچ کو دے دی۔ اسد بلوچ سے ان دنوں سے رابطہ قائم ہے جب ہم حال احوال کا آغاز کر چکے تھے۔ تو اسد بلوچ کا نام لکھنے والوں کی فہرست میں آیا۔ پہلے طے پایا کہ صحافی برادری سے ملاقات تربت پریس کلب میں ہو پائے۔ مگر بعد میں یہ کہہ کر ملاقات کے لیے جگہ وش نیوز کا آفس قرار پایا کہ پریس کلب کے احاطے میں لوکل گورنمنٹ کی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے مناسب یہی ہے وش نیوز کے دفتر میں محفل جمائی جائے۔ تربت مین روڈ پر واقع آغا خان لیبارٹری کے اوپری منزل پر دوکمروں پر مشتمل وش نیوز کا آفس واقع ہے۔ یہ دفتر صحافیوں کو ایک جگہ جمع کرنے کا اس وقت اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

دنیا ٹی وی سے دورانِ وابستگی نور شاہ نور سے اکثر حال حوال ہوا کرتی تھی۔ روبرو یہ پہلی ملاقات تھی۔ طارق مسعود کی آواز ہم بی بی سی میں سنتے چلے آرہے تھے۔ آج کل وہ پی ٹی وی کے ساتھ وابستہ ہو چکے ہیں۔ حقیقی معنوں میں ایک صحافی مگر نہ جانے آج کل ہوا کیا ہے کہ ان کا قلم خاموش ہے۔ پورا کیچ ایک داستان ہے ہر باب الٹ دیں ایک کہانی نکل آتی ہے۔ جس کیچ کو ہم دیکھ آئے تھے اس میں مثبت پہلوؤں کا عنصر بہت زیادہ نمایاں نظر آیا۔

ان پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے اگر یہاں کا صحافتی حلقہ انہیں زیر تحریر لے آئے۔ پھلان بلوچ روزنامہ انتخاب کے لیے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ماجد صمد وش نیوز کیچ کے کرتا دھرتا کہلاتے ہیں۔ کمرے کے اندر یہ احباب سمائے تھے۔ کتنے اخبارات آتے ہیں تو جواب آیا کہ تین۔ صحافت کا سفر کیسے جا رہا ہے۔ جوابا اسد بلوچ نے کہا کہ صحافت ہے ہی نہیں۔ میں نے چاروں طرف نگاہیں دوڑا دیں۔ واقعی مجھے صحافت نظر نہیں آیا۔ کیچ صحافتی میدان کا خاموش مجاہد بن چکا تھا۔

تربت یونیورسٹی میں اس وقت بے شمارڈیپارٹمنٹ بن چکے ہیں مزید بننے جارہے ہیں۔ مگر اس فہرست میں ابلاغ عامہ کا مضمون گمشدہ ہے۔ اس پر کوشش کیوں نہیں کرتے؟ اگلا سوال یہی تھا۔ یونیورسٹی انتظامیہ سے بات کر چکے ہیں مگر وہ یہ کہہ کر ٹال گئے ہیں کہ اگر بنا دیں تو اس میں پڑھنے والے کہاں سے آئیں گے۔ یہ فقط بہانہ ہے۔ پریس کلب کے احباب انتظامیہ سے مل لیں مطالبہ کریں۔ شعبہ بنا لیں طالبعلم خود بخود آئیں گے۔ پھلان بلوچ کی طرف سے بات سامنے آئی کہ پریس کلب کی طرف سے اس حوالے سے اگر قرار داد پاس کیا جائے تو کیسا رہے گا۔ موجود شرکا نے اس نکتے پر اتفاق کیا۔ نیکی کا کام ہے دیر نہیں کرنا چاہیے۔ طارق مسعود کی جانب سے سوال آیا کہ کیچ کیسے آنا ہوا؟ جوابا کہا کہ کیچ اور آواران کا رشتہ بحال کرنے۔ اس پر قہقہے بلند ہوئے۔

الیاس نذر اور اس کے بھائی دیدگ نذر کیچ سے ہی ماہنامہ ”درونت“ کا اجرا کر رہے تھے۔ یہ میگزین وسیع پیمانے پر خریدا جانے والا میگزین کہلاتا تھا۔ بلوچی میں نکلنے والا یہ میگزین بہت جلد بچوں میں مقبول ہوا اور جلد سکولوں تک رسائی پانے میں کامیاب ہوا۔ اسد بلوچ کے مطابق میگزین کی 3 ہزار کاپیاں صرف کیچ میں بکتی تھیں۔ 2010 کو الیاس نذر لاپتہ کر دیے گئے تین ہفتے بعد ان کی مسخ شدہ لاش ہاتھ آئی۔ ان کے بھائی دیدگ نذر جلا وطن ہوگئے۔ وہ دن اور آج کا دن نہ ہی درونت سامنے آیا اور نہ ہی درونت کا نعم البدل۔ ایک اور صحافی رزاق گل تھے۔ ایکسپریس نیوز کے ساتھ وابستہ تھے۔ 2012 کو اغوا ہوئے ایک روز بعد ان کی لاش ہاتھ آئی۔

اس وقت کیچ میں روزنامہ انتخاب بڑے پیمانے پر پڑھا جاتا ہے۔ دوسرے نمبر پر ڈان اخبار آتا ہے۔ دیگر اخبارات میں روزنامہ ایگل، بولان، نوائے وقت، امت شامل ہیں جن کی سرکولیشن کیچ شہر کے اندر کی جاتی ہے۔

ایک بار پھر سے تاریکی اپنی بانہیں پھیلا چکی تھی۔ ہم سول ہسپتال میں واقع ندیم گم کے کیفے کی جانب رواں دواں تھے۔ راشد اشرف نظر آئے۔ راشد اشرف کسی زمانے میں ریڈیو پاکستان کوئٹہ اسٹیشن کے پروڈیوسر ہوا کرتا تھا۔ انہی کی زبانی ہم تین بجے آدینک پروگرام سنا کرتے تھے۔ اتوار کو ٹیلیفونک پروگرام ہوا کرتا تھا جس میں سامعین کے فرمائشی ٹیلیفون کالز سنے اور اس پر فرمائشی گیت سنائے جاتے تھے۔ آج کل وہ ریڈیو پاکستان تربت اسٹیشن میں بطور ڈائریکٹر متعین ہیں۔

جب تک ہم ریڈیو پاکستان تربت کے صدر دروازے تک پہنچ جاتے راشد اشرف اندر داخل ہوچکے تھے۔ ہم نے آفس تک اس کا تعاقب کیا اور پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ کیسا ہے تربت میں ریڈیو کا سفر؟ اس کے بعد شکوے تھے شکایتیں تھیں مایوسی کا عنصر تھا جو اس کی باتوں سے جھلک اٹھتا تھا۔ اس کے بعد ریڈیو اسٹیشن کے اندرونی ساخت کا جائزہ لینے کے لیے ہمیں ریڈیو کے مختلف سیکشنز لے جایا گیا۔ وہ ریڈیو اسٹیشن جو اس کی آمد سے قبل فقط ایک بلڈنگ ہوا کرتا تھا۔ راشد اشرف کی آمد نے اسے فرنیچر اور قالین سے مزین کیا یہ سب کچھ اس نے دوستوں کی تعاون سے مل کر کیا۔ پروگرام کون کون سے ہوتے ہیں چار پروگراموں کا نام انہوں نے بتایا جن میں آدینک پروگرام کا نام بھی شامل تھا جسے وہ خود بھی نہیں بھلا پایا۔ رینج کہاں کہاں تک ہے؟ کیچ، گوادر اور پنجگور کو کور کرتا ہے۔ اچھا آواران تک کوریج جاتی ہے کہ نہیں۔ جوابا کہا۔ پیغامات آتے رہتے ہیں یہ نہیں معلوم کہ وہاں تک آواز پہنچ جاتی ہے کہ نہیں۔

میں نے کہا کہ صحافت پہ کیوں نہ ایک پروگرام کر لیتے جس میں صحافی برادری، تربت یونیورسٹی انتظامیہ کو بلا کر یونیورسٹی کے اندر ابلاغ عامہ کے شعبے کی بحالی پر بات نہیں کرتے۔ صحافت سے اتنے نالاں تھے کہ اس موضوع پر بات کرتے ہوئے میری باتیں اسے ناگوار لگیں۔ ریڈیو وقت کے دھارے میں بہہ چکا ہے یا بہے گا مگر تربت میں اب بھی ریڈیو اپنا معیار رکھ پائے گا جب تک جدید ٹیکنالوجی کا سایہ کیچ پر نہیں پڑ پاتا۔ اسٹیشن ڈائریکٹر کی فہرست پر نظر دوڑا دی تو 1981 سے لے کر اب تک کی ایک طویل فہرست بورڈ پر نمایاں تھی جس میں عابد رضوی سمیت کئی نام شامل تھے۔ ہم ریڈیو اسٹیشن کو الوداع کہہ کر سول ہسپتال کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔

Facebook Comments HS