کورونا وائرس: انسانیت انتہائی مشکل وقت سے گزررہی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا انتہائی مشکل وقت سے گزررہی ہے انسانی آبادی پر یہ وقت کڑا ہے، ہرلمحہ نازک، ہرساعت خوفزدہ کردینے والا ہے ازدحام اور ہجوم کے بیچ نہایت سرعت کے ساتھ زندگی بسرکرنے اور اپنی ہی دھن میں سرگرداں اس عالم کو ایک ناگہانی وبا نے کچھ اس طرح سے اپنی چپیٹ میں لے لیا ہے کہ انسان کا جینا محال ہے، ملنا مشکل ہے زندگی دوبھر ہے کوروناوائرس دوہزار انیس (کووڈ 19 ) کے ہلاکت خیز، زود اثر متعدی اثرات سے کرۂ ارض پہ محشر بپا ہے قیامت خیز منظر انسان اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے ہرشخص اپنے سامنے موجود فرد کو مشکوک نظر آرہا ہے تپاک سے گلے لگانا اور طمطراق سے مصافحہ کرتے ہوئے ہاتھوں کو دبادینے کے عادی افراد ایک فاصلے کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

پھر بھی دل کو یہ دھڑکا لگا رہتا ہے وائرس اپنی چپیٹ میں نہ لے لے۔ دنیا میں ہو کا عالم رات کو بھی دن کی طرح برتنے والا، وقت کو اپنی قابو میں کرنے والا اور ایک لمحہ میں ہزاروں کلومیٹر کی دور طے کرنے والا انسان آج بے بس ہے، خوف زدہ، سہما ہوا ہے، ہوش گم ہے، ہواس کام نہیں کررہا ہے، وقت کاٹنے دوڑ رہا ہے گویا پوری کائنات بے یقینی کے عالم میں ہے اور یہی انسانی کمزوری ہے کہ مادی ترقی کے عروج اور میڈیکل سائنس کے محیرالعقول تجربہ، ایجادات اور انکشافات کے باوجود بے بس اور مجبور ہے اور یہ رب کی حقانیت کا مظہر بھی ہے کہ اس دنیا و مافیہا پر زور صرف اس قادرمطلق کا چلتا ہے جس کے قبضے میں ہماری جان ہے۔ جن کے کن سے دنیا آباد ہے اور جن کے حکم سے دنیا روئی کے گالوں کی طرح ایک دن اڑجائیں گی۔ تیزی سے پھیلنے والا کورونا وائرس دنیا کے کئی ممالک میں پھیل چکا ہے

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق کورونا وائرس ایک سے زائد وائرس کا خاندان ہے جس کی وجہ سے عام سردی سے لے کر زیادہ سنگین نوعیت کی بیماریوں، جیسے مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (مرس) اور سیویئر ایکیوٹ ریسپائریٹری سنڈروم (سارس) جیسے امراض کی وجہ بن سکتا ہے یہ وائرس عام طور پر جانوروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں اور یہ وبا انسانی آبادی کو تہ و تیغ کردینے پر آمادہ ہے اب تک لاکھوں افراد متاثر اور ہزاروں جانیں جاچکی ہیں۔

مگر اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے ہم کوششوں اور احتیاطی تدابیر سے منھ پھیرلیں۔ انسانی جان کے تحفظ کے لئے رہنما ہدایات ہمارے سامنے موجود ہے۔ جس میں وقت مصیبت کے لئے صبر کی تلقین کے ساتھ ساتھ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے روشنی ملتی ہے۔ یہی روشنی مزدۂ حیات اور توانائی عطاکرتی ہے۔ محسوس کیجئے ایک سات آٹھ سالہ بچہ مذکورہ متعدی مرض کا متاثرہ ہے اور اس کو علاج و معالجہ کی غرض سے آئی سلوشن سینٹر میں بھرتی کرایا گیا ہے ڈاکٹرز کی ایک ٹیم مسلسل اس کا ٹریمنٹ کررہا ہے مگر کئی کئی دن آئی سلوشن سینٹر میں قید اس کم سن متاثرہ کی بچے کی جبلت والدین کے گود میں گھس جانے کو مجبور کرتی ہے اور بچہ ہاتھ ہاتھ اٹھا اٹھاکر گود لئے جانے کے لئے ملتجئی بھی ہے مگر ماں کی ممتا اور پدرانہ شفقت متعددی مرض کی بے رحمانہ دفعتا اٹیک کے باعث محض مجبور و بے بس ہے۔

والدین حسرت سے بچہ کو صرف تکتا رہتا ہے بس، چھو نہیں سکتا، بو سہ نہیں لے سکتا، لاڈ پیار نہیں کرسکتا۔ کتنا دالخراش منظر ہے یہ اور کس قدر خون کے آنسو روتے ہوں گے ایسے والدین یہ سب سوچ کے ہی آدمی کا دل ڈوبنے لگتا ہے۔ انسانی دنیا کا یہ کوئی نیا حادثہ یا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی ہلاکت خیزمتعددی امراض، جنگیں، قحط، سالی، سیلاب خشک سالی اور آندھی و طوفان سے دنیا نمردآزما رہی ہے۔ ہزاروں لاکھوں لوگ لقمہ اجل ہوئے ہیں، سیکڑوں عورتیں بیوہ، ہزاروں بچے یتیم اور لاکھوں ماؤں کا گود سونا ہوا ہے مگر انسان نے اپنی کوششوں سے، ہمت و حوصلہ اور جذبہ صادق کے بل بوتے پہ حالات کا سامنا کیا اور حالات پر قابو پایا مگر یہ ماضی کے حادثات کسی ایک خطہ، ملک اور زون تک محدود تھا۔

علاوہ ازیں فورا سے پیشتر ٹرانسفر مرض نہیں تھا۔ مگر سال دوہزار انیس کے دسمبر میں ترقی یافتہ ممالک میں سے ایک اور جدید ترین میڈیکل سائنس کے کل پرزہ سے لیس چین کے ووہان شہر سے پھیلنی والی یہ وبا مختلف بھی ہے اور مضر رساں بھی ہے بلکہ جونک کے مانند ہے کہ جیسے جونک چھڑانے جائیں تو وہ آپ کو بھی دھرلے گا بعینہ یہی کیفیت اس جان لیوا ستمگر کورونا وائرس کی ہے جو فورا سے پیشتر انسان کو اپنی چپیٹ میں لے لیتا ہے۔

تاہم جہاں سے یہ وبا پھیلی تھی وہاں قابو پالیا گیا ہے ایسی خبریں ذرائع ابلاغ کے ذریعہ نشر ہورہی ہے حقائق کا پتہ نہیں چونکہ اس مشکل اور نازک وقت میں خودغرضی، مکاری اور چال بازی کا کھیل جاری ہے ترقی یافتہ سپر پاور ممالک کو مشترکہ طور پر وائرس کے خاتمہ کے لئے تگ و دو کرنا چاہیے تھا اس کے بجائے برتری اور سبق سکھادینے کے طرز پر چین اور امریکہ بیانی جنگ کا آغاکرچکے ہیں۔ بہرکیف اب یہ وائرس موت بن کر تمام عالم پہ منڈرا رہا ہے وائرس کی وجہ سے ہونے والے نقصانات سے پرے ہزارہا مسائل ہیں جو حساس دل شہریوں کو کچوکے لگارہا ہے۔

ایسے ایسے مناظر اور واقعات رونما ہورہے ہیں کہ آدمی محض مجبور و بے بس دو آنسو ہی رو سکتا ہے۔ مسئلہ صرف وائرس کے حجم، پھیلاؤ، اثرات کے روکنے کا ہی نہیں ہے۔ بلکہ مسئلہ اس کے وجہ سے مختلف شعبۂ حیات میں پڑنے والے اثرات، شدید معاشی بحران، کسمپرسی بھوک مری کا بھی ہے۔ دیگر ممالک میں جو حالات ہیں وہ بھی مضطرب کردینے والا ہے۔ مگر ملک عزیز بھارت میں وبا کے اثرات کو صاف صاف دیکھا جاسکتا ہے، کل کارخانہ، شاپنگ مال، گیریج، بازار سمیت کام کی جگہ پہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کامگاروں کو فارغ کردیا گیا ہے۔

روز کنواں کھودنا اور روزنا پانی پینے والے غیر منظم سیکٹر کے ہزاروں لاکھوں کامگاروں اور یومیہ مزدوروں کو کام ملنا بند ہوگیاہے۔ اس میں رکشہ پلر، آٹو ڈرائیور، پھیری والے، بنکر، بڑھئی، راج مستری، پلمبر اور درزی وغیرہ شامل ہیں۔ لوگ باگ نان شبینہ کو محتاج ہیں۔ ابھی یہ لاک ڈاؤن جزوی ہے تب یہ حال ہے۔ بھارت میں کووڈانیس کا یہ دوسرا اسٹیج ہے ایسا مانا جارہا ہے کہ ہفتہ عشرہ بھر میں اگر کوئی نیا متاثرہ سامنے نہیں آتا ہے تو اس کے اثرات سے بھارت مکمل طور پہ محفوظ و مامون ہوسکے گا۔

مگر گزشتہ دو ہفتہ سے کورونا وائرس کے سبب ہرشعبہ میں تعطل ہے۔ انسانی زندگی مفلوج ہے بلکہ تھم سا گیا ہے یہ بھاگتا دوڑتا ہندوستان اور آئندہ دو تین ہفتوں تک یہی صورتحال رہنے کا امکان ہے۔ اس درمیان کمزور، متوسط اور نچلے طبقات کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ انہیں وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے ساتھ دو وقت کی روٹی پہونچانے کی اشد ضرورت ہے۔ ورنہ موت بھوکوں کا مقدر ٹھہرے گی۔ تمام طرح کے کوششوں کے ساتھ ساتھ سرکار، سماج کے متمول حضرات اور ملی و سماجی تنظیموں کو اس جانب توجہ مبذول کربا چاہیے۔

اور منظم انداز میں افادۂ عام کے لئے بڑے پیمانہ پر اشیائے خوردنوش کا انتظام و انصرام کرنا چاہیے۔ علاوہ ازیں شہریوں کو حتی الامکان حفظان صحت کی خاطر چند ضروری ہدایات پر عمل کرنا چاہیے تاکہ اس جان لیوا مرض سے محفوظ ہوسکیں۔ جیساکہ ڈاکٹرز کا کہنا ہے مریض کو ابتدا میں نزلہ کھانسی اور گلے کی سوزش کا سامنا ہوتا ہے، مرض بڑھ جائے تو بخار، سینے میں درد، سانس لینے میں تکلیف اور نمونیا کی علامات ظاہر ہوتی ہیں دل کا تیزی سے دھڑکنا بھی وائرس کی علامتوں میں سے ایک ہے وائرس پھیپڑے پر اثر انداز ہو کر آکسیجن کو خون میں ملانے کا عمل روک دیتا ہے۔

وائرس کا مریض شدید نمونیا، گردے فیل اور شدید بخار سے موت کا شکار ہوسکتا ہے ناول کرونا وائرس خاموش وائرس ہے یہ اپنی علامات ظاہر کیے بغیر متاثرہ شخص سے دوسرے میں منتقل ہوسکتا ہے مزید بچوں اور بوڑھوں پہ اس کے اٹیک کا زیادہ امکان ہے لہذا بدن کے قوت مدافعت کو مزید توانا کرنے کے لئے ضروری مقوی غذاؤں کا استعمال کریں اسی طرح جب تک حالات کنٹرول نہیں ہوتا ہے احتیاطی اقدامات ناگزیر ہے اس میں اولا تو ہجوم اور بھیڑ بھاڑ سے پرہیز مقدم ہے صحت کے شعبہ میں کام کرنے والے ماہرین ملک کے سرکردہ افراد سمیت سبھی شہریوں سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کررہے ہیں عالمی ادارہ صحت کے مطابق لازمی ہے آپ اپنے ہاتھ ایسے صابن یا جیل سے دھوئیں جو وائرس کو مار سکتا ہو، کھانستے یا چھینکتے ہوئے اپنے منہ کو ڈھانپیں، بہتر ہوگا کہ ٹشو سے، اور اس کے فوری بعد اپنے ہاتھ دھوئیں تاکہ وائرس پھیل نہ سکے، کسی بھی سطح یا اشیاء کو چھونے کے بعد اپنی آنکھوں، ناک اور منہ کو چھونے سے گریز کریں۔

وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے یہ آپ کے جسم میں داخل ہوسکتا ہے۔ ایسے لوگوں کے قریب مت جائیں جو کھانس رہے ہوں، چھینک رہے ہوں یا جنہیں بخار ہوان کے منہ سے وائرس والے پانی کے قطرے نکل سکتے ہیں جو کہ فضا میں ہو سکتے ہیں ایسے افراد سے کم از کم ایک میٹر یعنی تین فٹ کا فاصلہ رکھیں، اگر طبیعت خراب محسوس ہو تو گھر میں رہیں اگر بخار ہو، کھانسی یا سانس لینے میں دشواری تو فوری طبی مدد حاصل کریں طبی ماہرین کی ہدایات پر عمل کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *