یورپ میں کرونا وائرس کی سراسیمگی اور موت کے سائے


جہاں آج کل کرونا وائرس نے پوری دنیا میں موت کے سائے تان لیے ہیں وہیں یورپ بھی اس کی دستبرد سے محفوظ نہیں ہے۔ کہا جارہا ہے ایسا خوف و ہراس دوسری جنگ عظیم میں بھی نہ تھا جو اب پیدا ہو چکا ہے۔ چین اسٹور جیسے ہی کھلتے ہیں مقامی لوگ ٹوائلٹ پیپر، سینیٹائزر اور پاسٹا پر ٹوٹ پڑتے ہیں جبکہ پاکستانی اور افریقی نژاد گوشت، چاول آٹے پر ٹوٹ پڑتے ہیں ایسے جیسے اس کے بعد بمباری شروع ہو جائے گی یا کسی خلائی مخلوق کا حملہ ہوجائے گا۔

اور حکومت کی یقین دھانی کے باوجود کہ خوراک کی کہیں بھی کوئی کمی نہیں ہے پھر بھی لوگ باز نہیں آرہے۔ اور تو اور اب ڈبل روٹی بھی فٹا فٹ ختم ہوجاتی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بڑے گراسری اسٹوروں میں چیزوں کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی مگر پاکستانی اور دیگر ایشیائی اسٹوروں میں ہر بنیادی ضرورت کی چیز کی قیمت ڈبل ہوگئی ہے جس پر یورپی حکومتوں نے شکایت پر ان پر فوری طور پر ایک لاکھ یورو تک جرمانے بھی کیے ہیں۔ لوگوں کی سراسیمگی دیکھتے ہوئے جب کئی بزرگ شہری اور ہیلتھ ورکرز اپنی ضرورت کی چیزیں نہ خرید سکے تو تمام اسٹوروں نے ان کے لیے ٹائم محسوس کردیا ہے کہ گراسری اسٹوروں پر ان کی خریداری کے بعد ہی عام لوگ خریداری کر پاتے ہیں۔

اٹلی اور اسپین میں صورت حال ابتر ہے کیونکہ جب حکومت نے عوام کو کرونا وائرس سے خبردار کرنا شروع کردیا تو لوگوں نے اس وارننگ کو ہوا میں اڑا دیا، مگر پھر جب یکایک لوگ تیزی سے مرنا شروع ہوئے تو سب کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ اب حالت یہ ہے کہ مرے والوں کو حکومتی لوگ ہی دفناتے ہیں کوئی چار پانچ رشتہ داروں کو اس جنازے میں شرکت کی اجازت ہوتی ہے وہ بھی مکمل حفاظتی لباس کے ساتھ۔ اب اٹلی سمیت تقریباً تمام یورپ میں لاک ڈاؤن دن بدن سخت تر ہوتا جارہا ہے اور یورپ کے بڑے بڑے سیاحتی مراکز جہاں اس موسم بہار میں کبھی لوگوں کا رش ختم نہیں ہوتا تھا وہاں ویرانی نے ڈیرے ڈال دیے ہیں۔

ادھر قدرتی ماحول کے طرفدار جہاں کرونا وائرس کو ماحول کی انسان کے ہاتھوں بربادی کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں وہیں کرونا کی وجہ سے قدرتی ماحول میں بہتری بھی قرار دے رہے ہیں کہ دھائیوں بعد وینس کا پانی اتنا صاف ہوگیا ہے کہ اس کے نیچے تیرتی مچھلیاں بھی واضح دیکھی جاسکتی ہیں۔ اور فضا میں کاربن کی مقدار بھی حیرت انگیز طور پر کم ہوگئی ہے۔

اب جبکہ یورپی حکومتوں نے لوگوں کوجبری گوشہ نشینی کا کہہ دیا ہے تو ساتھ عوام کے کاروبار، ملازمتوں کو بھی تحفظ دیاہے۔ جس میں جرمنی، فرانس، برطانیہ وغیرہ نے ہر طبقے کو مکانوں کے کرایوں سے لے کر ماہانہ اقساط تک میں ریلیف دیا گیا ہے اور تنخواہ دار طبقے کو وہ خواہ سرکاری ہے یا غیر سرکاری تنخواہ نہ روکنے کا اعلان کیا ہے۔ صرف برطانیہ نے اپنی عوام کو تین سو تیس ارب پاؤنڈ کا پیکیج دیا ہے کہ کسی کا کاروبار یا ملازمت متاثر نہ ہو۔ اسی طرح حکومتی عہددار ہر روز لوگوں کو نئی صورت حال سے آگاہ بھی کررہے ہیں اور میڈیا بھی کرونا کی آگہی کے لئے متوازن کردار ادا کر رہا ہے کہ یوں سمجھئے کہ ہر چھوٹے بڑے طبقے کے لوگ صحیح معنوں میں ایک پیج پر ہیں۔

جہاں اس کرونا وائرس کے خوف نے ہر طرف بہار کو بھی خزاں میں تبدیل کر دیا ہے، وہیں کئی رضا کار بھی میدان میں آگئے ہیں، جو پبلک مقامات کو صاف کررہے ہیں، بزرگ شہریوں کو گھر گھر خوراک پہنچا رہے ہیں اور بے گھروں کو کھانا بھی پہنچا رہے ہیں۔ برطانیہ میں کلیدی ورکروں جیسے محکمہ صحت، پولیس، اساتذہ کو جہاں عوام تحسین کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں وہیں ان کے بچوں کے لئے اسکول اب بھی کھلے رکھے گئے ہیں تاکہ ان کی ڈیوٹی کے دوران ان کے بچے اساتذہ کی زیری نگرانی رہیں۔

جبکہ عام طلباء کے لیے تعلیمی اداراے مکمل طور ہر بند ہوچکے ہیں۔ اسی طرح برطانیہ میں اسکول بند ہونے کی وجہ سے جی۔ سی۔ ایس۔ ای کے امتحانات نہیں ہوں گے بلکہ طلباء کو سکول میں دیے گئے گریڈ ہی دے دیے جائیں گے۔ بچوں کی بہرحال موج ہوگئی ہے مگر گھر میں مقید ہوکر وہ بھی بوریت کا شکار ہورہے ہیں مگر مجبوری ہے کیونکہ باہر موت گھوم رہی ہے۔

اب چونکہ کرونا کا حملہ اتنی خاموشی سے ہوتا ہے کہ اسی وقت پتہ چلتا ہے جب یہ اپنے ساتھ کئی اور لوگوں کو بھی متاثر کرچکا ہوتا ہے تو اس صورت میں لوگوں کو گھر بیٹھنا ایک بڑی سزا سے کم نہیں ہے کیونکہ یورپ کے لوگ کام کے وقت کام اورآرام کے وقت آرام اور فارغ وقت میں تفریح کے بھی دلدادہ ہوتے ہیں، اور ویک اینڈ پر نائٹ آوٹ تو ان کی زندگی کا لازمی حصہ ہوتا ہے کہ اس کے بغیر وہ رہ نہیں سکتے اور ہر عمر کا بندہ، ویک اینڈ پر دیوانہ وار سٹی سینٹرز کا رُخ کرتا ہے، اور شراب خانوں، نائٹ کلبوں، ریسٹورینٹس، جواء خانوں کی رونق بڑھاتا ہے، خوب ہلہ گُلہ کرتا ہے، ناچتا ہے گاتا ہے اور پورے ہفتے کی ٹینشن، خمارسے سرشار ہو کر اڑا دیتا ہے۔

حسینائیں، مختصر لباس میں، اور مرد پورے لباس میں شہر میں جابجا بوس وکنار کرکے اظہار محبت کرتے نظر آتے ہیں اور پھر خوش خوش پوری رات لطف اندوز ہوکر ٹیکسی میں بیٹھ کر، بے سُدھ ہوکر گھر چلے جاتے ہیں۔ اور بقول شخصے ”یورپین کے فعل حرام سے ٹیکسی ڈرائیوروں، جن کی کثیر تعداد مسلمانوں کی ہوتی ہے، کا رزق حلال چلتاہے“ کیونکہ مسلمان ٹیکسی ڈرائیور کم ہی شراب کو ہاتھ لگاتے ہیں۔

اسی طرح ویک اینڈ نائٹ آوٹ کے بعد فٹبال وہ تفریح ہے جس کا ہر کوئی شیدائی ہے، اس کے بعد میوزک کنسرٹ کی باری آتی ہے۔ تو تصور کریں کہ ایک دم شراب خانے جواءخانے، نائٹ کلب، فٹبال بند ہوجائیں تو ان گوروں پر کیا بیتی ہوگی؟ یقیناً یہ پابندی ان کے لیے موت سے کم نہیں مگر مجبور ہیں کیا کریں، کہ باہر نکلیں تو اصلی موت کرونا کے بھیس میں ہر جگہ منڈلاتی پھررہی ہے۔ اب لوگ گھروں میں آن لائن اجتمائی رقص کررہے ہیں گا رہے ہیں اور ایک دوسرے کا مورال بلند کررہے ہیں۔ تفریحات کیا، مزھبی اجتماعات، مساجد چرچ، سنگاگ تک، میں کرونا نے عبادات کو بھی گرہن لگا دیا ہے۔

مگر یاد رہے جہاں عام عوام کو گھروں میں مقید کردیا گیا ہے، وہیں برطانیہ میں محکمہ صحت کے ریٹائرڈ ملازمین کو بھی دوبارہ بلا لیا گیا ہے کہ جو رضا کارانہ طور پر کام کرسکیں تو، چند گھنٹوں میں ہی تقریباً پانچ ہزار ریٹائرڈ ہیلتھ ورکرزنے محکمہ صحت کو رپورٹ کردی ہے۔ یاد رہے کہ برطانیہ میں مرد کی ریٹائرڈ منٹ کی عمر پینسٹھ سال اور عورت کی ساٹھ سال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت محکہ صحت کے ورکرز پوری قوم کے ہیرو بنے ہوئے ہیں۔

دوسری طرف قوم کے ہیرو وہ سائنسدان اور ماھرین ہیں جو اس کرونا کے تدارک کے لئے دن رات ایک کرکے کرونا کے تدارک کے لیے مختلف ویکسین یا علاج کی تحقیق میں جُتے ہوئے ہیں۔

آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ یورپ جیسے زیادہ ترقی یافتہ ممالک اتنے حفاظتی اقدامات کے باوجود، بہترین ہسپتال، اور بہترین عملے کے ساتھ بھی اموات کو نہیں روک پارہے، تو مجھے اپنے وطن پاکستان کی فکر کھائے جارہی ہے کہ جہاں بقول شخصے، جہالت اور کرونا مشترکہ طور پر حملہ آور ہیں۔ مزھبی، سیاسی لوگ اپنا اپنا راگ الاپ رہے ہیں، بنگالی بابے، جعلی و اصلی پیر ابھی بھی لوگوں کو حقیقت نہیں بتارہے کہ اس کرونا کا علاج صرف اور صرف ایک دوسرے سے فاصلہ صفائی اور جسم کا مدافعتی نظام ہی ہے۔

اور دعا سے پہلے دوا کی ضرورت ہے۔ یہ سوچنا یا کہنا کہ ”کچھ نہیں کہتا کرونا اور ویکھی جائے گی یا اللہ دی مرضی، تو اللہ بھی تدبیر کا پہلے کہتا ہے بعد میں توکل کا، ورنہ جہاں زیادہ ترقی یافتہ ممالک کو اس کرونا نے مشکل میں ڈال دیا ہے اور ہسپتال کم پڑتے جارہے ہیں وہاں آپ کس کھیت کی مولی ہیں جہاں پورے اسلام آباد میں کرونا کے مریضوں کے لیے صرف دو وینٹی لیٹر ہیں۔ اور عام حالات میں بھی ایک بستر پر دو دو مریض پڑے ہوتے ہیں۔ غریب دیہاڑی دار گھر رہے تو بھوک سے مرے باہر نکلے تو کرونا سے مرے۔ اور مدینہ کی ریاست کے دعوے داروں کا کا کردار بھی دعاؤں تک ہی محدود ہو جائے تو پھر پوری قوم پر اجتماعی فاتحہ تو بنتی ہے۔

Facebook Comments HS