باپ کے مرنے پر سلطان خوش کیوں ہوا؟
”باپ کے مرنے کی خبر سن کر میں ہلکا سا ہوگیا۔ مجھے لگا جیسے منوں بوجھ میرے سر سے اتر گیا ہو۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ مجھے ان کی موت سے کوئی خوشی ہوئی تھی۔ مگر یہ بھی نہیں تھا کہ میں صدمے سے مر گیا تھا۔ مجھے یوں لگا تھا جیسے کہ میں یک دم بڑا ہو گیا۔ “ سلطان آنکھیں بند کیے بے ساختہ بولتا جا رہا تھا۔
کونسلنگ کے دروان اس نے احساس کمتری سے خوداعتمادی کا سفرگہری لگن سے طے کیا تھا۔ آج کی خصوصی نشست میں وہ ماضی سے جڑی کچھ تلخیوں کا بوجھ اتارنا چاہتا تھا۔
”مجھے نہیں پتہ۔ لیکن یہ اس احساس سے قدرے مختلف تھا جو میں نے اپنے بھائیوں کی موت پر محسوس کیا۔ لیکن یہ دونوں احساسات کیا تھے میں آج تک کوئی واضح نام نہیں دے سکا ہوں۔ “
”ڈاکٹرصاحب! کبھی کبھار مجھے لگتا ہے کہ بچپن سے ہی میرے اندر احساس کمتری کا احسا س بھرا پڑا ہے۔ اپنے چھوٹے بھائی کی پیدائش سے مجھے لگا جیسا کہ میری ماں اور میرے بیچ کوئی تیسرا ٓگیا ہے۔ کسی نے مجھ سے میری مرضی نہیں پوچھی مگر بٹوارہ کردیا۔ میری ماں، میرے اور چھوٹے بھائی کے درمیان تقسیم ہوگئی۔ یہ بٹوارہ بھی منصفانہ نہیں تھا۔ ماں کی آغوش جو میری واحد پناہ گاہ تھی، اس نئے آنے والے کو دے دی گئی۔ “
اس کے بعد سلطان کافی دیر آنکھیں بند کیے خاموش لیٹا رہا۔ اب تک اس نے کوئی بھی بات مکمل نہ کی تھی یوں لگ رہا تھا جیسے وہ اپنے خوفناک ماضی کے گہرے کنویں میں ایک غوطہ لگاتا ہے لیکن زیادہ دیر وہاں رک نہیں سکتا۔ شاید اس کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ اس نے آنکھیں کھولی اور صوفہ سے اٹھ کر کرسی پہ آبیٹھا۔
ایک لمبی سانس لے کر بولا ”سکول میں بہت سارے لڑکے میرے دوست بننا چاہتے تھے۔ میرے کلاس کے تین چار لڑکے اکثر بریک ٹائم میرے ڈیسک پہ آجاتے۔ ان کے آتے ہی میرا دوست نعمان اٹھ کر باہر چلا جاتا۔ یہ لڑکے میرے اس قدر قریب ہو کر بیٹھتے تھے کہ ان کی رانیں میری رانوں ساتھ بار بار ٹچ ہوتی رہتی تھیں۔ وہ مجھے اپنی پاکٹ منی سے چیز بھی کھلا دیتے تھے۔ مجھے یہ سب کچھ عجیب سا لگتا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ ایسا نہ ہو، نعمان کے علاوہ کوئی لڑکا میرے قریب نہ آئے۔ ان سب کے قریب آنے سے مجھے الجھن ہوتی تھی۔ لیکن اس سب میں کچھ میٹھا میٹھا سا بھی تھا۔ وہ کیا تھا مجھے نہیں پتہ۔ “
”جنید صاحب! آج تک میں نے اپنی ماں کے بارے میں بات نہیں کی۔ میں ہمیشہ اس رشتے سے جڑے ہر سوال کو گول کر جاتا تھا۔ “
میں کرسی پر تھوڑا سا آگے ہوا۔ ایسا اکثر میں اپنے مریض کو اعتماد دینے کے لیے کرتا ہوں۔ تاکہ وہ دل سے محسوس کرے کہ میں اس کی بات پوری توجہ سے سن رہا ہوں۔
”دراصل ماں کے ساتھ میرا رشتہ کچھ خاص مثالی نہیں تھا۔ آج بھی اس کمی کا جواب کھوجنے کی کوشش کرتاہوں تو کچھ خاص نتیجہ نہیں نکال پاتا ہوں۔ شاید میری ماں سرد مزاج عورت تھی۔ میں نے کبھی اسے کسی بات کے لیے پرجوش ہوتے نہیں دیکھا۔ بس وہ صبح سے رات گئے تک اپنے کاموں میں جتی رہتی تھی۔ “
سلطان نے اپنا سر سامنے پڑے میز پر رکھ دیا۔ مجھے یوں لگا جیسے جذبات کی جس لڑائی سے وہ بچپن سے لڑتا آیا تھا آج اس کے سامنے خود کو سرینڈر کر دیا تھا۔
”میں عرصہ دراز سے اپنی ذات کے معنی کھوج رہا ہوں۔ ذرا میرے ہاتھ دیکھیے۔ یقین کریں ایسا کسی بیماری کی وجہ سے نہیں ہوا، دراصل مجھے نہیں پتہ کب سے۔ لیکن بہت وقت ہوگیا مجھے ناخن چباتے رہنا اچھا لگتا ہے۔ جب بھی میں اپنے ناخن چباتا ہوں تو مجھے لگتا ہے جیسے میں کسی کا سر اپنی پوری طاقت سے کچل رہا ہوں، یہ احساس مجھے راحت دیتا ہے۔ “
سلطان نے میز سے سر اٹھایا۔ جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکالا۔ سگریٹ نکال کر اپنے ہونٹوں میں رکھا اور پیکٹ میری طرف بڑھا دیا۔
”سلطان صاحب! میں سگریٹ نہیں پیتا اور یہاں کلینک میں سگریٹ پینا منع ہے۔ “
سلطان نے مسکرا کر سگریٹ واپس رکھا اور پیکٹ جیب میں ڈالتے ہوئے اپنی ٹانگوں کی پوزیشن بدلی۔
”میں سات سا ل تھا لیکن اکثر بستر پر پیشاب کردیتا تھا۔ ابو اور امی سے ہمیشہ اس بات پہ ڈانٹ پڑتی تھی۔ ایک دفعہ تو ایسا ہوا کہ میں اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ کھیل رہا تھا، اچانک مجھے لگا کہ میرا پیشاب نکلنے لگا ہے۔ میں واش روم کی طرف بھاگا، لیکن وہاں پہنچنے سے پہلے ہی میرا پیشاب نکل گیا۔ ابو ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ میری ماں کی طرف دیکھ کر بولے“ اپنے بیٹے کو ڈائپر لگا یا کرو، شہزادے نے آج پھر پینٹ خراب کردی ہے۔ ناکردہ گناہ پر میں شرمسار ہو گیا۔ امی اٹھیں، میری کمر پہ دو تین تھپڑ لگے اور مجھے واش روم لے جایا گیا۔ امی نے میرے کپڑے اتارے، خوشبو والے صابن سے نہلایا۔ امی مجھے ڈانٹ رہی تھیں مگر میں ہنس رہا تھا۔ ”سلطان کی طرف سے پھر ایک بار خاموشی کا ایک وقفہ آیا۔ کچھ دیر بعد اس کے ہونٹوں پہ ایک مہین مسکراہٹ آئی اور وہ میز پر اپنا موبائل گھوماتے ہوئے بولا“ لیکن۔ یوں لگا جیسے گیزر کے نیم گرم پانی نے مجھے تازگی بخش دی ہو۔ ”
سلطان نے کرسی پر پہلو بدلا۔
”ڈاکٹرصاحب میری رائٹنگ بہت اچھی ہے۔ لیکن مجھے سکول کی کتابیں پڑھنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ہاں مجھے کہانیاں پڑھنا پسند ہے۔ میں نے اشفاق احمد، رئیس امروہوی، سعادت حسن منٹو جیسے لکھاریوں کو پڑھا ہے۔ میں بھی کہانیاں لکھنا چاہتا ہوں۔ کچھ زخم ہوتے ہیں جو سدا رستے رہتے ہیں۔ ان کا علاج بہت ضروری ہوتا ہے۔ لیکن کوئی ان کا علاج نہیں کرتا۔ میں ان کا علاج کرنا چاہتاہوں۔ اس سے پہلے کہ وہ ناسور بن جائیں۔ “
سلطان نے پہلے پہلو بدلا اور پھر اٹھ کر کھڑا ہوا، دو قدم باہر کی طرف گیا، لیکن پھر واپس آکر بیٹھ گیا۔
”ڈاکٹر صاحب میں کئی مہینوں سے آپ کو اپنی کہانیاں سنا رہا ہوں۔ لیکن آپ میری تکلیف کا آج تک اندازہ نہیں کر سکے۔ کیونکہ آپ صرف دیکھ سکتے ہیں، سن سکتے ہیں، لیکن آپ نے کبھی میرے جیسی زندگی نہیں گزاری۔ کبھی میرے جوتوں میں اپنے پاؤں رکھ کر دیکھیں آپ کو اندازہ ہو کہ میں کس کرب میں مبتلا ہوں۔ “
میں زیر لب مسکرایا اور اسے میز پہ رکھا ہوا پانی کا گلاس دیا۔ پانی کے دو بڑے بڑے گھونٹ بھر کر وہ بولا۔
”میرے باپ کو میری بڑی فکر رہتی تھی۔ وقت پر کھانا کھاؤں، ٹائم سے گھر آجاؤں، روزانہ نہا کر کپڑے بدلوں، میری ضروریات زندگی ہر پل مجھے دستیاب ہوں۔ ہر چیز کی وہ فکر کرتے تھے۔ لیکن وہ میری عزت نفس کو مجروح کرنے سے نہیں چوکتے تھے۔ میں مانتا ہوں کہ زندگی میں انہوں نے بڑے سخت حالات کا سامنا کیا تھا۔ زمین کی خاک سے آسمان کا تارہ بننا آسان نہیں ہوتا۔ ان گنت قربانیوں، مصلحتوں، ذلتوں کے پہاڑ عبور کرنے پڑتے ہیں۔ شاید کسی مصلحت کے آگے سر نگوں ہوتے ہوتے ان کی انا کو ٹھیس پہنچی ہو۔ جس کا بدلہ وہ ساری زندگی۔ ”ایک لمبا سانس لے کر وہ بولا“ خیر بھری محفل میں صرف اس لیے میر ی بے عزتی کردی گئی کہ میں نے ایک پرفارمے پر اردو کی بجائے انگلش میں دستخط کردیے تھے۔ جس سے شاید میرے والد کی انا کو ٹھیس لگی کیونکہ وہ انگلش لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ بھائی! اب آپ کو انگلش نہیں آتی تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ اگر اتنا ہی احساس کمتری میں ڈوبے ہوئے تھے تو مجھے تعلیم کیوں دلائی اور جب میں آپ کے شوق کے مطابق پڑھ لکھ گیا ہوں تو وہ بھی آپ سے ہضم نہیں ہو رہا ہے۔ آپ کی انا کو جتنی بار ٹھیس لگی ہے اس کا بدلہ مجھ سے کیوں؟ اولاد نہ ہوئی پنچنگ باکس ہوگیا۔ ”
سلطان نے ساتھ پڑی کرسی کو غصے سے ٹانگ ماری اور باہر چلا گیا۔ میں سمجھا کہ وہ چلا گیا ہے۔ لیکن وہ کچھ دیر بعد واپس آیا۔ اس کے ہاتھ میں میری پسند کی دو کولڈ ڈرنکس تھیں، چہرے پہ مسکراہٹ تھی۔ اس نے آتے ہیں کولڈ ڈرنک میرے سامنے رکھی اور بولا،
”یہ میرے آخری سیشن کی فیس سمجھ کر رکھ لیں۔ ڈاکٹر صاحب! نا انصافی کے خلاف اٹھنے والی آواز خاموش تو کی جاسکتی ہے۔ نا انصافی کا احساس ختم نہیں کیا جا سکتا۔ خیر چھوڑیں، کیا میں سگریٹ پی سکتا ہوں؟ “
میں نے مسکراتے ہوئے انکار میں سر ہلا دیا۔
”اؤہ ہاں! ۔ یہ آپ کے کلینک کے اصولوں کے خلاف ہے۔ مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ اصول انسانوں کے لیے بنائے جاتے ہیں یا اصولوں کی خاطر انسان بنائے جاتے ہیں؟ خیر اب آپ نے اصول بنائے ہیں تو عمل تو کرنا ہی پڑے گا۔ “
وہ کرسی پر پیچھے ہو کر بیٹھ گیا اور فضا میں کہیں بہت دور دیکھتے ہوئے بولا
”ڈاکٹر صاحب! کبھی کبھی تھوڑی سی ہمت برسوں کے لگے قفل کھولنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ ایک دن جماعت میں استاد تختہ سیاہ پر ایک مشکل سوال سے کشتی لڑ رہا تھا۔ سبھی اس سوال کو حل کرنے میں ناکام رہے تھے۔ میرے ذہن کے کسی گوشے میں روشنی کی کرن جاگی۔ میں نے سوال کا درست جواب نکال لیا۔ لیکن گلا خشک تھا۔ آواز گہرے کنویں میں کہیں گم تھی۔ جواب بتاتا تو بتاتا کیسے؟ بالآخر ہاتھ کھڑا کیا۔ جواب بتایا۔ تھوڑی ہی دیر بعد کمرے میں تالیوں کی گونج تھی۔ “
مسکراتے ہوئے وہ اپنی کرسی سے اٹھا، گرمجوشی سے ہاتھ ملایا۔ جونہی اس نے جانے کے لیے دروازہ کھولا کلینک روشنی سے بھر گیا۔



