کیا جہالت ایمان کی مضبوطی کی علامت ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قوم نوح (ع) کی نافرمانی جب حد سے بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (ع) کو اپنے ادارے سے آگاہ کیا کہ میں دنیا کو طوفان سے تباہ کرنا چاہتا ہوں اور حضرت نوح (ع) کو اپنے خاندان اور مویشیوں کو بچانے کے لئے کشتی بنانے کا حکم دیا۔ جب حضرت نوح (ع) نے اپنے علاقے سے دور کشتی بنانے کا آغاز کیا تو لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا اور لوگوں کا مذاق اس حد تک پہنچ گیا کہ لوگوں نے کشتی کو گندگی سے بھر دیا، اس مذاق کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس گندگی سے ایک موذی مر ض نے جنم لیا اور لوگوں نے مرض کی وجہ کشتی میں پڑی گندگی کو قرار دیا اور پھر خود ہی اسی گندگی کو صاف کیا۔ ایک دن ایک مقام سے سے پانی نکلنا شروع ہوگیا اور سارے علاقے کو لپٹ میں لیے لیا جو کشتی میں سوار تھے وہ بچ گئے باقی سارے طوفان کی نذر ہوگئے۔

یہ تمہید باندھنے کا مقصد یہ تھا کہ حضرت نوح (ع) اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے اور ان کا عقیدہ ہم سے ہزار گناہ پختہ تھا لیکن اس کی باوجود اللہ تعالیٰ نے احتیاطی طور پر اور جان بچانے کے لئے حضرت نوح (ع) کو کشتی بنانے کا حکم دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ حضرت نوح (ع) اور اس کی ساتھیوں کو طوفان میں بھی بچا سکتے تھے جس طرح حضرت ابراہم خلیل اللہ کو اللہ نے آگ کے درمیان میں حضرت یونس (ع) کو مچھلی کی پیٹ میں بچایا تھا لیکن اس کی باوجود اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (ع) کو کشتی بنانے کا حکم کیوں دیا اس بات کو آج کی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

لیکن افسوس کن امر یہ ہے کہ ہم میں اجتماعی غور و فکر کا مادہ بہت کم ہے ہم اندھی تقلید کی شکار معاشرہ ہے زمینی حقائق کے بجائے مفروضوں پر یقین رکھنے والے قوم ہے انہی مفروضوں کو ہم عقیدے سے نتے کرتے ہیں بجائے کہ ہم عقیدے کی بنیادی فلسفے کو پڑھے اور اس کو جاننے بس فلاں نے یہ کہا تو یہ بات سو فیصد درست ہیں۔ کبھی بھی عقیدے کی اس پہلو پر غور نہیں کیا کہ رب ذوالجلال نے ہمیں غور و فکر اور تحقیق کا حکم دیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے اگر آپ کو کسی چیز کے بارے میں علم نہ ہوں تو اہل علم سے پوچھ لو لیکن غور و فکر تو خیر ہم کرتے نہیں لیکن اہل علم والوں کی باتوں کو حضرت نوح (ع) قوم کی طرح مذاق اڑاتے ہیں۔

اہل علم سے مراد ہر پڑھا لکھا انسان نہیں ہے بلکہ اپنے شعبے میں میں بہتر علم رکھنا والا انسان ہے مثلا ایک صحافی کو یہ علم ہوتا ہے کہ کہ کتنے لوگ کورنا وائرس سے متاثر ہے اور ان کو علاج کے لئے کہاں کہاں رکھا ہے، لیکن وہی صحافی خود سے ان مریضوں کو علاج تجویز نہیں کرسکتا اور نہ وہ کرسکتا ہے اور نہ اس کو پتہ ہیں یہ کام ڈاکٹر کا ہے اور مریض اس مد میں ڈاکٹر سے ہی رجوع کرتے ہیں اور ان کے احکامات پر عمل پیراء ہوتا ہے لیکن یہ تب جب بندہ اس میں مبتلا ہوجائے اور ہم اسی چیز کو دعوت دیے رہیں کہ ہم کورنا وائرس میں مبتلا ہوں اور دوسروں کو بھی اس مرض سے متاثر کرلے اور یہی کررہے ہیں ڈاکٹروں کی احکامات کو ہم سنجیدہ لینے کی بجائے ہم ان کی مذاق اڑا رہے ہیں اور وہ بھی ایک بھونڈے طریقے سے مطلب اسلامی تعلیمات پڑھے بغیر اپنی جہالت کو اسلامی عمل قرار دیتے ہیں اسلام نے ہمیں کبھی بھی یہ نہیں کہا ہے کہ طوفان آرہا ہوں اور آپ پانچے اوپر کر کے اس میں کھود پڑو اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو یہ خودکشی ہے اور اسلام نے خودکشی حرام قرار دی ہیں۔

مختصر اسلام کی بنیاد علم پر ہے تو لہذا چیزوں کو پڑھ لیا کرو اگر کسی چیز کے بارے میں معلوم نہیں ہیں تو اہل علم سے پوچھ لیا کرو ایمان کی مضبوطی جہالت میں نہیں بلکہ علم میں پناہ ہے اندھی تقلید غفلت اور گمراہی ہیں غفلت اور اندھی تقلید کی اندھیروں سے نکلنے کے لئے علم کی طرف لوٹ جاؤ یہی راستہ ہے خطرات سے نمٹنے کا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply