وبا کے دنوں میں دیکھی گئی دو فلمیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس کی ایک نئی نوع کے سبب سانس کے انتہائی اور بہت حد تک مہلک عارضہ کی عالمی وبا پھیلی ہوئی ہے۔ گھر میں محصور ہونا کوئی اتنا خوشگوار نہیں ہوتا۔ جہاں ہوں وہاں ‌ کوئی اتنی زیادہ کتابیں بھی نہیں ہیں۔ اگر منگوا بھی لوں تو نجانے کس کس کے ہاتھ لگیں، کسی کی چھینک یا کسی کی کھانسی سے فضا میں معلق ہو کر ان پر گرے مہین قطرے خدانخواستہ عفریت کو ساتھ ہی نہ لے آئیں اس لیے سوشل میڈیا کا سہارا ہے یا انٹرنیٹ کا۔

سوشل میڈیا پہ عموماً یکسانیت ہوتی ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ کبھی کبھار کوئی فلم دیکھ لی جائے۔ یوں میں نے گذشتہ دو روز میں دو فلمیں دیکھیں۔ ایک کزاخستان میں بنی فلم تھی جو روسی زبان میں تھی۔ اس فلم کا نام ”شیزو“ تھا جو شیزوفرینیا کا مخفف تھا۔ یہ نام اس فلم کے مرکزی کردار سولہ سترہ برس کے ایک لڑکے کو اس کے سکول کے دوستوں نے دیا ہوا تھا۔ دوسری فلم ہندوستان کی نئی فلم “پنگا” تھی جس میں مرکزی کردار کنگنا راناوت کا تھا، فلم نئی اس لیے تھی کہ اس میں بہت جگہوں پہ ساؤنڈ بند کی گئی تھی تاکہ کاپی رائٹ کی خلاف ورزی سے بچا جا سکے۔ فلم کا نام پنگا تھا اور کنگنا اس میں ہندوستان میں عورتوں کی کبڈی ٹیم کی سابقہ کھلاڑی ہوتی ہے جو اپنے بچے کی خوشی کی خاطر اس کھیل میں ”کم بیک“ کرتی ہے۔

پہلے تو میں آپ کو فلم شیزو کی کہانی سنا دوں مگر اس سے پہلے یہ بتادوں کہ کزاخستان میں فلم کا شعبہ بے حد مضبوط رہا ہے اور کئی کازخ اداکار و ہدایت کار اپنی صلاحیت اور تجربہ کی بنا پر ہالی ووڈ منتقل ہوئے ہیں، دوسرے روس میں اور سوویت یونین کی سابق ریاستوں کے علاوہ دنیا کے دوسرے ملکوں میں روسی بولنے والوں کی ایک کثیر تعداد کے ہونے کی بنیاد پر بڑی مارکیٹ کی وجہ سے زیادہ فلمیں روسی زبان میں ہی بنائی جاتی ہیں۔

اب سنیے فلم ”شیزو“ کی کہانی۔ ایک غریب تنہا کازخ ماں ہے جس کا ایک سولہ سترہ برس کا ایک بیٹا ہے، جس کو اس کی ماں اس لیے کچھ اور طرح کا سمجھتی ہے کہ اس کے سکول کے دوست اسے ”شیزو“ کہتے ہیں، ویسے اس کا نام مصطفٰی ہے۔ وہ اسے ایک ڈاکٹر کے پاس لے جاتی ہے، جو خود اپنا بلڈ پریشر اور درجہ حرارت ماپتا رہتا ہے ساتھ ہی اس لڑکے کو بڑے شہر الماآتا لے جانے کا مشورہ بھی دیتا ہے۔

فلم 1990 کی دہائی سے متعلق ہے جب غنڈوں کا راج ہو گیا تھا اور غربت پھیلی ہوئی تھی۔ لڑکے کی ماں کے ساتھ، اس کے معمولی گھر میں ایک روسی باڈی بلڈر رہتا ہے، جس کے پاس ایک موٹر سائیکل ہے۔ غنڈوں کا باس خفیہ خونی مکہ بازی کرواتا ہے جس پر لوگ شرطیں لگاتے ہیں۔ باہر سے لالچ دے کر لوگوں کو لڑائی کے لیے لایا جاتا ہے۔ لڑکے کی ماں کا آشنا، جو غنڈوں کے جم میں ٹرینر ہے، اس لڑکے کو اپنے ساتھ شامل کر لیتا ہے۔

یہ لڑکا بے روزگاروں کے ایک اکٹھ میں سے ایک شخص کو ورغلا کے لے جاتا ہے۔ رنگ میں وہ زخمی ہو کر ہار جاتا ہے۔ غنڈوں کا طبی مددگار ان کے مکہ باز کی مرہم پٹی کرتا ہے مگر علی نام کے اس شخص کو مرنے کو چھوڑ دیتا ہے، جسے پیسوں کے عوض لڑائی کرنے ورغلا کے لایا گیا تھا۔ یہ لڑکا دو بار اپنی ماں کے آشنا سے کہتا ہے کہ علی مر رہا ہے مگر وہ اسے کہتا کہ اس بات کو بھول جاؤ۔ پھر بھی یہ لڑکا ایک کمرے میں مرنے کو چھوڑے، زمین پر لٹائے علی کے پاس چلا جاتا ہے، علی مرنے سے پہلے کہتا کہ میری جیب سے پیسے نکال لو اور شہر کے باہر زینا نام کی ایک لڑکی رہتی ہے، اسے دے دینا۔

یہ لڑکا شہر سے باہر ایک جھونپڑی کے باہر جاتا ہے جہاں پانچ سال کا ایک بچہ بیٹھا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ زینا ابھی آئے گی۔ لڑکی پانی کا ڈرم کھینچتے ہوئے پہنچتی ہے اور روکھائی سے اپنے بچے سے پوچھتی ہے کہ یہ لڑکا کون ہے۔ لڑکا کہتا ہے میں ایک واقف ہوں۔ وہ پوچھتی ہے کیسے واقف؟ وہ علی کا نام لیتا ہے اور لڑکی کوپیسے دے کر کہتا ہے، یہ اس نے دیے تھے۔ لڑکی جھنجھلا کے کہتی ہے، ”بس اتنے، وہ کیا سمجھتا ہے کہ اتنے پیسوں سے میں اس کے لڑکے کی دیکھ بھال کر سکوں گی؟ “ پھر وہ پوچھتی ہے کہ وہ یعنی علی خود کہاں ہے۔ شیزو کہتا ہے کہ وہ چلا گیا۔ وہ پوچھتی ہے کہاں چلا گیا؟ شیزو کہتا ہے پتہ نہیں۔

ایک روز یہ لڑکا ماں کے آشنا سے پیسے مانگتا ہے اور زینا کی جھونپڑی کی کھڑکی سے اسے کہتا ہے، ”ریستوران چلو گی؟ “ ( یاد رہے لڑکی سے آشنائی بڑھانے کو ریستوران جانے کی دعوت دی جاتی ہے جسے لڑکی عموماً رد نہیں کرتی ) ۔ لڑکی ہنس کے پوچھتی ہے، ”پیسے ہیں؟ “ جواب مثبت میں پا کر کہتی ہے، گھر پر بہتر اور سستا رہے گا۔ وہ اشیائے خورونوش لینے نکلتی ہے تو پوچھتی ہے کہ پیو گے کیا؟ لڑکا کہتا ہے وادکا۔

دعوت کے دوران زینا کہتی ہے کہ علی ملے تو کہنا کہ میں نے اس کا بچہ یتیم خانے میں داخل کرا دیا ہے اور خود مزدوری کرنے چین چلی گئی ہوں، مخمور شیزو بتا دیتا ہے کہ علی کو تومار دیا گیا تھا۔ لڑکی چیختی ہے کہ پہلے کیوں نہیں بتایا اور اسے نکال دیتی ہے۔

پھر شیزو ایک اور ویرانے میں ایک عجیب سی جھونپڑی میں اوپر پہنچتا ہے، جہاں ایک آدمی سو رہا ہوتا ہے۔ یہ اسے ہلا جلا کے جگانے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ نہیں جاگتا۔ یہ اس پر پانی کی کیتلی الٹ دیتا ہے۔ وہ شخص جاگ کے اسے پیٹنے کو پکڑ لیتا ہے۔ شیزو کہتا ہے مجھے چھوڑو میں تمہارا سگا بھانجا ہوں ماموں۔

یہ شخص کچھ ساتھیوں کے ساتھ کسی بددیانت تاجر کے لیے کھمبوں سے تار اتار کر دینے کا کام کرتا ہے۔ شیزو اسے بتاتا ہے کہ میں ‌ تو بتانے آیا تھا کہ پیسوں کی خاطر لڑائی کی جاتی ہے مگر تم تو کمزور ہو۔ ماموں پوچھتا ہے، کتنے پیسے؟ شیزو کہتا ہے، بہت سے، ایک امریکی مرسیڈیز دیتے ہیں۔ ماموں کہتا ہے کہ میں لڑوں گا۔

غنڈہ باس جب رنگ میں اس نحیف شخص کو دیکھتا ہے تو اپنے مکے باز سے کہتا ہے کہ پانچ منٹ تک مہلک وار نہ کرنا۔ پہلے چند منٹ تو ماموں خوب پٹتا ہے، لہو لہان ہو جاتا ہے مگر پھر مکہ باز کی وہ پٹائی کرتا ہے کہ اس کا مرنا یقینی ہو جاتا ہے۔ غنڈوں کا باس نہ چاہتے ہوئے بھی سیکنڈ ہینڈ مرسیڈیز کی چابی اسے دے دیتا ہے۔

شیزو ماموں کے ساتھ کاروں کی منڈی میں جا کر اڑھائی ہزار ڈالر میں کار بیچتا ہے۔ پھر ایک بڑا سا لفافہ لے کر زینا کے پاس پہنچتا ہے اور اسے لفافہ دیتا ہے۔ وہ دیکھتی ہے کہ لفافے میں اس کے لیے پیراہن ہے۔ وہ خوش ہوتی ہے، پیراہن پہن کے آتی ہے۔ بیٹھتے ہیں تو شیزو کئی سو ڈالر کے نوٹ جیب سے نکال کے میز پر رکھ دیتا ہے۔ لڑکی پوچھتی ہے کہ اتنے پیسے کہاں سے لائے؟ وہ کہتا ہے، کمائے ہیں۔ پھر پوچھتی ہے یہ سب میرے لیے ہیں؟ مصطفٰی کہتا ہے ہاں اور کہتا ہے کہ تم چین مت جاؤ اور بچے کو یتیم خانے میں مت دو۔ وہ کھانا بنانے چلی جاتی ہے اور مصطفٰی بچے کو پانی میں پیراکی کرتے ہوئے پہننے والی عینک دیتا ہے کیونکہ ہمیشہ پانی کی ناند میں منہ ڈبونا پسند کرتا ہے۔

زینا شیزو سے پوچھتی ہے، رہو گے کیا؟ وہ کہتا ہے ہاں۔ جھونپڑی کی صفائی دیکھنے والی ہے کیونکہ گندگی کا تعلق عسرت سے نہیں جہل سے ہے۔ لڑکی صاف غلاف والی رضائی سمیت زمین پر بچھے گدے پر صاف سفید چادر اور صاف سفید غلاف چڑھا تکیہ رکھ دیتی ہے۔ شیزو لیٹ جاتا ہے، رضائی اوڑھ لیتا ہے۔ دور پلنگ پر لڑکی بھی نہیں سو پا رہی۔ وہ پوچھتی ہے کیا نیند نہیں آ رہی؟ پھر پوچھتی ہے کیا چاہتے ہو؟ مصطفٰی بہت معصومیت سے پوچھتا ہے کہ کیا تمہیں آتا ہے، لڑکی ہنستی ہے اور پوچھتی ہے کہ تمہیں؟ وہ کہتا ہے ایک بار کوشش کی تھی مگر کچھ نہیں ہوا۔

غنڈہ باس شیزو کی ماں کے آشنا کو مارنے کو پکڑ لیتا ہے کہ وہ لڑکا کار بھی لے گیا اور تم نے خاص طور پر اس آدمی کو بلا کر میرا مکہ باز بھی مروا دیا۔ اب کل تک اس گاڑی کے پیسے دے دو، ورنہ میں تمہیں تڑپا تڑپا کے ماروں گا۔ یہ شخص گھر جاتا ہے، سب الٹ پلٹ کر دیتا ہے بالآخر شیزو کی ماں کی سلائی مشین کے اندر رکھی پوٹلی سے وہ پیسے نکال لیتا ہے، جو اس نے اگلے روز بیٹے کو بڑے شہر علاج کے لیے لے جانے کو رکھے تھے۔ اتنے میں شیزو کی ماں آ جاتی ہے مگر یہ اسے کہہ کے کہ ہاں میں نے لیے ہیں تمہارے پیسے، دھکا دے کے روتا چھوڑ جاتا ہے۔

پھر وہ جا کے ایک جگہ شیزو کو پکڑ لیتا ہے۔ پیٹتا ہے مگر پیسے تو نہیں ہوتے۔ وہ اسے کہتا ہے کہ ایک طریقہ ہے پیسہ کمانے کا۔ مصطفٰی کو لے جاتا ہے اور ایک منی چینجر کے ٹھئیے سے دور کھڑے ہو کر مصطفٰی کو ایک پستول دیتا ہے اور کہتا کہ سب نکلوا لاؤ۔ مصطفٰی پوچھتا ہے کہ تم خود کیوں نہیں جاتے؟ وہ کہتا ہے کہ تم تو ذہنی مریض ہو، تمہیں کچھ نہیں کہیں گے مجھے سزا ہو جائے گی۔

لڑکا لوٹ کے لے آتا ہے۔ دور جا کر یہ شخص پہلے شیزو سے پوچھتا ہے کہ پستول کہاں ہے؟ وہ بہانہ بنا دیتا ہے۔ وہ شیزو کو چھوڑ کے جانے لگتا ہے تو شیزو لوٹے ہوئے مال میں سے اپنا آدھا حصہ مانگتا ہے۔ یہ انکار کرتا ہے تو شیزو الجھ پڑتا ہے مگر یہ اسے دھکا دے کے گرا دیتا ہے۔ شیزو پستول سے اس پہ گولی چلاتا ہے۔ وہ مر جاتا ہے۔ یہ پیسے لے کے زینا کی جھونپڑی پہنچتا ہے جو گھر پہ نہیں ہوتی۔ یہ بچے کو لے کے چھت پر پڑچھتی میں جاتا ہے اور رگ سیک چھپا کے کہتا ہے کہ جب برف آئے تو اپنی ماما کو یہ تھیلا دکھا دینا۔ بچہ پوچھتا ہے کہ برف کب آئے گی۔ شیزو کہتا ہے کہ معلوم نہیں آئے گی تو تمہیں دکھائی دے گی۔

شیزو کو شیزوفرینک نہیں مانا جاتا اسے چھ برس سزا ہو جاتی ہے مگر جب کم مدت گزرنے پر اسے قبل از وقت رہا کیا جاتا ہے تو زینا وہی پیرہن پہنے گلدستہ لیے وہی عینک پہنے اپنے بچے کے ساتھ اس کا انتظار کر رہی ہوتی ہے جو شیزو نہیں بلکہ رحمدل مصطفٰی ہوتا ہے، یوں فیملی بن جاتی ہے۔

مختصر فلم کی اتنی لمبی کہانی اس لیے سنائی کہ اس میں مجھے کہیں بھی رونا نہیں آیا۔ اس کے برعکس کبڈی کی سابقہ پلیئر والی ہندی فلم دیکھتے ہوئے میرا گلا بار بار رندھا۔ یہ احساس بھی ہوا کہ اداکاری کتنا مشکل کام ہے کہ آپ جو بالکل نہیں ہوتے آپ کو وہ ہونا پڑتا ہے مثلاً کنگنا راناؤت کو کبڈی کبڈی کہتے کبڈی کھیلنے والیوں کی طرح کبڈی کھیلنی پڑتی ہے۔

ایسا کیوں ہوتا ہے کہ مقامی فلمیں دیکھ کر جی بھر آتا ہے، سیدھی سی بات ہے کہ فلم جذبات ابھارنے کو بنائی جاتی ہے، جھوٹے واقعے کو سچا کر کے دکھانا مقصود نہیں ہوتا جیسے کزاخ فلم میں تھا۔ کنگنا نے بیاہ کرکے کیریئر خراب کر لیا تھا، مجھے ایسے لگا جیسے میں نے بھی بیاہ کرکے اپنے بچوں کی ماں کا کیریر خراب کر دیا تھا۔ کنگنا کا بچہ انڈرویٹ اور کم آکسیجن کے ساتھ پیدا ہوا دکھایا گیا تو مجھے اپنے سب سے چھوٹے بچے عافین کا ایسے پیدا ہونا یاد آیا ہوگا تبھی آنکھیں چھلک پڑی ہوں گی۔ یہ انٹرٹینمنٹ ہے یا کورونا کا ہلکا حملہ، ویسے بائی دی وے فلم بری نہیں تھی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *