کرونا جیسی آفت سے نمٹنے کے لئے غیر سرکاری تنظیموں کو موقع دیا جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس آج ایک عفریت بن چکا ہے اور جس سے پوری دُنیا کے انسان بغیر کسی تخصیص کے متاثر ہو رہے ہیں۔ شنید ہے کہ تادم تحریرتک دنیا میں 200 ممالک اس کی زد میں آچکے ہیں اور ان ممالک میں دو لاکھ سے زیادہ افراد اس سے متاثر ہو چکے ہیں جن میں کم و بیش 7 ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق چین کے صوبے ووہان سے شروع ہونے والے کرونا وائرس کا آغاز وہاں پر موجود گیلی جانوروں کی منڈیوں (Wet Animal Markeets) سے ہوا اور چین سے تباہی پھیلاتا ہوا یہ وائرس ایران اور اس سے ملحقہ ممالک اور ٹھنڈے ممالک کی طرف گیا اور تازہ ترین معلومات کے مطابق چین میں تو کرونا کے مریضوں کی تعدا دمیں کمی بھی ہو رہی ہے اور وہ تندرست بھی ہو رہے ہیں لیکن اب یہ بیماری جن ممالک میں پھیل رہی ہے اُن میں اٹلی سر فہرست ہے جہاں پر ہو کا عالم ہے اور کم و بیش ڈیڑھ کروڑ آبادی والے ملک میں ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے کوئی رہتا ہی نہ ہو۔

کرونا وائرس سے جہاں پوری دُنیا کی اکانومی متاثر ہوئی ہے وہاں ہمارے ملک میں صورتحال روز بروز خراب ہوتی جا رہی ہے۔ روز انہ کی بنیاد پر کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور ہمارے ملک میں ہنگامی بنیادوں پر جو طبی سہولیات اُنہیں دی جا سکتی ہیں وہ دی تو جارہی ہیں لیکن اگر اُن کا دُنیا سے موازنہ کیا جائے تو ہماری سہولیات کو ناقص قرار دیا گیا۔ ایسی صورتحال میں ہمارے وزیر اعظم نے دُنیا سے اپیل کی ہے کہ چونکہ ہمارے پاس کرونا سے لڑنے کی سکت نہیں ہے اس لئے ہمارے غیر ملکی قرضے ختم کیے جائیں تا کہ ہم اپنے موجودہ وسائل کرونا کے لئے وقف کریں۔

ہمارے ملک میں قدرتی آفات کی اگر تاریخ دیکھی جائے تو ہمیں مختلف ادوار میں سیلابوں، زلزلوں، بارشوں اور شدید موسمی اثرات کا سامنا رہا ہے لیکن ہر موقع پر حکومت، فوج اور سول سوسائٹی تنظیموں نے عوام کو بہتر طریقے سے سنبھالا ہے۔ وہ چاہے 2005 ء کا زلزلہ ہو یا 2010 ء کا سیلاب ہو یا ہر سال ہونے والی شدید بارشیں ہوں ہر مشکل میں حکومت اور فوج کے ساتھ سول سوسائٹی نے بھی اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے۔ آج بھی اگر اُن متاثرہ علاقوں میں جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ لوگ آج بھی سول سوسائٹی کی اُن تنظیموں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے دُکھ کی گھڑی میں اُن کا ساتھ دیا۔

موجودہ صورتحال میں جہاں پوری دُنیا ہی متاثر ہو رہی ہے وہاں آئی ایم ایف اور دیگر امیر ممالک نے کرونا کے متاثرہ ممالک کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس صورتحال میں میری رائے ہے کہ جو قدغنیں غیر سرکاری تنظیموں پر لگائی گئی ہیں اُن کو فوری طور پر ہٹا یا جائے اور ان میں نرمی برتی جائے تاکہ مشکل کی اس گھڑی میں غیر سرکاری تنظیمیں جو اس قسم کی صورتحال سے نپٹنے کے لئے تجربہ رکھتی ہیں وہ حکومت اور فوج کے ساتھ مل کر اپنے لوگوں کے لئے کچھ کر سکیں۔

اس ضمن میں حکومت اگر کچھ شرائط رکھنا چاہے یا کوئی نئی قانون سازی کرنی چاہے تو ضرور کرے لیکن غیر سرکاری تنظیموں کو ایک موقع ضرور دے۔ حکومت فارن فنڈنگ کے حوالے سے بھی نرمی کرے اور غیر سرکاری تنظیموں کو اجازت دے کہ وہ غیر ملکی فنڈنگ کو کرونا کے متاثرین کے لئے ہی خرچ کرے۔ سب سے پہلے تو ضروری ہے کہ کرونا وائر س کے بارے میں دُرست معلومات فراہم کی جائیں۔ اس ضمن میں میری رائے کہ سول سوسائٹی کی تنظیمیں چونکہ عوام سے براہ راست رابطے میں رہتی ہیں اس لئے وہ ان درست معلومات کو عوام تک پہنچا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ جو تنظیمیں ہیلتھ کیمپ کا تجربہ رکھتی ہیں وہ اس حوالے سے اپنی سروسز دے سکتی ہیں۔

سول سوسائٹی کی یہ تنظیمیں جو ملک کے طول و عرض میں موجود ہیں لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے اُن کو شدید تحفظات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ملک بھر میں لوگوں کو طاقتور بنانے کا جو سلسلہ گزشتہ تین چار دہائیوں سے چل رہا ہے وہ تقریباً رُک چکا ہے اور نتیجے میں اس سیکٹر سے جڑے لاکھوں لوگ جن میں بیشتر پڑھے لکھے ہیں وہ یا تو دوسرے شعبوں میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں یا بیروز گاری کے عفریت میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ایسی صورتحال میں اگر حکومت اُن کو مواقع دیتی ہے تو اُن کے لئے یقینا یہ بہت اہم ہو گا کیونکہ اس طرح وہ اپنی مرضی کے شعبے میں دوبارہ کام کرسکیں گے، ملک سے بے روز گاری کا خاتمہ ہو گا اور سب سے بڑھ کر سول سوسائٹی تنظیمیں حکومت اور فوج کے ساتھ مل اس آفت سے اپنے لوگوں کو نکالنے کے لئے ایک پیچ پر اکٹھی ہوں گی۔

میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کے پاس ایک سنہری موقع ہے کہ اپنے پڑھے لکھے افراد کی ایک بڑی تعداد کو ایک موقع ضرور دے۔ یاد رہے کہ اس سیکٹر میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل ہے، اب چونکہ تحریک انصاف ہمیشہ نعرہ لگاتی ہے کہ وہ نوجوانوں کو سپورٹ کرتی ہے تو اس حوالے سے بھی ضرور سوچے اور اُن سارے ابہام اور غلط فہمیوں کو دور کرے جو سول سوسائٹی کی تنظیموں سے متعلق پھیلائی گئی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کرونا جیسی عفریت سے نپٹنے کے لئے ہم سب کو بحیثیت ایک قوم ہونے کی ضرورت ہے تب ہی ہم اس کو ختم کرنے میں آسانی سے کامیاب ہو سکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply