درباری مولوی، دعا کا فلسفہ اور کرونا وائرس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دعا اللہ اور بندے کے درمیان تعلق کا نام ہے یہ تعلق جس قدر توانا ہو گا دعا میں اسی قدر تاثیر ہو گی۔ دعا عالم تنہائی میں مکمل توجہ اور یکسوئی سے خالق حقیقی کے دربار میں بھیجی جانے والی مخلص درخواست ہے۔ دعا میں مسجع و مقفیٰ اسلوب، شکوہٍ الفاظ و تراکیب، نادر تشبیہات و استعارات اور شاعرانہ زبان و بیان کے اہتمام کی ضرورت تو کجا، الفاظ کی بھی حاجت نہیں ہوتی۔ دعا تو عالم جذب و مستی اور بے خودی کی کیفیت میں دل و روح سے نکلنے والی آہٍ رسا اور درد انگیز فریاد کا نام ہے جو پلک جھپکنے میں افلاک کا سینہ چیرتے ہوئے عرش بریں تک پہنچتی ہے۔

آہ جو دل سے نکالی جائے گی

کیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی

مگر ہمارے ہاں جب سے مذہب اور اس کے دوسرے بے شمار مظاہر کمرشلائز ہوئے ہیں، اجتماعی دعاٶں، مناجات اور حاجات نے بھی پیشہ ورانہ اسلوب اختیار کر لیا ہے۔ سو مختلف دینی اجتماعات میں نعت خوانوں کی ٹولیوں کی طرح اب پیشہ ور دعا مانگنے والے خواتین و حضرات بھی اجرت پر بلائے جاتے ہیں۔ یہ لوگ موقع و محل کے مطابق رقت آمیز انداز سے لہک لہک کر اور جھوم جھوم کر رٹی رٹائی دعائیں مانگتے ہیں۔ باقاعدہ آنسوٶں سے رونے کی ادا کاری کرتے ہیں۔ گڑ گڑاتے اور گریہ و زاری کرتے ہیں اور وہاں موجود حاضرین کو بھی مسحور کر دیتے ہیں۔ دعا کے بعد اپنا معاوضہ وصول کرتے ہیں اور تھوڑی دیر بعد ایسی ہی کسی دوسری تقریب میں ویسی ہی دعا کروانے پہنچ جاتے ہیں۔

یہ سب تو ہمارے ہاں کافی عرصے سے ہو رہا تھا مگر کسی ٹی وی چینل پر جگمگاتے اسٹوڈیو میں، آراستہ و پیراستہ ہال میں درجنوں کیمروں کے سامنے ”رقت آمیز“ دعائیہ اجتماع پہلی بار دیکھنے کو ملا جہاں ایک تبلیغی جماعت کے درباری مولوی صاحب نے کرونا کی یلغار کے خلاف دعا کروائی۔ انہوں نے اپنی دعا میں جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر اعظم کا نام لے کر ان کی نیک طینتی، حسن اخلاق اور کردار کی عظمت اور پارسائی کا ذکر کر کے کرونا کے خلاف ان دونوں کی ”مثالی“ (؟) کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے اس جنگ میں ان کے سرخرو ہونے کی دعا فرمائی۔

چلیں کپتان کی نیک سیرتی، زہد و اتقا، عبادت و ریاضت، پاکیزگی و پارسائی اور فقر و قناعت اور کرونا کے خلاف ”مثالی“ جنگ اور حکمت عملی کا ذکر اپنی جگہ مگر ہمیں افسوس اس بات کا ہے کہ سرکاری درباری مولوی صاحب نے سندھ کے وزیر اعلٰی اور حکومت کی قابل ستائش کارگزاری اور گلگت میں کرونا کے خلاف لڑتے ہوئے جان دینے والے ڈاکٹر اسامہ کا نام تک نہیں لیا۔ انہوں نے اپنی معجز نما خطیبانہ صلاحیتوں اور فصاحت و بلاغت کے جوہر آرمی چیف اور وزیر اعظم کی شان میں قصیدہ خوانی کے لیے وقف کیے رکھے۔

کاش ہمارے سرکاری درباری مولیان کرام و مفتیان عظام اپنے اسلاف میں سے چند برگذیدہ اور حق گو ہستیوں کی سیرتوں کو ہی دیکھ لیتے۔ امام ابو حنیفہ نے خندہ پیشانی سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر لیں مگر عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور کے حکم پر قاضی القضاۃ کا منصب قبول نہیں کیا۔ امام احمد بن حنبل کو تنگدستی، فقر و فاقہ، غربت و ناداری کے علاوہ چار خلفائے وقت کی قید و بند جیسی کڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑا مگر کسی حاکم کے دستر خوان کی خوشہ چینی نہ فرمائی۔

خلیفہ مامون الرشید نے انہیں زنداں خانے میں اس طرح گھسیٹا کہ بیڑیوں کا وزن اور ہتھکڑیوں کی جھنکار چلنے نہ دیتی تھی۔ معتصم با اللہ نے سزائے قید کے دوران میں سربازار کوڑے لگوائے مگر پائے صمیم میں لغزش نہ آئی۔ اس خوددار ہستی نے متوکل کے سونے چاندی کے انبار کو پائے حقارت سے ٹھوکر مار دی۔ مغل باشاہ شہنشاہ اکبر اور جہانگیر کے زمانے میں حضرت مجدد الف ثانی نے قید و بند کے مظالم جھیلے مگر اس طرح بادشاہوں کی کاسہ لیسی اور خوشامد نہیں کی۔ یہ تو چند مثالیں ہیں مگر تاریخ اسلامی ایسے تابناک و ایمان افروز واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جب حق گو اور اولوالعزم علمائے کرام نے جابر و ظالم بادشاہوں کے سامنے کلمہٕ حق بلند کیا۔ کئی تو اس راہ کٹھن میں جان سے گزر گئے مگر اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا۔

مولانا اگر ذاتی زندگی میں اتنی رنگینیوں، رعنائیوں، عیش پرستیوں، جھوٹ و منافقت، یو ٹرن، حکومت وقت کے خلاف بغاوتوں، مقتدرہ سے ساز باز کر کے حکومتیں گرانے کی سازشوں، عہد شکنیوں، نا اہلیوں و نالائقیوں، سیاسی انتقام، اقربا پروریوں، سفارشوں اور طمع و لالچ کی ہوشربا داستانوں کے باوجود وزیر اعظم کو نیک سیرت اور متقی سمجھتے ہیں تو ان کی خدمت میں دست بستہ عرض ہے کہ عوام کو سربراہ مملکت یا حاکم وقت کی ذاتی زندگی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔

حکمران کو اس باپ کی طرح ہونا چاہیے جو بھلے نمازی، حاجی، تسبیح بدست اور تہجد گزار نہ ہو مگر اپنے اہل و عیال کا بے لوث محافظ اور ان کی ضروریات کو بہ طریق احسن پورا کرنے والا ہو۔ اس کے مقابلے میں اگر وہ ذاتی زندگی میں جس قدر بھی پارسا، زاہد اور عبادت گزار ہو مگر گھر والوں سے اس کا برتاٶ اچھا نہ ہو تو وہ اس کی عبادت و ریاضت کا اچار ڈالیں گے؟

جس طرح ابن انشا نے اورنگ زیب کے بارے میں لکھا تھا کہ اس نے اپنی زندگی میں کوئی نماز قضا نہیں کی اور کسی بھائی کو زندہ نہیں چھوڑا۔ برسبیل تذکرہ یہی مولانا صاحب اپنے بیانات میں یہ فرما چکے ہیں جب حکمران بددیانت، گمراہ، خائن مسلط ہوتے ہیں تو اللہ تعالٰی ناراض ہو کر بیماری، وبا، بے موسمی بارشوں اور دوسری آفات و بلیات کی شکل میں آسمان سے عذاب نازل کرتا ہے۔

حرف آخر یہ ہے کہ دعا کی سنت یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالٰی کے سامنے گڑگڑانے سے پہلے آخری درجے تک دوا کا اہتمام کر لینا چاہیے یعنی تمام دنیوی تدابیر اور کاوشوں کے بعد اللہ سے دست بدعا ہونا چاہیے۔ جس طرح نبی اکرم صلعم نے غزوہٕ بدرمیں تمام دنیوی اور مادی اسباب مہیا کرنے کے بعد آدھی رات کے بعد اللہ تعالٰی سے فتح کی دعا مانگی تھی۔ کرونا کے حوالے سے ہمارے نیک سیرت حکمران اور سرپرستوں کی حالت یہ ہے کہ کرونا اٹلی کے مقابلے میں یہاں کئی گنا تیز رفتاری سے پھیل رہا ہے اور یہ خوف و ہراس پھیلانے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہے۔

اٹلی صحت کی سہولیات کے حوالے سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے اور وہاں اس کے باوجود قیامت صغریٰ برپا ہے جبکہ ہمارا نمبر اس حوالے سے ایک سو بارہواں ہے اور ہمارے حکمران ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے۔ اللہ تعالٰی نے اگر کسی عالم کو عوام میں پذیرائی بخشی ہے تو اسے چاہیے کہ مکار، بددیانت اور ظالم حکمرانوں کی کاسہ لیسی و خوشامد کرنے اور درباری تقاریب میں فنکا ریاں دکھانے کے بجائے لوگوں کی درست سمت میں راہنمائی کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *