لاک ڈاؤن میں گھر پر وقت کیسے گزاریں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس کے باعث بگڑتی صورتحال پر قابو پانے کے لئے عوام کو گھروں میں رہنا پڑ رہا ہے۔ دن بھر کام کرنے والے لوگوں کو گھر میں بیٹھنا مشکل لگ رہا ہے۔ سیلف آئسولیشن اور لاک ڈاؤن جیسی اصطلاحات سے ہماری قوم تقریباً ناواقف ہے اس لئے ایسے صورتحال میں ہم مثبت سرگرمیوں کی بجائے حد سے زیادہ سوشل میڈیا سرفنگ اور گیمز کھیل کر وقت ضائع کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم سوشل میڈیا کی مدد سے ہی کچھ نا کچھ مثبت کرسکتے ہیں اور اسی بہانے کرونا وائرس کی چین بریک کرنے میں ہمارا عملی تعاون بھی شامل ہو جائے گا۔

مثبت سرگرمیاں کیا ہوسکتی ہیں؟

تو چلئے ہم آپ کو اس روایتی لائن کے حساب سے بتاتے ہیں کہ میں آپ کو ایسے دس کام گنوا سکتا ہوں جو آُپ گھر رہ کر سکتے ہیں جس کا آپ کو عملی طور پر ضرور فائدہ ہوگا۔

آن لائن کورسز

دنیا بھر میں جیسے ہی کرونا وائرس پھیلا، لوگ گھروں میں محصور ہوگئے لیکن ان کے کام کسی حد تک جاری رہے، تو اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے آن لائن سکلز کی تربیت دینے والی ویب سائٹس نے عوام کے لئے بہت سارے آن لائن سکلز کورسز کی فیسیں بھی کم کردی اور بیشتر کورسز ان ویب سائٹس پر مفت کروائے جانے لگے۔ آپ گوگل سرچ انجن پر بلاک چین مینجمنٹ فری کورس، بلاگنگ، یوٹیوب چینلز اور ڈراپ شپنگ جیسے کارآمد کورسز باآسانی ڈھونڈ کر رجسٹر ہوں اور گھر بیٹھے یہ کورسز کیجیئے جو ہمیشہ آپ کے کام آئیں گے۔

آن لائن نیوز پیپر ریڈنگ

بہت سارے قارئین روزانہ اخبار پڑھنے کے عادی ہیں، بیشک ان کے لئے اخبار کی بجائے آن لائن اخبار پڑھنا تھوڑا مشکل ہوگا لیکن یہ ایک نیا تجربہ ہوگا اور وہ بغیر پیسے خرچ کیے اخباروں کی ایک وسیع رینج آن لائن ہی پڑھ سکتے ہیں۔

آن لائن روابط

لاک ڈاؤن ہوتے ہی ہم نے بطور قوم ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنایا اور بازار و کاروبار بند ہونے کے باوجود گلی کوچوں میں دوست و احباب کی محفلیں جمانے شروع کردیں، اس کا بہتر حل یہ ہے کہ ہم گھر رہتے ہوئے انہی دوستوں اور رشتہ داروں سے آن لائن ایپس کی مدد سے رابطہ رکھیں اس سے پیسوں کی بھی بچت ہوگی اور سب سے تعلقات بھی بحال رہیں گے۔

ورک فرام ہوم کا عملی تجربہ

پروفیشنل لوگوں کی کثیر تعداد ورک فرام ہوم کی اصطلاح سے عملی طور پر ناواقف ہے، اس صورتحال میں آپ کو ورک فرام ہوم کا عملی تجربہ بھی ہوگا اور وہ تمام اخلاقیات اور قواعد و ضوابط بھی سمجھ آئیں گے کی کیسے گھر میں رہتے ہوئے ہم ایک پروفیشنل ماحول بناکر کام کرسکتے ہیں۔

اسی بہانے آپ کو یہ جاننے میں بھی مدد ملے گی کی دنیا بھر میں کتنی تیزی سے آن لائن ورک فرام ہوم کا ٹرینڈ آرہا ہے اور ڈیسک جابز کتنی تیزی سے ختم ہورہی ہیں اور یہ سوچ بھی بیدار ہوگی کہ آپ مستقبل سے کیسے ہم آہنگ ہوسکتے ہیں۔

منظم زندگی

ہم عمومی طور پر اپنی عملی مصروفیات کے باعث منظم زندگی کے اصول اپنا نہیں پاتے لیکن بظاہر صورتحال میں ہم اپنی زندگی کو منظم بناسکتے ہیں، جس میں عبادات، کھانے کے شیڈول، صحمتمندانہ سرگرمیوں اور اپنی ملازمت یا کاروبار کو وقت دینے کا شیڈول مرتب کرنے اور وقت کا صحیح استعمال کرنے جیسے اہم کام سرانجام دے سکتے ہیں۔

ایکسرسائز

صحت مند انسان کی زندگی کا اہم ترین پہلو ایکسرسائز ہے، جس کی اہمیت کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک، عالمی حیثیت کے حامل کاروبار نظام اور مضبوط سیاسی قوتوں کے سربراہان اپنی صحت کو ٹھیک رکھنے لئے ایکسرسائز پر زور دیتے ہیں اور ان عہدوں پر ترقی بھی انہی لوگوں کو دی جاتی ہے جو اپنی صحت کا خیال رکھتے ہیں جس سے ان کی سنجیدگی کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔

ان دنوں میں گھر پر رہتے ہوئے یوگا اور اس جیسی دیگر ایکسرسائز آپ کو ذہنی سکون اور جسم کو منظم کرنے میں خاصی مدد دے گی۔

تعطل کے شکار کاموں کی تکمیل

ترجیحی کام کی لسٹ میں ہمارے کچھ کام گزرتے وقت کے ساتھ نظرانداز ہو جاتے ہیں یا وہ اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں لیکن ہمارا لشعور ہمیں وہ کام یاد دلواتا رہتا ہے، التوا کے شکار ایسے کام پایہ تکمیل تک پہنچانے کا یہ سنہری وقت ہے، اسی بہانے آپ کی زندگی بھی آسان ہوگا اور ذہنی سکون بھی ملے گا۔

گھر کی تزین و آرائش

شایہ ایسے لوگوں کی تعداد کم ہو لیکن ایسے لوگ آج بھی موجود ہیں جو فراغت کے اوقات میں اپنے گھر کی تزین و آرائش کرنے کا شوق رکھتے ہیں، تو اب دیر کس بات کی ہے جناب، اٹھیں اور پورے گھر میں نظر دوڑائیں کہ کون سے چیزیں ٹھیک ہونے والی ہیں جو گھر سے باہر جائے بغیر آُپ ازخود ٹھیک کرسکتے ہیں وہ سب کام مکمل کیجیئے اور اگر سب ٹھیک ٹھاک ہے تو یوٹیوب سے گھر کی تزین و آرائش کے نت نئے آئیڈیاز ڈھونڈھیں اور ان کو گھر میں عملی جامہ پہنائیں، اس سے گھر کی خوبصورتی میں نکھار آئے گا۔

کچن گارڈننگ

شہروں ان کنکریٹ کے جنگل کی ایک شکل بنتے جارہے ہیں جن میں صحت افزا مقامات اور چیزوں کی قلت واضح ہے ایسی صورتحال میں کچن گارڈننگ ایک ایسی سرگرمی ہے جو آپ ذۃنی سکون کے ساتھ اس کا صحتمند پھل بھی دے گی، اس کے لئے بھی آپ آن لائن ویڈیوز کی مدد سے گھر میں رہ کر مصروفیت ڈھونڈ سکتے ہیں۔

لیاد رہے اس کام کے لئے گھر میں کسی مناسب جگہ اور کچھ چیزوں کے حصول کے لئے شاید آپ کو گھر سے باہر جانا پڑے، لیکن پریشان مت ہوں یہ لاک ڈاؤن ہے کرفیو نہیں اس لئے اشد ضرورت پڑنے پر آپ گھر سے باہر جاسکتے ہیں۔

کھانا پکانا

کہا جاتا ہے کہ خوش خوارک لوگوں کے دل کا رستہ ان کے پیٹ سے ہوکر جاتا ہے، تو جناب آپ گھر رہتے ہوئے اپنی فیملی کے لئے ذائقے دار کھانے بنائے اس بہانے آپ کو گھر والوں کی خدمت کے ساتھ ان کے مزید قریب ہونے کا موقع بھی ملے گا اور بطور شیف آپ کو دوسروں کے دلوں پر راج کرنے کا ایک ہنر سیکھنے کا موقع بھی ملے گا۔

یہ تو تھے وہ سب آئیڈیاز جو ہم گھر رہتے ہوئے اپنا سکتے ہیں۔ لیکن جاتے جاتے ایک نصیحت، کہ سوشل میڈیا پر آج کل یہ افواہیں عام ہو رہی ہیں کہ حکومت ایک ماہ کے لئے لاک ڈاؤن کرنے جار ہی ہے جس سے غذائی قلت پھیل جائے گی اور لوگ دھڑا دھڑ چیزیں خرید رہے ہیں اس اصلاح کو پینک بائینگ کہتے ہیں۔

ایسی افواہوں پر ہرگز اعتبار مت کیجیئے، حکومت کا ساتھ اور معتدل رویہ اپنانے کے ساتھ ساتھ ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں تبھی ہم سب مل کر کامیابی سے درپیش آفت کا مقابلہ کرسکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply