دنیا مطلب دی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جو لوگ مجھ سے یا میرے طرزِ تحریر سے واقف ہیں ان کے لیے یہ عنوان تھوڑا بلکہ کچھ کے لئے کافی حیرت انگیز ہو گا۔ کیونکہ میں نے اپنی پہلی تحریر میں یہ ٹھان لیا تھا کہ طنزیہ اور منفی تحریروں سے تو ہمارا موجودہ ”ادب“ بھرا پڑا ہے کیوں نہ میں مثبت لکھوں۔ یہ معیار بھی طے تھا کہ دل سے لکھوں گی۔ یوں یہ تحریر دوسرے معیار پر تو پوری اترے گی مگر پہلے کو شاید پورا نہ کر سکے۔

تو شروع کہانی کہاں سے ہونی چاہیے۔ ظاہر ہے خود سے۔ پچھلے دنوں اشفاق احمد صاحب کا ایک لیکچر سن رہی تھی انہوں نے کہا اُن کی ماں نے انہیں نصیحت کی تھی کہ جب بھی سچ بولنا تو اپنے بارے میں بولنا۔ تو میں نے بھی فیصلہ کیا کہ پہلا سچ اپنے بارے میں بولا جائے۔ اس سچ کا احساس مجھے تب ہوا جب میں نے گزشتہ دنوں اپنے ایک پرانے دوست کو فون کیا، اور کہا مجھے ایک چھوٹا سا کام ہے۔ ”اس نے کہا ظاہر ہے آج کل کام کے بغیر کون کسی کو کال کرتا ہے (یہاں ان کالز کی بات نہیں کر رہی جو کرتے ہوئے ہماری آدھی نو جوان نسل کسی کام کی نہیں رہی) ۔ پہلے تو مجھے لگا کہ فیصل آباد سے تعلق رکھنے کی وجہ اس کی طرف سے اتنی جگت تو بنتی ہے مگر جب میں نے سنجیدگی سے سوچا تو احساس ہوا میں نے اسے پانچ سال بعد فون کیا تھا۔ ظاہر ہے جب دوست کہہ رہی ہوں تو پانچ سال بعد کال کرنا تو نہیں بنتا ناں!

اسی طرح ہم سب کی زندگی میں ایسے تعلقات آتے رہتے ہیں جنہیں ہم ورکنگ ریلیشنز کہتے ہیں۔ مطلب جب تک کام ہے تب تک رشتہ۔ مگر کیا یہ ان انسانی اصولوں کے خلاف نہیں جن میں تعلقات کو ورکنگ بنانے کے لئے ہر قسم کی قربانی دی جاتی تھی۔

آج اگر ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہمارا کوئی دوست، جاننے والا یا رشتہ دار کسی اچھے عہدے پر ہے تو ہم اسے فوراً کال کر کہ کہتے ہیں ”گھر چکر لگاؤ ناں۔ بھابھی اور بچے یاد کر رہے ہیں“ اور اگر وہ انکار کر دے تو ہم کہتے ہیں ”کوئی نہیں تم مصروف ہو تو ہم خود آجاتے ہیں“ یعنی تعلقات بنانے اور نبھانے کی انتہائی کوشش۔ اور ویسی ہی کال کسی ایسے شخص کی طرف سے ہمیں آ جائے جو مستقبل قرب میں ہمارے کسی کام نہیں آ سکتا تو ہم گھر پر عدم موجودگی کا بہانہ کرتے ہیں یعنی جان چھڑانے کی انتہائی کوشش۔ تو جناب جس نے مطلب کے لئے رشتہ رکھا تو کیا رکھا۔ یقین رکھیئے اس تعلق کو کبھی زنگ نہیں لگتا جس میں خلوص کا رنگ شامل ہو۔ مطلب کے لئے رکھے جانے والے رشتے نہ دیر پا ہوتے ہیں اور نہ مضبوط۔

دوستی بھی عہدے دیکھ کر کی اور نبھائی جاتی ہے۔ بچپن کے دوستوں میں کامیاب دوستوں کی الگ ٹولی ہوتی ہے اور نا کام دوستوں کی الگ۔ ایک ہی پیشہ کے کامیاب لوگ ملکر ”ثقافت“ اور ”انسانی ہمدردی“ کے علمبردار بن جاتے ہیں۔ جب کہ یہ انسانیت کے دعوے اتنے کھوکھلے ہوتے ہیں کہ وہ ایسے ساتھیوں کو جو ان کی نظر میں نا کام ساتھیوں سے کوئی فائدہ نہ ہونے کی وجہ سے انسانی ہمدردی کے لئے بھ رابطے نہیں رکھتے۔ کیونکہ ان کی نظر میں ایسے لوگوں سے تعلقات کا فائدہ نہیں۔ جو کامیاب ہوتے ہیں وہ بھی بجائے شکر کہ اپنی قابلیت پر فخر کرنے لگتے ہیں۔

محنت اور کامیابی کا جو جوڑ بنایا وہ بھی عجیب ہے۔ میری ایک بہت اچھی دوست ہیں جنہوں نے انتہائی مشقت کی زندگی گزاری لیکن کبھی اچھی تنخواہ اور عہدہ لینے میں ناکام رہیں۔ جب ایک جگہ اللہ اللہ کر کے اچھی ملازمت ملی تو انسانی ہمدردی کے ایک علمبردار نے ان کی ملازمت ختم کر دی۔ بظاہر ناکام کرنے کی ایک کوشش مگر آج میرے خیال میں وہ اس شخص سے زیادہ کامیاب ہیں کیونکہ ان کی اولاد ان کے آنکھ کے اشاروں پر چلتی ہے۔

لہذا ضروری نہیں صلہ وہیں ملے جس سمت میں محنت کی ہو۔ اسی لئے ہمیں مطلب کو پسِ پشت ڈال کر انسانیت کو اپنا مقصد بنانا ہو گا۔ تا کہ کل کو ہم اپنی نسلوں کو انسانیت کا درس دیتے ہوئے شرم نہ محسوس کریں۔ ہمیں اپنے پیمانے بدلنے ہوں گے۔ ہم سے قیامت میں ڈگریوں، گھروں اور گاڑیوں کا سوال پوچھا جائے گا نہ اعلی عہدوں والے تعلقات کا۔ سوال ہو گا تو ہمارے ذاتی نامہءاعمال کا۔ جس میں اگر صلہءرحمی کے بجائے مطلبی رشتہ ’دوستی اور ہمدردی کی بجائے مفاد اور خدمتِ خلق کے پیچھے دکھاوا نکل آیا تو سمجھیں ہماری ساری کامیابی غارت۔

اگر ہم کسی کی مدد کرتے بھی ہیں تو یہ اندازہ کہ وہ بدلے میں ہمیں کیا دے سکتا ہے۔ پتے کی بات ہے کہ بدلہ انسان نہیں اللہ دیتا ہے۔ ہوسکتا ہے وہ بدلے میں کچھ بڑا دینے پر راضی ہو اور ہم کم کا اندازہ اور توقع کر کے وہ گنوا دیں۔ وہ تو دس گنا دیتا ہے ہم کم لے کر راضی ہو جاتے ہیں۔ یہ بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اگر ہم کسی کا بھلا کر بھی سکتے ہیں تو اس لئے نہیں کرتے کہ ہمارا حصہ نہ ختم ہو جائے۔ تو جناب جو حصہ ہمارا ہو چاہے وہ رزق کا ہو یا عزت کا وہ ہمیں مل کر رہتا ہے۔

اسی طرح جو عزت یا رزق کسی دوسرے کے نصیب میں لکھا جا چکا ہے وہ اسے مل کر رہے گا چاہے ہم مدد کر دیں یا ساتھ چھوڑ دیں۔ بھولنے کا بہانہ کریں یا اگلے کو یہ کہہ کر شرمندہ کریں کہ تم نے یاد نہیں کروایا۔ ہر بندہ اپنے حصے کی عزت اور رزق لے کر آتا ہے ہم زیادہ سے زیادہ وسیلہ بنائے جا سکتے ہیں۔ مگر یاد رہے جس نے ہمیں وسیلہ بنایا ہے وہ یہ اختیار چھین بھی سکتا ہے۔ تسلیم کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ ہم اس کے دیے میں سے تقسیم کریں۔ ورنہ اس کے دینے کا عمل کسی ایک انسان کا محتاج نہیں۔ وہ ہم سے پہلے بھی چل رہا تھا اور ہمارے بعد بھی نظام کائنات میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔

میرے ایک انتہائی قریبی ساتھی کو ایک دفعہ میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر تم نہ ہوتے تو میرا یہ کام ہونا بہت مشکل تھا“۔ اس نے جو جواب دیا وہ جملہ نہیں بلکہ فلسفہ ہے۔ ”میں نہ ہوتا تو کوئی اور ہوتا آپ کا کام ہو جانا تھا“۔ دنیا ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے قائم ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ زندگی کی گاڑی کسی ایک انسان کی محتاج نہیں تقدیر کی محتاج ہے۔ اگر رب تعالی آپ کی مشکل حل کرنا چاہتے تو انجان سے بھی کروا سکتا ہے اور اگر مصلحت کے لئے سبب کسی کام کی تکمیل جب نصیب میں ہے تو کوئی چھین نہیں سکتا اور نصیب میں نہیں تو کوئی دے نہیں سکتا۔

بات غور طلب ہے۔ دنیا مطلب کی اور مطلبی ہے۔ اگر ہم یہ زندگی دنیاوی لالچ اور مطلب کے بے مہار گھوڑے کے حوالے کر دیں گے تو مقصدیت کہاں جائے گی۔ سو دنیا جتنی بھی مطلبی ہو جائے ہم کوشش کریں کہ ایک بامقصد زندگی گزاریں۔ جس میں اپنے لئے بھی دوسرے کے لئے بھی آسانیاں ہوں۔ تا کہ با مقصد اور با ظرف زندگی گزارنے کا شرف حاصل کر سکیں۔

۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *