مستقبل میں دُنیا کو کیسے بچایا جائے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس کوعالمی وباکی شکل اختیار کرنے کے بعد دنیا لاک ڈاؤن کی کیفیت سے دوچار ہے۔ پوری دُنیا کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ کرونا کے متاثرہ ممالک میں ہو کا عالم ہے۔ عالمی معیشت بُری طرح متاثر ہو ہوئی ہے۔ دنیا بھر میں مارکیٹیں، ریستوان، پارک، ہوٹل، سکول، کالج، یونیورسٹیا ں تقریباً سب ہی بند ہو چکے ہیں اور پوری دُنیا ہی کم و بیش محصور ہونے کا تجربہ کر رہی ہے۔ ایک خوف کا عالم ہے کیونکہ کرونا کے مریضوں کے لئے ویکسیسن ہی دستیاب نہیں ہے گو کہ اس پر طبی ماہرین کام کر رہے ہیں لیکن شنید ہے کہ اس کے لئے کم و بیش بارہ سے اٹھارہ ماہ کادورانیہ درکار ہے جبکہ صورتحال یہ ہے کہ کرونا کے مریض ہفتوں میں ہی جاں بحق ہو جاتے ہیں۔

ایک خوف کا عالم ہے اور دُنیا بھر میں کرونا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر پر کام ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں سوال یہ ہے کہ سائنس کی اتنی ترقی اور ترقی یافتہ امیر ملکوں کے پاس بڑی تعداد میں زرمبادلہ ہونے کے باوجود وہ بے بس ہیں کہ کرونا سے نپٹنے کے لئے اُن کے پاس تاحال ویکسین نہیں ہے جبکہ کہا جاتا ہے کہ اس بیماری کے بارے میں پیش گوئی کی جا چکی تھی۔ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ دُنیا شاید انتظار کر رہی تھی کہ جب یہ شروع ہو تو پھر اس پر سوچا جائے۔ شروع میں اسے صرف چین کا مسئلہ سمجھا گیا لیکن آہستہ آہستہ جب اس نے دنیابھر میں انسانوں کو متاثر کیا تو پھر خیال آیا کہ یہ تو ایک عالمگیر مسئلہ ہے۔

بی بی سی 27 فروری 2020 ء کے مطابق موجودہ کرونا وائرس سے پہلے بھی مختلف بیماریوں نے دُنیا بھر میں انسانوں کو متاثر کیا جس میں بڑی تعداد میں لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ 1918 ء میں ہسپانیہ میں فلو آیا جو عالمی وبا کی شکل اختیار کر گیا جس سے دُنیا بھر میں پانچ کروڑ افراد مارے گئے جن میں 15 سے 34 سال کے افراد شامل تھے۔ ایشیائی فلو پہلی مرتبہ 1957 ء میں سنگا پور میں سامنے آیاجس سے گیارہ لاکھ لوگ ہلاک ہو گئے۔ ہانگ کانگ میں فلو 1968 ء میں آیا اور اس سے پانچ لاکھ لوگ متاثر ہوئے۔

یہ ایشیاء اور یورپ میں پھیلا۔ ویت نام سے لوٹنے والے امریکی فوجی اسے اپنے ساتھ امریکہ لے گئے جہاں ہزاروں لوگ اس سے ہلاک ہوئے۔ سوائن فلو 2009 ء میں میکسیکو سے شروع ہوا اور اس سے 2 لاکھ لوگ مارے گئے۔ ایچ آئی وی ایڈز 1981 ء میں پہلی مرتبہ امریکہ میں رپورٹ کیا گیا۔ دنیا بھر میں ساڑھے سات کروڑ افراد سے متاثر ہو چکے ہیں اور ان میں سے تین کروڑ بیس لاکھ افراد اس دنیا میں نہیں رہے۔

کہا جاتا ہے کہ کرونا وائرس کی تاریخ پرانی ہے اور یہ مختلف شکلوں میں ماضی میں نمودار ہوتا رہا اور تباہی مچا کر ختم ہو گیا۔ کرونا کی یہ ساتویں قسم ہے جس کا آغاز چین کے صوبے ووہان سے ہوا اور اب یہ کم و بیش آدھی دُنیا کو متاثر کر چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کے لئے پہلے تیاری کیوں نہیں کی گئی؟ میں سمجھتا ہوں کہ دُنیا بھر میں دو عالمی جنگوں اور مختلف ممالک کے درمیان جاری جنگوں نے چونکہ ہمیں ایک دوسرے پر برتری لینے کی دوڑ میں شامل کردیا اور اس برتری کے چکر میں امیر ممالک نے بڑی تعداد میں ہتھیار بنائے جس نے دنیا میں ہونے والی جنگوں میں تباہی و بربادی کی نئی تاریخ رقم کی ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ حیرت کی بات یہ کہ یہ جنگیں چھوٹی عالمی جنگیں ہی ہیں کیونکہ دو ملکوں کی جنگوں میں ایک دوسرے کے اتحادی اس میں شامل ہوجاتے ہیں جیسا کہ شام اور یمن کی جنگ میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح اتحادی ممالک نے ان جنگوں میں اسلحہ کا استعمال کیا ہے۔

اگر دوسری عالمی جنگ کا اندازہ لگایا جائے تو اعدا د و شمار کے مطابق اس جنگ میں شریک تمام اقوام کو مجموعی طور پر چالیس کھرب ڈالر ز کا نقصان اُٹھانا پڑا۔ اس جنگ میں سوویت یونین کی قومی دولت کا 1.3 فیصد، برطانیہ کا 0.8 اور فرانس کا 1.5 حصہ تباہ ہوا۔ ”اس حوالے سے ہفت روزہ ہم شہری میں دسمبر 2015 ء میں شائع ہونے والی کرسچن سائنس مانیٹر کے بارے میں بتایا گیا کہ“ داعش کے خلاف جنگ میں 3 ارب 50 کروڑ ڈالر ( 356 ارب روپے ) کے اخراجات ہوچکے ہیں جبکہ جنگ پر یومیہ 94 لاکھ ڈالر ( 95 کروڑ 69 لاکھ روپے ) کا خرچ ہو رہا ہے۔ ”محترم عقیل یوسف زئی نے دسمبر 2016 ء میں ہم شہری میں شائع ہونے والے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا تھا کہ“ ایک رپورٹ کے مطابق ا س وقت تقریباً 1700 کھرب ڈالرز ہتھیاروں کی خرید و فروخت اور دیگر متعلقہ تیاریوں کے لئے دُنیا میں زیر گردش ہیں۔ یہ دستیاب انسانی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔ ”

کرونا وائرس کو عالمی وبا کی شکل اختیار کرنے کے بعداب دُنیا کو نئے زاویے سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ اب طاقتور ممالک کو سلحے کی دوڑ سے باہر نکل کر عام انسانوں کو بچانے کی ضرورت ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر اب دنیا کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے، پانی کی کمی کا سامنا، صحت کے مسائل در پیش ہیں، صاف ماحول کا چیلنج ہے، قدرتی آفات کا سامنا ہے اور کرونا جیسے وباؤں کا سامنا ہے لہذا اب طاقتور ممالک کو کمزور ممالک پر قبضہ کرنے کی حکمت عملی کو ترک کر کے دنیا کو محفوظ بنانے کے لئے بڑے منصوبے بنانے کی ضرورت ہے۔

وہ پیسہ جو اسلحہ بنانے پر خرچ کیا جا رہا ہے استدعا ہے کہ اُس پیسے کو دنیا بھر کے عام انسانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے۔ عام لوگوں کو معلومات فراہم کی جائیں بڑھتی ہوئی آبادی سے دُنیا کس قدر متاثر ہو رہی ہے اس لئے بڑی آبادیوں والے ممالک اس ضمن میں اپنا مثبت کردار پیش کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جس انداز میں غریب ممالک آبادی کے بڑھانے پر زور دے رہے ہیں عین ممکن ہے کہ یہ وسائل جو آج دُنیا کو درکار ہیں وہ اس سے بھی محروم ہو جائے۔

دُنیا کے امیر ملکوں کو اب عوام کو صاف پانی مہیا کرنے کے لئے عملی طور پر اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ بیماریوں کو ایک اہم وجہ صاف پانی کی عدم دستیابی ہے اور صحت کے بیشتر مسائل صاف پانی کی فراہمی سے جڑے نظر آتے ہیں۔ اس دُنیا میں ہمیں زندہ رہنے کے لئے صاف ماحول کی ضرورت ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں جس انداز سے لوگ باشعور ہوئے ہیں اور اُنہوں نے اپنے ملک کو صاف رکھنے کی جو حکمت عملی اپنائی ہے دُنیا کے دیگر ممالک جہاں صاف ماحول کے حوالے سے مسائل ہیں اُس کو کیوں نہیں اپنا سکتے؟ بدلتے ہوئے موسمی تغیرات کی وجہ سے پوری دنیا قدرتی آفات کا سامنا کر رہی ہے اور شنید ہے کہ مستقبل میں دُنیا اس کا مزید تجربہ کرے گی۔ اس لئے دنیا کو اس حوالے سے سوچنے کی ضرورت ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ کرونا وائرس جہاں پوری دُنیا کے انسانوں کے لئے ایک چیلنج ہے وہاں ہمارے لئے ایک سبق بھی ہے کہ خدا کرے دُنیا جلد اس پر قابو پا لے اور ہر انسان محفوظ ہو جائے لیکن مستقبل میں دُنیاجب ہم اس کو یاد کرے تو خوفزدہ نہ ہو بلکہ خدا نخواستہ اس قسم کی وباؤں کا دوبارہ سامنا ہو تو اپنے آپ کو تیار کرے اور اس قسم کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے تیار رہے۔ ایسا صرف اُسی صورت میں ہی ہو سکتا ہے جب دُنیا بلا رنگ و نسل و خطے کی تفریق سے بالا تر ہو کر عام انسان کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے عملی اقدام کرے گی۔

کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی کسی ایک ملک اور کسی ایک خطے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک عالمگیر مسئلہ ہے۔ صاف پانی کی ضرورت دُنیا کے ہر انسان کو ہے۔ صحت مند ہونا ہر انسان کی خواہش اور ضرورت ہے۔ صاف ماحول ہر انسان کی ضرورت ہے اور قدرتی آفات سے ہر ملک، ہر خطہ اور ہر انسان بچنا چاہتا ہے۔ تو پھر کیوں دُنیا انسانوں کو محفوظ بنانے کی بجائے اُس کواسلحہ کے ذریعے ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ کرونا وائرس قدرت کی طرف سے ایک اشارہ ہے کہ دُنیا سنبھل جائے اور انسانوں کو محفوظ بنانے کے لئے اپنی حکمت عملی پر از سرِ نو غور کرے۔

وہ تمام ایسے اقدامات کرے جس سے صحیح معنوں میں لوگوں کا تحفظ ممکن بنایا جا سکتا ہو۔ اگر غریب ممالک کے پاس وسائل نہیں ہیں تو اُن تک وسائل پہنچانے کے لئے حکمت عملی بنائی جائے۔ یاد رہے کہ دُنیا کا وجود انسانوں سے ہے اور انسان رہیں گے تو دُنیا رہے گی۔ اس لئے دنیا کو اس پر سنجیدگی کے ساتھ سوچنا چاہیے اور اگر دُنیا نے آج اس پر نہ سوچا تو کل شاید قدرت اُسے مزید موقع نہ دے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *