کیا ہم خود کش بمبار بن چکے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ عرصہ پہلے دورانِ سفر وین کے ایک مسافر نے دوسرے مسافر سے اس کے نوجوان بھتیجے کی ٹریفک حادثے میں المناک موت پر اظہارِافسوس کیا تو اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر کہا ”مرحوم کو کئی بار اس کی خطرناک ڈرائیونگ پر ٹوکتا تھا، لیکن ہر بار یہی کہتا تھا : انکل نو ٹینشن، اب پورے خاندان کو ٹینشن دے گیا ہے۔ “ بہت دفعہ ایسا ہوا کہ ون ویلنگ کے دوران موٹر سائیکل سوار زخمی ہوتے ہیں، بعض اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ ون ویلنگ کرنے والے دوست ہی ان کو ہسپتال لے کر جاتے ہیں، وفات کی صورت میں ان کے جنازے پڑھنے اور ان کو لحد میں اتارنے والے بھی وہی دوست ہوتے ہیں۔ بس چند دن جانے والوں کی ٹینشن میں مبتلا ہوتے ہیں اور حالات ذرا نارمل ہونے پر اپنی آنکھوں کے سامنے گزرے دوستوں کے انجام سے عبرت حاصل کرنے کی بجائے کسی اور کے کندھوں پر سوار ہونے کے لیے دوبارہ ون ویلنگ شروع کر دیتے ہیں۔

زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہمارے چھوٹے سے شہر کے ایک اٹھارہ انیس سال لڑکے نے ایک مانگی ہوئی کار میں اپنے ایک دوست کو ساتھ لیا اور شہر کے ساتھ ہی ایک ایسی سڑک پر جس کو ٹریفک کے حوالے سے ایک انتہائی شکستہ سڑک کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، گاڑی کو حدِ رفتار سے تقریباً دوگنی رفتار سے بھگایا اور وہ بھی رات کے وقت۔ ”آ بیل مجھے مار“ کی اس سے بہتر شاید اور کوئی مثال نہ ہو۔ نتیجہ وہی نکلا جو اس قسم کے کاموں کا نکلتا ہے کہ گاڑی درخت سے ٹکرائی ِ، پورا شہر اس جوانِ رعنا کی موت پر افسردہ ہوا۔

سڑک پر چلنے والوں کے پاس ایسی بیسیوں مثالیں ہیں کہ کس طرح لوگ سڑکوں پر خود کش بمبار بنے اپنی اور دوسروں کی زندگی کے لیے خطرہ بنے اڑے پھرتے ہیں۔ ہم میں سے اکژیت نہ صرف قانون پر عمل نہیں کرتی بلکہ قانون پر عمل کرنے والوں کو بزدل قرار دے کر ان کا مذاق بھی اڑاتی ہے۔ کئی بار ہمیں سیٹ بیلٹ باندھنے پر لوگوں کے طعنے سننے پڑتے ہیں۔ ”کیا چاند پر جانے کا ارادہ ہے؟ “

جب سے کروناوائرس دوسرے ملکوں کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک پر حملہ آور ہوا ہے، یہاں خود کش حملہ آوروں کی ایک نئی قسم سامنے آگئی ہے۔ 13 مارچ کو کراچی کے مضافات میں ایک مقیم ایک دوست کو خیر خیریت پوچھنے کے لیے فون کیا۔ اس کے بہت ہی قریبی عزیز اٹلی میں بھی مقیم ہیں۔ اٹلی سے کرونا وائرس کے حوالے سے خوفناک خبریں مل رہی تھیں۔ اس لیے بہت گھبراہٹ میں اس سے رابطہ کیاکہ اس کے ساتھ ساتھ اس کے اٹلی والے عزیزوں کی خیریت بھی معلوم کی جا سکے۔

حیرت کی انتہا یہ تھی کہ وہ بڑے سکون کے ساتھ سیالکوٹ میں شادیوں کی تقریبات میں شامل تھے اور اٹلی سمیت دنیا میں کیا ہو رہا ہے، اس سے بالکل بے خبر تھے۔ ان کے بقول شادی میں اٹلی سے آئے مہمان بھی شریک ہوئے تھے۔ ان میں کچھ واپس اٹلی جا چکے تھے اور ایک دو ابھی اِدھر پاکستان میں ہی تھے۔ یہ عین ان دنوں کی بات ہے جب اٹلی میں اس وائرس نے تباہی مچائی ہوئی تھی۔ اب کسی کو کیا معلوم کی اٹلی والے مہمانوں میں بھی اس وائرس کے اثرات تھے یا نہیں، اور اگر تھے تو وہ کتنے لوگوں کو چلتے پھرتے خود کش بمبار بنا کر گئے ہیں کہ یہ وائرس باہمی میل جول سے ایک دوسرے میں منتقل ہو کر تباہی پھیلا رہا ہے۔

یہ تو صرف ایک شادی کی مثال ہے۔ حکومت اور حکمرانوں کی بار بار اپیلوں پر ہم ذرا بھی کان نہیں دھر رہے اور سب کچھ جانتے ہوئے بھی باہمی میل جول سے باز نہیں آرہے۔ چین کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ اس نے باہمی میل جول روک کر ہی اس کے دائرہ کار کو ایک شہر سے باہر نہیں جانے دیا اور آج وہ اس پر قابو پانے میں تقریباً کامیاب ہو چکے ہیں۔ اٹلی سمیت جن ملکوں میں اب یہ تباہی پھیلا رہا ہے، وہاں حکومتی اداروں کے روکنے کے باوجود لوگوں نے گھر سے باہر نکلنے اور اک دوسرے سے ملنے کے معاملے میں کوتاہی برتی۔

سنا ہے روسی صدر نے اب روسیوں کے لیے دو ہی آپشن چھوڑے ہیں : 15 دن گھر میں یا 5 سال جیل میں۔ پاکستان میں مکمل لاک ڈاؤن پر حکومت بوجوہ آمادہ نہیں تو شہریوں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ”خود ساختہ لاک ڈاؤن“ پر عمل پیرا ہوں۔ واقفانِ حال سستی اور کوتاہی کی صورت میں جس تباہی کا ذکر کرتے ہیں وہ انتہائی خوفناک ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ جن لوگوں میں یہ وائرس سرایت کر چکا ہے وہ چلتے پھرتے خود کش بمبار ہیں۔

ان کی قربت دوسروں کو تیز رفتاری سے خود کش بمباروں میں تبدیل کر رہی ہے۔ اب معاملہ شہریوں کے ہاتھ میں ہے، ہم نے ان خود کش حملہ آوروں سے بچنا بھی ہے اور خودکش حملہ آوروں میں تبدیل بھی نہیں ہونا۔ ہماری سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ پرسوں بیٹا ضروری حفاظتی انتظامات کر کے کسی ضرورت کے لیے شہر میں گیا تو ہمارے چھوٹے سے شہر کے لوگ اسے عجیب سی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ یہاں تک کہ شہر کے اسسٹنٹ کمشنر صاحب جو شہر کے دورے پر تھے نے بیٹے کو روک کر اپنی ٹیم سے وڈیو بنوائی کہ شہر میں پہلا آدمی نظر آیا ہے جس نے حفاظتی ماسک وغیرہ پہنا ہوا ہے۔ اپنی کوتاہی اور سستی کا اعتراف بھی کیا کہ میں نے خود بھی ماسک نہیں پہنا ہوا۔ کسی کے ماتھے پر نہیں لکھا کہ اس میں وائرس ہے۔ بظاہر ایک صحت مند انسان میں بھی یہ موجود ہوسکتا ہے۔ بچاؤ صرف احتیاط میں ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو، آمین!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply