پاکستانی فقیہ اور دنیائے اسلام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلامی فقہ کی بدترین تعبیر دیکھنی ہو تو پاکستانی ”فقیہوں“ کی فیس بک وال ملاحظہ فرمالیں۔ فلسطین، ایران، سعودی عرب، ملائشیا، ترکی، امارات، انڈونیشیا کے مسلمانوں کا اسلام ایک طرف پاکستان کا اسلام ایک طرف۔

نہایت اختصار سے عرض ہے کہ حفظ النفس یعنی انسانی زندگی کا تحفظ مقاصد شریعت میں اہم ترین مقصد ہے۔ گوکہ حفاظت دین اس سے ایک درجہ اوپر ہے لیکن جہاں انسانی جان کی حفاظت کا معاملہ آتا ہے تو اسے ہر دوسرے مقصد پر فوقیت دی گئی ہے جس کی کئی مثالیں خود حدیث اور فقہ میں جگہ جگہ وارد ہوئی ہیں جہاں اضطراری حالت میں متبادل طریقہ کار اختیار کرنے یا خصوصی سہولت مہیا کی ہے بلکہ سد الذرائع یا دافع الضرر کے عنوانات سے مستقل أصول وضع کئیے گئے ہیں۔

اللہ تعالی نے بندوں کو طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بنایاہے اور دین مشکل کا نام نہیں، اس میں بندوں کے لئے آسانی ہے

اسلام ایک آسانی اور نرمی کا دین ہے یہی وجہ کہ اس کے ہر ہر حکم اور عمل میں اضطراری حالت کی رعایت کرتے ہوئے خصوصی رخصت کے احکامات موجود ہیں تاکہ دین کے ماننے والے بہ سہولت ہر حالت اور زمانے میں اس کی پیروی کرسکیں۔ جیسے نماز کھڑے ہوکر نہیں پڑھ سکتے تو بیٹھ کر پڑھ لیں، پانی سے وضو نہیں کرسکتے تو صرف تیمم کرلیں، روزہ چھوٹ جائے تو قضا کرلیں، استطاعت نہیں تو قربانی معاف، سفر میں نماز آدھی وغیرہ وغیرہ۔

حدیث ہے یسروا ولا تعسر یعنی آسانی پیدا کرو مشکل نہیں۔

قرآن میں ارشاد ہے :

وَإِن کُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنکُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَیَمَّمُوا صَعِیدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوھِکُمْ وَأَیْدِیکُمْ ۗ إِنَّ اللَّھَ کَانَ عَفُوًّا غَفُورًا (النساء: 43 )

ترجمہ: اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی کا قصد کرو اور اپنے منہ اور اپنے ہاتھ مل لو، بے شک اللہ تعالی معاف کرنے والا، بخشنے والا ہے

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

احتَلمتُ فی لیلةٍ باردةٍ فی غزوةِ ذاتِ السُّلاسلِ فأشفَقتُ إنِ اغتَسَلتُ أن أَھْلِکَ فتیمَّمتُ، ثمَّ صلَّیتُ بأصحابی الصُّبحَ فذَکَروا ذلِکَ للنَّبیِّ صلَّى اللَّھُ علیھِ وسلَّمَ فقالَ: یا عَمرو صلَّیتَ بأصحابِکَ وأنتَ جنُبٌ؟ فأخبرتُھُ بالَّذی مَنعَنی منَ الاغتِسالِ وقُلتُ إنِّی سَمِعْتُ اللَّھَ یقولُ: ( وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَکُمْ إِنَّ اللَّھَ کَانَ بِکُمْ رَحِیمًا ) فضحِکَ رسولُ اللَّھِ صلَّى اللَّھُ علیھِ وسلَّمَ ولم یَقُلْ شیئًا (صحیح أبی داود: 334 )

ترجمہ: غزوہ ذات سلاسل میں مجھے ایک ٹھنڈی رات احتلام ہو گیا، مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے غسل کیا تو ہلاک ہو جاؤں گا، چنانچہ میں نے تیمم کر لیا اور اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھائی، انہوں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ذکر یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا :اے عمرو! کیا تو نے جنبی ہوتے ہوئے اپنے ساتھیوں کی جماعت کرائی تھی؟ میں نے بتایا کہ کس وجہ سے میں نے غسل نہیں کیا تھا اور میں نے یہ بھی کہا کہ میں نے اللہ کا فرمان سنا ہے «ولا تقتلوا أنفسکم إن اللہ کان بکم رحیما» (اپنے آپ کو قتل نہ کرو، اللہ تم پر بہت ہی مہربان ہے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور کچھ نہ کہا

ایک اور مثال پیش خدمت ہے جہاں اضطراری حالت میں فرض کو ساقط کیا گیا۔ مکمل حوالہ تو اس وقت ذہن میں نہیں لیکن حدیث کے مفہوم کے مطابق ایک صحابی جن پر غسل واجب تھا اور وہ بیماری کی حالت میں تھے کو غسل کرنے پر مجبور کیا گیا جس سے ان کی وفات ہوگئی جب نبی کریم ص کو یہ واقعہ پتہ لگا تو آپ ص نے انہیں غسل کا مشورہ دینے والوں پر غصہ اور افسوس کا اظہار فرمایا یہاں تک کہا کہ اللہ اسے قتل کرے جس نے اسے قتل کیا۔

کورونا وائرس کے تناظر میں جہاں اصل مسئلہ انسانی زندگی کی بقا کا ہے اور حفاظت دین کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں میں مساجد میں اجتماع پر اصرار سوائے کج فہمی اور ضد کے کچھ نہیں یاد رہے ملائیشیا میں وبا کی تازہ لہر ایک مسجد کے اجتماع سے ہی پھیلی ہے۔

اگر اس ابتلا کے موقع پر آپ کو کچھ بیان کرنا ہی ہے تو تعمیری چیزیں بیان کیجئیے۔ لوگوں کا صلہ رحمی ایثار اور قربانی کی فضیلت بتائیں اپنے کمزور ہمسائے کے حقوق بتائیں یا اسلام کے تناظر میں شہری ذمہ داریوں سے آگاہ کریں۔

اس موضوع پر بہت تفصیل سے خود فقہ اسلامی سے بھی درجنوں مثالیں بھی پیش کی جاسکتی ہیں لیکن بات سمجھنے والے کے لئے صرف قرآن و حدیث سے اخذ کردہ بنیادی اصول بیان کرنا بھی کافی ہیں۔ عقل مند را اشارہ کافی است۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *