وبائی امراض، سوشل ڈسٹنسنگ اور ہمارا رویہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا کی عالمی وبا کی وجہ سے آج کل سوشل ڈسٹنس کا چرچا ہے۔ اس میں گھروں میں محدود ہونے سے لے کر مارکیٹوں اور دوسری عوامی جگہوں پر کم از کم ایک میٹر کا فاصلہ تک شامل ہے۔ اگر بوقت مجبوری کسی جگہ قطار میں کھڑا ہونا ضروری ہو تو اس میں بھی ایک مناسب فاصلہ رکھنے کی ہدایت کی جارہی ہے۔

پاکستان میں اول تو قطارمیں لگنے کا تصورہی بہت کم ہے لیکن عام حالات میں کسی قطار میں مناسب فاصلے کا تصور بالکل ہی محال ہے۔ لوگ غیر اخلاقی حد تک ساتھ جڑ کر کھڑے ہوتے ہیں، مزے سے دوسرے کی گفتگو سن رہے ہوتے ہیں۔ اس نے کون سا بل جمع کرانا ہے اسے ملاحظہ فرمارہے ہوتے ہیں، آپ کی گاڑی کون سی ہے جس کا ٹیکس آپ بھر رہے ہیں، آپ کے بچے کس سکول میں پڑھتے ہیں، آپ نے کتنے پیسے نکلوائے ہیں، ان میں پانچ ہزار کے کتنے نوٹ ہیں ہزار ہزار کے کتنے سب آپ کے کندھے پر موجود فرشتوں کو علم ہو نہ ہو سر پر کھڑے شخص کو ضرور معلوم ہوجاتا ہے۔ کاونٹر والے سے پوچھے گئے سوال کا جواب آپ کو پیچھے بلکہ ساتھ کھڑے شخص سے مع مشورہ موصول ہوجاتا ہے۔

2003 میں ایک لمبے عرصے کے بعد پاکستان آنا ہوا، بہاولپور پوسٹ آفس سے ایک پیکٹ یورپ بھجوانا تھا۔ ایک شخص کاونٹر پہ کھڑا تھا، مناسب فاصلہ رکھ کہ کھڑا ہوگیا۔ اچانک ایک صاحب دائیں سے آئے اور کاونٹر پر، ایک بائیں سے آئے اور وہ بھی کاونٹر پر۔ چند لمحے تو سمجھ نہ آئی کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔ ہوش آیا تو جا کر دونوں صاحبان کو بزور بازو پیچھے دھکیلا کہ آگے ایک شخص کاپہلے کام ہورہا ہے پیچھے میں لائین میں کھڑا ہوں یہ کیا بیہودگی ہے؟

جواب ملا کہ آپ تو فاصلے پہ کھڑے تھے، پوچھا اس کے سر پر کھڑا ہوجاوں، جواب ملا: ہاں۔ ساتھ ہی اس دن یہ بھی جانا کہ سرپر کھڑے ہونے کی بھی ضرورت نہیں پہلے شخص کے کام میں مخل ہو کر دائیں باہیں سے بھی کام کروایا جاسکتا ہے اور بہت ممکن ہے کہ کاونٹر پر متعین شخص بھی دو تین لوگوں کا کام بیک وقت نمٹا رہاہو۔

اس دوران ایک اور لطیفہ بھی ہوا جو ہمارے قومی مزاج کا حصہ ہے، جنرل پوسٹ آفس کے باہر بورڈ پر یورپ کے لئے اڑتالیس گھنٹے کی کورئیر سروس کا ذکر تھا، پارسل جلد پہنچانا تھا اس لئے بابو سے کہا کہ مجھے اڑتالیس گھنٹے والی سروس چاہیے۔ جواب ملا ”ہماری تو ایسی کوئی سروس نہیں“ عرض کی جناب باہر بورڈ پر جلی حروف سے لکھا ہے۔ آگے سے سنہری حروف میں لکھنے کے قابل جواب ملا کہ ”لکھن دا کی اے“ ( لکھنے میں کیا جاتا ہے)۔

بات ہو رہی تھی قطار میں مناسب اخلاقی فاصلہ رکھنے کی۔ جس کا موہوم سا تصور بھی ہمارے ہاں نہیں پایا جاتا۔ ان معاملات کا خیال روزمرہ کے معمولات میں رکھنا بہت لازم ہے۔ خیر روزمرہ اخلاقیات اور پرائیویسی نے تو ہمیں کچھ نہیں سکھایا لیکن کرونا نے ہمیں کم از کم سوشل ڈسٹنس کی اصطلاح سے متعارف ضرور کرادیا ہے۔ عمل بہرحال شعور کا محتاج ہے، صرف ٹی وی پر سننے اور اخبار پڑھنے اور اس اصطلاح سے متعارف ہونے سے کچھ نہیں ہوتا۔

مغربی ممالک نے اس وبا کے بعد مارکیٹوں اور دوسرے عوامی اداروں میں باقاعدہ فرش پر نشان لگا کر پہلے سے بھی زیادہ فاصلہ رکھنے کا شعور دیا ہے اور مہذب قومیں اس پر عمل بھی کررہی ہیں۔ ہم بھی اے کاش اس وبا سے ہی سیکھیں اور عام حالات میں بھی قطار میں کھڑا ہونے، ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے اور دوسروں کی پرائیویسی کا احترام کرنا سیکھ سکیں۔ لیکن وبا سے بچنے کے لئے خصوصاً اس کا اہتمام کریں، خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی عافیت سے رہنے دیں۔

بشیر بدر کی ہی مان لیں کہ

کوئی ہا تھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے

یہ نئے مزاج کا شہر ہے، ذرا فاصلے سے ملا کرو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply