پنڈ سوات وزیرستان تک پیار خیال کی چھاؤں کا جاری سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کالا بہت ہے ، پر کیا کریں اپنا ہے ۔ ملک صاحب نے طور پین کے ساتھ کاغذ پر بہت اہتمام کے ساتھ دستخط کر دیے۔ قبائل کی وزارت سے بندہ بھجوا کر مہر بھی لگوا دی ۔ اس سے پہلے پردہ دار سے کیمرے میں گھسا کر فوٹو بھی بنوا دی تھی ۔

یوں میرا قبائلی کارڈ بنا تھا ۔ ہم کابل میں تھے ۔ گھر سے بھاگ کر آئے تھے۔ ضیا نے اپنے دادا سے کہہ کر یوں میرا کارڈ بنوا دیا تھا۔ کر لو گل کرنی ہے تو۔ لر و بر سے بھی اپنا تعلق بنتا ہے۔

چار دن کابل میں خوار ہو کر واپس پہنچے تو ایک مدت تک یہ کارڈ میرے پاس رہا ۔ ضیا کے پیغامات بھجواتا رہا کہ کارڈ اصلی ہے اسے گمانا مت۔ اس پہ دو بڑے ملک حضرات کے دستخط اور افغان حکومت کی مہر ہے۔

پر تعلق کاغز پہ لگی مہر کا نام تھوڑی ہے۔ فاٹا سے اپنا تعلق پتہ نہیں کتنی صدیوں پرانا ہے۔ جب نرسری میں داخل کرایا گیا تو ٹانگے میں جو ساتھ جاتی تھیں۔ وہ شنواری اور آفریدی لڑکیاں تھیں۔ تھوڑی بڑی تھیں ۔

فاصلہ رکھتی تھیں ، اک دن پوچھا کہ تہ لامبے نہ ؟ ( نہاتے نہیں ہو)۔ بتایا روز نہاتا ہوں تو پھر اتنے میلے کیوں ہو۔ کمبخت سانولے رنگ کو میلا کہہ رہی تھی ۔ اس کا خیال ہو گا کہ نہانے سے بندہ گورا ہو جاتا۔

یہ جو چھوٹے چھوٹے تعصبات ہیں نا ، رنگ کا قبیلے کا قوم کا زبان کا ، کبھی مذہب کا بھی ۔ ان سب سے اوپر اٹھنا ان کو انجوائے کرنا ان کو نظر انداز کرنا، ان کا غیر متعلق ہونا۔ یہ سب میں نے فاٹا والوں سے سیکھا۔ سیدھی بات کرنا بھی۔

عبدالخالق آفریدی ہمارے نگران تھے۔ جب تک بہت بزرگ نہیں ہو گئے روز باڑہ سے ہمارے گھر آیا کرتے۔ ہم بھائیوں کو لیکر روڈ پر گھماتے۔ پشتو میں ہاں کے لیے آؤ یا او استعمال ہوتا ہے۔ آفریدی اے کہتے ہیں ۔ ان کی اے سن کر بندہ اینوئیں رعب میں آ جاتا ہے۔

میژ اور مونژ یہ ہم کے لیے ساؤتھ میں بولا جاتا ہے۔ وزیرستان والے جب آپس میں مخہ خہ ( گل بات) کر رہے ہوں تو پشاور والے بوکھلائے ہوئے ان کو دیکھتے اور سنتے ہیں۔ کچھ باتوں کی سمجھ آتی کچھ کی نہیں آتی۔ باقی اندازے ہوتے۔

ہم اس لہجے کے اپنے گھر میں ہی واقف ہو گئے تھے۔ ابا کے بیسٹی محسود تھے۔ ہم سے وہ جب بات کرتے اپنے لہجے میں کرتے۔

شنواری ہمارے محلے دار ، مالک مکان ، سکول فیلو کلاس فیلو ، ڈیسک فیلو اور پتہ نہیں کیا کیا تھے۔ اکٹھے گھومنا سب الٹے کام اکٹھے کرنے۔ کام کے منصوبے بنانے ، کام خراب کرنے۔ پھر خراب کاموں کو اور خراب کرنا۔ کرکٹ کھیلنی فٹ بال دیکھنا ، لوفر پھرنا ۔

تراویح پڑھنے کے لیے حافظ پکڑ کر لانا ۔ اس سے ہوتے مذاکرات دیکھنا ۔ اس کی ریس چیک کرنا۔ اس کا منت ترلا کرنا کہ بس غم نہ کر سپیڈ دینی ہے۔ تبلیغی حضرات جو گھر کے ہی تھے ان کے ہتھے چڑھنا۔ ان کی نصیحت سننے کے بعد نمازیں پڑھنا ۔ پھر وہیں بیٹھ کر ان امیر صاحبان کی جوانی جواری اور کاروباری قصوں کا جائزہ لینا۔

یہ بہت کچھ تھا اس میں کچھ بھی اچھا نہیں تھا۔ برا بھی نہیں تھا۔

حساب میں بہت کمزور ہونے کے باوجود کروڑوں کا حساب انگلیوں پر کر لینا ۔ حصے تقسیم کرنے کے لیے منافع کا حساب لگانے کے لیے کیلکولیٹر کو ہاتھ تک نہ لگانا۔

لڑائی سے فساد سے پولیس سے ہر تنازعے سے اور ذمہ داری لینے سے یا کسی کی ضمانت دینے سے ہر صورت باز رہنے کی تلقین سننا۔ لوگوں سے اٹھ کر ملنا ، پیسے ہونے کی صورت میں مغرور نہیں ہونا پر اصرار سننا ۔ اچھی گاڑی میں بیٹھ کر پیدل جاتے کو سلام کرنا۔

جب کسی کا کسی کے لیے کھڑے ہو جانا تو پھر سب کا وجہ نقصان حساب کتاب کا سوچے بغیر ساتھ کھڑے ہو جانا۔

ضروری نہیں کہ یہ سب باتیں ٹھیک ہوں ۔ یہ میری باتیں ہیں ، یہ ایسی ہی ہیں ۔ فاٹا والے میرے لیے ایسے ہی ہیں ۔ یہ میرا سرکل ہو گا گڈ وڈ سا۔

بہت سال پہلے سیلاب آیا تھا ۔ تب مشر کو کہا کہ چل ان کی مدد کرنی ہے۔ وہ ساتھ تو بیزار سا گیا تھا پر جو کہا تھا کر دیا تھا ۔  ہم نے سلائی مشینیں خریدی تھیں۔ اس نے اصل ریٹ چیک کر کے پیمنٹ کی ۔ ادائگی کے بعد گفٹ میں قینچیاں وصول کیں۔

یہ سارا سامان ہم رسالپور میں اک کیمپ میں دے آئے تھے۔ پھر وہاں سے فون آیا کہ جنہیں سلائی مشینیں دی ہیں تو انہیں اب کام کرنے کے لیے کپڑا بھی دو۔

کپڑا خریدنے ہم وحید باز کے گودام چلے گئے تھے۔ وہاں سے سترہ یا شائد ستائیس روپئے فی سوٹ کے حساب سے کافی سارے تھان لیے تھے۔

یہ تھان دیکھ کر حوالدار بشیر کی بس ہو گئی تھی ۔ اس نے سلائی مشینیں متاثرین سیلاب میں تقسیم کرا دی تھیں ۔ ہم سے پوچھا تھا کہ سیانے بیانے او اتنے تھان سے جوڑے کون بنائے گا ، سر جی ؟ یہ سر جی اس نے ہمیں کہا تھا۔

یہ تھان پنڈی میں اک گارمنٹ فیکٹری والوں کے حوالے کیے۔ تب اس نے صرف خرچہ لیکر سینے کی حامی بھری۔ وہاں کراچی کے ایک میمن اپنی سپلائی دینے یا لینے بیٹھے تھے۔ فیکٹری والوں نے ہمیں فون پر اطلاع دی تھی کہ میمن بھائی صاحب نے کتنے سو سوٹ سیلاب متاثرین کے لیے عطیہ کر دیے ہیں۔

ہم نے یہ سارے سوٹ اکٹھے کر کے حوالدار بشیر کو پہنچا دیے تھے۔ اس نے نزدیک دور سوات تک متاثرین میں تقسیم کر دیے تھے۔

زندگی دائروں کا سفر ہے۔

شیریار محسود اپنا یار ہے۔ پھل دار پودے لگانے کی اس نے  ایک مہم شروع کر رکھی ہے ۔ اس سے اس کی وال پر اس کو مہم چلاتے دیکھ کر رہا نہ گیا۔ اس پر چیک رکھنے کو اسے بولا کہ ایک فروٹ والا پودا میرے نام کا بھی لگا۔

نیت ظاہر ہے خراب تھی کہ یہ لگائے گا تو پھر ہر ہفتے حساب بھی کروں گا کہ پودا جوان ہوا یا نہیں۔ شیر یار نے بتایا کہ وہ ایک پودا پہلے ہی لگا چکا ہے۔

وہیں وال پر  سوات سے عمر فاروق نے لکھا کہ وسی بابے کے نام پر میں فروٹ کے سو درخت بھجواؤنگا۔

شیر یار سے پھر اک دو بار بات ہوئی ۔ پودے آ گئے تو کیسے وصول کرنے ہیں ۔ کدھر لگانے ہیں ۔ پودوں سے پہلے کرونا کرونا ہی ہو گئی۔ آمدورفت کے مسائل پیدا ہو گئے۔

پر عمر نے پودے پشاور بھجوا دیے ۔ وہاں سے وزیرستان شابی خیل پہنچ بھی چکے ۔ لگ بھی جائیں گے۔

عمر سے یہ کہنا ہے کہ عمر ہمارے پنڈ میں جب باغ لگا تھا نا ، تو اس سے پہلے ہمارے بزرگوں نے بہت سوچ بچار کی تھی۔ باغ کے لیے پانی منظور کرانا ضروری تھا ۔

 اس کے لیے جس رشتہ دار کو رابطہ افسر برائے پٹواری صاحب لگایا گیا تھا ۔ وہ بھائی صاحب عادی پھڈے باز تھے۔ نام ان کا بوٹا تھا اور طبعیت بھی اسی مشہور معروف بوٹے والی تھی۔

بزرگ بہت گھبرائے رہے لیکن باغ کے حوالے سے درکار ساری قانونی کاروائیاں بوٹا صاحب سے ہی کروائی گئیں۔

 یہ علاقے کا پہلا باغ تھا ۔ علاقے کا موسم لوگوں کا موڈ ان کا رہن سہن بدل گیا تھا۔ خوشحال بھی ہو گئے کنجوس بھی تھوڑے زیادہ ہو گئے ۔ شائد ضروری تھا کہ فروٹ کی حفاظت کریں۔

ہم تینوں دائرے میں چلتے کدھر آن ملے ہیں ۔ زندگی کی کہانی آگے بڑھے گی تو کسی اور راستے پر جا رہے ہونگے ۔ مجھے تو ایسا ہی لگا کہ مشر کے ساتھ مل کر جو دو چار قدم اٹھائے تھے ۔ انہیں کے جواب میں  وہیں کہیں سے کچھ سایہ کچھ امید بہت سا خیال تھوڑا سا پیار اور دوستی سفر کرتی آئی ہے  ۔

یہ جو پودے آپ نے بھجوائے یہ  بھی پل جائیں گے ۔ کچھ پر پھل بھی آئے گا ۔ ان کا سایہ بھی ہو گا ۔ ان سب لوگوں کی طرف سے ہزار ہزار مننہ جنہیں یہ سایہ یہ پھل نصیب ہونگے ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 374 posts and counting.See all posts by wisi

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *