پاکستان میں لاک ڈاؤن لازم ہو چکا تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لوگوں کی اکثریت حیران ہے۔ عمران خان صاحب کی اندھی نفرت میں مبتلاخواتین وحضرات اگرچہ اس نوعیت کا اطمینان محسوس کررہے ہیں جسے انگریزی زبان میں Sadisticکہا جاسکتا ہے۔آسان الفاظ میں اسے اپنے مخالف کی بے بسی سے لطف اندوز ہونا یا اس کی ’’محدودات‘‘ عیاں ہونے کی وجہ سے حظ اٹھانا کہا جاسکتا ہے۔

اتوار کے روز وزیر اعظم نے قوم سے خطاب فرمایا۔ اس کے ذریعے بنیادی پیغام انہوں نے یہ دیا کہ پاکستان کے کم از کم 25فی صد شہری خطِ غربت سے نیچے زندگی بسرکررہے ہیں۔ ان کی اکثریت دیہاڑی داروں پر مشتمل ہے۔ کرونا کے خوف میں مبتلا ہوکر ملک بھر میں کامل لاک ڈائون مسلط کردیا گیا تو ہمارے لاکھوں گھرانے فاقہ کشی کا شکار ہوجائیں گے۔ ممکنہ فاقہ کشی کے تدارک کے لئے ضروری ہے کہ صحت عامہ کے تحفظ کے لئے لازمی شمار ہوتی احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے پاکستان میں معمولاتِ زندگی کسی نہ کسی صورت رواں رہیں۔

ایک بار پھر یاد دلانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ذاتی طورپر مجھے عمران خان صاحب کے اندازِ سیاست اور حکمرانی کے بارے میں ہزاروں تحفظات ہیں۔کامل لاک ڈائون سے اجتناب کے لئے مگر جو دلیل انہوں نے پیش کی وہ ہرگز بودی نہیں تھی۔ تاریخ ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ وباء کے پھیلائو نے معاشروں میں فتنہ وفساد کبھی نہیں پھیلایا۔ انتشار یا انارکی کا اصل سبب ہمیشہ روزگار کی عدم دستیابی رہی۔ 1918میں جو ’’نزلہ‘‘ پھیلاتھا اس کی وجہ سے دُنیا بھر میں لاکھوں ہلاکتیں ہوئیں۔ ان ہلاکتوں کا مگر اس دور کی حکمران اشرافیہ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا تھا۔ عوام کی اکثریت وباء کو قدرت کی جانب سے نازل ہوا عذاب تصور کرتی رہی۔ اس ’’عذاب‘‘ نے بالآخر جو کسادبازاری پیدا کی وہ کئی اعتبار سے پہلی جنگِ عظیم کا اصل سبب ہوئی۔

پاکستان میں لاک ڈائون مگر لازمی ہوچکا تھا۔اس سے مفر ممکن نہ تھا۔ لاک ڈائون کو حقیقی جواز اٹلی کے حقائق نے فراہم کیا ہے۔وہاں کی حکومت اور عوام اپنے وطن میں کرونا کی آمد کے باوجود کئی دنوں تک اپنی ’’تہذیب‘‘ کے عین مطابق زندگی گزارتے رہے۔چین کے ساتھ فضائی روابط جاری رہے۔اٹلی میں ہزاروں چینی کئی برسوں سے اس کے خوش حال شہروں میں آباد ہوکر اب فیشن انڈسٹری کے تقریباََ اجارہ دار بن چکے ہیں۔وہ ہر مہینے اپنے دھندے کی خاطر ’’مادرِ وطن‘‘ بھی جاتے ہیں۔ان کی زندگی معمول کے مطابق رہی۔اس کے نتیجے میں شمالی اٹلی کے قدیم اور خوش حال ترین شہروں میں کورونا پھیلتا چلا گیا۔

فی کس تناسب کے اعتبار سے اٹلی میں ڈاکٹروں اور مریضوں کے لئے میسر بستروں کی تعداد امریکہ کے مقابلے میں دوگنی ہے۔حکومت خود کو صحتِ عامہ کا ذمہ داربھی سمجھتی ہے۔ اپنے شہریوںکو نجی ڈاکٹروں یا ہسپتالوں پر انحصار کو مجبور نہیں کرتی۔ کئی دہائیوں سے منظم ہوا صحتِ عامہ کا یہ مؤثر ترین نظام مگر کرونا کا مقابلہ نہ کرپایا۔ کرونا کی وجہ سے وہاں ہلاکتیں چین سے بھی زیادہ شمار ہوئیں۔

اٹلی کے ہولناک تجربات نے عالمی ماہرین کی اکثریت کو یہ طے کرنے پر مجبور کردیا کہ کروناکاتدارک فقط لاک ڈائون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔اس کے سواچارہ نہیں۔دوسرا طریقہ وہ تھا جو سنگاپور اور جنوبی کوریا جیسے ممالک نے اپنایا۔ان ممالک میں شہریوں کو جارحانہ انداز میں مجبور کیا گیا کہ وہ کرونا کی تشخیص کے لئے ٹیسٹ کروائیں۔ یہ ٹیسٹ بالکل مفت ہوئے اور ان کے لئے ضروریKitبھی وافر مقدار میں مہیا رہی۔

کرونا کے حوالے سے سنگاپور والی Success Storyکو مگر پاکستان میں لاگو نہیں کیا جاسکتا تھا۔وہ ملک ایک جزیرے پر مشتمل ہے جہاں کم تر رقبے پر لوگوں کی کثیر تعداد بلندوبالا عمارتوں کے فلیٹس پر مشتمل Clustersمیں رہتی ہے۔ سنگاپور ایک امیر ملک ہے اور جنوبی کوریا بھی اس کی طرح خوش حال۔

اٹلی میں نمایاں ہوئے تجربات کی بدولت پاکستان فقط کامل لاک ڈائون کی راہ ہی اختیار کرسکتا تھا۔یہ لاک ڈائون اس لئے بھی ضروری تھا کیونکہ اٹلی کے لوگوںکی طرح ہم بھی جپھی ڈال کر اپنے دوستوں سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔محفل باز ہیں۔ہمارے ہاں اٹلی کی طرح کیفے یا بار موجود نہیں ہیں۔لوگوں کو مگر تھڑوں پر محفلیں لگانے کا شوق ہے۔ریڑھی پر بکتی کھانے پینے کی اشیاء بھی ہمیں بہت پسند ہیں۔خاندانی نظام ہمارے ہاں بہت مستحکم ہے۔ہماری اکثریت ایک یا دو کمروں پر مشتمل ’’گھر‘‘ میں رہتی ہے۔ایک کنبہ اوسطاََ چھ سے سات افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔

کرونا کے سراغ کے لئے وسیع پیمانے پر عوام کو ٹیسٹ کی سہولت پہنچانا بھی ہمارے لئے ممکن نہیں تھا۔واحد صورت یہ تھی کہ فروری کے اختتام میں جب ایران سے کرونا کی خبریں آئی تو ہم وہاں سے آئے افراد کو ریاستی قوت کے بھرپور استعمال سے ’’قرنطینہ‘‘ میں ڈالتے۔ غیر ملکی پروازوں پر پابندی بھی لازمی تھی۔ان پر کامل پابندی لاگو کرنے سے قبل ضروری تھا کہ ایئرپورٹ پر اُترے افراد کو سرسری سکریننگ کے ذریعے ہی Clearنہ کیا جاتا۔وہاں ایسے انتظامات موجود ہوتے جو مسافروں کو ’’قرنطینہ‘‘ کی جانب راغب کرتے۔

تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے اجتماعی رویے کے عین مطابق اٹلی والوں کی طرح کرونا کو Lightlyلیتے رہے۔ حکومت ’’گھبرانا نہیں‘‘ کے پیغام کے ساتھ اس رویے کی حوصلہ افزائی کرتی رہی۔سندھ حکومت مگر ٹھوس وجوہات کی بنا پر اس ضمن میں جارحانہ پیش قدمی لینے کو مجبور ہوئی۔پیپلزپارٹی اس صوبے میں برسرِ اقتدار ہے اور ہماری سیاست اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم ہوچکی ہے۔سندھ حکومت کی جانب سے اٹھائی جارحانہ پیش قدمی نے کرونا کو ’’سیاسی‘‘ بنادیا۔تصور یہ پھیلایا کہ جسے تحریک انصاف کرونا کو ’’جرأت وبہادری‘‘ سے نظرانداز کررہی ہے۔پیپلزپارٹی واقعتا گھبراگئی یا جارحانہ پیش قدمی کے ذریعے سیاسی پوائنٹ سکور کرنا شروع ہوگئی۔

عمران حکومت نے کرونا کے ضمن میں ابتداََ Denialکا رویہ اختیارکیا۔پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف کی حکومتیں بھی اسے معمول کا ’’نزلہ زکام‘‘ بتاتی رہیں۔ یہ رویہ فقط پاکستان ہی میں نہیں دیکھنے میں آیا۔اٹلی میں جب میڈیا والوں نے وہاں کے وزیراعظم سے کرونا کے Pandemicمیں تبدیل ہوجانے کے امکانات کے بارے میں سوالات کرنا شروع کئے تو وہ بہت رعونت سے اسے Pandemicکے بجائے “Infodemic”پکارنا شروع ہوگیا۔یعنی صحافیوں کی جانب سے پھیلائی (خوف کی)وبائ۔

امریکی صدر کا رویہ بھی اس ضمن میں رعونت بھرا رہا۔وہ اپنے عوام کو کرونا کے ضمن میں ’’گھبرانا نہیں‘‘ والا پیغام دینا شروع ہوا تو اس کے نقارچی اور ہمنوا Foxٹی وی نے انتہائی ڈھٹائی سے یہ بیانیہ پھیلایا کہ نومبر2020کے صدارتی انتخاب کو ذہن میں رکھتے ہوئے ٹرمپ کا مخالف ’’لبرل میڈیا‘‘کرونا کا خوف پھیلارہاہے۔کرونا کی بابت خبروں کو ’’لبرل سازش‘‘ کہا گیا جس کا مقصد بازار میں دہشت پھیلانا تھا۔ بازار میں دہشت پھیلی تو وہاں کی سٹاک ایکس چینج بیٹھنا شروع ہوگئی۔عالمی منڈی میں تیل کی تیزی سے گرتی قیمت نے لوگوں کو کسادبازاری کے لئے تیار کرنا شروع کردیا۔ٹرمپ اور اس کے حامی اصرار کرتے رہے کہ بازار پر نازل ہوئی مندی درحقیقت ’’لبرل میڈیا‘‘ نے کرونا وباء کے خوف کو بڑھاچڑھا کر پیش کرتے ہوئے پھیلائی ہے۔

تحریک انصاف کی ’’سپاہ ٹرول‘‘نے بھی ٹویٹر اور فیس بک کے ذریعے پاکستان کے ’’لبرلز‘‘ کو کرونا کے نام سے خوف پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ یوٹیوب پر چھائے ’’پاسدارانِ دین وحق‘‘ نے بھی ایسی ہی داستانیں گھڑنا شروع کردیں۔اصرار ہوا کہ ’’بکائو‘‘ میڈیا کی جانب سے کرونا کے حوالے سے پھیلائی خبروں کو نظرانداز کیا جائے۔’’گھبرانا نہیں‘‘ کے پیغام کے ساتھ ’’اچھی خبروں‘‘ کی بوچھاڑ بھی شروع ہوگئی۔

اتوار کے روز وزیر اعظم کے قوم سے خطاب کے عین ایک دن بعد مگر پنجاب حکومت پاکستان کے آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے میں لاک ڈائون کا اعلان کرنے کو مجبور ہوگئی۔ ’’دیرآیددرست آید‘‘ کہنے کے بجائے کئی افراد اب بزدار حکومت کے فیصلے کا تمسخراُڑارہے ہیں۔تاثر یہ بھی پھیل چکا ہے کہ پنجاب میں لاک ڈائون کا حکم وزیر اعظم ہائوس سے نہیں ’’کہیں اور‘‘ سے آیا ہے۔وباء کے موسم میں اس تاثر کی بدولت یقینا پنجابی محاورے والا ایک ’’نیا کٹا‘‘ کھل گیا۔اس ضمن میں میرے پاس بھی کئی چسکے دار کہانیاں موجود ہیں۔ذمہ دارانہ صحافت کا مگر تقاضہ ہے کہ انہیں فی الوقت نظرانداز کیا جائے۔ بنیادی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں کرونا سے تحفظ کویقینی بنانے کے لئے کامل لاک ڈائون کا اطلاق ضروری ہوگیا تھا۔اس سے مفرممکن ہی نہیں تھا۔لاک ڈائون کا فیصلہ ’’کہیں‘‘ سے بھی آیا ہو اس پر عملدرآمد ہمارے عوام کے تحفظ کے لئے ازحد ضروری ہے۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *