کورونا وائرس کی وبا اور سیاسی صورتحال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شیخ سعدی کا قول ہے

ہرچہ دانا کند۔ کند نادان۔ بعد از خرابی بسیار۔ (ترجمہ۔ نادان بھی وہی کرتا ہیے جو دانا کرتا ہیے۔ مگر بہت ساری خرابیوں کے بعد )

کورونا کے حوالے سے لاک ڈاؤن کی بحث اختتام کو پہنچی اور پورے ملک میں فوج کو طلب کر لیا گیا ہے۔ یہ دیر آئد درست آئد تو ہے ہی مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ وزیراعظم اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو مدعو کر کے اتفاق رائے سے خود اعلان کرتے تو ان کی معاملہ فہمی کی تعریف بھی ہوتی اور وہ عوام کی نظروں میں اعتماد بھی نہ کھوتے۔ اس تاخیری فیصلہ سے وفاق میں نہ صرف فیصلہ سازی اور قیادت کا واضح فقدان نظر آیا بلکہ اس تاخیر نے عوام کی نظروں میں مایوسی اور حکومت پر بداعتمادی بھی بڑھا دی ہے۔ عوام جائے ماندن نہ پائے رفتن کے مصداق کورونا سے بچاؤ کریں یا اس حکومت کے غلط فیصلوں کو کوسیں۔ معروف شاعر غلام بھیک نیرنگ نے کہا تھا

جائے ماندن ہمیں حاصل ہے نہ پائے رفتن
کچھ مصیبت سی مصیبت ہے خدا خیر کرے

رہنماؤں کو نہیں خود بھی پتا رستے کا
راہ رو پیکر حیرت ہے خدا خیر کرے

اس اندوہناک صورتحال میں جہاں وفاق میں گومگوں کی کیفیت نظر آئی، وہیں پر صوبہ سندھ کے وزیراعلی مراد علی شاہ کی کارکردگی کو خوب سراہا جا رہا ہے۔ ان کے بروقت اور لائق تعریف فیصلوں نے پیپلز پارٹی کے بارے میں خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا۔ یہاں پر ہمارے محکمہ صحت میں کام کرنے والے تمام ملازمین کا ذکر کرنا بھی بہت ضروری ہے جو ان مشکل حالات میں جانفشانی سے ہمارے لئے کام کر رہے ہیں۔ اس کٹھن صورتحال میں فرائض منصبی ادا کرنے والے ڈاکٹرز سمیت تمام میڈیکل سٹاف ہمارے حقیقی ہیروز ہیں۔ ان ہیروز کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ گلگت میں ڈیوٹی کے دوران کرونا وائرس سے جان بحق ہونے والے ڈاکٹر اسامہ کو شہادت کا درجہ دینا چاہیے۔

کورونا وائرس ایک عالمی وبا کے طور پر اقوام عالم کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر سے آپ سب آگاہ ہیں اس لیے اس سے آگے چلتے ہیں۔ یہ وائرس کہاں سے شروع ہوا، کیسے شروع ہوا، امریکہ نے چائنہ کو پچھاڑنے کے لئے کیا یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ کورونا وائرس 186 سے زائد ممالک میں عالمی وبا کے طور پر پھیل چکا ہے خود امریکا بھی اتنی بری طرح سے اس کی لپیٹ میں آ چکا ہے کہ تیزی سے بڑھتے مریضوں میں نمبر تین پر ہے۔ اللہ پاک سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ دانشمندانہ فیصلوں سے اس کا سدباب کیا جا سکے۔ یہ وقت سیاسی رسہ کشی کا نہیں بلکہ اجتماعی کوششوں کا ہے۔ حاکم وقت کے ساتھ ساتھ ہماری بحثیت قوم بھی کچھ معاشرتی ذمہ داریاں ہیں مگر اس پیچیدہ صورتحال میں جہاں حکمرانوں میں صلاحیتوں کا فقدان نظر آ رہا ہے وہیں پر ’حرص و ہوس کے وائرس‘ میں مبتلا کچھ عاقبت نا اندیش افراد اپنی معاشرتی ذمہ داریوں سے پہلوتہی کر رہے ہیں۔

بدقماش ذخیرہ اندوزوں کا لالچی پن اپنی جگہ مگر یہ ایک واقعہ ہماری معاشرتی گراوٹ اور بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاکستان 24 کے مطابق دو بس ڈرائیوروں نے فی کس پانچ پانچ ہزار روپے اضافی لے کر ایران سے آئے زائرین کو پشاور منتقل کرنے کی کوشش کی جسے موٹروے پولیس نے ناکام بناتے ہوئے ڈرائیوروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق کراچی سے ان افراد کو بسوں کی چھتوں پر سامان کے اندر چھپایا گیا تھا۔ ایسے حرص زدہ لوگوں کو مثالی سزائیں دینی چاہئیں تاکہ معاشرے میں سدھار پیدا ہو سکے۔

پاکستان میں کورونا وائرس پھیلاؤ کی بڑی وجہ ایران سے آئے زائرین کو قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان سے جو بھی شہری گئے تھے واپس آنا ان کا حق تھا اور انھیں اپنے وطن واپس بھی آنا چاہیے مگر اس معاملے میں حکومتی نا اہلی واضح طور پر نظر آئی جب تفتان کے قرنطینہ سینٹر میں ناقص انتظامات حکومتی سنجیدگی کی قلعی کھول رہے تھے۔ اس حد تک غیرذمہداری دکھائی گئی کہ کورونا متاثریں کو روکنے میں سختی نہیں کی گئی۔ وہ زائرین تمام صوبوں میں چلے گئے اور وائرس پھیلاؤ کا موجب بنے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس پھیلاؤ میں زلفی بخاری کا نام لیا جا رہا ہے کہ اپنی جذباتی وابستگی کی بنیاد پر وہ اس پھیلاؤ کا سبب بنے ہیں۔ اس مجرمانہ غفلت کی تحقیقات ضرور ہونی چاہئیں تاکہ کروڑوں افراد کی زندگی اجیرن کرنے میں زلفی بخاری سمیت جو بھی ملوث ہو اسے کٹہرے میں لایا جا سکے اور ملوث نا ہو تو اس کا نام صاف ہو سکے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے فلائٹ آپریشن معطل ہونے سے پہلے شہبازشریف کی اچانک پاکستان آمد نے سیاسی منظرنامے میں ایک ہلچل پیدا کر دی ہے۔ یہ پاکستان اور پنجاب کی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے۔ شہبازشریف کا پریس کانفرنس میں حکومت کو معاشی، سماجی، سیاسی اور میڈیا کے حوالے سے صائب تجاویز سیاسی بردباری کی عمدہ مثال ہیں۔ بلاول بھٹو بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔ مگر ظفر ہلالی سمیت کچھ سینئر تجزیہ کار شہبازشریف کی آمد کو پاور بروکرز کے اشارے کا کمال بتا رہے ہیں۔

ساتھ ہی ساتھ یہ تاثر بھی بنایا جا رہا ہے کہ فی الوقت ایک قومی حکومت ہی وقت کی ضرورت ہے۔ یہ تاثر اشاروں پر چلنے والے وہی اینکر اور تجزیہ کار بنا رہے ہیں جو الیکشن سے پہلے عمران خان کو تبدیلی کا اوتار بنا کر پیش کرتے تھے۔ صورتحال پیچیدہ ہے اور اب وہ صفحہ بھی نہیں رہا جس پر سب ایک تھے مگر ابھی کسی بھی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ایم کیو ایم واپس وزارتوں میں جا رہی ہے اور حکومتی مشکلات کم ہو رہی ہیں۔

صورتحال گمبھیر ہے مگر ان حالات میں عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو ہٹانا انھیں ایک نئی سیاسی زندگی دینے کے مترادف ہو گا۔ مسائل کا حل قومی حکومت نہیں بلکہ صرف نئے الیکشن ہی ہیں۔ حکومت پالیسی سازی کے فقدان کی وجہ سے بند گلی میں جا چکی ہے۔ نا اہلیت کا تاثر بہت مضبوط ہو چکا۔ اس لیے بہتر ہو گا کہ عمران خان خود ہی اپنی ناکامیوں کے بوجھ تلے دب کر اسمبلیاں توڑیں اور نئے الیکشن کا اعلان کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply