ذکر کچھ ایران کا۔۔۔ اور پھر بیاں اپنا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایران سے واپس آئے دو ہفتے ہو چکے۔ قرنطینہ تمام ہوا۔ لگتا تو ہے کہ بخیر و خوبی یہ وقت گذر گیا۔ مڑ کر دیکھتے ہیں تو ایران کا قیام ایک عجیب سا خواب دکھائی دیتا ہے۔

مجھے ایران سے باہر نکلنے میں ہمیشہ مسئلہ درپیش رہا۔ ایک بار انقلاب ہو گیا، ایک بار شدید بمباری کا سامنا رہا، ایک بار محرم ساتھ نہ ہونے پر قیامت اٹھی۔ غرض یہ کہ ہر بار کچھ نہ کچھ رکاوٹ سامنے آتی رہی۔ اس بار کورونا ہو گیا جس نےصرف ہمیں ہی نہیں، سب کو ہی دہلا دیا ہے۔

ایران کے پہلے ہی اپنے کئی مسائل ہیں۔ انقلاب کے ہوتے ہی عراق سے جنگ شروع ہو گئی۔ جو آٹھ سال جاری رہی اور اس بے مقصد جنگ میں دونوں طرف سے دس لاکھ سے زاید اموات ہیں۔ مالی نقصان الگ۔ صدام حسین نے نئے نئے انقلاب میں الجھے ایران کو ایک تر لقمہ سمجھ کر نگلنا چاہا لیکن وہ گلے میں اٹک گیا۔ عراق کو اپنی زبردست فوج اور ٹینکوں پر ناز تھا۔ ایران نے بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ کون ہارا کون جیتا ؟ پتہ نہیں۔ دس لاکھ قبریں ہیں، کس کس سے پوچھیں؟

انقلاب کے ابتدائی برسوں میں لوگ جنگ میں الجھے رہے۔ جنگ تمام ہوئی تو آنکھ کھلی۔ سب کچھ ہی بدل گیا تھا۔ آزادی اور حقوق کی جن باتوں پر انقلاب کی بنیاد رکھی گئی تھی وہ دکھائی نہ دیں۔ پہلا حملہ انقلاب مخالفین پر ہوا۔ چن چن کر مار دیئے گئے۔ پھرخواتین کو سر ڈھانپنے اور لباس کے اوپر ایک لمبا کوٹ پہننے پر مجبور کیا گیا۔ انقلاب کے بعد ملک کے پہلے صدر ابو الحسن بنی صدر نے اپنے ایک انٹرویو میں بانی انقلاب آیت اللہ علی خمینی پر انقلاب کے ساتھ خیانت کرنے کا الزام عاید کیا کہ خمینی نے سنہ 1979ء میں اقتدار ہاتھ میں لینے کے بعد اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم پہلے ہی خمینی کے ساتھ یہ طے کرچکے تھے کہ وہ خواتین کے لباس کے معاملے میں مداخلت نہیں کریں گے اور انہیں اپنی مرضی کے انتخاب کا حق دیں گے۔ لیکن عورتوں کو پابند کر دیا گیا۔ یہ وہی بنی صدر ہیں جو بعد میں زنانہ لباس میں اور چادر اوڑھ کر ملک سے فرار ہوئے تھے۔

عورتوں کےساتھ ہی ساتھ مردوں کے حلیوں میں تبدیلی آئی۔ آدھی آستین اور ٹائی پہننے پر مکمل پابندی، ہلکی سی داڑھی اور سیاہ یا گہرے رنگ کا لباس اپنانے کی ہمت افزائی کی جانے لگی۔

رفتہ رفتہ پابندیاں بڑھنے لگیں۔ موسیقی پر بجلی گری اور وہ جل کر رہ گئی۔ سب ہی معروف اور مقبول گانے والے ملک چھوڑ گئے۔ ایک گوگوش خانم ایران میں رہ گئی تھیں وہ بھی چند سال پہلے امریکہ اور پھر کینیڈا منتقل ہو گیں۔ خواتین کے گانے پر مکمل پابندی لگ گئی۔ مرد بھی صرف منتخب (بمعنی مجہول) قسم کی شاعری گا سکتے ہیں۔

ایرانی نہایت نفیس لوگ ہیں۔ خوش شکل، خوش اخلاق، خوش لباس، خوش خوراک، خوش باش اور خوش سلیقہ۔ لیکن یہ سب آہستہ آہستہ چھین لیا گیا اور پھر گویا نابود ہو گیا۔

ایرانی ایک خوبصورت نژاد ہے۔ ایرانی خواتین اپنے حسن اور زیبائی کا خاص خیال رکھتی ہیں۔ اس میں ناک کی جراحی سب سے زیادہ مقبول ہے۔ ہر دوسری خاتون نے آپریشن کرا رکھا ہے۔ ابرو بھی نئے فیشن کے ساتھ ساتھ بنوائے اور ترشوائے جاتے ہیں۔ انقلاب کی سختیوں میں بھی ایرانی عورت خود سے غافل نہیں رہی اور پوری لگن سے اپنی نوک پلک سنوارنے میں لگی رہی۔

1979 کے انقلاب میں یہ اہداف رکھے گئے تھے۔ سماجی انصاف، آزادی اور جمہوریت اور ملک کا اپنا استقلال۔ ایرانی شاہ کی باشاہت سے بیزار تھے اور مکمل جمہوریت کے خواہشمند تھے۔ عام لوگوں کا خیال تھا کہ اس انقلاب کے بعد ایران ایک فلاحی ریاست بن جائے گا۔ لیکن یہ رژیم تو شہنشاہیت سے بھی زیادہ آمرانہ ثابت ہوئی۔ لوگ گھٹن میں زندگی گذارنے پر مجبور ہوگئے۔ تہران کے قیام کے دوران ایک پختہ عمر کی خاتون سے بات ہو رہی تھی انہوں نے کہا کہ وہ شاہ کو کبھی معاف نہیں کریں گی وہ ایرانیوں کو بے یار و مددگار چھوڑ کر مٹھی بھر ملاؤں کے حوالے کر کے چلا گیا۔

ایران میں ہر قسم کی مشکل کو امریکہ کے سر تھوپا جاتا ہے۔ امریکہ کو شیطان بزرگ کہا جاتا ہے لیکن یہ حکومت کا نکتہ نظر ہے۔ عوام کی سوچ کچھ اور ہے ۔ انہیں اپنی مشکلات کا حل امریکہ کی مداخلت میں نظر آتا ہے۔ ایرانی پر امید نظروں سے امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں کہ وہ آ کر انہیں نجات دلائے۔ عراق، شام، لیبیا، افغانستان کی مثالیں دیکھتے ہوئے بھی انہیں امریکہ ہی اپنا نجات دہندہ لگتا ہے۔

ایران میں ہمیں بہت زیادہ مواقع نہیں ملے لوگوں سے بات کرنے کے۔ لیکن پھر بھی جہاں تک ہو سکا بات کی اور۔۔۔ کی جس بات اس نے شکایت ضرور کی۔ ہر ایک شاکی، ہر ایک بے قرار اور ہر ایک ناامید۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ایرانی اب تک پوری طاقت سے حکومت کے خلاف کھڑے نہیں ہوئے؟

ایرانی کی نئی نسل جو اسی رژیم کے سائے تلے پلی بڑھی ہے سخت مایوس اور دل گرفتہ ہے۔ انہوں نے شاہ کے دور کے ایران کے بارے میں بس سن ہی رکھا ہے اور وہ تعجب اور تاسف سے کہتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ ایران کو اس انقلاب کی ضرورت لاحق ہوئی؟ وہ اپنے سے پہلے کی نسل کو مورد الزام ٹہراتے ہیں۔اور وہ پرانی نسل بھی شرمندگی سے یہ الزام اپنے سر لیتی ہے۔ جمہوریت کی آرزو میں سر پر ایک مطلق العنان ملائیت کو سوار کر لیا۔

ملک میں کئی بار شورشیں ہوئیں۔ لوگ سراپا احتجاج بنے۔ باہر بھی نکلے۔ پچھلے مہینوں میں ایک شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔ جس کا آغاز مشہد سے ہوا جہاں عوام خوراک کی قیمیت میں اضافے اور پست معیارِ زندگی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، جس کے بعد یہ پورے ملک میں پھیل گئے۔ پٹرول پمپ جلائے گئے، بنکوں پر حملے ہوئے۔ لوگوں نے حکومت کے خلاف نعرے بھی لاگئے۔ “جھوٹوں پر لعنت” اور “میرا حق دو” کے نعرے لگے۔ کبھی تو یہ بھی لگا کہ بس اب کچھ بڑا ہونے والا ہے۔ انقلاب در پر ہی کھڑا ہے۔ لگتا تھا کہ اب تبدیلی کا موقع آ گیا ہے۔لیکن پھر ان شورشیوں سے آہنی ہاتھ سے نبٹا گیا۔

حکومت مخالف مظاہروں میں شریک افراد صدر حسن روحانی اور سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس قسم کے مظاہرے دوسرے شہروں میں پھیل گئے۔ یہ مظاہرے اتنے شدید تھے کہ کچھ دیر کو حکومت بھی لڑکھڑا سی گئی۔ لیکن پھر سب معمول کے مطابق ہو گیا۔ ۔ ایرانی حکام نے ظاہر ہے کہ ان مظاہروں کا الزام انقلاب کے مخالفین اور غیر ملکی ایجنٹوں پر لگایا ہے۔ حکومت مخالف ایرانیوں کے پاس لیڈر نہیں ہے جو لوگوں کی رہنمائی کرے اور انہیں ہمت دلائے۔ ایرانیوں کو شدید خوف بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ” یہ لوگ مار ڈالتے ہیں۔ گھروں سے اٹھا کر زندانوں میں پھینک دیتے ہیں۔” یہی وجہ ہے کہ لوگ ابھی تک انتہائی قدم اٹھانے سے ڈرتے ہیں۔ ڈر اور خوف کی فضا میں سختیاں برداشت کرتے ہوئے زندگی گذار رہے ہیں بلکہ یوں کہیے کہ سانس بھگت رہے ہیں۔

شاہ ایران کے بیٹے شہزادے رضا پہلوی سے لوگوں کی کوئی امیدیں نہیں۔ وہ سال کے سال آکر ایک خطاب میں عوام کو مژدہ سناتے ہیں کہ اگلے برس ہم ایران میں آزادی دیکھیں گے۔اب عوام انہیں سننے کو بھی تیار نہیں۔

ایران اپنے نیوکلیر پروگرام کی وجہ سے شدید پاندیوں کا شکار رہا اور ابھی تک ہے۔ ان پابندیوں کی وجہ سے ایرانی معشیت بری طرح متاثر ہوئی۔ بے روزگاری اور مہنگائی بڑھ گئی۔ اسی سال جنوری میں ایک ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کو امریکہ نے عراق میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا۔ اس کا بدلہ ایران نے یوں لیا کہ یوکرین ایک مسافر بردارجہاز مار گرایا۔ جس میں ایک بڑی تعداد کینیڈین ایرانیوں کی بھی تھی۔ سب مسافر ہلاک ہو گئے۔ ایران پہلے تو صاف مکر گیا۔ پھر اس حادثے کوانسانی غلطی مان لیا۔ لیکن جہاز کا بلیک باکس دینے سے اب بھی انکاری ہے۔ ایرانیوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ سلیمانی کی ہلاکت سے پہلے وہ انہیں جانتے تک نہ تھے۔ کبھی نام بھی نہیں سنا تھا۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ بھی ایک سازش ہے۔ سلیمانی طاقتور ہو رہا تھا اور ایران نے امریکہ کو معلومات فراہم کر کے سلیمانی سے نجات حاصل کر لی۔

ابھی ایران ان سب مشکلات سے گذر ہی رہا تھا کہ کورونا کا حملہ بھی ہو گیا۔ ایران کورونا سے شدید متاثر ہونے والے ملکوں میں سے ایک ہے۔ اس کی بڑی وجہ وہی ہے جو اٹلی کی ہے۔ بروقت اقدام نہ کرنے کی۔

ایران میں کورونا کے بارے میں لوگوں کے مختلف خیالات ہیں۔ کسی کا خیال ہے کہ یہ امریکہ کی شرارت ہے۔ چین کو معاشی شکست دینے کے لیئے امریکہ نے یہ وائرس ایجاد کیا اور چین میں پھیلا دیا۔ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ سب چین کا کیا دھرا ہے۔ وہ جانے کیا الابلا کھاتے ہیں، خود بھی بیمار ہوئے اور دنیا کو بھی بیمار کر دیا۔ اکثر کا خیال ہے کہ اگر قم کو قرنطینہ کر دیا جاتا تو یہ بیماری پورے ایران میں نہ پھیلتی۔

قم اس وایئرس کے پھیلاؤ کا مرکز ہے۔ اس میں بھی مختلف رائے ہیں ایک یہ کہ قم میں کچھ تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہیں اور وہاں چینی کمنی کام کر رہی ہے۔ دوسرا یہ کہ قم کی مذہبی درس گاہ میں چین کے مسلم طالب علم مذہبی تعلیم لینے آتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ قم میں حضرت معصومہ کا مزار بھی ہے جہاں لوگ زیارت کے لیے آتے ہیں۔ یہ مزار بھی امام رضا کے مزار کی طرح بند نہ کیا گیا۔ اور آذربائجان، افغانستان، یو اے ای، بحرین، لبنان، اومان اور پاکستان میں جو کیسز سامنے آئے ہیں ان کے تانے قم سے ملتے ہیں۔ حکومت نے بعد میں ان زیارتی مقامات کو بند کرنے کی کوشش کی تو غصے سے بھرے مجمع نے دھاوا بول دیا۔ دروازے کھلوا دیئے اور در و دیوار کو چوما اور چاٹا۔ مذہبی علما کا خیال ہے کہ یہ مقدس مقامات لوگوں کی امید ہیں۔ لوگ بھی یہ کہتے ہیں کہ انہیں یہاں سے شفا ملتی ہے اور وہ کسی صورت یہ دروازے بند نہ ہونے دیں گے۔ اب کہیں جا کے جب ایران میں کورونا وائرس کے ہزاروں کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر مشہد میں امام رضا کا مزار بند کر دیا گیا ہے۔نماز جمعہ کو بھی منسوخ کردیا گیا ہے۔

ایران میں تیزی سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ وسائل کی کمی اور اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے اس ہنگامی صورت حال سے نبٹنا ناممکن نہیں تو حد درجہ مشکل ضرور ہے۔ ایران نے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف سے پانچ ارب ڈالر مانگے ہیں۔اگر تہران کو یہ رقم مل بھی جاتی ہے، تو اس کے باوجود حکومت کے لیے اشیا کی خریداری کوئی آسان کام نہیں ہو گا کیونکہ امریکا کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کے باعث ایران کے لیے بین الاقوامی سطح پر مالیاتی لین دین اور ادویات سمیت اشیاء اور ساز و سامان کی درآمد آسان نہیں ہے۔ ترکی نے ایران کو ایک ہزار ٹیسٹ کٹس، ایپرن، اور ماسک وغیرہ دیئے ہیں۔ امریکہ کی مدد ایران نے ٹھکرا دی یہ کہہ کر کہ پہلے پابندیاں ہٹاؤ، پھر کوئی اور بات ہو گی۔ امریکہ نے جواب میں اپنے ایک شہری کی رہائی مانگی۔ 13 سال قید کی سزا کاٹنے والے امریکی بحریہ کے معالج رہا ہوگئے، رہائی ایران میں موجودگی سے مشروط ہے، مائیکل وائٹ اس وقت ایران میں سوئٹزرلینڈ کے سفارت خانے میں ہے، مائیکل وائٹ کی مکمل اور دیگر قیدیوں کی رہائی کیلئے رابطے جاری ہیں۔ لگتا ہے کہ بات چیت کا چینل کھلا ہوا ہے لیکن دوسری طرف صدر ٹرمپ یہ دھمکی بھی دے رہے ہیں کہ کورونا ایران کو پابندیوں سے نہیں بچا سکتا اور مزید پابندیاں آنے والی ہیں۔

چین بھی مدد کو آیا اور اس نے ایران کو 5 ہزار ایسے آلات مہیا کیے جو کورونا وائرس کی تشخیص میں مدد دیں گے۔ پاکستان اور ایران بھی کورونا کی بابت مل کر کچھ کرنا چاہ رہے ہیں۔ دونوں طرف سے باہمی تعاون اورموثر اقدامات اٹھانے کی بات ہوئی۔ نتائج سامنے آتے آتے وقت لگے گا۔ پاکستان میں کورونا کی آمد ایران سے ہوئی۔ تافتان بارڈر سے زایئرین کی بڑی تعداد واپس آئی اور ان کے قرنطینہ اور چیک اپ کا کوئی مناسب انتظام نہ تھا۔ ان پاکستانی شہریوں کو ایران سے زبردستی واپس بھیجا گیا ہے۔ ایران خود سخت معاشی پابندیوں اور پھر کورونا وائرس کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔ وہ چین کی طرح یہ اہلیت نہیں رکھتا کہ محدود وسائل میں اپنے شہریوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکیوں کا بھی خیال رکھ سکے۔

قرنطینہ کے بعد پہلی بار گھر سے نکلے۔ ہو کا عالم تو نہیں لیکن رونق بھی نہیں۔ عجیب سی اداسی چھائی ہوئی ہے۔ ضرورت کی اشیا خرید کر سیدھے گھر واپس آ گئے۔

شہر میں کس سے سخن رکھیے کدھر کو چلیے

 اتنی تنہائی تو گھر میں بھی ہے گھر کو چلیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *