یہ وقت بھی گزر جائے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گھر میں قید اور محدود ہو کر رہ جانے کا خوف سب کو لاحق ہوا ہے۔ برے نفسیاتی اثرات پڑے ہیں۔ ان پر دوسروں سے زیادہ مرتب ہوئے ہیں جن کے وسائل زیادہ ہیں۔ شاید وسائل ہوتے ہوئے بھی بے بس ہونے کا احساس پریشان کن ہے۔

دشمن کا نام معلوم ہے لیکن دیکھ نہیں سکتے۔ اس کے خوف سے باہر نہیں جا سکتے، یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ہم محفوظ ہیں۔ ہو سکتا ہے نادیدہ غنیم فصیل جاں میں نقب لگا چکا ہو۔ دشمن حملہ کرتے ہوئے عورت مرد، غریب امیر، حاکم محکوم، بچے بوڑھے کی تفریق نہیں کر رہا۔

تو کیا کیا جائے؟ موت کا انتظار؟

بالکل بھی نہیں، مایوسی کا کوئی جواز ہی نہیں۔ یہ خطرہ تو ان خطروں سے بہت چھوٹا ہے جن کا سامنا انسان کے اجداد کر چکے۔ بلکہ حال ہی میں دنیا کی تقریبا 20 فیصد ابادی والے ملک سے یہ نادیدہ دشمن پسپا ہو چکا۔ ووہان میں اس کی شکست کا جشن منایا جا چکا ہے۔

مقابلہ کیا جائے۔ ہمت سے اپنے علم اور معلومات کی روشنی میں دشمن کا مقابلہ۔ اس وقت گھر تک محدود ہونا ہی اس کا بہترین مقابلہ ہے۔ یہ پسپائی نہیں، حکمت عملی ہے۔ معلوم انسانی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ کسی بھی جارح قوت کے سامنے انسان مستقلاً زیر نہیں ہوا۔ وقتی مات ہو سکتی ہے لیکن اس سیارے پر بستا انسان لکھوکھا برس کی مشق سے اس قابل ہو چکا اور اس کا عزم اتنا توانا ہے کہ وہ ابتلاؤں، وباؤں اور بلاؤں کے مقابلے میں بالآخر فاتح ٹھہرتا ہے۔

لیکن یہ تو اس چیلنج اور اس کے فوری مقابلے کی بات ہے۔ یہ تو بہت چھوٹی سی جیت ہو گی۔ یہ تو اس ذہنی دباؤ، پریشانی، تنہائی، بے چینی، وسائل کے استعمال اور دیگر دوڑ دھوپ کا بہت قلیل صلہ ہو گا جس سے ہم گزر رہے ہیں کہ ہم فتح کے شادیانے بجا کر مطمئن ہو جائیں کہ وائرس زیر ہو گیا۔

جن حالات اور کیفیت سے ہم گزر رہے ہیں اس وقت سے اگر دنیا یہ سیکھ لیتی ہے کہ انسانوں کے لیے بے یقینی اور خوف کتنی بڑی سزا ہے، ان کو کسی جگہ پابند کر دینا ان کے لیے کتنا بڑا عذاب ہے اور ان کی آزادانہ مرضی کا حق سلب کرنا ان کے لیے کتنا بڑا روگ ہے تو پھر کمزور اقوام پر جارحیت نہیں ہو گی۔ پھر ریاستیں شہریوں کو لاپتہ نہیں کریں گی، پھر مذہبی، نسلی اور لسانی اقلیتوں سے امتیازی سلوک نہیں ہو گا۔ پھر کسی مذہب، نسل یا زبان سے تعلق رکھنے والوں کا اپنی اکثریت کی وجہ سے استبدادی رویہ نہیں ہو گا، پھر صنفی امتیاز نہیں ہو گا اور پھر نفرت کی حد بندیاں کمزور پڑ جائیں گی۔ اگر ایسا ہو گیا تو سمجھیں کہ انسان جیت گیا اور کورونا ہار گیا۔

اگر ایسا نہ ہوا تو سمجھیں کہ کورونا جیت گیا بھلے آپ نے اقوام متحدہ کے تحت کورونا پر قابو پانے کا جشن اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہو جہاں دنیا بھر کے سربراہان حکومت، وزرائے صحت اور ماہرین صحت ایک سٹیج پر جمع ہوں، جہاں تقاریر ہوئی ہوں، ایوارڈ دیے گئے ہوں اور غبارے ہوا میں چھوڑ کر کبوتر آزاد کیے گئے ہوں۔ یقین رکھیں یہ جشن جلد منعقد ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply