کورونا سے نجات ہمارے مسیحا دلائیں گے، اسرائیلی وزیر صحت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسرائیل کے وزیر صحت یعقوب لٹزمان کے مطابق کورونا وائرس کا بحران اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا اپنے خاتمے کی طرف گامزن ہے اور وہ دن قریب ہیں جب ”مسیحا“ زمین پر اترے گا اور یہودی برادری کی حالت زار کو دور کرے گا۔

اس انٹرویو میں یعقوب لٹزمان نے مزید کہا، ”ہم دعا اور امید کر رہے ہیں کہ مسیحا فسح (جو یہودیوں کا آمد بہارکا تہوار ہے ) کے موقع پر پہنچے گا، جو ہماری نجات کا وقت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مسیحا آئے گا اور جس طرح خدا ہمیں مصر سے نکال لایا تھا اسی طرح ہمیں باہر لے آئے گا۔ “ یعقوب لٹزمان کا مزید کہنا تھا، ”جلد ہی ہم آزادی کے ساتھ نکلیں گے اور مسیحا ہمیں دنیا کی دیگر تمام پریشانیوں سے نجات دلائے گا۔ “

لٹزمان، جو الٹرا آرتھوڈوکس یونائیٹڈ تورہ یہودی پارٹی کے سربراہ ہیں، اسرائیل میں بنجمن نیتن یاہو حکومت کے ایک اہم رکن مانے جاتے ہیں۔

یہودیوں کا مسیحا کے بارے میں عقیدہ

یہودی عقیدے کے مطابق، مسیحا داؤدی نسل سے تعلق رکھنے والا مستقبل کا یہودی بادشاہ ہو گاجو اسرائیل کو کسی بڑی تباہی سے بچائے گا۔ یہودی عقیدے کے تحت یہ مسیحا ”ایک نجات دہندہہے جو اختتام پر ظاہر ہو گا اور خدا کی بادشاہی میں داخل ہوگا“۔ یہودیوں کا ماننا ہے کہ مسیحاکی آمد قیامت سے پہلے ہی دنیا کو آخری مرحلے کی طرف لے جائے گی۔

اسرائیل کے وزیر صحت کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب اسرائیل میں کوروناوائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد سولہ سو سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ کووڈ انیس سے کم سے کم ایک مریض کی موت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

دریں اثناء اسرائیل میں کم سے کم 8 اپریل تک ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

فسح کا تہوار

واضح رہے کہ عبرانی کیلنڈر کے مطابق آمد بہار کا تہوار فسح اس سال آٹھ اپریل سے سولہ اپریلتک جاری رہے گا۔

فسح کا تہوار یہودیوں کے کیلنڈر میں سب سے اہم تہواروں میں سے ایک ہے۔ یوں تو بہت سی مختلف روایات اس تہوار سے منسوب ہیں اور یہ یہودیوں کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے تاہم اس کا نام دسویں صدی سے چلا آرہا ہے اور یہ واقعہ عبرانی بائبل میں ملتا ہے۔

اسرائیلی وزیر کے بیان پر تنقید

اسرائیل کے وزیر صحت یعقوب لٹزمان، جو ایک سخت گیر موقف رکھنے والے قدامت پسند سیاستدان ہیں، کے اس بیان نے قوم کے ترقی پسند حلقوں میں تحفظات پیدا کر دیے ہیں۔ مختلف حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ”آیا گہری مذہبی جڑیں رکھنے اور قدامت پسندمذہبی نظریات کے حامل شخص کو اس طرح کے نازک مرحلے میں وزارت صحت کی سربراہی کرناچاہیے؟ “

یاد رہے کہ اس وقت سخت گیر ربی، عیسائی پادری اور مسلمان مبلغین سب ہی اپنے اپنے عقیدے کے مطابق ملہک وباء کورونا وائرس کی مذہبی اہمیت، وجوہات اور اس کے سدباب کے مذہبی طریقے تلاش کرنے اور اسے عوام تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بشکریہ ڈوئچے ویلے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *