مشکل وقت میں کرنے کا کام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ھم پہلے شاہ قبول اولیاء (رح) کی مثال لیتے ہیں وہ مراکش سے سندھ آئے اور مشہور صوفی شاہ عنایت شاہ (جنھیں سبط حسن نے پہلا سوشلسٹ صوفی لکھا تھا) کے مرید ہوئے بعد میں اپنے مُرشد کے حکم پر تبلیغ کے سلسلے میں پشاور تشریف لائے۔

یہ مشہور پشتو صوفی شاعر رحمٰن بابا کا دور تھا۔ شاق قبول اولیاء کی نیک سیرتی اور وعظ و نصیحت نے یہاں کے لوگوں پر گہرا اثر کیا اور ہزاروں لوگ ان کے پیروکار بن کر ان کے درس وتدریس اور تبلیغ کا حصہ بنے اس دوران پشاور کے علاقوں میں شدید قحط پڑا تو اللہ کے اس ولی نے فوری طور پر تبلیغ کا سلسلہ معطل کردیا اور اپنے پیروکاروں کو حکم دیا کہ قحط زدگان کو بھوک سے بچایا جائے، حکم سنتے ہی گلی گلی لنگر کھلے اور دور دور سے غلّہ بھی پہنچنے لگا، پھر چشم فلک نے دیکھا کہ شھر میں اگر کسی چیز کی بہتات تھی تو وہ روٹی ہی تھی۔

ڈیوائن فادر ایک مشنری تھا۔ نیویارک اور دوسری ملحقہ ریاستوں میں ان کا گہرا اثر تھا کیونکہ بنیادی طور پر وہ ایک روحانی رہنما اور یسوع مسیح کے تعلیمات کے مبلغ تھے۔ 1930 کے آس پاس دُنیا کو شدید کساد بازاری نے لپیٹ میں لیا تو ڈیوائن فادر حقیقت ہی میں ایک مسیحا بن کر نکلے۔ ان کا نعرہ تھا ”کوئی بھوکا نہ رہے“ اور پھر ایک ایک دروازے پر ان کے پیروکاروں نے دستک دی اور ایک ایک گھر سے بھوک کو باہر نکال کر رکھ دیا۔

پیرفضل احمد مغل بادشاہ شاہجہاں کے دور کے ایک عظیم صوفی اور مبلغ تھے۔ وہ مجدد الف ثانی (رح) کے بیٹے خواجہ معصوم کے مرید تھے۔ سنٹرل ایشیا سے دھلی تک کئی حاکمان وقت ان کے حلقہ ارادت میں شامل تھے۔ گویا روحانی حوالے سے حد درجہ بارسوخ لیکن ایک فقر کے ساتھ تدریس و تبلیغ کا سلسلہ چلتا رہا۔ اس دوران شھر اور ملحقہ علاقے کو ایک خوفناک قحط نے لپیٹ میں لیا تو خانقاہ اور مدرسے کو تالے لگائے اور اپنے با اثر معتقدین کو مدد کے لئے پیغامات بھجوا کر خود اپنے پیروکاروں سمیت باہر نکل آئے۔ چند دنوں بعد ثمرقند سے دہلی تک سے اُونٹوں کے طویل قافلے نکل پڑے تھے اور پھر چشم فلک نے روٹیوں کی خوشبو کو پھیلتے اور قحط کو سکڑتے دیکھا۔

1857 کی جنگ آزادی نے ہندوستان کی معیشت کا جنازہ نکال دیا تو ہر گھر میں بھوک گھروں کے آنگنوں میں ناچنے لگی، ایسے میں حق پرست اور خوف خدا رکھنے والے علماء نکل آئے اور ایک وسیع سلسلہ قائم کیا۔ یہ لوگ مختلف مقامات پر چپاتیاں بناتے اور انھیں ملحقہ آبادی میں بانٹتے رہتے۔ اس عظیم سلسلے کو انگریز حکومت نے چپاتی سازش کا نام دیا، لیکن علماء حق (جن میں زیادہ تعداد سید احمد شھید کے پیروکاروں کی تھی) نے طعنہ و تہمت سے بے نیاز ہو کر اس کار خیر کو جاری ہی رکھا۔

یہ طویل تمھید میں نے اس لئے باندھی کہ اس وقت پوری دُنیا ایک تکلیف دہ اور مشکل صورتحال سے دوچار ہے اور پوری انسانیت کو اپنی بقاء کی پڑی ہے کیونکہ اللہ تعالٰی نے ایک بہت ہی معمولی اور نادیدہ ذرے (وائرس) کو اتنی دہشت اور طاقت عطا کردی ہے کہ اس نے کرہ ارض پر انسانی بقاء کو ایک سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ یہ تو ہم نہیں جانتے کہ اللہ تعالٰی اس نا دیدہ دشمن اور بے رحم عذاب کو کب کسی معجزے، کسی موسمی تبدیلی یا کسی سائنسی دریافت کی صورت ہمارے سروں سے ٹال دے، لیکن کم از کم یہ معلوم کرنا تو ہرگز مشکل نہیں کہ ہمارے گرد وپیش میں کون کون کن کن مسائل کا شکار ہیں اور ہم کس طرح ان کی مدد کر سکتے ہیں۔

میڈیسن سے آٹا اور گھی سے چینی جیسی بنیادی ضروریات کو بہت سی سفید پوش گھرانے ایک بے بسی کے ساتھ شاید تکتے ہوں گے۔ ہمارا کام یہ ہونا چاہیے کہ ہم خاموشی کے ساتھ دوسروں کی مجبوریوں اور محرومیوں تک رسائی بھی حاصل کر لیں اور اسی خاموشی کے ساتھ ان کی مدد کو بھی لپکیں۔

ساتھ ہی ساتھ ہمیں عمیق مشاھدہ کرنا چاھیئے کہ کون کون سا سیاسی اور مذہبی رہنما عملی طور پر اس کار خیر میں شامل ہے کون کون سے اداروں کی کارکردگی سے خدمت خلق ٹپک رہا ہے اور کون کون انفرادی طور پر رحمت کا فرشتہ بنا ہوا ہے کیونکہ انہی لوگوں پر مستقبل کا دارومدار ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو اوپر بیان کیے گئے اسلاف کی عظیم روایتوں کو نبھا رہے ہیں۔ میں ذاتی طور پر ایسے کئی دوستوں کو جانتا ہوں اور یقینا آپ کے اردگرد بھی ایسے عظیم لوگوں کی کمی نہیں ہوگی۔ یہی لوگ عذاب اترنے اور رحمتیں برسنے کے موسم اور نئے منظر نامے میں جگمگاتے کردار ہوں گے

اگر ان مشکل ترین حالات میں ہمارے نئے روئیے کی تشکیل خوف خدا اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہوئی تو پھر یہ عذاب ہر حوالے سے رحمت کا روپ ہی دھارے گا۔

اور آخر میں ایک دو تجاویز!

اپنے صدقات اور خیرات کو مدرسوں اور خانقاہوں سے ہسپتالوں، میڈیکل سٹورز اور جنرل سٹورز کی طرف موڑدیں تاکہ بقول اقبال

یہی شیخ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھاتا ہے

کی بجائے اصل مستحقین ہی فیض یاب ہوں کیونکہ صدقہ و خیرات اصل حقدار ہی سے مشروط ہے۔

، ایک بات اور!

کوئی سیاستدان، کوئی مولوی یا کوئی آسودہ حال میڈیا پرسن محض نمائش کے لئے کوئی ویڈیو اپ لوڈ کرے، کسی لاؤڈ سپیکر کو چمٹے یا کسی ٹی وی چینل سے چمٹ جائے تو پہلا سوال یہ پوچھیں کہ کیا آپ نے اپنے بنگلے، ہوٹل یا کسی آسائش کدے وغیرہ کو قرنطینہ ڈیکلئیر کر دیا ہے؟ اور اس میں کتنے مریض ہیں اور ان کے لئے خوراک اور میڈیسن کے انتظامات کیا ہیں؟ اور کیا ہم کیمرہ اُٹھا کر اسے دیکھ سکتے ہیں؟ آپ نے کتنی گاڑیوں گھوڑوں اور کتوں کی قربانی اس کار خیر کے لئے دی؟

جواب اثبات میں اور قابل اطمینان ہو تو وہ یقینًا مشکل حالات میں قوم کا ہیرو ہے لیکن اگر صرف خالی باتوں اور ڈرامہ بازی سے ہیرو اور ہمدر بننے کی کوشش کر رہا ہے، تو پھر اس کے سامنے پڑا سیل فون یا مائیک بے شک اٹھا لیں اور اگر بس چلے تو اس کے منہ میں بھی گھسیڑ دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *