انسانیت آپ کو پکار رہی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسلمانوں پر سخت ترین حالات تھے جنگ کے آثار نظر آرہے تھے دشمن کے لشکر سر پر کھڑے تھے آقا علیہ سلام حالات کی نزاکت دیکھتے ہوئے اپنے صحابہ کرام سے مالی امداد کی اپیل کرتے ہیں اور اس پر صحابہ کرام کا عمل دنیا بھرکے مسلمانوں کے لیے قیامت تک کے لیے مشعلہ راہ بن جاتا ہے۔

معاشی تنگ دستی اور مشکلات کے باوجود صاحبہ کرام آقا علیہ سلام، وطن اور انسانیت کی خدمت کے لیے ایکدوسرے کے مقابلے میں آجاتے ہیں۔ عمر فاروق اپنے تمام مال و متاع کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتے ہیں ایک حصہ اہل و عیال کے لیے اور ایک آقا علیہ اسلام کے قدموں میں رکھ دیتے ہیں۔

اس دوران جناب حضرت ابو بکر عشق وفاء کی علامت تشریف لاتے ہیں آقا علیہ سلام پوچھتے ہیں کہ ابو بکر گھر والوں کے لیے بھی کچھ چھوڑ آئے ہویا نہی تو پروانہ شمع رسالت تاریخ رقم کرتے ہیں اور فرماتے ہیں

پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس
صدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس

آقا آپ کا فرمان ہو اور وطن اورقوم کی پکار ہو اور ابو بکر کسی سے پیچھے رہیں ایسا ہو ہی نہی سکتا ابو بکر کا سب کچھ آقاعلیہ اسلام پر اور آپ کی قوم پر قربان ہو۔

جناب عثمان غنی کا شمار بڑے تجار میں ہوتا ہے آقاعلیہ اسلام کی محبت اور قوم کی پکار پر اپنی حزانے کھول دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ جاری رہتاہے ایک مزدور صحابی سوچ میں ہوتے ہیں کہ آقا علیہ اسلام کے حکم کی پیروی میں، میں کیا کرو ں؟ میرے پاس تو ملک اور قوم کو دینے کے لیے کچھ نہی ہے سوائے چند کھجوروں کے، کہاں حضرت عثمان غنی کے خزانے کہاں حضرت ابو بکر صدیق کے درہم اور دینار اورکہاں میرے یہ چند کھجور اس سے کیا ہو گا مگر پھر بھی اپنے چند کھجور کے ساتھ دربار رسالت میں تشریف لاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ حضور ہم مزدورں کے پاس آپ پر قربان کرنے کے لیے محبت اور ایثار کے علاوہ کچھ نہی ہے اور وہ کھجوریں آقاعلیہ اسلام کے قدموں میں رکھ دیتے ہیں۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجور ان کے ہاتھ سے لیتے ہیں اور جتنے بھی صحابہ اکرام کا عطیہ پڑا تھا سب کے اوپر ایک ایک کھجور رکھ کر فرماتے ہیں کہ اس مزدور کے خلوص اور ان کھجوروں کی بدولت اللہ تعالی نے آپ سب کی امداد قبول کی۔

قرآن فرماتا ہے کہ اللہ تعالی کی نظر میں مال کی کوئی قدر نہی اگر قدر ہے تو خلوص نیت کی ہے۔

سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ آج کل اہل وطن پر کرونا کی صورت میں رب کریم کا ایک امتحان آیا ہے جس سے مقابلہ کرنے کے لیے نظم وضبط کی انتہائی ضرورت ہے وطن اور قوم پر جب بھی مشکل وقت آتا ہے تو قومیں ان سخت حالات کا مقابلہ کر کے سرخرو ہوتی ہیں۔ کرونا جسے موضی مرض کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں اپنا جذبہ ایمانی اور جذبہ حب الوطنی کاعملی مظاہرہ کرنا ہو گا اور بہت ضروری ہے کہ حکومت وقت کے احکامات پر من و عن عمل کیا جائے۔

کیونکہ اگر یہ مرض پھیلتا ہے تو وطن عزیز کے پاس اتنے وسائل نہی کہ بہت بڑے پیمانے پراسکامقابلہ کر سکیں۔ اس بیماری کو ہم جذبہ اور اتحاد سے ہی شکست دے سکتے ہیں اگر آپ کو اپنے پیاروں کی زندگی عزیز ہے تو اپنے گھروں تک محدود ہو جائیں، ہاتھوں کو بار بار دھوئیں چہرے پرماسک کا استعمال کریں مذہبی اور سماجی اجتماعات میں جانے سے گریز کریں نماز گھر میں پڑھیں قوم اور ملک کے مددگار بنے ناکہ قوم و ملک کے لیے مصیبت بنے۔

اس لاک ڈاون میں آپ کے پاس بھی موقع ہے آپ بھی جذبہ ایمانی سے حضرت ابو بکر صدیق اور عمر فاروق اور صحابہ اکرام کے سنت پر عمل کر کے قیامت کے دن ان کے ساتھ صف میں کھڑے ہو جائیں اگر آپ کو اللہ نے مال ودولت سے نوازاہے تواس سے ملک قوم کو عطیہ دے کر عثمان غنی کے صف میں کھڑے ہو جائیں اگر آپ مزدور ہیں تو اپنے حصے کی ایک روٹی کسی دوسرے مزدور کے ساتھ شئیر کیجئے اور اس یقین کے ساتھ کہ یہی موقع ہے اللہ کا ولی بننے کا۔

جو لوگ اس لاک ڈاؤن میں سروسز دے رہے ہیں وہ اس ملک اور انسانیت کے ہیروز ہیں سرکاری اہلکاروں کے ساتھ تعاون کیجئے نرسز، ڈاکٹرز ”طبی عملی یوٹیلیٹی اسٹورز، پولیس اور دوسرے خدمت کرنے والوں کے لیے مسائل نہ بنائے یہ لوگ اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر آپ کی زندگی اور انسانیت کی خدمت کر رہیے ہیں۔

مل، فیکڑی اور کمپنی مالکان پر بھی اللہ کا امتحان ہے یہ وقت ہے اللہ سے کاروبار کرنے کا اپنے مزدورو ں کے لیے دل نرم کیجئے جن مزدورں نے آپ کی خدمت کی ان کی مدد کیجئے زندگی ہر انسان کو ولی اللہ بننے کا ایک موقع دیتی اس یقین کے ساتھ لوگوں کی مدد کیجئے کہ آپ اللہ تعالی سے کاروبار کر رہے ہیں اور اس یقین کے ساتھ اللہ تعالی سے کاروبار کریں کہ اللہ تعالی آپ کی زندگی میں آپ کے کاروبار میں آپ کی اولاد میں برکت ڈالے گا اور اللہ تعالی اسباب بنانے والا ہے اللہ تعالی آپ کے لیے بہترین اسباب بنائیگا۔ اللہ تعالی آپ کے لیے اپنے رحم و کرم کے دروازے کھول دیگا آپ مزدورں کے لیے اپنے دل کے دروازے کھول دیجئے، کیونکہ سب کچھ فنا ہو جانا ہے سب کچھ ختم ہو جانا ہے اور قرآن فرماتا ہے سب چیزیں فنا ہو جائینگی اور اللہ کی ذات کو ہی بقاء ہے۔

اللہ ہم سب کا مددگار ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *