ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس کی وبا روکنے کی بجائے بدستور پیش قدمی کررہی ہے۔ تقریباً پوری دنیا اس متعدی وبا کی لپیٹ میں آچکی ہے۔ تین ارب لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ ہر سو ہُوکا عالم ہے اور انسانیت 400۔ 500 نینو میٹر کے ایک غیر مرئی جرثومے کے سامنے ہتھیار ڈال چکی ہیں۔ بدبخت اوربدطینت ہیں وہ لوگ جو اس عالَم میں بھی انسانوں کی بھلائی کی بجائے صرف اپنے مفادات اور ذاتی اغراض کے بارے میں سوچتے ہیں۔ پچھلے دنوں اس ملک میں دکاندار اور ڈیلر حضرات کی سنگ دلی کے بارے میں ایسی دل خراش خبریں پڑھنے اور سننے کو ملیں کہ بخدا دل کانپ اٹھا۔

کہیں چالیس روپے کا معمولی ماسک اسی اورایک سو بیس میں فروخت ہو رہا ہے اور کہیں ہاتھ دھونے کے لئے سینٹائزرکی ایک چھوٹی بوتل کو راتوں رات پانچ سو روپے تک بڑھادی گئی ہے۔ کہیں آٹے کی پچاس کلوگرام کا تھیلہ اکیس سو کی بجائے ستائیس سو روپے میں بک رہا ہے اور کہیں سبزی فروشوں نے من مانی قیمتوں کا دھندا شروع کیاہواہے، وغیرہ۔ ظاہر بات ہے کہ اشیاء خورد ونوش کی قیمتیں بڑھانے سے شدید متاثر وہی لوگ ہوں گے جو غریب ہیں، نادار ہیں، جنہیں دو وقت کے کھانے کے حصول کے لئے روزانہ آٹھ گھنٹے محنت مزدوری کرنا پڑتاہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق اس بدنصیب ملک میں ساتھ کروڑ سے زیادہ لوگ خط غربت کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ اتنا تو وزیراعظم خود اعتراف کرچکے ہیں کہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعدادہماری کل آبادی کا پچیس فیصدہے۔ متوقع اور منڈلاتے ہوئی اموات کے اس ماحول میں، جہاں معمولات زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئی ہیں اور کاروباریں مفلوج ہوگئی ہیں، تو ایک غریب اور محنت مزدوری کرنے والا بندہ آخر جائے گا کہاں؟

ایک تنخواہ دار آدمی کا تو بہرحال متعین آمدنی کی امید میں جی رہا ہے لیکن خانہ تو اس غریب کا برباد ہو رہا ہے جو روزانہ چند سو روپوں کے عوض کروڑ پتیوں اوررب پتیوں کے ملوں اور فیکٹریوں میں آٹھ گھنٹے تک محنت مزدوری کرتاتھا۔ چولہے تو ان بے آسرا لوگوں کے بجھ گئے ہیں جو اینٹ کے بھٹوں میں اپنا پسینہ بہارہاتھا۔ بچے تو ان بے چاروں کے بلکتے ہوں گے جن کی روزانہ کی پانچ سو دیہاڑی متاثر ہوئی ہے۔ ہے کوئی ایسا بندہ جو مصیبت کی اس گھڑی میں ایک اچھے انسان اور قابل ِ رشک مسلمان کا ثبوت دے کر اربوں کے بینک بیلنس میں سے چند لاکھ روپے نکال کر اپنے محلے کے غربا کے چولہے جلائیں؟

ہے کوئی ایسابیوروکریٹ جو اپنی اپنی متاع کا پانچ فیصد ان مفلوک الحال لوگوں کے اوپر خرچ کریں جنہیں پچھلے دس دنوں سے دیہاڑی نہیں ملی ہے؟ ہے کو ئی ایسا ریٹائرڈ جنرل اور مراعات یافتہ فوجی افسر جو بحران کے ان دنوں میں ایک درجن مساکین کو دو وقت کا کھانا کھلادیں؟ بے شک، مسجدوں میں پانچ وقت کی باجماعت نمازپڑھنے والے توآپ کو ہر محلے میں تھوک کے حساب سے مل سکیں گے۔ تبلیغ میں چلے اور سال لگانے والوں کی یہاں یقیناً بھرمار ہے۔

لاکھوں کارکنوں کے سامنے اسٹیج پر چڑھ کر تین تین گھنٹے لمبی تقریریں کرنے والے سیاستدانوں، تصفیے کرنے والے جاگیرداروں، نوابوں اور خوانین کی کمی اس ملک میں پہلے تھی اور نہ مستقبل میں کوئی یہ کمی محسوس کرسکے گا۔ کمی ہے تو اُن لوگوں کی قابلِ رحم اور شرمناک حد تک کمی ہے جو بہت کچھ رکھنے کے باوجود قارونِ اَبخل کے مقلد بنے ہوئے ہیں۔ کم ہیں تو اس معاشرے میں وہ دکاندار، ڈیلرز اور کاروباری لوگ کم ہیں جو بحرانوں کے موسم میں بھی مناسب اور معتدل قیمت پر بیع وشراء کررہے ہیں۔

قلت ہے تو یہاں پر ان مل مالکان اور سیٹھ حضرات کی قلت ہے جو ذخیرہ اندوزی کو حرام اور خلاف انسانیت سمجھتے ہیں، جو انسانی خون کو چوسنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ غورکیاجائے تو اس سماج کا بیلنس صرف ان انسان نما درندوں نے آوٹ کررکھاہے جو جمع کرتے ہیں اوررات کو گنتے اور گنتے ہیں۔ قرآن میں انہی لوگوں ہی کی ہلاکت کی خبر دی گئی ہے ”الذی جمعَ مالً وعددہ؛۔ ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جو جمع کرتارہتاہے اور اسے گنتارہتاہے۔

”۔ لوئیس بلاک نے کیا کمال کی بات ان جمع کرنے اور گننے والوں کے بارے میں کہی ہے کہ“ غرباء کا خون چوسنے والوں کی نسبت مجھے آدم خور اور وحشی درندوں میں ہزار گنازیادہ انسانیت دکھائی دیتی ہے کیونکہ یہ انسان کو پہلی فرصت میں چیر پھاڑ کر کے رکھ دیتے ہیں جبکہ یہ لوگ عمر بھر غریبوں کالہونوش کرتے رہتے ہیں اور ان کی نسل درنسل تباہ کر ڈالتے ہیں، بلکہ کمال تو یہ کرتے ہیں کہ کسی کو معلوم بھی نہیں ہونے دیتے ”۔ ایک مرتبہ پھر کہتاہوں اور مکرر عرض ہے کہ اے انسانی لہو پر پَلنے والو! ، اے ذخیرہ اندوزو! ، اے ارب پتیو کروڑ پتیو! خدا کے واسطے بے بس اور گرے ہوئے انسانوں پر رحم کرو، یہ اللہ کے کنبے کے وہ لوگ ہیں جواللہ کو ناقابل یقین حد تک محبوب ہیں، ایسا نہ ہوکہ۔ “ ہلاکت ”تمہیں موت سے پہلے آپکڑے۔ وماعلینا الالبلاغ المبین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *