میں کیوں لکھتا ہوں: مشہور ادیب بتاتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں کیوں لکھتا ہوں، یہ کسی بھی ادیب کا بنیادی استفہامیہ ہے۔ اس سوال کا یکتا جواب ممکن نہیں ہے۔ ہر ادیب اس کا جواب اپنے تخلیقی رجحان، فکری ضابطے اور فنی تجربات کی روشنی میں دیتا ہے۔ جیسے ”محبت اپنا اپنا تجربہ ہے“ بعینہ ہر ادیب لکھنے کا ایک مختلف، منفرد اور علاحدہ جواز رکھتا ہے یعنی جتنے ادیب ہیں کم و بیش اتنے ہی جواب ممکن ہیں۔

نوبل انعام یافتہ، لاطینی امریکن ناول نگار ماریو ورگاس لوسا (Mario Vargas Llosa) اپنی کتاب Letters To A Young Novelist میں رقمطراز ہے کہ لکھنے کی وجہ کا تعلق اس بے اطمینانی کے ساتھ ہے جو ادیب کو اس حقیقی دنیا سے محسوس ہوتی ہے۔ لوسا کے مطابق اصل میں یہی بے اطمینانی لکھاری کو ترغیب دیتی ہے کہ وہ دنیا کو اپنی تخلیقی قوت سے ازسرِنو تشکیل دے۔

مشہور امریکی ادیب نارمن میلر (Norman Mailer) بیانی ہے کہ لکھتے وقت میں خود میں زیادہ فکری گہرائی محسوس کرتا ہوں یعنی فکری گہرائی کے ادراک کی لذت اسے لکھنے پر ابھارتی ہے۔ ایک اور ادیب کا بھی اس سے ملتا جلتا خیال ہے، وہ کہتا ہے کہ میں اپنے اندر ایک گہرائی محسوس کرتا ہوں جس کی وضاحت فقط لکھنے سے ممکن ہے۔

ایک ناول نگار نے لکھنے کی بڑی دلچسپ اور قابلِ غور وجہ بیان کی ہے، موصوف کہتے ہیں : میں زندگی کی بازپرس کرنے کے لئے لکھتا ہوں۔

لکھنا کسی کے لئے ممکنہ طور پر بہترین طرزِ حیات بھی ہو سکتا ہے اور اپنی تکمیل کا تجربہ بھی۔ خود کو بہتر طور سے پیش کرنے کا ذریعہ بھی ایک معقول وجہ ہو سکتی ہے۔ حقیقی زندگی سے انکار اور بغاوت بھی لکھنے کا ممکنہ محرک ممکن ہے۔ میرا دوست شاہد شبیر مدعی ہے کہ وہ اس لیے لکھتا ہے کہ جاننا چاہتا ہے۔ شاید نہ جاننے کے لئے بھی لکھا جا سکتا ہے بلکہ جاننے اور نہ جاننے کی کشمکش سے آزاد ہونے کے لئے بھی۔

یہ سوال جتنا بھی قدیم ہو لیکن اس کی بنیاد مالی مفاد سے کبھی آلودہ نہیں رہی۔ 1980 ء کے عشرے کو مغرب میں دائیں بازو کی فتح اور بائیں بازو کی شکست و ریخت سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس دور میں عوام دوست اور مزدور تحریکوں کو کچل دیا گیا۔ یہی وہ وقت تھا جب زیادہ سے زیادہ دولت کے کم سے کم ہاتھوں میں ارتکاز کی فکر ہر شعبہ زندگی اور اصنافِ ادب کی بنیادوں میں گھس گئی۔ اس سے جہاں زندگی میں زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی غیر مختتم دوڑ کے آغاز نے سماج میں سادگی اور ذہنی سکون کے خاتمے کا آغاز کر دیا وہیں یہ فکری ضابطہ فن و ادب میں بھی یوں در آیا کہ سنجیدہ فکر احبابِ قلم بھی یہ سوچنے لگے کہ علم و ادب کی خدمت میں فائدہ کیا ہے؟

یہاں فائدے سے مراد محض مالی منفعت تھی۔ یہ سوال لکھاریوں نے اتنے تواتر سے کیا کہ بالاآخر صورتحال ایسی ہو گئی کہ یہی استفسار عوام الناس نے بھی ادیب سے کرنا شروع کر دیا۔ سوال کی بگڑتی ہوئی شکل بنیادی استفہامیہ کے نہ صرف متناقض تھی بلکہ اپنی بنیاد میں وہ ابتذال رکھتی تھی جو بنیادی استفہامیہ کے پیشِ نظر تھا ہی نہیں۔ اس سوال کی عمارت معاشی منفعت کی بنیاد پر اٹھائی گئی تھی جبکہ فکروفن کے جواز پر بات کرنے والے صاحبانِ سوز و ساز تو انتہائی بنیادی فنی مقاصد، تمدن کے ارتفاع، انسانی تہذیب و معاشرت کی ازسرِنو تشکیل و تشریح اور اس سے متعلق تاریخی نکتہِ نظر میں محو تھے۔ حالیہ سوال نے اس استفہام کو حقیقی فنی فکر سے علاحدہ کر کے معاشی سود و زیاں ایسے مقابلتاً مبتذل اور بازاری نظریے سے جوڑ دیا ہے۔ مبتذل یوں کہ حقیقی ادیب جمال پسند ہوتا ہے، اس کی جمالیات کی جستجو یا زوق کی رہنمائی میں تصورِ سو و زیاں نہیں ہوتا۔

اچھا بے مقصد فلسفہ طرازی اور عذر تراشی کے بغیر اگر ہم ایمانداری سے دیکھیں تو ہمیں کلی طور پر معلوم ہوگا کہ ایسا سوال ہم نے کبھی کسی ایسے ہنرمند یا کاروباری سے نہیں کیا جو اپنے ہنر اور کاروبار سے معیشت کی زلفیں سنوارنے پر قادر ہے۔ کبھی کسی نے کمہار سے پوچھا کہ تم مٹی کے برتن کیوں بناتے ہو یا کسی انجینئر سے پوچھا ہو کہ میاں یہ جو تم بلند و بانگ عمارتیں بناتے ہو اس کا فائدہ۔ اسی طرح ڈاکٹر، وکیل، کمپیوٹر انجنیئر، فلمساز، اداکار یا اہلِ صنعت و حرفت سے یہ استفسار کیا ہو۔ نہیں نا، جی کبھی نہیں، کیوں؟ ۔ کیونکہ اپنی مساعی سے یہ معیشت کا بوجھ اٹھا لیتے ہیں اور روٹی کما لیتے ہیں۔ اب خود فیصلہ کر لیجیے کہ ہمارے سوال کے پیچھے کیسی روشن فکری اور بلند خیالی ہوتی ہے، لاحول ولاقوۃ، یعنی ادب اور کاروبار کو ہم ممیز ہی نہیں کر پا رہے۔

صاحب، کہا نا، سچا ادیب جمال پسند ہوتا ہے۔ وہ دنیا کو بدصورت دیکھ ہی نہیں سکتا۔ ایک گلشن پرست زمین کا کوئی ٹکڑا بے آب و گیاہ نہیں دیکھ سکتا۔ ادیب وہ حسن کار ہے جو ہر بدصورتی کو خوبصورتی میں ڈھالنے پر ڈٹ گیا ہے۔ ادیب کی فنی مجبوری ہے کہ وہ اپنے قلم کے کُن سے ایسی دنیا ازسرِنو تخلیق کرے جو سر بسر خیر ہو، سلامتی ہو اس کے لئے وہ اس دنیا کی بدصورتی عیاں کر کے آپ کو اس سے بیزار بھی کر سکتا ہے کہ کچھ کے نزدیک یہ سفر یہاں سے شروع ہوگا۔

ہم پر لازم ہے کہ کم ازکم ہم اس بدزوقی کا مظاہرہ نہ کریں کہ اس سے پوچھیں کہ وہ کیوں ویرانے کو گلشن بنانے پر تلا ہوا ہے اور وہ کیوں ہر گوشے، ہر کونے کو گل و گلزار بنانے کا خواہاں ہے۔ معیشت کی بہتری سچے ادیب کی مساعی کا نتیجہ تو ہو سکتی ہے مطمح نظر نہیں۔ اس سوال پوچھنے سے ہزار درجہ بہتر ہے کہ ادیب کو فکرِ سود و زیاں سے عملاً آزاد کر دیا جائے کہ وہ کامل انہماک سے نئی کائناتیں دریافت کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *