کرونا نے امریکہ کی دھلائی کر دی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا کے نام سے آشنائی مجھے کوئی بیس سال پہلے امریکہ میں آ کر ہوئی تھی۔ وہ بھی اس طرح کہ شروع شروع میں جس سٹور پر بھی کام پر لگے وہاں دیگر مصنوعات کے ساتھ ساتھ نہ چاہتے ہوئے بھی امریکہ میں موسٹ پاپولر بئیر ”کرونا“ بھی سیل کرنا پڑتی تھی۔ اس کے علاوہ بہت بعد میں معلوم ہوا کہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ایک شہر کا نام بھی کرونا ہے۔ ورنہ پاکستان میں تو ہم صرف ”کراؤن سینما“ کے نام سے ہی واقف تھے۔

کرونا وائرس سے پہلے تھوڑی کرونا کی بات ہو جائے۔ ہمسایہ ملک میکسیکو سے درآمد ہو کر امریکہ آنے آنے والی اس ٹاپ ریٹیڈ بئیر کے دو برانڈ ”کرونا ایکسٹرا“ اور ”کرونا لائٹ“ دینا کے کم و بیش 123 ممالک میں ہاتھوں ہاتھ بکتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2018 ء میں کرونا بئیر بنانے کرنے والی کمپنی کی ٹوٹل سیل 13.79 بلین یو ایس ڈالر تھی۔ جب سے چین میں کرونا وائرس شروع ہوا۔ تب سے محض غلط فہمی کی بنا پر کرونا کمپنی کو خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اور صرف 2020 ء کے پہلے دو ماہ میں ہی گزشتہ سال کے مقابلے میں اسے 170 ملین ڈالر کم منافع ہوا ہے۔ گویا ”کرونا“ کو بھی ”کرونا وائرس“ لے ڈوبا۔

مشاہدے کی بات ہے کہ امریکہ میں 2012 ء میں آنے والا ”سینڈی“ طوفان ہو یا دیگر بڑی بڑی قدرتی آفات آنے کی قبل از وقت پئشین گوئیاں، امریکی عوام کی غالب اکثریت ان حالات میں کھانے پینے کی اور چیزیں زیادہ مقدار میں ذخیرہ کریں یا نہ کریں، البتہ دو چیزیں کثرت سے ضرور ذخیرہ کرتی نظر آتی ہے۔ اور وہ ہیں بئیر اور سگریٹ۔

عالمی سطح پر جاری کرونا وائرس کی آفت کے دوران امریکہ میں سب کی طرح ہماری ایشیائی کمیونٹی خصوصاً پاکستانی کمیونٹی نے بھی جو دو چیزیں سب سے زیادہ مقدار میں ذخیرہ کیں بلکہ اب بھی بدستور کر رہے ہیں وہ ہیں آٹا اور چاول۔

گزشتہ ہفتے جس دیسی سٹور کا بھی چکر لگا۔ وہاں آٹے اور چاولوں کی شیلفیں خالی نظر آئیں۔

کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے ممکنہ ہنگامی حالات اور پھیلتے ہوئے خوف کی وجہ سے لوگوں کی اکثریت نے کم از کم دو سے تین ماہ کے راشن کا ذخیرہ کر لیا ہے۔ دکاندار حضرات بھی ان چیزوں کے منہ مانگے دام وصول کرتے ہوئے نظر آئے۔

اپنے ہاں وافر مقدار میں خوارک جمع کرنے کے باوجود بھی میں صدمے میں ہوں۔ پورا شہر ایک دم سے بجھا بجھا نظر آ رہا ہے۔ یہ سطریں لکھتے وقت پیر اور منگل کی درمیانی شب اس وقت رات کے دو بجے ہیں۔ میں نیویارک شہر کی ایک مصروف شاہراہ پر رہتا ہوں جہاں دن ہو رات، گاڑیوں کی آمد و رفت ہمہ وقت جاری رہتی ہے۔ خوف اور دہشت فضا میں اس وقت عجیب ہوُ کا عالم ہے کہ پچھلے چالیس منٹ سے سڑک پر سے کسی ایک گاڑی کے گزرے کی آواز بھی سنائی نہیں دی۔

بقول فیض احمد فیض

گو سب کو بہم ساغر و بادہ تو نہیں تھا
یہ شہر اداس اتنا زیادہ تو نہیں تھا

کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے دیگر ضروری چیزیں جیسے ماسک، گلوز اور ہینڈ سینی ٹائیزرز کی آج کل سخت قلت ہے۔ خصوصاً این۔ 95 رسپئر ٹور ماسک تو نایاب ہیں۔ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں لوگ ان چیزوں کے امازان اور دیگر آن لائن شاپنگ سائٹس پر دھڑا دھڑ آرڈر کر رہے ہیں۔ کمپنیوں کے لیے ان آرڈرز کو پورا کرنا ایک الگ مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اور لوگوں کو ان اشیاء کی ڈلیوری موصول ہونے کی لمبی لمبی تاریخیں مل رہی ہیں۔

گزشتہ کئی سالوں سے امریکہ میں رہتے ہوئے، 2001 ء میں 9 / 11 کے بڑے واقعے سے لے کر 2012 ء میں سینڈی ہیری کن طوفان دیکھے۔ ان کی شدت بھی حالانکہ بہت زیادہ تھی۔ مگر موجودہ کرونا وائرس نے تو اقوام عالم کے ساتھ ساتھ امریکہ جیسی سپر پاور کو بھی ہلا کر ہی نہیں بلکہ دھلا کر رکھ دیا ہے۔ ہر کسی کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ گو کہ اس وائرس کے متعلق بہت سی سازشی تھیوریاں بھی گردش کر رہی ہیں۔ مگر لگتا یہی ہے کہ کرونا وائرس کی یہ موذی آفت بہت ساری انسانی جانوں کی بلی کے ساتھ ساتھ دینا کی معیشت کا کچومر بھی نکال دے گی۔

سال ہا سال سے یہی پڑھتے اور سنتے آئے ہیں جو یونانی فلاسفر ارسطو نے آج سے ہزاروں سال پہلے کہا تھا کہ ”بنی نوع انسان ایک سوشل اینمل ہے“۔ وہ دوسروں سے الگ تھلگ ہو کر رہ ہی نہیں سکتا۔ مگر آج کل کرونا وائرس نے وقتی طور پر اس کہاوت کو ڈگمگایا ہوا ہے۔ ہر انسان کرونا وائرس لگنے کے ڈر سے ایک دوسرے کے لمس سے بچتا پھر رہا ہے۔ ہاتھ ملانے اور مصافحہ کرنے سے گریزاں ہے۔ اور شاید عقل اور دانش کا تقاضا بھی یہی ہے۔

آج کل امریکہ میں میں گو کہ بہار کا موسم ہے مگر منحوس کرونا اور اس کے نتیجے میں لاک ڈاؤن اور پابندیوں کی وجہ سے پوری دنیا سمیت امریکہ اور خصوصاً روشنیوں کے شہر نیویارک پر بھی افسردگی، سنجیدگی، حزن و ملال، خوف اور موت کے سائے رقص کر رہے ہیں۔ اس کے خوبصورت پارک، تعلیمی ادارے، شاہراہیں، میکدے، ایئرپورٹس اور سیاحتی مقامات، جو سال ہا سال دینا بھر سے امریکہ آنے والے سیاحوں سے بھرے رہتے تھے۔ اداس اور ویران ہیں۔ ایک ہو کا عالم ہے۔ ہر کوئی دم سادھے اپنے اپنے گھر میں چھپا بیٹھا ہے۔ ”کرونا تیرا ککھ نہ روے“۔

احمد فراز نے کہا تھا۔

چلی ہے شہر میں کیسی ہوا اداسی کی

سبھی نے اوڑھ رکھی ہے ردا اداسی کی

کرونا وائرس کے انجانے خوف اور بے یقینی کی لہر کی وجہ سے مختلف ممالک میں کروڑوں کی تعداد میں لوگ کئی قسم کی نفسیاتی، ذہنی اور سماجی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ کرونا وائرس لگنے کا خوف اور اس کے نتیجے میں بھیانک موت، زندہ انسانوں کی خوشیوں کو تیزی سے چاٹ رہی ہے۔

اس کے نتیجے میں کئی قسم کے المیئے جنم لے رہے ہیں۔ پاکستان، امریکہ اور دیگر کئی ممالک میں ان دنوں میں شادیاں کثرت کے ساتھ ہوتی ہیں۔ میرے ایک قریبی دوست جس کی ساری فیملی کوئی دوہفتے قبل امریکہ سے اپنے بیٹے کی شادی کرنے پاکستان چلی گئی تھی۔ ماسوائے دولہا کے جس نے چھٹیاں نہ ملنے کی وجہ سے اپنی شادی سے ایک ہفتہ قبل یکم اپریل کو امریکہ سے پاکستان پہنچنا تھا۔

اب پاکستان گورنمنٹ نے بیرون ممالک سے آنے والی تمام فلائٹس پر دو ہفتے کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔ دولہا امریکہ میں بیٹھا پریشان ہے جبکہ باقی فیملی کے سات آٹھ لوگ پاکستان میں پریشان بیٹھے دولہے میاں کی راہ تک رہے ہیں۔ میں انہیں تسلیاں دیتا ہوں کہ پہلے کرونا سے بچاؤ کی تدابیر کریں۔ اس سے بچ گئے تو انشاءاللہ شہنائیاں بھی بجیں گی۔

بے شمار اور لوگ بھی ایسی ہی صورت حال اور کش مکش سے دوچار ہیں۔

دینا بھر میں زیادہ تر رابطے آج کل سوشل میڈیا کے ذریعے ہو رہے ہیں۔ واٹس اپ، میسنجر اور دیگر ذرائع نے انسانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ دوران گفتگو کرونا وائرس سے متعلق گفتگو نہ ہو اس سے فرار ممکن ہی نہیں ہے۔ آمنے سامنے سماجی رابطے بڑھانے کی بجائے آج کل ہر کوئی ایسے سماجی رابطے گھٹانے کے فارمولے پر عمل پیرا ہے۔ اور سچ بھی یہی ہے کہ موجودہ حالات اسی میں سب کی بقا ہے۔ **

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *