بٹ صاحب کو بھوک لگی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم سیاحت کے شوق میں ہر برس کہیں نا کہیں جا نکلتے ہیں۔ پہاڑ, دریا دور دیس بہت دیکھ لیے، اب گزشتہ چھے ماہ سے ہم مختلف ہسپتالوں کی سیاحت کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں اس مرتبہ ایک نہایت اچھے سرکاری ہسپتال جا نکلے۔ گو ہم نے اپنا تعارف نہیں کروایا تھا مگر ڈاکٹر بھی ہماری شخصیت کے ایسے گرویدہ نکلے کہ کہنے لگے آپ کو علیحدہ کمرے میں نہیں جانے دینا، یہ ہماری آنکھوں کے عین سامنے وارڈ میں فروکش ہوں جہاں آپ کی مسلسل دید سے ہمارے کلیجے میں ٹھنڈک پڑے۔

اگلی صبح آپریشن ڈے تھا۔ ہمارے سامنے والے بیڈ پر ایک صاحب کو لٹایا گیا۔ معلوم ہوا کہ ان کے بازو کا آپریشن ہوا تھا، زخم بگڑ گیا تھا اور اس میں پیپ پڑ گئی تھی جسے آپریشن کر کے نکالنا پڑا۔ خیر گھنٹے بھر میں وہ ہوش میں آ گئے۔

اچھے خوبرو جوان تھے۔ سرخ سپید رنگت، لانبا قد اور ستواں جسم۔ مردانہ وجاہت کا نمونہ۔ نہایت نرم اور شیریں انداز میں بات کرتے۔ ہوش میں آتے ہی انہوں نے کہا ”بہت دیر سے کچھ نہیں کھایا، ناشتے کا کچھ بندوبست کرو۔ “ ہمارا وارڈ نہایت ہی پبلک تھا جہاں مانگنے والے، پھیری والے اور فراڈ والے ہر چند منٹ بعد چکر لگاتے تھے۔ ناشتے کے لیے کینٹین جانے کے لیے وہ اٹھ ہی رہے تھے کہ اسی وقت ایک پھیری والا نمکو بیچنے آ گیا۔ ان کی اہلیہ نے ترنت ایک پاؤ کا پیکٹ خرید کر انہیں تھما دیا کہ کینٹین تک پہنچتے پہنچتے انہیں کچھ آسرا ہو جائے۔ آدھا پیکٹ تو وہ دروازے سے نکلتے نکلتے ہی کھا گئے اور ہم حیرت سے تکتے رہ گئے کہ ہوش میں آتے ہی نرم سا ناشتہ کرنے کا خیال بھی ہمارے لیے ناقابلِ یقین تھا چہ جائیکہ تلی ہوئی ثقیل نمکو کھائی جائے۔

خیر گھنٹے بھر بعد ان کی واپسی ہوئی۔ نرس نے شوگر وغیرہ چیک کرنی شروع کی تو علم ہوا کہ شوگر کی وجہ سے ان کا زخم خراب ہو کر بگڑ گیا تھا اور کہنی سے لے کر شانے تک پیپ پھیل گئی تھی۔ جسے نکالنے کے لیے ایک لمبا سا آپریشن کرنا پڑا۔ ڈاکٹروں اور نرسوں نے انہیں خوب تاکید کی کہ کھانے پینے کا خوب خیال رکھنا ہے کہ شوگر زیادہ نا ہو ورنہ زخم دوبارہ خراب ہو جائے گا۔ ان صاحب نے یقین دلایا کہ وہ شوگر اور کھانے پینے کا بہت خیال رکھتے ہیں۔

کوئی دو گھنٹے گزرے ہوں گے کہ دوپہر کے کھانے کا وقت ہو گیا۔ وہ اپنے عیادت گزاروں کے جلو میں دوبارہ کینٹین کی سمت روانہ ہوئے۔ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ لگا کر واپس پلٹے تو نرس نے ان کی شوگر چیک کی۔ کوئی ساڑھے تین سو کے قریب تھی۔ انہیں فوراً انسولین لگائی گئی۔

اب تک ہمیں علم ہو چکا تھا کہ ان کا نام مریض بٹ صاحب ہے۔ نا بھی بتاتے تو ان کے اعزا کو دیکھ کر یہ جاننا مشکل نا تھا۔ ملنے والے مرد اعزا وجاہت کا ان جیسا ہی نمونہ تھے۔ خواتین کو دیکھ کر علم ہوتا تھا کہ ان کی کھانا پکانے اور برتانے میں مہارت میں کلام نہیں ہو گا۔

ماشا اللہ ان کا کنبہ بہت بڑا تھا اور باہمی پیار بھی بہت تھا۔ بہت سے لوگ ملنے آتے۔ ان کے بیڈ اور ساتھ پڑے بینچ پر صحت افزا خوراک مثلاً پوٹیٹو چپس، کرکرے اور ایسی دیگر اشیا کے پیکٹوں کے ڈھیر لگ گئے جس سے خوب انصاف کیا گیا۔ لیکن شکر ہے کہ انہیں احساس تھا کہ انہوں نے شوگر کو کنٹرول میں رکھنا ہے۔ جب بھی کوئی ڈاکٹر یا نرس ان کے پاس آتا اور اس موضوع پر گفتگو کرتا تو وہ اس احساس کا برملا اظہار کرتے۔

رات دس گیارہ بجے ان کی شوگر چیک ہوئی۔ دوبارہ ساڑھے تین سو کے قریب تھی۔ اس کے چند منٹ بعد اچانک ڈاکٹروں کے کمرے کی جانب سے لڑنے جھگڑنے کی آوازیں بلند ہوئیں۔ خوب ہنگامہ ہوا۔ یہ نروان کا وہ لمحہ تھا جب ہمیں پتہ چلا کہ ینگ ڈاکٹر اتنے لڑاکے کیوں ہوتے ہیں۔ نا لڑیں تو لوگ مار مار کر ان کا دنبہ بنا دیں گے۔ خیر علم ہوا کہ ایک اٹینڈنٹ بٹ صاحب نے انہیں سیب کھلا دیا تھا اور مزید کچھ کھلانا پلانا چاہتا تھا جس پر ڈاکٹر معترض تھے۔ اٹینڈنٹ بٹ صاحب آگ بگولا ہو کر وہاں سے نکل لیے اور جاتے جاتے ڈاکٹر صاحب کو باہر ملنے کی نوید بھی سنا گئے۔ اس کے بعد اس رات وارڈ میں مریض بٹ صاحب اور ان کی اہلیہ ہی رہ گئے۔

رات کوئی ڈیڑھ دو بجے کا وقت ہو گا کہ نیم غنودگی کے عالم میں ہم نے کچھ آوازیں سنیں۔ مریض بٹ صاحب اپنی اہلیہ کو کہہ رہے تھے کہ ”تم فکر کیوں کرتی ہو، میں تمہیں لے جاتا ہوں“۔ ہم نے سوچا کہ شاید ٹائلٹ وغیرہ جانے کا ذکر ہو گا جہاں اکیلے جاتے ہوئے وہ خاتون گھبرا رہی ہیں۔ نیند زدہ ذہن کو خیال ہی نہیں آیا کہ ٹائلٹ کا دروازہ تو ان کے بیڈ کے ساتھ ہے۔ ہم دوبارہ سو گئے۔

ہم دوبارہ نیند کی وادی میں اترے ہی تھے کہ اچانک وارڈ کے دروازے کی سمت سے شدید لڑائی جھگڑے کی آوازیں بلند ہوئیں۔ ہماری آنکھیں چوپٹ کھل گئیں اور کان ادھر لگ گئے۔ مریض بٹ صاحب کی نہایت نرم اور دل آویز آواز ہم نے صاف پہچان لی جو گارڈ اور ڈاکٹر کو رسان سے سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ کھانا کھانے جا رہے ہیں لیکن وہ یہ بات سمجھنے کو تیار ہی نہیں تھے کہ بٹ صاحب کو بھوک لگی ہے۔ ضد پر اترے ہوئے تھے کہ اس طرح مریض رات کے اس پہر اجازت لیے بغیر وارڈ سے باہر جانے کا سوچ بھی کیسے سکتا ہے، اور وہ بھی ایسا مریض جس کا تازہ تازہ آپریشن ہوا ہے اور اس کے زخم کی نوعیت ایسی ہے کہ اس پر ٹانکے بھی نہیں لگ سکتے۔

کچھ دیر بعد نہایت پریشان حالت میں بٹ صاحب واپس پلٹے۔ وہ نہایت نالاں اور دلگرفتہ تھے کہ وہ تو ہمیشہ نیچی آواز میں بات کرتے ہیں، کبھی اونچا نہیں بولتے، تمیز تہذیب کا خیال کرتے ہیں، اور انہوں نے نہایت اچھے انداز میں ڈاکٹروں کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ انہیں بھوک لگی ہے تو پھر انہیں روکا کیوں گیا اور ان کے ساتھ اونچی آواز میں بات کیوں کی گئی۔

اگلی صبح سے پھر وہی روٹین شروع ہو گئی۔ مریض بٹ صاحب حالانکہ شوگر کا بھرپور خیال رکھتے تھے لیکن نا جانے کیوں وہ ہمیشہ ہائی رہتی تھی۔ اس سے اگلے دن تک ہسپتال میں کرونا ایمرجنسی بھی نافذ ہونے لگی تھی۔ جنہیں گھر بھیجا جا سکتا تھا ان مریضوں کو ڈسچارج کیا جا رہا تھا۔ بٹ صاحب کو بھی ڈسچارج کر دیا گیا۔ جب وہ چلے گئے تو ان کے بستر کے ساتھ ایک کونے میں ہمیں میٹھی سپرائٹ کی بوتلیں دکھائی دیں۔ غالباً بٹ صاحب ہاضمے کے لیے استعمال کرتے ہوں گے۔ اللہ جانے اتنی احتیاط کے باوجود ان کی شوگر کیوں ہائی رہتی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1318 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply