کرونا وائرس میں شوہر کی خدمت کرنے والی نیک بیویاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دن تو ڈھیر مصروفیات کی نذر ہو جاتا ہے مگر رات کو جب بھی سونے لگوں تو خوف سے آنکھ کھل جاتی ہے۔ اپنی اصل سے جتنا بھی دور چلے جائیں یہ لاشعوری لمحوں میں ہمارے اند آبستی ہے اور اک خوف کنڈلی مار کے بیٹھ جاتاہے۔ لاشعور کی یہ بے بسی بھی شعور آنے کے بعد کی واردات ہے۔ اس خوف کو زائل کرنے کا ایسے وقت میں صرف ایک ہی طریقہ ملتا ہے اور شاید دنیا کا سب سے آسان طریقہ بھی وہی ہے اور شدید موثر بھی۔ دعائیں کرنا ان سب کے لئے جن کو ہم صرف دعائیں ہی دے سکتے ہیں سو بہت ساری دعائیں اور پھر بہت سارے لوگوں کے لئے بے شمار دعائیں۔ پر دعاؤں کے اس سلسلے کا عجب ہی نتیجہ نکلتا ہے۔ کہیں اندھیرے میں کوئی جکڑا ہوا وجود جھنجھوڑتا ہے کہ خالی دعاؤں جوگے رہ جانے سے پہلے کے مراحل کے بارے کوئی کیوں نہیں سوچتا۔ بقول شاعر جمالی:

تم آسماں کی بلندی سے جلد لوٹ آنا

ہمیں زمیں کے مسائل پہ بات کرنی ہے

اور اب جب زمیں بھی ان مسائل کو ڈھانپنے کے لئے کم پڑنے لگ گئی ہے ایسے میں بھی ہر کوئی آسمانی روح بنا وعظ جھاڑنے میں ہی مصروف رہ گیا تو زمین پر کسمپرسی میں رینگتی اور درد سے کراہتی بے آسرا انسانیت کس کے در پہ ماتھا ٹیکے گی۔

مجھے تو رہ رہ کے ان لوگوں کی تکلیف کا خیال ستاتا ہے جنھیں مرجانے کے لئے اکیلے چھوڑ دیا جاتا ہے اور مرنے کے بعد ان کے پیارے آخری دیدار بھی نہیں کر پاتے اور پھر اپنے اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق وائرس زدہ لاش کو بغیر کسی تدفینی رسومات کے لئے جلادیاجاتا ہے یا پھر شاپر میں ڈال کر قبر میں ڈال دیا جاتا ہے۔ کیسی تکلیف دہ اور اذیت ناک، موت ہے۔

جس وائرس کے نتیجے میں ہونے والی موت کا سوچ کے روح کانپ اٹھتی ہے اس پہ کچھ روحانی پیشوا کہتے ہیں کہ ”شوہروں کی خدمت کرنے والی بیویاں کرونا وائرس سے محفوظ رہیں گی“ اور دوسرا جھٹکا تب لگتا ہے جب ایک مشہور کرکٹر نے عرض کی کہ کرونا ”عورتوں کے منہ کھلا چھوڑ کر پھرنے کی وجہ سے پھیلا ہے“ مطلب جو ”کرونا وائرس“ عورتوں کے اعمال سے کنٹرول ہورہا ہے اس میں پھر مرد کیسے مر سکتے ہیں خالی عورتیں ہی مرجانی چاہیے تھیں تاکہ روحانی پیشواؤں کے دعوے سچ ہی ثابت ہوجاتے۔ کیسا اندھیر ہے کہ نفسانفسی، بیماری، موت، اور فائینینشل بریک ڈاؤں کے اس دور میں بھی ہم عورت کو قصور وار ٹھہرائے بغیر نہ رہ سکے۔

کچھ سال پیچھے جائیں ریسیشن کے وقت میں جب ہر طرف لوگوں کی نوکریاں چھوٹ رہی تھیں، کمپنییاں بند ہوتی جارہی تھیں۔ جب ساری بزنس انڈسٹری متاثر ہوگی تو ہر ملک کے سب سے زیادہ چلنے والی بزنس انڈسٹری بھی اندر سے بری طرح ٹوٹ چکی ہوتی ہے۔ کسی نیم خواندہ  پِیر نے میرے میاں کو مشورہ دے دیا کہ پیسہ تو بیوی کی قسمت سے آتا ہے بس پھر کیا تھا نئی نئی شادی میں بھی میاں نے مجھے یہ فارمولا سنا دیا۔ خاموشی سے ہاف پِیر والا فارمولا سن کے تھوڑی دیر افسوس والی خاموشی کے بعد پچھلے سارے مہینوں کی انکم کا آڈٹ کیا تو نتیجہ یہ نکلا کہ میاں کی انکم شادی سے پہلے بھی کم ہی تھی۔ لہذا فیصلہ یہ ہوا کہ بیوی کو بلاوجہ مورودِ الزام ٹھہرانے کی بجائے کمپنی چینج کی جائے کیونکہ وہ ساری کمپنی ہی خسارے میں تھی اب ساری کمپنی کا خسارہ مجھ اکیلی کے سر جانے سے رہا۔ خیر کمپنی تبدیل ہوئی تو انکم پہلے سے کافی بہتر ہوتی چلی گئی۔

ہمارا ایمان بس اتنا ہی کمزور ہے کہ اسے کبھی پیسوں کی کمی میں تو کبھی عورت کی غلطیوں اور کبھی بیماری میں تولا جائے۔ مطلب جہاں کمزوری ظاہر ہو ایمان کا ملبہ وہیں ڈال کے من مانی کی جائے اور من مانی کی اس رسم میں سب سے زیادہ عورت کو جھونکا جاتا ہے۔

اس سرزمین پر آج ہر کمزور انسان، قوم اور ملک پر کیسے کیسے طریقے سے ظلم ڈھائے جارہے ہیں پر سب خاموشی سے دیکھ کے بھول بھال جاتے ہیں اور اپنی زندگی میں مگن ہوجاتے ہیں۔ نصف چودھوی صدی کی کالی موت جو کہ بحری جہازوں کے ذریعے پورے یورپ تک پھیلتی گئی جس میں یورپ کی 50 سے 80 فیصد تک آبادی کی اموات واقع ہوئیں۔ پھر انیسویں صدی میں پھیلنے والے طاعون کی تباہ کاریاں۔ انگریزی اور فرانسیسی ادب میں جابجا اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ یہ سب تباہ کاریاں ہوئیں۔ کن اعمال کا نتائج تھے بہت لمبی بحث ہے مگر اصل وجہ لاپرواہی اور صفائی کی کمی ہے بنتی ہے۔ اب دنیا ایک گلوبل ویلیج بن چکی ہے۔ چند گھنٹوں کے سفر سے ایک وائرس دنیا کے ہر کونے میں منتقل ہوگیا، گلوبل وائرس بن گیا۔

اب اس عالمی پینڈیمک میں بھی ہماری سوچ عالمی لیول کی نہ ہوسکی۔ کتنے ٹائم تک تو اس کو دوسروں کے لیے عذاب اور اپنے لئے مذاق سمجھا جاتا رہا اور جب خود پہ وقت پڑا تو پھر بھی کوئی سیریس نہیں ہو کے دے رہا۔

اس وقت آگہی  پہ اتنا کچھ بولا اور لکھا جاچکا ہے کہ اب میرے مزید لکھنے کے لئے صرف اتنا ہی بچا ہے کہ ذمہ داری کا ثبوت دیجئے اگر ساری احتیاط یا بنا احتیاط کے وائرس کی علامات آپ پہ ظاہر ہورہی ہیں تو سماجی دباؤ اور تنہائی کے خوف کے تحت اسے چھپائیے نہیں۔ اس کریٹیکل وقت میں ایک لاپرواہی کتنی جانوں کو تکیلف مئں ڈالنے کا باعث بن سکتی ہے ہماری سوچ سے بھی باہر ہے۔ اس لئے فوری طور پر ہیلپ لائن پر کال کیجئے اور اپنے اردگرد کے لوگوں، اپنے پیاروں کی زندگی اور صحت کے لئے قرنطینہ میں رہئے یہ اس وقت کی آپ سب سے بڑی نیکی، عظیم قربانی ہوگی۔ ایک جان بچانا پوری انسانیت کے مترادف ہے اس انسانیت کی بقا میں اپنا حصہ ضرور ڈالیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *