ڈاکٹر دیتلف خالد۔ المعروف خالد دوران


ڈاکٹر خالد دوران گزشتہ صدی کے آٹھویں دھاکے میں جرمن ادارہ مشرقیات میں بطور سکالر ملازمت کر رہے تھے تو میرے ایک ملتانی دوست چوہدری نذیر احمد صاحب بھی ان کے ساتھ جزوقتی کام کرتے تھے۔ چوہدری نذیر احمد صاحب نے پاکستان انجمن ہمبرگ کو۔ ری آرگنائز۔ کیا تھا اور پاکستان کے حوالے سے بہت کامیاب تقریبات بھی منعقد کروائیں۔ ان سے ملنے جرمن ادارہ مشرقیات ہمبرگ گیا تو وہاں ڈاکٹر خالد صاحب سے 1980 میں ملاقات ہوئی۔

یہیں ڈاکٹر منیر الدین احمد صاحب مرحوم بھی کام کرتے تھے۔ ان سے بھی سلام دعا رہی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ خالد دوران سے دوستانہ مراسم بڑھتے گئے۔ چوہدری نذیر احمد صاحب تو جلدہی امریکہ سدھار گئے تاہم ان کے ساتھ مستقل رابطہ رہا۔ ان کی پُزور خواہش تھی کہ میں بھی امریکہ شفٹ ہو جاؤں لیکن بوجوہ ایسا نہ ہو سکا۔ محترم ڈاکٹر خالد صاحب کی ہمدرد ی افغانستان میں روسی جارحیت کے آغاز ہی سے مجاہدین کے ساتھ تھی اور ہمبرگ میں بھی افغان مہاجرین کی بہبود کے کاموں میں سرگرم رہے۔

ڈاکٹر صاحب ایک جینیئس شخص تھے۔ انگریزی جرمن اردو فارسی عربی میں گفتگو اور تحریر میں کمال حاصل تھا۔ ان کی والدہ محترمہ سپین سے تھیں جبکہ والد صاحب مراکشی تھے۔ والد صاحب کے ایک جرمن شہری کے متبنیٰ ہونے کی بدولت ان کی شہریت بھی جرمن تھی۔ جرمنی میں تعلیم کے بعد ان کی سیلانی طبیعت انہیں علم کی پیاس بجھانے کے لئے ملکوں ملکوں گھماتی رہی۔ اس زمانے میں بوسنیا یوگوسلاویہ کے اندر ایک ریاست تھی جہاں یورپ میں اسلام کی تعلیم کا پرانا مرکز تھا۔

کچھ عرصہ مراکش رہے۔ پھرتے پھراتے کویت چلے گئے وہاں انہیں کسی ذریعہ سے جامعہ احمدیہ ربوہ کی بابت معلومات ملیں جہاں قرآن حدیث فقہ وغیرہ کی تعلیم کا اعلیٰ انتظام تھا۔ جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل اس دور میں پنجاب یونیورسٹی کے فاضل کے امتحانات بھی دیتے تھے اور اکثر اوّل پوزیشن حاصل کرتے کیونکہ ان کے لئے یہ امتحانات جامعہ کی نسبت انتہائی آسان ہوتے تھے۔ خالد صاحب جماعت احمدیہ کے ممبر نہیں تھے۔ اس دور میں دینی مدرسوں میں حصول علم کی راہ میں عقائد حائل نہیں ہواکرتے تھے۔

انہوں نے بڑی سرعت سے دیوبند طرز کا جامعہ کا کورس پاس کیا اور عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اسلام آباد اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں ملازمت کے دوران انہوں نے پاکستان کی شہریت بھی حاصل کر لی تھی۔ پاکستان سے جرمنی واپسی کے بعد وہ 1978 میں جرمن ادارہ مشرقیات ہمبرگ سے منسلک ہو گئے اور 1986 تک یہاں ملازم رہے۔ ڈاکٹر صاحب سوڈان کے محمود محمد طہ کے معتقدین میں سے تھے جنہیں صدر نمیری کے دور میں ان کے وزیر انصاف کی انگیخت پر ارتداد کے جرم میں 18 جنوری 1985 کو پھانسی دیدی گئی تھی۔

جرمن ادارہ مشرقیات ہمبرگ میں جب ان کی ترقی کا مرحلہ آیا تو ان کی جرمن شہریت دوسرے درجہ کی ہونے کی بدولت ترقی نہ دی گئی۔ اگرچہ یہ بات جرمن قوانین میں لکھی کہیں نہیں لیکن بعض مراحل پر اس قسم کی باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اس پر بددل ہو کر وہ ریاستہائے متحدہ امریکہ چلے گئے۔ اپنی لائبریری کا بیشتر حصّہ جانے سے پہلے ہی میرے حوالہ کر چکے تھے۔ مقامی اخبارات نے بھی ان کے چلے جانے پر نہایت افسوس اور مذمت کا اظہار کیا۔

امریکہ میں وہ یونیورسٹیوں میں وزیٹنگ پروفیسرشپ کے علاوہ علمی کاموں میں مصروف رہے۔ وہاں انہوں نے ایک رسالہ Trans State Islam نکالنا شروع کیا تھا جسے وہ باقاعدگی سے مجھے بجھواتے رہے۔ موصوف نہایت فہیم تجزیہ نگار تھے۔ نائین الیون کے بعد اپنی افغانستان سے گہری واقفیت اور بن لادن سے آگاہی کی وجہ سے ایک کتاب بن لادن کے بارے میں ایک اور مصنف سے مل کر تحریر کی جو انگریزی کے علاوہ مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو کر لاکھوں کی تعدا د میں چھپی۔ اس درویش صفت نے اس کتاب کی آمدنی سے اپنا حصّہ ایک خیراتی ادارہ کے حوالے کردیا اور اپنے لئے ایک ڈالر بھی نہ لیا۔

ان کا ایک بیٹا جرمن اہلیہ سے تھا۔ اس کے ساتھ ان کا سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے گیا تو میزبان ان کے بیٹے کو کہنے لگے کہ تمہارے باپ میں جتنی قابلیت ہے کاش ان میں اس کے مطابق نظم وضبط بھی ہوتا۔ کتب اور ٹائپ مشین ان کے سونے والے گدے کے قریب رہتے تھے۔

نہایت سادہ۔ ہنس مکھ اور خیرخواہ طبیعت کے مالک ہونے کی وجہ سے ان کے کئی دوستوں نے ناجائز فائدے بھی اٹھائے لیکن ان کے مزاج میں شکوہ سنجی ہرگزنہیں تھی۔ ان کی ایک افریقن خاتون سے شادی بھی ہوئی تھی جس سے بچے بھی تھے جو ان کے ساتھ امریکہ منتقل ہو گئے لیکن اس کے بعد ان کا اتہ پتہ نہیں مل سکا۔

ذاتی طور پر ان کا شکریہ بھی مجھ پرواجب ہے کہ انہوں نے جب میری پاکستان کی لاء کی ڈگری جرمنی میں تسلیم نہ ہو سکی اور مجھے پھر سے ہمبرگ یونیورسٹی میں داخل ہونا پڑا۔ تو اس موقعہ پر ڈاکٹر صاحب نے ضروری گارنٹی دے کر راہ ہموار کردی۔

اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل پاکستان گئے اور اسلام آباد میں پاؤں پھسلنے کی وجہ سے چوٹ آنے کے نتیجہ میں جسمانی طور پر معذور ہو گئے۔ انہیں جرمنی لایا گیا۔ ان کی طرف سے ہمبرگ آمد کی اطلاع ملنے پر ان کی قیام گاہ پر پہنچ گیا۔ بعد میں انہیں بریمن منتقل کر دیا گیا۔ بریمن میں ان کی خیریت معلوم کرنے اور ممکنہ خدمت اور خبرگیری کی ڈیوٹی بعض عزیز وں کے ذمہ لگائی تھی فون پر رابطہ رہتا تھا۔ بریمن وزٹ کا پروگرام بن ہی رہا تھا تو خبر آ گئی کہ 4 اپریل 1939 کو پیدا ہونے والا یہ درویش صفت اپریل 2010 کو اس عالم ِفانی سے کوچ کر گیاہے۔

؎ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

Facebook Comments HS