ایک دو نہیں پورے تین مکڑے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


(تحریر: زبیر حسن )

\"zubair-hassan\"

ایک بار کسی بلبل نے بدبودار جوہڑ میں بیٹھے ایک کیڑے کو دیکھا، بلبل کو اس پر بڑا ترس آیا کہ بے چارہ ساری زندگی غلاظت میں پڑا مٹی کھاتے ہوئے گزار دے گا،بلبل اس کے پاس گیا اور پیار سے کہا کہ ’’چلو میں تمہیں باغ کی سیر کراتا ہوں، جہاں پھول ، خوشبو اور معطر ہوائیں ہیں، ایسی دنیا تم نے کبھی دیکھی نہ سنی ہوگی ۔ ‘‘ کیڑا اس پر خوشی خوشی راضی ہو گیا ، اب بلبل اسے مختلف پھولوں پر لے جاکر بٹھا دیتا ، اس سے پوچھتا ’’کیا خوشبو آئی؟‘‘کیڑا مایوس ہو کر ہر بار نفی میں جواب دیتا۔ بلبل نے پورے باغ کی سیر کرا دی لیکن اس بے چارے کو خوشبو کا احساس تک نہ ہوا۔ اچانک بلبل نے کیڑے سے کہا۔ ’’ ذرااپنا منہ کھولو ۔ ‘‘ جیسے ہی اس نے منہ کھولا تودیکھا کہ کیچڑ کی گولی اس نے منہ میں دبائی ہوئی تھی۔ بلبل نے جھلا کر کہا ۔ ’’ تمہیں خوشبو خاک آئے گی ،پہلے یہ گند تو باہر پھینکو۔ ‘‘

یہ کہانی مجھے روز یاد آتی ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے کچھ صحافی دوستوں نے مخصوص نظریات اور متعصبانہ خیالات کی گولی منہ میں دبا رکھی ہے، انہیں پاکستان میں کوئی اچھا کام ہوتا نظر نہیں آرہا ۔ منتخب حکومتیں انہیں زہر، پاکستان جہنم او ر سول شخصیات جہنم کے فرشتے نظر آتی ہیں۔ اس کی بہترین مثال ایک نجی ٹی وی چینل پر بیٹھیـ’’ صحافتی تکون‘‘ ہے،جہاں رپورٹنگ کے نام پر سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنا فرض سمجھا جاتا ہے ۔ پیشہ ورانہ بددیانتی، جانب داری اور ’’متعصبانہ ذہنیت ‘ کے مظاہرے دیکھ کر آپ کو ابکائی آنے لگے گی ۔ ابلاغیات کا ایک ماہر ولیم ایل رائکرس کہا کرتا تھا کہ ’’عوام کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرنے والے ہر واقعہ کو خبر بنایا جاسکتا ہے۔ ‘‘ مگر یہاں توبالکل الٹ معاملہ ہے ،واقعہ بھی نہیں ہوتا اور خبریں بن جاتی ہے ۔

ایک صاحب ایسے ہیں جو ماشااﷲ صحافت کی ــ’’بھٹی‘‘ میں پک کر کندن ہوچکے ہیں۔ اپنی دانست میں یہ چن چن کر جمہوریت مخالف نادرونایاب نسخے لاتے ہیں ، وہ تو شکر ہے کہ جنہیں وہ نسخے بتا رہے ہوتے ہیں زیادہ تر ’’وہ‘‘ پہلے ہی آزما چکے ہیں،ان کے نقصانات سے بھی اچھی طرح آگاہ ہیں اس لیے ان صاحب کی تمام حکمت سازیاں بے کار چلی جاتی ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ حضرات ’’دا ڈارک سائیڈ آف ڈیموکریسی اور ’’ہیٹرڈ آف ڈیموکرسی ‘‘ جیسی کتابوں کے علاوہ کچھ پڑھتے ہیں نہ سوچتے ہیں ۔

دوسرے صاحب آواز میں نرمی اور شائستگی کی اداکاری کرتے رہتے ہیں تاکہ لوگوں کو ان کی باتوں پر یقین کرنے میں سہولت ہومگر کیا کیجئے کسی کو یقین ہی نہیں آتا۔ اکثر و بیشتر انہوں نے کسی چھوٹے موٹے حکومتی اسکینڈل کے چوہے کی دم بھی پکڑی ہوتی ہے، اول تو کئی دن تک یہ چوہا بل سے باہر ہی نہیں آتا لیکن کبھی آبھی جائے تو ایک دم مردہ ۔ ان کی سب سے بڑی خوبی راولپنڈی کے شیخ کی طرح پیش گوئیاں کرنا ہے ،روزانہ یہ حکومت کے گرد پھندا سخت ہونے کی پیش گوئیاں کرتے ہیں ،جب پوری نہیں ہوتیں تو انہیں اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے قدرت کے فیصلوں پر ’’صابر و شاکر ‘‘ رہنا پڑتا ہے ۔

ماشااﷲ تیسرے دوست اپنے ساتھیوں سے دوچار ہاتھ آگے ہی ہوں گے ،اپنے نام کی مناسبت سے انہیں’’ سنت ابراہیمی ‘‘ کے تحت قربانی کرنے اور دیکھنے کا جنون کی حد تک شوق ہے، شاید یہی شوق انہیں برطانیہ سے یہاں کھینچ لایا ہے، ان کا بھی بس نہیں چلتا ورنہ حکومت کو کب کا قربان کر چکے ہوتے ، کم از کم پنجاب حکومت کے گلے پر تو چھری پھیر ہی چکے ہوتے۔ اورنج ٹرین منصوبہ تو انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتا،انہیں لگتا ہے کہ یہ لاہوری شریفوں کی مودی کو خوش کرنے کی ایک واردات ہے، ورنہ اس ٹرین کے لیے بھارتی ترنگے سے رنگ چرانے کی کیا ضرورت تھی، ہرا رنگ بھی تو ہو سکتا تھا۔

تینوں علاماؤں کا اس بات پرمکمل اتفا ق ہے کہ طاقت کا استعمال ہر مسئلے کا حل ہے اور طاقت صرف ایک ہی ادارے کے پاس ہے ،اس لیے ہر مسئلے کی کنجی’’ ڈنڈا پیر ‘‘کی جیب ہی سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی اندر کی خبریں لاتے ہیں کہ شرلاک ہومز بھی ان کے سامنے چنے بیچتا ہے۔ مثلاً صرف انہیں معلوم ہے کہ آ ج کل حکومت اور فوج میں اتنے اختلاف ہیں کہ پاکستان اور بھارت میں بھی نہیں ہوں گے ۔ یہ بات بھی میڈیاکے یہی ارسطوز جانتے ہیں کہ کنٹرول لائن پرجو کچھ ہو رہا ہے دراصل مودی، نواز ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ مودی یہ سب کچھ نواز شریف کے اقتدار کو طول دینے کے لیے کررہا ہے تاکہ فوج مصروف رہے اور اسے کچھ اور سوچنے یا کرنے کا موقع ہی نہ مل پائے۔ انگریزی صحافی سرل المیڈا کا سارا ڈرامہ بھی ان کے نزدیک’’ شریفانہ منصوبہ بندی‘‘ کا نتیجہ ہے تاکہ نوازشریف اپنی مرضی سے نیا آرمی چیف مقرر کر سکیں۔ بندہ پوچھے کہ کیا نئے آرمی چیف کوآپ نے مقرر کرنا ہے یا اس کا اختیار ان کے پسندیدہ ’’عمرانی‘‘ یا ’’قادری‘‘ آئین میں کسی اور طرح سے درج ہے؟

ایک دوست سازشی تھیوری تیار کرتا ہے، دوسرا تصدیق کرتا ہے اور تیسرا نمک مرچ لگا کر فیصلہ ’’لاک‘‘ کر دیتا ہے ۔ ہمارے میڈیائی دانشور وں نے یہ سوالات بھی اٹھائے کہ جب بھی کپتان کسی بڑے معرکے کے لیے تیار ہو تا ہے دہشت گردی کا کوئی نہ کوئی واقعہ ہو جاتا ہے۔ ڈھکے چھپے الفاظ میں سانحہ آرمی پبلک اسکول اور سانحہ کوئٹہ کی طرف اشارے کیے گئے ۔ کوئی بھی شخص ان سوالات کے پیچھے چھپی ذہنی پسماندگی اور سستی شہرت کی ابلتی ہوئی خواہش کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ آزادی صحافت کے نام پر ایسا کھلواڑ، ایسے بے ہودہ الزامات اور سطحی خیالات کا مظاہرہ شاید صرف پاکستان ہی میں ممکن ہے ؟ میرا ایک دوست کہہ رہا تھا آج کل میڈیا میں کچھ مکڑے گھس گئے ہیں ،یہ اپنے لعاب دہن سے سازش کے جال بنتے ہیں پھر انتظار کرتے ہیں کہ جمہوریت مکھی کی طرح کب اس میں پھنسے گی ؟ حالات بتا رہے ہیں کہ ان کی حسرت پوری ہونے والی نہیں ہے۔

Facebook Comments HS