کرونا وائرس :سندھ کی حکمران جماعت کہاں ہے؟


ان دنوں دنیا کی چکی ساکن ہو چکی ہے۔ کرونا وائرس نامی ایک آسیب نے دنیا بھر میں خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے جس کے باعث لوگ گھروں تک محصور ہیں۔ یہ نسل اداس تو پہلے سے ہی تھی لیکن اب بدنصیب نسل کا سہرا بھی اسی اداس نسل کے سر آگیا ہے کیونکہ اس نے اپنی حیات کے دوران دنیا کی ایسی کیفیت دیکھی ہے جب پوری دنیا میں لاک ڈاؤن لگ چکا ہے۔ دنیا کی رونقوں نے آنکھیں بند کردیں ہیں۔ اس تصنیف کے تحریر ہونے تک دنیا بھر میں اس عالمی وبا کے باعث 20912 اموات ہو چکی ہیں، 3 لاکھ 28 ہزار 673 لوگ اب بھی اس وبا کے ساتھ لڑ رہے ہیں جبکہ صرف 1 لاکھ 13 ہزار 8 سو دو افراداس وائرس سے جنگ جیت چکے ہیں تاہم ان سمیت دنیا بھر میں اب بھی لوگوں کو اس وبا سے خطرات لاحق ہیں۔

پاکستان میں اب تک 1078 لوگوں میں کرونا کی علامات نے ثابت کیا ہے کہ اس وائرس سے پاکستان بھی محفوظ نہیں رہا جہاں پر اس وقت تک 7 اموات واقع ہو چکی ہیں جبکہ 21 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں۔ سندھ میں سب سے زیادہ 412، پنجاب میں 323، بلوچستان میں 119، خیبرپختونخواہ میں 121، وفاقی دارالحکومت میں 20 جبکہ آزاد جموں کشمیر و گلگت بلتستان میں 82 مریض کرونا وائرس سے متاثر ہیں۔

ان اعداد و شمار میں سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے اندر سندھ وہ واحد صوبہ ہے جہاں پر کرونا وائرس کے سب سے زیادہ متاثرین موجود ہیں لیکن اس کے برعکس سب سے زیادہ نظرانداز ہونے والا بھی یہی صوبہ ہے۔ کرونا وائرس نے جہاں پوری دنیا میں نئے اقدار متعارف کروائے ہیں وہاں یہ بھی خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دنیا میں سیاسی طور پر بھی یہ وائرس بہت تبدیلیاں رونما کرے گا۔ اسی طرح پاکستان میں اس وبا کی بدولت رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کا آغاز بھی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ وبا کے دنوں میں سیاسی بات چیت مناسب نہیں ہے لیکن حقیقتوں کو آنکھوں کے سامنے رونما ہوتے دیکھا جائے تو ان پر غور و فکر بھی لازم ہے۔ سندھ کی عوام کرونا وائرس جیسی مشکل ترین حالت میں وفاقی حکومت کی چہ مگوئیوں سے سندھ کی عدم موجودگی کو پر نہ صرف سوچنے پر مجبور ہے لیکن سندھ کے سیاسی و سماجی حلقوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے مکمل طور پر نظرانداز ہونے پر پاکستان تحریکِ انصاف اور وزیرِ اعظم عمران خان سے شدید نالاں ہو چکی ہے۔

چین سے آئی ہوئی امداد کی پہلی کھیپ کے وقت تک صرف سندھ میں ہی کرونا وائرس کے مریض موجود تھے جن کی تعداد تیزی سے بڑھتی جا رہی تھی لیکن اس کے باوجود بھی اس امداد کو پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں تقسیم کیا گیا۔ وزیرِ اعظم عمران خان کے پہلے خطاب میں سے بھی سندھ کا تذکرہ بالکل ہی غائب تھا حالانکہ اس وقت تک بھی سندھ کی بنسبت اور صوبوں میں کرونا کے متاثرین کی تعداد نہ ہونے کے مترادف تھی۔ تفتان میں وفاقی حکومت کی جانب سے قائم کردہ قرنطینہ میں ٹیسٹ بھی وفاقی حکومت کی ہی ذمہ داری تھی جہاں سے ٹیسٹ ہونے کے بعد جتنے بھی زائرین کو سکھر بھیجا گیا ان میں سے تیزی سے متاثرین کی تعداد کا بڑھنا بھی سندھ کی عوام نے وفاق کی طرف سے ایک پیغام سمجھ لیا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے وفاقی حکومت کو جو بھی سفارشات پیش کررہے تھے، ان کو وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب سے مسترد کیا جا رہا تھا تاہم اس تمام تر صورتحال میں گورنر سندھ عمران اسمٰعیل، تحریکِ انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ اور عالمگیر خان کا کوئی کردار نظر آیا اور نہ ہی انہوں نے اپنی خاموشی سے اجتناب کرتے ہوئے سندھ کے لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی۔

سندھ اور بلوچستان کے نوجوان کے متعلق ایک تاثر یہ ہے کہ تاریخی طور پر مختلف ادوار میں ان دونوں صوبوں میں سیاسی غیریقینی کی حالات پروان چڑھتی رہی ہیں جس کے باعث یہاں کا نوجوان نہ صرف سیاسی عوامل پر سوچتا ہے بلکہ سیاسی تحاریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لیتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کرونا وائرس کے بعد وفاق کی کروٹوں کے طفیل سندھ میں پاکستان تحریکِ انصاف کا وقار متاثر ہوا ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ سندھ کی عوام کو پیپلزپارٹی کی ناقص حکمرانی سے نجات دلانے کے لئے تحریکِ انصاف مسیحا ثابت ہو جائے لیکن انتخابات کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان کی ترجیحات سے سندھ کا غائب ہونا سندھ کی عوام کے لئے ایک بہت بڑا اشارہ تھا جس کے بعد گذشتہ کچھ روز کے دوران پیدا ہونے والی صورتحال میں سب کچھ کھل کر سامنے آنے لگا ہے۔

ان تمام تر ہنگامی حالات کا سید مراد علی شاہ اینڈ کمپنی کو بھرپور فائدہ پہنچے گا اور پیپلزپارٹی کی ناقص حکمرانی کے دس برس کا متاثر ہوتے ہوئے بھی مجھے یہ لکھنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہو رہی کہ یہ اب سید مراد علی شاہ اینڈ کمپنی کا حق بن چکا ہے کیونکہ سندھ کی عوام کے لئے یہ بذاتِ خود ایک بہت بڑا ”اپ سیٹ“ ثابت ہوا ہے کہ پیپلزپارٹی کے وزیرِ اعلیٰ نے مشکل وقت میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لئے ایک ”فرنٹ لائنر“ کا کردار ادا کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ بنیادی طور پر ”کپتان“ ہونے کے لئے ”ورلڈ کپ“ میں کرکٹ کھیلنا ہی کافی نہیں ہے۔

یہاں پر یہ سوال پیدا ہوگا اور ہونا بھی چاہیے کہ میں نے پیپلزپارٹی کی جگہ ”سید مرادعلی شاہ اینڈ کمپنی“ کیوں لکھا؟ کرونا وائرس کی سندھ میں آمد ہوتے ہی ایک دم وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے پے در پے ہنگامی حالات میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اپنا وقت و وسائل مکمل طور پر اس ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لئے وقف کیا ہے جس پر سندھ کے لوگوں میں ان کے لئے عزت، احترام و محبت میں حیرت انگیز حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے اور اب لوگوں کا یہ رشتہ جذباتی حد تک بڑھ گیا ہے۔

اس تمام تر صورتحال میں ایک بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور وہ یہ کہ وزیرِ اعلیٰ کی ٹیم میں تین مخصوص لوگ شامل تھے۔ ہنگامی حالات کے دوران پیپلزپارٹی کا کوئی دوسرا ایم پی اے، ایم این اے، سینیٹر ان کے ہمراہ کام کرتے نظر آیا اور نہ ہی پیپلزپارٹی کا کوئی عہدیدار ان کی معاونت کو آگے بڑھا۔ وزیرِ اعلیٰ ہونے کی حیثیت سے انہوں نے صوبے کی پوری مشینری کو طاقت کے طور پر استعمال کیا اور اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے لیکن ”خدا نخواستہ“ اگر موصوف اس منصب پر براجمان نہیں ہوتے تو شاید دوسروں نے یہی کردار ادا کرنا ہوتا جو ابھی کررہے ہیں کیونکہ بلاول بھٹو زرداری خود بھی بہت وقت کے بعد نمودار ہوئے تھے لیکن باوجود اس کے پیپلزپارٹی کے ایم پی اے۔ ایم این اے و سینیٹرز اور دیہی سندھ میں ان کے عہدیداران اب بھی گم ہیں۔ ان دنوں سندھ کے اندر سماجی میڈیا پر یہ بحث بھی ہو رہا ہے کہ آپس میں چندا کیا جائے تاکہ اپنے حلقے سے منتخب ایم پی اے و ایم این اے کو امداد کے طور پر راشن لے کر پہنچایا جائے۔

ظاہری طور پر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اندرونی طور پر پیپلزپارٹی کی یہ پارٹی پالیسی نہیں ہے کیونکہ گذشتہ بارہ برس کے دوران بھی ان کی ایسی کوئی پالیسی نہیں رہی۔ لحاظہ، مجھے وہ بازگشت یاد آتی ہے جب کہا جاتا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری اپنی ٹیم میں سے مراد علی شاہ کو بطور وزیرِ اعلیٰ دیکھنا چاہتے تھے تو شاید اس کی یہی وجہ تھی کہ بلاول ایسی گیندوں پر کھل کر کھیلنا چاہتے تھے جس طرح ان دنوں ان کی کارکردگی سامنے آئی ہے۔

اگر ایسا ہے تو سندھ یقینی طور پر ایک مرتبہ پھر پیپلزپارٹی کے ہاتھوں ذہنی طور پر نشانہ بننے جارہی ہے اور بننا بھی چاہیے کیونکہ انہوں نے مشکل وقت میں لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونے کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یہ پتہ سید مراد علی شاہ کے ہاتھ میں ہے اور سیاسی طور پر مستقبل میں وہ جو بھی فیصلہ کریں گے، عوام انہی کی پیروی کرے گی۔

سید مراد علی شاہ کی پہلی پریس کانفرنس کے دوران وفاق کی طرف سے مسلسل نظرانداز ہونے کے سوالات کو ان کی طرف سے نظرانداز کرنا کہیں اس بات کا اشارہ تو نہیں ہے کہ اگر مستقبل میں تحریکِ انصاف سندھ میں اِن ہاؤس تبدیلی کی طرف جائے گی تو ہو سکتا ہے ان کو ”ریڈی میڈ“ وزیرِ اعلیٰ میسر ہو بھی جائے کیونکہ یہ بات طے ہے کہ تحریکِ انصاف ڈلیوری میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے لیکن کرونا وائرس کے باعث معاشی بحران کا بہانہ ہو سکتا ہے انہیں پانچ برس پورے کروا ہی لے۔

Facebook Comments HS