دوزخ نامہ یا بہشت نامہ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تصوّر کیجیے انیسویں صدی اگر آکر بیسویں صدی کو گلے لگالے، اور ہم اور آپ، دو صدیوں کے اس ملاپ کے گواہ بن جائیں تو کیسا لگے گا؟ یوں دیکھا جائے تو دو صدیوں کے ملاپ کا یہ موقع اٹھارہ برس پہلے اُس وقت آیا تھا جب 13 /دسمبر 1999 ء کی رات دو صدیاں لمحہ بھر کے لیے ایک ہوگئی تھیں، لیکن یہاں تو بنگالی ادیب ربیسنکر بال نے دو صدیوں کو ایک کتاب میں بند کردیا ہے اور ان دو صدیوں کی دو نامور ہستیوں کی ملاقات کی دستاویز ہے ان کا ناول ”دوزخ نامہ۔

” اس ناول میں اردو شعروادب کی دو سربرآوردہ شخصیات مرزا غالب اور سعادت حسن منٹو اپنی اپنی قبر سے اُٹھ کر اور ایک صدی کا فاصلہ طے کر کے ایک دوسرے سے محو گفتگو ہیں۔ اسی لیے اس ناول کا ذیلی عنوان قائم کیا گیا“ دوزخ میں بات چیت۔ ”انیسویں صدی کے شاعر اور بیسویں صدی کے افسانہ نگار کی مرنے کے بعد قبر میں ہونے والی ملاقات میں ان کے اپنے اپنے زمانوں کا جو نقشہ اُبھرتا ہے وہی دوزخ نامہ ہے۔ یہاں غالب اپنی داستان سنارہے ہیں کہ کیسے وہ آگرہ سے شاہجہاں آباد یعنی دہلی پہنچے۔

غالب کا بچپن، لڑکپن اور جوانی، ان کے عشق اور فاقہ مستی۔ 7581 ء کے غدر کے بعد کے حالات اور انگریز سرکار سے پنشن کے حصول کے لیے غالب کا کلکتہ کا سفر۔ غالب یہ ساری داستان منٹو کو سنا رہے ہیں اور منٹو بھی ہندوستان میں اپنے قیام اور پاکستان ہجرت کر جانے کے بعد ہونے والی نا اُمیدی کی کہانی غالب سے کہہ رہے ہیں۔ ان دونوں کی جیون کتھاؤں کے ساتھ ناول ایسے بے شمار رنگارنگ قصوّں سے بھرا ہوا ہے جن پراب وقت کی گرد جم چکی ہے۔

ایک قصّہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرے کا بیان شروع ہوجاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے قاری ایک اور الف لیلیٰ پڑھ رہا ہے لیکن اس بار داستان شہرزاد نہیں سنارہی بلکہ اسے ہم مرزا غالب اور منٹو کی زبانی سن رہے ہیں اور جس داستان کو مرزا غالب جیسے شاعر اور منٹو جیسا افسانہ نگار سنائے، ذرا سوچیے وہ داستان کیسی پُر لطف ہوگی۔ ناول کی خوبی یہ ہے کہ اسے پڑھتے ہوئے کوئی بات بھی خلافِ واقعہ معلوم نہیں ہوتی۔ کہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ غالب یا منٹو ایسی بات نہیں کہہ سکتے اگرچہ اس میں اردو کے یہ دو عظیم ادیب اپنی ناکامیوں اورکامیابیوں کے ساتھ ساتھ اپنے خوابوں، امّیدوں، حتیٰ کہ زمانے سے حاصل ہونے والی ذلتّوں کے بارے میں بھی کھل کر ایک دوسرے سے بات کررہے ہیں۔ منٹو کی باتیں ہمیں ویسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے اُن کے افسانے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور غالب کی گفتگو میں وہی مزہ ہے جو اُن کے شعر میں ہے۔ یہ ناول دو دیوانے ادیبوں کی جُگل بندی ہے جو پڑھنے والے کو دیوانہ بنا دیتی ہے۔

ناول کا پلاٹ منٹو کے انھی افسانوں پر اُستوار ہے جنھیں ہم کئی بار پڑھ چکے ہیں لیکن ان افسانوں کا تذکرہ اس ناول میں اس انداز سے آیا ہے گویا منٹو آپ بیتی سنارہے ہوں۔ منٹو نے اپنے اردگرد کا سچ ہی تو لکھا تھا۔ ان افسانوں کو منٹو کی آپ بیتی کے طور پر پڑھتے ہوئے دل کی دھڑکنیں تھمتی ہوئی سی محسوس ہوتی ہیں، چاہے وہ اُن کے ایک سالہ بیٹے کی موت کا تذکرہ ہو یا ہیرا منڈی اور فارس روڈ کی ویشیاؤں کی کہانیاں یا پھر تقسیم اور فسادات کا احوال، منٹو کی داستانِ زندگی کی رفتار اتنی تیز ہے کہ اس کے ساتھ چلتے ہوئے قاری کا سانس پھول جاتا ہے۔ دوسری جانب مرزا غالب کی زندگی ہے جس میں ہمیں ایک ٹھہراؤ اور گہرائی معلوم ہوتی ہے۔ ناول میں ہمیں دو زندگیاں پوری آب و تاب کے ساتھ کھِلتی اور کھُلتی دکھائی دیتی ہیں۔ یوں اکیسویں صدی کا قاری پچھلی دو صدیوں کے حوالے سے لاتعداد زمانوں کی سیر کر آتا ہے۔

اس ناول سے میرا تعارف اُس وقت ہوا جب میں جون 2016 ء میں کچھ عرصے کے لیے امریکہ کے شہر میڈیسن میں مقیم تھا۔ یہاں وسکانسن یونیورسٹی میں ایک تربیتی کورس کے دوران میری ملاقات برجیش سمرتھ سے ہوئی جو جلد ہی دوستی میں بدل گئی۔ برجیش کو نہ صرف ہندی اور اردو کے ادب سے دلچسپی تھی بلکہ وہ خود بھی ہندی زبان کے ادیب تھے۔ ایک دن غالب اور منٹو کے ذکر پر اس ناول کا تذکرہ ہوا۔ میں اس ناول کے بارے میں آصف فرّخی سے پہلے ہی سُن چکا تھا۔

میں نے اسے پڑھنے کا اشتیاق ظاہر کیا۔ چند دن بعد ہی برجیش نے اس بنگلہ ناول کا انگریزی ترجمہ مجھے تحفے میں پیش کردیا۔ برجیش کا اپارٹمنٹ امریکہ میں ہمارے لیے ’پاک ٹی ہاؤس‘ کی طرح تھا، جہاں روز شام کو ادبی نشست جمتی تھی۔ میں نے جب اس ناول کو پڑھنا شروع کیا تو اس نے مجھے جکڑ لیا۔ کچھ تو غالب اور منٹو کی شخصیات کا اثر تھا، کچھ اس ناول کا ’اُردو ماحول‘ کہ انگریزی میں پڑھتے ہوئے بھی یہ ناول میرے ذہن میں اُردو میں منتقل ہونے لگا۔

لیکن اس کو ترجمہ کرنے کا خیال بہت بعد میں، جون 2018 ء کی گرمی کی تعطیلات میں آیا جب میں نے آزمائشی طور پر اس کے تین ابواب ترجمہ کرکے آصف فرّخی کو بھیجے تاکہ اُن کی رائے جان سکوں۔ آصف صاحب نے ان ابواب کے ترجمے کو پسند کیا اور اصرار کیا کہ میں پورے ناول کا ترجمہ کروں۔ مجھے یقین نہیں تھا کہ میں یہ مشکل کام کرپاؤں گا لیکن یہ آصف فرّخی ہی تھے جن کی تائید اور مسلسل حوصلہ افزائی کی وجہ سے میں یہ طویل ترجمہ مکمل کرپایا۔

ربیسنکر بال کا یہ ناول بانگلہ بھاشا یعنی بنگالی زبان میں 2010 ء میں کلکتہ سے شائع ہوا اور بے حد پسند کیا گیا۔ فوراً ہی اس کے انگریزی اور ہندی تراجم بالترتیب 2012 ء اور 2015 ء میں سامنے آگئے۔ ”دوزخ نامہ“ کا یہ اردو ترجمہ اَرون سِنھا کے انگریزی ترجمے سے کیا گیا ہے۔ ”دوزخ نامہ“ کے انگریزی اور ہندی، دونوں ترجمے نہایت عمدہ ہیں لیکن ایک مقام ایسا ہے جہاں ان دونوں ہی ترجموں نے ٹھوکر کھائی ہے، وہ ہے اُردو اور فارسی کے اشعار کا استعمال۔

ناول میں قدم قدم پر اُردو اور فارسی کے اشعار پھول پتیوں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں۔ غالب اور منٹو کی داستان سے متعلق ناول کا ہر باب کبھی میرؔ، کبھی غالبؔ تو کبھی حافظؔ کے شعر سے شروع ہوتا ہے۔ ان اشعار میں سے شاید ہی کسی شعر کا متن درست درج کیا گیا ہو، اور صرف متن ہی کیا، ان اشعار کے جو ترجمے پیش کیے گئے ہیں وہ بھی نادرست ہیں۔ زیرِ نظر اُردو ترجمے میں تمام اشعار کو ان کی پوری صحت کے ساتھ درج کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اس اُردو ترجمے میں ضرورت کے مطابق بعض مقامات پر مناسب اور موزوں بڑھت کی گئی ہے جس کا مقصد محض متن کو زیادہ مستند بنانا ہے، مثلاً اگر مصنف نے کسی شعر کا حوالہ تو دیا ہے لیکن شعر کی جگہ اس کا مفہوم نثر میں بیان کرکے آگے بڑھ گیا ہے تو ایسے مقام پر اصل شعر کو شامل کردیا گیا ہے اور اس کی وضاحت حاشیے میں کردی گئی ہے۔ شعر اگر فارسی کاہے تو اس کا مستند ترجمہ بھی درج کردیا گیا ہے ا۔ اسی طرح غالب کی سوانح یا منٹو کے افسانوں کے بعض کرداروں کے نام یا واقعات میں جہاں جہاں غلطیاں دَر آئی تھیں، انھیں غالب اور منٹو کے حقیقی متون کی روشنی میں درست کیا گیا ہے۔

بعض مقامات پر جہاں مصنف سے کوئی تاریخی سہو ہوا ہے، اس کو بدلنے کے بجائے اس کی دُرستی حاشیے میں کردی گئی ہے۔ علاوہ ازیں انیسویں صدی کے مسلم معاشرے کی چھوٹی بڑی ایسی بے شمار تفصیلات ہیں جن کا مفہوم ادا کرنے کے لیے اردو زبان و ادب ہی نہیں بلکہ اس کی تہذیب و معاشرت سے گہری آگہی بھی ازحد ضروری تھی۔ اس حوالے سے مذکورہ بالا دونوں ترجموں کو پڑھتے ہوئے قاری ایک طرح کی تشنگی بلکہ کسی حد تک بے لطفی محسوس کرتا ہے۔ اس اردو ترجمے میں اس بات کی بھی شعوری کوشش کی گئی ہے کہ غالب اور منٹو کے الگ الگ زمانوں میں اُردو زبان کا جو الگ الگ روزمرّہ اورمحاورہ تھا، ترجمہ کرتے ہوئے اُسے قائم رکھا جائے۔

غالب اور منٹو کی بات چیت سے بُنا گیا یہ ناول ایک قوم، ایک ملک اور ایک زبان ہی کی نہیں بلکہ پچھلے دوسوسالوں میں بدلتی ہوئی دنیا کی ایک ایسی دلچسپ داستان ہے جسے مصنّف نے کبھی ایک شاعر تو کبھی ایک افسانہ نگار کے نظریے سے بیان کیا ہے۔ غالب اور منٹو دونوں ہی لکھنے والوں نے اپنی زندگیوں میں سخت حالات کا سامنا کیا اور انھیں زمانے کی دھتکار سہنا پڑی۔ خاص طور پر منٹو کو کیا نہیں کہا گیا۔ یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ ایسا ادب تخلیق کرنے کی پاداش میں وہ جہنم ہی کے حق دار ہیں، غالب اور منٹو ہمیں بتاتے ہیں کہ انھوں نے اپنے فن کی کیسی قیمت ادا کی۔ غالب ہی کا شعر ہے :

جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہوگا

کریدتے ہو جو اب راکھ، جستجو کیا ہے؟

آنے والی نسلیں بھی شاید اس راکھ کو کسی نہ کسی جستجو کے سبب کریدتی رہیں گی کہ اس سے ہمیں انسانیت کی مہک آتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *