نئی غزل کا نیا موسم

  (ناصرہ زبیری کی شاعری کا نیا مجموعہ ”بے موسمی خواہشیں“ ) شاعری میں کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو دھیرے دھیرے دلوں میں گھر کرتی ہیں، مگر ایک بار اگر سن لی جائیں تو پھر مدتوں ساتھ نہیں چھوڑتیں۔ ناصرہ زبیری کی آواز بھی ایسی ہی ہے۔ مہذب، شائستہ، دھیما لہجہ، جس میں نہ بلند آہنگی ہے نہ خطابت کی جھلک، بس ایک خاموش مکالمہ ہے جو قاری کے باطن میں اُترتا چلا جاتا ہے۔ اُن کی تازہ کتاب

Read more

منٹو کے آخری ایام

آج منٹو کی برسی ہے۔ سنکر بل کے شاہکار ناول ”دوزخ نامہ“ سے چند صفحات ملاحظہ کیجیے جس میں منٹو مرزا غالب کو اپنے آخری ایام کا احوال بتا رہے ہیں۔ لاہور آ کر میری شراب نوشی حد سے تجاوز کر گئی تھی، مرزا صاحب۔ کہیں کوئی دوست نہیں تھا۔ آنے والے دن بالکل تاریک دکھائی دیتے تھے۔ اگر میں مر گیا تو میرے بیوی بچے سڑک پر آ جائیں گے۔ تھوڑے تھوڑے عرصے بعد وہی وارفتگی کی کیفیت ہوجاتی،

Read more

استاد ذاکر حسین کی یاد میں

سان فرانسسکو کے اسپتال میں اپنی سانسوں کی لے کو ہموار کرنے کی کوشش کرتے استاد ذاکر حسین کو کیا اپنی انگلیوں کی وہ درت لے یاد آئی ہوگی جو غیر مرئی آوازوں کو ٹھوس تھرکن میں بدل ڈالتی تھی؟ خود ذاکر حسین نے ایک بار انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا طبلہ ان کے ساتھ سانس لیتا ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ جب وہ پیدا ہوئے تو ان کے والد مشہور طبلہ نواز اللہ رکھا خاں نے ان کے

Read more

پاسکوال ڈوارٹے کا خاندان: ہسپانوی ادب کے شاہکار کا اردو ترجمہ

کامیلو ہوزے چیلا کی تصنیف ’دی فیملی آف پاسکوال ڈوارٹے‘ ایک ایسی کہانی ہے جو تشدد، تقدیر اور مایوسی کے موضوعات کو دیہی ہسپانوی پس منظر میں پیش کرتی ہے۔ کامیلو ہوزے چیلا، اسپین کے اہم ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ ناول اس وقت لکھا جب اسپین شدید کشمکش کا شکار تھا۔ 1942 میں شائع ہونے والے اس ناول کا تعلق ہسپانوی خانہ جنگی ( 1936۔ 1939 ) سے ہے، جو اسپین کے معاشرتی تانے بانے پر

Read more

بیگم اختر: زندگی اور غزل کا استعارہ

بیگم اختر نے غزل کو محض گایا نہیں، بلکہ اسے بسر کیا تھا۔ ان کی غزل گائیکی ایک پوری صدی پر چھائی ہوئی ہے، جس نے ہندوستان میں گائیکی کا ایک نیا اسلوب متعارف کروایا۔ روایت اور جدیدیت کے درمیان ایک پل باندھتے ہوئے، انہوں نے غزل اور اس کی گائیکی کو گراموفون سے جوڑ دیا۔ بیگم اختر کا انتقال 30 اکتوبر 1974 کو احمد آباد میں ہوا، جب ان کی عمر 60 برس تھی۔ اس برس ہم ان کی

Read more

قرۃ العین حیدر اور تقسیم کی افسانوی تعبیر

اردو ادب کی عظیم ترین فکشن نگار کہلائی جانے والی قرۃ العین حیدر نے جہاں زندگی کے دیگر گوناگوں موضوعات پر قلم اٹھایا وہیں تقسیم ہند کے موضوع پر نہایت فکر انگیز ناول اور افسانے لکھ کر اردو ادب پر اپنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ ان کی تحریریں تقسیم ہند کے حوالے سے شناخت کے مسئلے اور تاریخ کے نفسیاتی، سماجی اور ثقافتی اثرات کی نہایت باریک عکاسی پیش کرتی ہیں۔ اپنے ناولوں اور کہانیوں کے ذریعے وہ انسانی حالات

Read more

بھیشم ساہنی کی یاد میں

راولپنڈی، مارچ 1947ء ، ہندو مسلم فسادات کا زور ہے۔ گلیوں محلّوں میں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے۔ افراتفری کا عالم ہے۔ ایسے میں ایک جوان رضاکار اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ گلی گلی جاکر لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اس دوران اُسے ایک عجیب منظر دکھائی دیتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ ایک بڑا سا کنواں ہے اور عورتیں اپنی آبرو بچانے کے لیے بھاگ بھاگ کر اُس کنویں میں کود رہی ہیں،

Read more

آصف فرّخی: پل بھر کو اَمر، پل بھر میں دھواں

آصف فرخی کو گزرے چار برس ہو گئے۔ چار برس پہلے دنیا کو حیران کر کے رخصت ہو جانے والے آصف فرّخی اردو کی ادبی دنیا کی متحرک ترین شخصیت تھے، وہ ایک ہمہ جہت تخلیق کار تھے۔ کیا نہیں تھے وہ، ایک پختہ افسانہ نگار، سنجیدہ نقاد اور قابل مدیر۔ تراجم کے میدان میں بھی انہوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں تھیں۔ جہاں انھوں نے بین الاقوامی ادب کو اردو کے قالب میں ڈھالا تھا وہیں پاکستان کے

Read more

کلاسیکی چینی ادب کا شاہکار ناول ”دریائے ہولن کی کہانیاں“ ۔ ایک تعارف

معروف چینی ادیبہ شیاؤ ہونگ 1911 میں، شمال مشرقی چین کے صوبہ ہیلونگ جیانگ کے ایک امیر زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کا پیدائشی نام چنگ ناین تھا۔ وہ نو سال کی تھیں تو ان کی ماں کا انتقال ہو گیا، اور شیاؤ ہونگ کی ذمہ داری ان کے سرد مہر اور سخت گیر والد پر آن پڑی، لیکن ان کی پرورش ان کے محبت کرنے والے دادا کے ہاتھوں میں ہوئی جنھوں نے انھیں کلاسیکی شاعری پڑھائی۔

Read more

گابرئیل گارسیا مارکیز کے گمشدہ ناول کی کہانی

کسی بڑے مصنف کی بعد از مرگ شائع ہونے والی کتاب کی کشش سے انکار نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً تب جب وہ طرح طرح کی قیاس آرائیوں کا شکار ہو چکی ہو۔ ایسی کتابیں کبھی کبھی نہایت شاندار بھی ہو سکتی ہیں۔ اس ضمن میں شاید سب سے مشہور مثال فرانز کافکا کی ہے، جس کے ایگزیکٹو نے اس کی اس ہدایت کو نظر انداز کر دیا تھا کہ اس کی موت کے بعد اس کے تمام غیر مطبوعہ

Read more

جب محمد رفیع آخری سفر پر روانہ ہوئے

محمد رفیع کی 43 ویں برسی کے موقع پر خصوصی تحریر اس برس 31 جولائی کو دنیائے موسیقی کے عظیم ترین گائیک محمد رفیع کو ہم سے بچھڑے 43 برس ہو گئے ہیں۔ لیکن اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود رفیع کی ہردلعزیزی میں سر مو فرق نہیں آیا بلکہ ان کے مداحوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی ہی رہی ہے۔ یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ محمد رفیع برصغیر پاک و ہند کے سب

Read more

اقبال بانو کی یاد میں

سال 1985۔ پاکستان میں جنرل ضیا الحق کی آمریت کا زور تھا۔ نام نہاد اسلامی نظام کے نفاذ کی تحریک کے لیے اقدامات کیے جارہے تھے۔ ساڑھی کو ہندوانہ لباس قرار دے کر ضیا الحق کے حواری سرکاری تقاریب اور سرکاری ٹیلی ویژن پر اسے پہننا ممنوع قرار دے چکے تھے۔ انقلابی شاعر فیض احمد فیض سے جزل ضیا کی ناپسندیدگی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی۔ بے انتہا مقبول ہونے کے باوجود فیض صاحب کی نظموں اورغزلوں کو ریڈیو

Read more

جب انڈیا جاتے ہوئے نورجہاں کو چلتے جہاز سے اتار لیا گیا تھا

(نورجہاں کی اکیسویں برسی کے موقع پر ان کے دو رۂ ہندوستان کی یادیں ) 9 فروری 1982 کی دوپہر کو پاکستان ائر لائنز کی فلائٹ پی کے 276 کا بھارت میں جتنا انتظار تھا، اتنا کبھی نہیں ہوا تھا۔ اور اتفاق یہ تھا کہ جو فلائٹ صبح ساڑھے دس بجے بمبئی (جو آج ممبئی ہے ) پہنچنا تھی وہ اس روز لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے پہنچی۔ اس جہاز کا انتظار سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگ کر رہے تھے۔

Read more

”آئینہ سی زندگی“ ۔ رومی اور شمس تبریز کے بارے میں ایک خوبصورت ناول

رومی کا یہ شعر ان کی معرکہ آرا مثنوی کے ابتدائی اشعار میں سے ہے۔ یوں رومی کی ساری شاعری اپنی اصل سے وصل کی تمنا معلوم ہوتی ہے اور اسی تمنا کی بازگشت ربی سنکربل کے اس ناول میں سنائی دیتی ہے۔ عظیم صوفی اور عالم بے بدل مولانا جلال الدین رومی کی سات سو سال قدیم اس مثنوی کی شہرت دنیا کے کونے کونے میں ہے۔ مولانا جلال الدین رومی کی حیات کے گرد بنے گئے اس ناول میں حقیقت اور فسانے کی کئی پرتیں نظر آتی ہیں۔ ناول کے واقعات کہیں مولانا کی زندگی سے اور کہیں ان کی حکایتوں سے اخذ کیے گئے ہیں اور یوں آپ کو ایک ایسی دنیا میں لے جاتے ہیں جو حقیقت بھی ہے اور حکایت بھی۔

Read more

گوہر جان کلکتے والی

انیسویں صدی میں انگریزی حکومت کے زیراثر ہندوستان میں نئی نئی ایجادات کی آمد شروع ہوئی۔ گراموفون بھی اس زمانے کی نئی ایجاد تھی۔ آواز کو مشین کے ذریعے ریکارڈ میں بھر لیا جاتا تھا اور پھر گراموفون پر بجا کر سنا جاتا تھا۔ موسیقی ہمیشہ سے ہی ہندوستانی تہذیب کی پہچان سمجھی جاتی تھی اس لیے انگلینڈ کی کمپنی گراموفون اینڈ ٹائپ رائٹر لمیٹڈ نے اپنے ایجنٹ فریڈرک ولیم گیسبرگ کو ہندوستان بھیجا تاکہ ہندوستانی سنگیت کو ریکارڈوں میں

Read more

ملکۂ ٹھمری رسولن بائی

ٹھمری کے دو انگ یا انداز مشہور ہیں، پورب انگ اور پنجاب انگ، اور اس میں سب سے زیادہ مقبولیت پورب انگ کی ٹھمری نے حاصل کی۔ بنارس گھرانے کی نمائندہ گائیکہ رسولن بائی کا تعلق اسی پورب انگ کی گائیکی سے تھا۔ ہندوستانی سنگیت کی روایت کو فنی بلندیوں تک پہچانے اور اسے مقبول عام کرنے میں بیسویں صدی کی طوائفوں کا اہم حصہ رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب موسیقی کے جلسوں اور محفلوں میں گوھر جان، ملکہ،

Read more

جب منٹو کو آگ پر چلنا پڑا (دوزخ نامہ سے اقتباس)

میرے والد مولوی غلام حسن نے اپنی پہلی بیوی کے تینوں بیٹوں کو پڑھایا لکھایا، بیرون ملک بھیجا، انھیں مستحکم کیا، اور اس منٹو کو سڑک پر چھوڑ دیا۔ جاؤ سالے، لاوارث کتے کی طرح گھومو اور لوگوں کے پھینکے ہوئے ٹکڑے چن کر کھاؤ۔ ان کی پہلی بیوی کے تینوں بیٹے، محمد حسن، سعید حسن، سلیم حسن، انگلینڈ میں رہتے تھے، مرزا صاحب، اور میں سمرالہ کی سڑکوں پر، کیا کر رہا تھا بھلا؟ بندر کا تماشا دیکھ رہا

Read more

منٹو کے آخری ایام

منٹو کی برسی پر ان کو یاد کرتے ہوئے ربی سنکر بل کے شاہکار ناول ”دوزخ نامہ“ سے چند صفحات ملاحظہ کیجیے جن میں منٹو مرزا غالب کو اپنے آخری ایام کا احوال بتا رہے ہیں : لاہور آ کر میری شراب نوشی حد سے تجاوز کر گئی تھی مرزا صاحب۔ کہیں کوئی دوست نہیں تھا۔ آنے والے دن بالکل تاریک دکھائی دیتے تھے۔ اگر میں مر گیا تو میرے بیوی بچے سڑک پر آ جائیں گے۔ تھوڑے تھوڑے عرصے

Read more

فردوس: میں تاں ہو ہو گئی قربان

دراز قامت، گدرائے بدن اور بڑی بڑی سیاہ آنکھوں والی فردوس جب 1961ء میں پیش کی جانے والی فلم ”گل بکاؤلی“ کے ایک چھوٹے سے کردار میں جلوہ گر ہوئیں تو کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ لڑکی پنجابی فلموں کی عہد ساز اداکارہ بن کر ابھرے گی۔ چند ہی برسوں میں وہ پنجابی فلموں کی بے تاج ملکہ بن گئی۔ فردوس سے پہلے یہ مقام مسرت نذیر کو حاصل تھا، جنھوں نے اپنے فلمی کیریئر کے عروج پر ہی

Read more

میرؔ کی کہانی – غالبؔ کی زبانی

(دوزخ نامہ سے ایک اقتباس) میں نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ میں بہت نیک انسان ہوں۔سچ کہو ں تو میں اپنے لالچ کی وجہ سے دلّی آیا تھا۔معروف صاحب کا خاندان دلّی کے شرفاء میں شمار ہوتا تھا،جس کے شاہی دربار کے ساتھ مراسم تھے، مجھے توقع تھی کہ ایک شاعر کے طورپر مجھے دربار میں جگہ مل جائے گی، اور یو ں میں اپنی خواہش کے مطابق زندگی گزار سکوں گا۔ ان دنوں میں شراب اور عورتوں کا

Read more

پنڈت جسراج کی یاد میں

مشہور کلاسیکل گائیک پنڈت جسراج نے بھی سروں کی دنیا سے رخصت لے لی۔ کلاسیکل سنگیت یا پکے گانوں سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے پنڈت جسراج کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ خیال گائیکی ان کی خصوصیت تھی۔ پنڈت جسراج کی پیدائش 28 جنوری 1930 کو ہریانہ کے علاقے حصار میں ایک ایسے خاندان میں ہوئی تھی جو چار نسلوں سے کلاسیکی سنگیت کی روایت کو آگے بڑھا رہا تھا۔ ان کے والد پنڈت موتی رام میواتی گھرانے

Read more

آصف فرخی سے آخری ملاقات

کرونا کی وبا کے باعث ڈھائی تین مہنے سے سب کچھ بند تھا۔ یونیورسٹی بھی غیر معینہ مدت کے لیے بند ہوچکی تھی اس لیے میں بھی کراچی سے اپنے آبائی شہر شہدادپور چلا آیا۔ آصف فرخی سے، جنھیں میں ہمیشہ سے آصف بھائی کہا کرتا تھا، لگ بھگ روز ہی فون پر بات ہوتی تھی۔ وہ وبا سے متعلق ادبی تحریروں پر مشتمل دنیا زاد کا خصوصی شمارہ مرتب کر رہے تھے۔ میں بہت خوش تھا کہ انھوں نے

Read more

نمّی۔ جیا بے قرار ہے

بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی نمّی رخصت ہوگئیں۔ نمّی 50 اور 60 کی دہائی کی بے حد مشہور ہندوستانی اداکارہ تھیں۔ پرانی فلموں کے شائق ان کے نام اور کام سے خوب واقف ہیں۔

نمّی کا حقیقی نام نواب بانو تھا۔ انہیں یہ فلمی نام ’نمّی‘ راج کپور نے دیا تھا۔ وہ 18 فروری 1933 کو آگرہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والد عبدالحاکم ایک ملٹری کانٹریکٹر تھے۔ جب وہ صرف 11 سال کی تھیں، ان کی ماں کا انتقال ہوگیا اور نمّی اپنی نانی کے ساتھ رہنے کے لیے ایبٹ آباد چلی گئی آئیں، لیکن 1947 میں ملک کی تقسیم کے بعد جب ایبٹ اباد پاکستان میں شامل ہوگیا تو نمّی اپنی نانی کے ساتھ بمبئی منتقل ہو گئیں اور یہیں فلمی دنیا کے ساتھ ان کا تعلق قائم ہوا۔

Read more

جب غالب ملے بھگت کبیر سے (دوزخ نامہ سے اقتباس)

کبھی کبھی میں آدھی رات کے وقت منیکرنیکا گھاٹ پر چلاجاتا اور اس کی سیڑھیوں پر بیٹھا رہتا۔ کاشی چھوڑ کر جانے کی میری بالکل خواہش نہ تھی۔ گنگا کی ٹھنڈی ہوائیں میرے اندر کی ساری بے اطمینانی اور جنون کو پُرسکون کردیتی تھیں۔ مجھے لگا کلکتہ جاکرکیا ہوگا۔ کیوں میں تھوڑی سی رقم کی خاطر، اس طویل سفر میں خود کومارے ڈال رہا ہوں۔ منیکرنیکا کی چتاؤں کی آگ نے میری ساری نفسانی خواہشوں اور آرزوؤں کو خاکستر کر

Read more

دوزخ نامہ یا بہشت نامہ؟

تصوّر کیجیے انیسویں صدی اگر آکر بیسویں صدی کو گلے لگالے، اور ہم اور آپ، دو صدیوں کے اس ملاپ کے گواہ بن جائیں تو کیسا لگے گا؟ یوں دیکھا جائے تو دو صدیوں کے ملاپ کا یہ موقع اٹھارہ برس پہلے اُس وقت آیا تھا جب 13 /دسمبر 1999 ء کی رات دو صدیاں لمحہ بھر کے لیے ایک ہوگئی تھیں، لیکن یہاں تو بنگالی ادیب ربیسنکر بال نے دو صدیوں کو ایک کتاب میں بند کردیا ہے اور

Read more

خیام صاحب کی یاد میں

”شام غم کی قسم، آج غمگیں ہیں ہم“، موسیقار خیام کی فلم ”فٹ پاتھ“ کا یہ گیت یوں تو ہم برسوں سے سنتے آئے ہیں، لیکن اب جب خیام نہیں رہے تو یہ گیت اور بھی زیادہ یاد آ رہا ہے۔ خیام کا اس دنیا سے کوچ کرنا سبھی کو غمگین کر گیا ہے۔ اگرچہ خیام صاحب کی عمر 92 برس سے بھی کچھ زیادہ تھی اور وہ اب موسیقی کے حوالے سے فعال بھی نہیں تھے لیکن اس کے

Read more

نورجہاں: تیری آواز آ رہی ہے ابھی

 نورجہاں کی گائیکی سراسر حسنِ ادائیگی سے عبارت ہے۔ ان کی آواز توانائی اور مسرت کی ایک ایسی مثال تھی جو فی زمانہ نایاب ہوچکی ہے اور ”ملکہ ترنم“ جیسا لقب بھی ان کے فن کا پورا احاطہ نہیں کرسکتا۔ وہ شاید برِصغیر کی واحد فطری گلوکارہ تھیں، یہ محض ان کی آواز کا کرشمہ تھا کہ سننے والے مبہوت رہ جاتے تھے۔ کوئی ہندوستانی یا پاکستانی گلوکارہ بمشکل ایسی بے پناہ گائکی کے قریب آسکی ہے۔ سننے والوں کے

Read more

شہنشاہ غزل کی یاد میں

غزل کی اہمیت ایک مقبول شعری صنف کے طور پر تو مسلّمہ ہے۔ غالباً یہ واحد شعری صنف ہے، جو گائیکی کی صنف کے طور پر بھی یک ساں مقبول و معروف ہے۔ اسے اردو زبان کا اعجاز ہی کہا جائے گا کہ ہر دور میں اسے ایسی آوازیں میّسر آتی رہی ہیں، جنھوں نے نہ صرف اردو شاعری کو عوامی سطح مقبول کرنے میں اہم کردار ادا کیا، بلکہ اس کی سج دھج میں بھی گراں قدر اضافہ کیا۔

Read more

استاد نذر حسین کی یاد میں

ہمارے ہاں ایک زمانے تک موسیقی کی جس شکل کو قبولِ عام کا درجہ حاصل رہا وہ فلمی موسیقی ہے۔ یہ ذرا بعد کی بات ہے جب غیر فلمی موسیقی بھی فلمی سنگیت کی طرح مقبول ہوئی۔ کلاسیکی موسیقی کا معاملہ البتہ الگ ہے کہ اسے خواص کا سنگیت سمجھا جاتا ہے۔ اگر پاکستان کے مایہ ناز سنگیت کاروں یا موسیقاروں کی بات کی جائے تو سارے کے سارے ایسے نام یاد آتے ہیں جنھوں نے فلموں کے لیے موسیقی

Read more