اقبال بانو کی یاد میں

سال 1985۔ پاکستان میں جنرل ضیا الحق کی آمریت کا زور تھا۔ نام نہاد اسلامی نظام کے نفاذ کی تحریک کے لیے اقدامات کیے جارہے تھے۔ ساڑھی کو ہندوانہ لباس قرار دے کر ضیا الحق کے حواری سرکاری تقاریب اور سرکاری ٹیلی ویژن پر اسے پہننا ممنوع قرار دے چکے تھے۔ انقلابی شاعر فیض احمد…

Read more

نمّی۔ جیا بے قرار ہے

بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی نمّی رخصت ہوگئیں۔ نمّی 50 اور 60 کی دہائی کی بے حد مشہور ہندوستانی اداکارہ تھیں۔ پرانی فلموں کے شائق ان کے نام اور کام سے خوب واقف ہیں۔

نمّی کا حقیقی نام نواب بانو تھا۔ انہیں یہ فلمی نام ’نمّی‘ راج کپور نے دیا تھا۔ وہ 18 فروری 1933 کو آگرہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والد عبدالحاکم ایک ملٹری کانٹریکٹر تھے۔ جب وہ صرف 11 سال کی تھیں، ان کی ماں کا انتقال ہوگیا اور نمّی اپنی نانی کے ساتھ رہنے کے لیے ایبٹ آباد چلی گئی آئیں، لیکن 1947 میں ملک کی تقسیم کے بعد جب ایبٹ اباد پاکستان میں شامل ہوگیا تو نمّی اپنی نانی کے ساتھ بمبئی منتقل ہو گئیں اور یہیں فلمی دنیا کے ساتھ ان کا تعلق قائم ہوا۔

Read more

جب غالب ملے بھگت کبیر سے (دوزخ نامہ سے اقتباس)

کبھی کبھی میں آدھی رات کے وقت منیکرنیکا گھاٹ پر چلاجاتا اور اس کی سیڑھیوں پر بیٹھا رہتا۔ کاشی چھوڑ کر جانے کی میری بالکل خواہش نہ تھی۔ گنگا کی ٹھنڈی ہوائیں میرے اندر کی ساری بے اطمینانی اور جنون کو پُرسکون کردیتی تھیں۔ مجھے لگا کلکتہ جاکرکیا ہوگا۔ کیوں میں تھوڑی سی رقم کی…

Read more

دوزخ نامہ یا بہشت نامہ؟

تصوّر کیجیے انیسویں صدی اگر آکر بیسویں صدی کو گلے لگالے، اور ہم اور آپ، دو صدیوں کے اس ملاپ کے گواہ بن جائیں تو کیسا لگے گا؟ یوں دیکھا جائے تو دو صدیوں کے ملاپ کا یہ موقع اٹھارہ برس پہلے اُس وقت آیا تھا جب 13 /دسمبر 1999 ء کی رات دو صدیاں…

Read more

خیام صاحب کی یاد میں

”شام غم کی قسم، آج غمگیں ہیں ہم“، موسیقار خیام کی فلم ”فٹ پاتھ“ کا یہ گیت یوں تو ہم برسوں سے سنتے آئے ہیں، لیکن اب جب خیام نہیں رہے تو یہ گیت اور بھی زیادہ یاد آ رہا ہے۔ خیام کا اس دنیا سے کوچ کرنا سبھی کو غمگین کر گیا ہے۔ اگرچہ…

Read more

نورجہاں: تیری آواز آ رہی ہے ابھی

 نورجہاں کی گائیکی سراسر حسنِ ادائیگی سے عبارت ہے۔ ان کی آواز توانائی اور مسرت کی ایک ایسی مثال تھی جو فی زمانہ نایاب ہوچکی ہے اور ”ملکہ ترنم“ جیسا لقب بھی ان کے فن کا پورا احاطہ نہیں کرسکتا۔ وہ شاید برِصغیر کی واحد فطری گلوکارہ تھیں، یہ محض ان کی آواز کا کرشمہ…

Read more

شہنشاہ غزل کی یاد میں

غزل کی اہمیت ایک مقبول شعری صنف کے طور پر تو مسلّمہ ہے۔ غالباً یہ واحد شعری صنف ہے، جو گائیکی کی صنف کے طور پر بھی یک ساں مقبول و معروف ہے۔ اسے اردو زبان کا اعجاز ہی کہا جائے گا کہ ہر دور میں اسے ایسی آوازیں میّسر آتی رہی ہیں، جنھوں نے…

Read more

استاد نذر حسین کی یاد میں

ہمارے ہاں ایک زمانے تک موسیقی کی جس شکل کو قبولِ عام کا درجہ حاصل رہا وہ فلمی موسیقی ہے۔ یہ ذرا بعد کی بات ہے جب غیر فلمی موسیقی بھی فلمی سنگیت کی طرح مقبول ہوئی۔ کلاسیکی موسیقی کا معاملہ البتہ الگ ہے کہ اسے خواص کا سنگیت سمجھا جاتا ہے۔ اگر پاکستان کے…

Read more