کورونا وائرس اور سازشی تھیوریاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب سے کورونا کی وباء پھوٹی ہے تب سے دنیا انگشت بدنداں ہے۔ اس وقت تک دنیا میں کم وبیش 503,274 لوگ متاثر ہو چکے اور 22342 لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ عین ممکن ہے جب تک یہ مصمون چھپے اعداد وشمار (facts and figures) بدل چکے ہوں۔ گوکہ اس وبا کا مرکز ووھان شہر تھا لیکن کچھ ہی ہفتوں میں اس نے دنیا کے 195 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

پاکستان میں اس وقت کورونا کے مریضوں کی تعداد 1179، جبکہ پڑوسی ممالک میں ایران میں 29406 اور بھارت میں حیرت انگیز طورپر فقط 719 افراد کورونا کا شکار ہوئے۔ برصغیر پاک وھند کو توھم پرستی اور سازشی تھیوریاں کی جنت کہا جائے تو غلط نا ہوگا۔ لیکن اس مرتبہ اہل مغرب بھی فرضی کہانیاں گھڑنے میں ہم سے پیچھے نہیں رہے۔

چند مشہور زمانہ سازشی نظریات جو کورونا (COVID۔ 19 ) کے حوالے سے زبان زدعام ہیں ان میں سرفہرست ہے ڈین کونٹز (Dean Koontz) کا ناول ہے۔

ڈین کونٹز کے ناول ”The Eyes of Darkness“ کے حوالے کہا گیا کہ 1981 میں مصنف نے یہ پیشن گوئی کی تھی کہ ”گورکی۔ 400“ روسی سائنسدانوں نے وائرس ایجاد کرلیا ہے جو روس کے شہر گورکی کی لیبارٹریوں میں بنایا گیا۔ جب 1989 میں ناول کا دوسرا ایڈیشن شائع ہونے لگا تو ڈین کونٹز ہجرت کی فضیلت سے واقف ہو چکا تھا لہٰذا کونٹز نے وائرس میں خیر و برکت کی خاطر اسے روس کے شہر گورکی سے ہجرت کروا کر چین کے شہر ووھان لا کر بٹھا دیا اور نام بھی بدل کر ”ووہان۔ 400 وائرس“ رکھ دیا تاکہ وائرس کو غیرملکی سمجھ کر کوئی نقصان نا پہنچا دے۔ اگر ”دی آئیز آف ڈارکنیس“ کو صحیح مان بھی لیا جائے تو کورونا اور ووھان۔ 400 یا گورکی۔ 400 میں بہت نمایاں فرق ہے۔

ڈین کونٹز کے ناول کگ مطابق ”ووہان۔ 400“ سے مرنے کا احتمال 100 فیصد ہے اور اس کا مریض فقط چند گھنٹوں میں جان کی بازی ہار جاتا ہے۔ جبکہ کورونا (کوویڈ۔ 19 ) کی وبا میں مبتلا شخص میں علامات ظاھر ہونے میں 2 دن سے 2 ہفتے لگ سکتے ہیں اور بچ جانے کے امکانات 90 فیصد تک ہیں۔

دوسری سازشی تھیوری کے مطابق چین براہ راست امریکہ کو مورد الزام ٹھہرا رہا ہے۔ چینی دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ”ورلڈ ملٹری گیمز“ میں شرکت کے لئے ووھان آئے امریکی فوجی ایتھلیٹس اور جوان یہ وائرس ووھان چھوڑ کر گئے ہیں۔ چینی اہلکار لیجین زھاؤ کے مطابق امریکہ نے چین پر ”وائرس بم“ پھینکا ہے۔

چین سے باھر بھی کافی لوگ اسے امریکہ کا چین پہ حیاتیاتی حملہ سے تعبیر کر رہے۔ افغان امن معاھدے میں جو امریکہ کو سبکی ہونا تھی وہ بیک گراونڈ میں چلی گئی اور دنیا کورونا کے مسئلے کو لے کر بیٹھ گئی۔ دوسرا بڑا فائدہ امریکہ کو یہ گردانا جا رہا ہے کہ چین کو اکانومی کے لحاظ سے نقصان پہنچایا جائے۔ امریکہ بہادر بلیک فرائیڈے اور سائبر منڈے کے نام پر لوٹ سیل میلے لگا کر بھی بمشکل شاپنگ کی مد میں ایک دن میں 5.5 سے 6 ارب ڈالرز کما رہا تھا۔ اگر چین کی بات کی جائے تو چین صرف ایک عام کاروباری دن میں 14 سے 15 ارب ڈالرز کی اشیا فروخت کر رہا تھا۔ کورونا آوٹ بریک سے پہلے تک چین دنیا کے 124 ممالک کے ساتھ کاروبار کر رہا تھا جبکہ امریکہ محض 56 ممالک کے ساتھ تجارت کر رہا تھا جو کہ امریکہ کے لئے مسلسل پریشانی کا باعث تھا۔

امریکہ نے چین کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے کورونا کو چین کا اپنا کیا دھرا قرار دیتے ہوئے کورونا وائرس کو ”چینی وائرس“ کا نام دے ڈالا۔ جب کورونا چین میں پھیلا تو چین کی اکانومی کو بظاھر بری طرح متاثر کر گیا اور چین کی ایکسپورٹس گرنے لگیں۔ یورپی اور امریکی کمپنیاں جن کا سیٹ اپ چائنا میں تھا کاروبار بند ہونے پہ ان کے شیئرز کم و بیش 40 فیصد تک گر گئے، کمپنیوں کو نقصانات کو کسی حد تک کم کرنے اور کاروبار کو چلانے کے لئے ان کمپنیوں کو 25 سے 30 فیصد شیئرز فروخت کرنا پڑے جو چینیوں نے خرید لئے۔ اس بنا پہ امریکہ اور اس کے حامی کورونا کو چین کارستانی سمجھتے ہیں۔

اگر لوکل سازشی مفروضوں کی بات کی جائے تو ابھی تک بہت سے لوگ ایسے ہیں جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ پاکستان میں کورونا نہیں حکومت صرف بیرونی امداد اور قرضوں میں معافی کے لئے کوشش کر رہا ہے۔

کچھ ہمارے دیسی سازشی تھیورسٹس نے اسے چین پہ اللّٰھ کا عذاب قرار دیا۔ عذاب نبی علیہ السلام کی موجودگی کے سوا نہیں آتا۔ نبی علیہ السلام زمین پر خدا کی عدالت ہوتے ہیں، نبی لوگوں تک اللّٰہ کا پیغام پہنچاتے ہیں اگر قوم پھر بھی نہ ڈرے تو عذاب آتا ہے۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے جن لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں وہ منبر و تقدیس انبیا کے وارث بنے بیٹھے ہیں۔

کچھ لوگوں نے کورونا وائرس کی وجہ چمگادڑ کے سوپ کو قرار دیا حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے چین میں چمگادڑ کا سوپ زیادہ پسند نہیں کیا جاتا اور نا ہی چمگادڑ اس وائرس کا اصل ماخذ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *