آخری غلطی
عالمی ادارہ برائے صحت کے سربراہ نے زور دیا ہے کہ جن ممالک نے لاک ڈاؤن کیا ہے وہ اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشتبہ مریضوں کو تلاش کریں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جائے مگر حکومتِ پاکستان ہمیشہ کی طرح اپنے فیصلوں میں کمزور اور کنفیوژن کا شکار نظر آرہی ہے۔
وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی یا کسی قسم کا کوآرڈینیشن اس کڑے وقت میں بھی نظر نہیں آیا کیونکہ ایک طرف وفاقی حکومت کے وزیر فرما رہے ہیں کہ ہم نے مساجد اور جمعہ کے اجتماعات محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو دوسری جانب سندھ حکومت نے جمعہ کے اجتماع پر پابندی لگا دی۔
ایسی صورتِ حال میں ہمارے علماء کا کردار بہت اہم ہے مگر یہاں بھی کسی قسم کا کوئی دمہ دارانہ رویہ دیکھنے میں نہیں آیا۔
جامعۃ الازہر کے فتوے اور سعودی عرب اور ایران میں کسی قسم کی مذہبی تقریبات پر پابندی کے بعد ہمارے ان اکابرین کے پاس مذہبی تقریبات منعقد کرنے کا کوئی معقول جواز نہیں بنتا اور نہ ہی یہ صاحبان تاریخ کے کسی حوالے سے اپنے موقف کو ثابت کر سکتے ہیں۔
اسلام بیماری کے بڑھ جانے کے اندیشے سے وضو کی جگہ تیمم کرنے کا کہتا ہے، تیزبارش میں گھر پر نماز کی اجازت دیتا ہے، وباء کی صورت میں سفری پابندی کا حکم دیتا ہے اس سے بڑھ کر انسانی جان کو کعبے کی حرمت کی جگہ دیکھتا ہے۔
مگر ہمارے علماء کی جانب سے ایسے سنگین حالات میں کیے جانے والے فیصلوں کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ درحقیقت یہ حکومت کی ناکامی ہی ہے کہ ایسے نازک صورتِ حال میں ان صاحبان کو دیگر مسلم ممالک کی طرح اس وباء کے سلسلے میں کیے جانے والے اقدامات سے مکمل آگاہی فراہم کرتی اور اسی طرز پر تمام مذہبی اجتماعات کے انعقاد پر اعتماد میں لے۔
اب چونکہ ان کا فیصلہ آچکا ہے کہ جمعے کی اجتماعات کو ملتوی نہیں کیا جائے گا تو لامحالہ اس کے کچھ اصول و ضوابط طے کر لئے جاتے تاکہ عوام الناس کو کسی بھی قسم کے خطرے سے محفوظ رکھا جاسکے۔
کیونکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس وقت منبرِ رسول سے صرف اور صرف سماجی دوری ( سوشل ڈسٹینس ) کو قاہم کرنے کی کی صدا آنی چاہیے تھی عوام کو متنبہ کیا جانا چاہیے تھا بلکہ لاؤڈ اسپیکر پر آئسولیشن کے حوالے سے ہدایات جاری کرنی چاہیے تھیں گلی محلوں کی مساجد میں یومیہ یا کم از کم ہفتہ وار پروگرام منعقد کیے جانے چاہیے تھے جہاں ڈاکٹر حضرات کو اور علاقے میں موجود طب سے وابستہ لوگوں کو موقعہ دیا جاتا کہ وہ گھروں میں موجود لوگوں کو بذریعہ اسپیکر اس وبا سے خبردار کرتے کیونکہ ہمیں تاریخ یہ بتاتی ہے کہ نبی آخرزمان کی حیاتِ مبارکہ میں مسجدِ نبوی کو ایسے عوامی اور سماجی مسائل کے حل کے لئے استعمال کیا گیا۔
لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہا ں دین کی سمجھ اور اس کے وضع کیے گئے اصولوں پر عملدرآمد کے لیے ایک مخصوص طبقے کا آرڈر چلتا ہے لہذا یہاں بھی ہمیں ان کے رویے کا محتاج ہونا پڑے گا۔
اب جب کہ حکومت بالکل اس موقعے پر خاموش ہے ماسوائے ایک وزیر کے جنہوں نے اس معاملے میں بولنے کی جسارت کی لاکھوں کروڑوں انسانوں کی بقا کی خاطر کسی بھی قیمت پر ان خدائی فوجداروں کو منانا ہوگا ان کے ترلے لینے ہوں گے یا پھر کم سے کم سندھ حکومت کی طرح درمیانہ راستہ اپنا کر پانچ یا چھ افراد پر مشتمل مساجد کے نگران بذاتِ خود باجماعت نماز ادا کریں تا کہ مساجد بھی آباد رہیں اور وباء کے پھیلاؤ کا اندیشہ بھی کم سے کم ہو۔
اگر اس بار بھی ہم یہاں چوک گئے تو شاید یہ ہماری ”آخری غلطی“ ثابت ہوکیونکہ جن ممالک میں اس وباء کو سنجیدگی سے ٹریٹ نہیں کیا گیا ان کے ہاں صحت کا نظام ہم سے صد فیصد بہتر ہونے کے باوجود ناکام ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔
لہذا حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزید سخت اقدامات اٹھانا ہوں گے اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے دئی گئی ہدایات کو فالو کرتے ہوئے اور اس لاک ڈاؤن کے موقعے کو غنیمت جان کر اپنے شہریوں کی حفاظت کے پیشِ نظر مشتبہ مریضوں کو عام عوام سے الگ کرنا ہوگا جس کے لئے اگر مساجد اور مذہبی اجتماعات پر مکمل پابندی بھی لگانی پڑے تو لگا دی جائے۔


