سیلاب کے بعد
سیلاب ایک ماہ تک ہرطرف تباہی مچانے کے بعد اترنے لگا تھا۔ بپھرا ہوا پانی گاؤں کے گھر، کھیت سمیت ہر چیز جو نگل گیا تھا اور اب کسی اژدہے کی طرح اگل رہا تھا۔ تباہ شدہ مکان، مرے ہوئے مویشی اور ان سے اٹھتا طعفن، ہرے بھرے کھیتوں کی جگہ بھوک، بیماری اور مایوسی کی فصلیں۔
جو گاؤں کبھی خوشحال تھا اب وہ تباہ ہوچکا تھا۔ یہاں کے کھیت گیہوں اور دھان اگاتے تھے۔ گھروں میں کڑھائی کا کام اور رلیاں بنائی جاتی تھیں۔ گاؤں کا کوئی شخص بھوکا نہیں سوتا تھا اورنہ ہی کسی کو فاقے کا خدشہ رہتا تھا۔
اسی گاؤں میں محراب بھی رہتا تھا۔ دو روز بعد جب وہ گاؤں لوٹا تو اس کی دنیا ہی لٹ چکی تھی۔ سیلاب اس کا بسا بسایا کنبہ بہا لے گیا تھا اوراس کے لئے کچھ بھی نہیں چھوڑا تھا۔ جس شام محراب دھان سے بھری گاڑی شہرلے کر گیا تھا، اسی رات دریا کا سیلابی پانی گاؤں سمیت آس پاس کے سینکڑوں دیہات کو نگلنے کے لئے بند توڑ کرآگے بڑھ چکا تھا اور سوئے ہوئے لوگوں کو خود کو بچنے کا موقع ہی نہیں مل سکا تھا۔
گاؤں کے لوگ مسجد سے ہونے والے اعلانات کے بعد خود کو بچا کر بھاگ نکلے تھے لیکن محراب کی بیوی اوردو سالہ بیٹی گھر میں ہی موجود رہے۔ گھری نیند کی وجہ سے وہ گھر سے نکل نہ سکے اور سیلاب کا پانی ماں بیٹی کو بہا لے گیا۔
صبح ہوئی تو محراب کی بیوی اوراس کی بیٹی جھاڑیوں میں پھنسے ملے، ساری رات پانی میں رہنے کے باعث بچی دم توڑ چکی تھی اور ماں بیہوش تھی۔ گاؤں کے کچھ لوگوں نے دونوں کو پانی سے نکالا، خاتون کو میڈیکل کیمپ میں بھیج دیا جبکہ بچی کو دیگر میتوں کے ساتھ دفن کردیا گیا۔
کیمپ میں کئی خواتین اور بچے تھے۔ ہر طرف افسردگی، آہ بقا کا منظر تھا۔ ایک افراتفری کا عالم تھا جس میں کسی کو دوسرے کی غرض نہ تھی۔ میتیں اٹھ رہیں تھیں۔ کوئی اپنے پیاروں کو کھوج کر رہا تھا تو کہیں بچے موت کی آغوش میں جاچکے تھے اور کہیں معصوم کلیاں والدین کی میتوں کے ساتھ چمٹے بلک رہی تھیں۔
محراب کو سیلاب کی اطلاع رات کو ہی مل چکی تھی اور وہ گاؤں لوٹنے کے لئے شہر سے نکل چکا تھا لیکن گاؤں جانے والی سڑک کا پل سیلابی پانی میں بہہ گیا تھا جس کے باعث وہ گاؤں نہ پہنچ سکا۔ پل کے پاس محراب کے ساتھ علاقے کے دیگر گاؤں کے لوگ بھی بے بسی کی مورت بنے ہوئے تھے۔ پل ٹوٹنے کے باعث انتظامیہ نے کسی بھی شخص کو آگے جانے سے روک دیا تھا۔ وہ سب پانی کے اترنے یا پھر امدادی ٹیموں کے آنے کا انتظار کرتے رہے۔ محراب کا یہ حالات دیکھ کر دل بیٹھ گیا تھا، آنکھیں پتھرا گئی تھیں۔ وہ اس سے پہلے کبھی اتنا مایوس نہیں ہوا تھا۔ وہ اورعلاقے کے دیگر لوگ شام تک ٹوٹے ہوئے پل کا پاس بیٹھے رہے۔
شام کو محراب اور دوسرے لوگ امدادی ٹیموں کی کشتیوں میں سوار ہوکر اپنے اپنے گاؤں کی جانب روانہ ہوگئے۔ ہر شخص گاؤں پہنچ کر اپنے اپنے پیاروں کو تلاش کرنے لگا۔
علاقے میں جیسے قیامت صغریٰ کا منظر تھا، ہر کوئی اپنے پیاروں کی تلاش میں تھا۔
محراب نے ایسے عالم میں اپنے رشتہ داروں عزیزوں، دوستوں اور پڑوسیوں سے بیوی اور بچی کا پوچھا۔ اسے بتایا گیا کہ اس کی بیوی میڈیکل کیمپ میں ہے، یہ سن کر وہ کیمپ کی طرف بھاگا۔ ۔ محراب کی بیوی حاملہ تھی اوراس کا کیمپ میں علاج ہو رہا تھا۔ وہیں کیمپ میں اسے بتایا گیا کہ اس کی بیٹی دم توڑ چکی ہے۔ یہ سن کر محراب کی آنکھوں سے آنسوں بہہ نکلے۔
ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ آج اس کی بیوی کی زچگی ہے۔ یہ سن کر وہ خیمے کے باہر بیٹھ گیا اور بیٹھے بیٹھے خیالوں میں کھو گیا۔ ۔ ۔ محراب کو سیلاب سے پچھلی رات یاد آئی جب اس نے بیوی کے ساتھ اپنی بچی کو تعلیم دلانے کا خواب دیکھا تھا۔ لیکن وہ خواب حقیقت نہ بن سکا، وہ پھول کھلنے سے قبل ہی مرجھا گیا۔
نوزائدہ بچے کے رونے کی آواز محراب کو خیالوں کی دنیا سے واپس لے آئی۔
وہ اپنی آستین سے آنسو پونچھ کر اس آواز کی جانب متوجہ ہوا۔ ۔ ۔
ڈاکٹر نے محراب کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تمہارے گھر دوبارہ رحمت آئی ہے۔ وہ دوڑتا ہوا خیمے میں گیا اور بچی کو اٹھانے کے ساتھ بیوی کو بھی گلے سے لگا لیا۔ محراب کی بیوی کو پہلے ہی بتایا جا چکا تھا کہ اس کی بچی جاں بحق ہوگئی ہے۔ لیکن بچی کے جنم نے ماں کو پھر ممتا کی محبت سے بھر دیا اور مرجھائے ہوئے چہرے پر پھر سے بہار آگئی تھی۔ ۔ وہ محراب سے کہنے لگی ”دیکھو ہماری بیٹی ہمارے ساتھ ہی ہے۔ ۔ وہ ہمیں چھوڑ کر کہیں نہیں گئی“


