کورونا کی وبا سے لوگوں میں ذہنی تناؤ بڑھے گا


کاروبار زندگی اُس دن سے درہم برہم ہو گیا جب کورونا وائرس نے ایک وبا کی صورت لے لی۔ پاکستان میں اُس وقت حالات تبدیل ہوگئے جب ہر صوبے سے وائرس کے مریض رپورٹ ہوئے، اور بعد میں جزوی لاک ڈاون، آمدورفت، صنعت اور بازار بند ہوگئے۔

ہر طرف دیکھا جائے وہی لوگ اور مقامات مگر وہ رونق نظر آ نہیں رہی۔ ایک آسودگی اور خوف ہے۔ اگر کہیں سے ہنسی کی آواز آ بھی جاتی ہے تو وہ بھی معصوم بچے اور بچیاں ہیں ہنستے اور کھیلتے نظر آتے ہیں، اور لوگوں کے دل بہلاتے ہیں کیونکہ اُنہیں حالات کا ادراک نہیں۔

وہ چیز جو سب کو پریشان کر رہی ہے وہ خوف ہے جو اِس سے پہلے نہیں تھا۔ چاہے کوئی عزیز کیوں نہ ہو اگر وہ قریب آجائے تو اُس سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ خوف اس لئے ہی نہیں کہ وہ وائرس زدہ ہے اور وہ وائرس مجھ میں منتقل ہوسکتا ہے بلکہ، خدانخواستہ، اگر میں انفکٹڈ ہوں اُسے بھی لگ سکتا ہے۔ یہ ایک عجیب کیفیت بن چُکی ہے اور یہ ایک ناگہانی خوف اندر سے سب کو کھا رہی ہے۔

نا اُمیدی گناہ کے مترادف ہے اور اِنسان اُمید سے زندہ ہے۔

ہسپانوی فلو نے بچوں کا شکار کیا تھا، جس سے دُنیا میں پانچ کروڑاور ہندوستان میں ایک کروڑ اسی لاکھ لوگوں کی جان لی تھی اب کرونا وائرس، ماہرین کے مطابق، عمررسیدہ لوگوں کے لئے جان لیوا ہے۔ اور کتنے لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں کوئی نہیں جانتا۔

اور یہ وبا ایک آزمائش سے کم نہیں۔

پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق چونتیس فیصد آبادی ذہنی دباؤ اور تناو کا شکار ہے۔ گوکہ یہ شرح ملک کے مختلیف علاقوں میں مختلیف ہے لیکں اس وبا کے دوران اور اس کے بعد ذہنی اور نفسیاتی مریضون کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ کیوں؟

کیونکہ ملک کی معاشی حالت پہلے سے خراب تھی جو مزید سنگین ہوسکتی ہے۔ افراط زر بڑھ رہا تھا اور لوگوں کی قوت خرید کم ہو رہی تھی، یہ ابتری مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ بیروزگاری میں اضافہ اور لوگوں کی آمدنی میں کمی، اور اخراجات بڑھنے کے قومی امکانات ہیں۔ وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ”کورونا وائرس نے 33 لاکھ امریکی بے روزگار کر دیے“، اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث ”دُینا بھر میں ڈھائی کروڑ افراد کو اپنے روزگار سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے“۔

پاکستان میں صنعت، کاروبار، مزدوری، نوکری، روڈ، سکول، تفریحی مقامات، کھیل اور لوگوں کا آپس میں میل جول بند ہے۔ بس پوری دُنیا میں ایک ادارہ کھلا ہے اور وہاں رش اور پریشانی ہے وہ ہسپتال ہے، باقی سب بند۔ ہاں شاید ان لائن کاروباری لوگ اپنا کام اسی طرح یا اس سے بہتر چلا رہے ہیں لیکں باقی کاروبار اگر مکمل بند نہیں تو جزوی طور پر کھلے ہیں۔

ہر شخص کا کاروبار زندگی خراب اورلوگ گھروں میں نفسیاتی طورپر اسیر ہو گئے ہیں۔ گو کہ اس وبا کو محدور رکھنے کے لئے یہ وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ خم دار لکیر کو ہموار کیا جاسکے لیکں یہ اسیری کب تک؟ کچھ معلوم نہیں۔

ریاستی احکامات اور حالات کو مدنظر رکھ کر گھروں سے باہر جانے پر پابندی ہے۔ وہ لوگ باہر اپنا کام کرتے تھے، کماتے تھے اور وقت گزارتے تھے اب باہر جا نہیں سکتے تو اُن لوگوں پر ایک نفسیاتی دباؤ اور خوف طاری ہو چُکا ہے۔ اورساتھ زندگی کا سفربھی غیر یقینی ہے۔ یہ کسی کو نہیں معلوم کہ آنے والا معاشی، معاشرتی، تعلیمی اور سیاسی منظرنامہ کیا ہو سکتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ تبدیلی کے قوی امکانات موجود ہیں۔ اور لوگ یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ آنے والے حالات، گوکہ غیر یقینی ہیں، سے کس طرح مقابلہ کیا جائے۔ لوگ پریشان ہیں۔

حقوق نسوان اور دوسرے ادارون سے منسلک افراد گھرون میں ناچاقی، تشدد اور ابیوز کے خدشات بھی ظاہر کر رہے ہیں۔ چین کا علاقہ ووہان میں اس وبا کے دوران طلاق کے واقعات زیادہ ہونے کی وجہ سے اس قسم کے واقعات دوسرے ممالک اور علاقوں میں ہونے کے خدشات بھی ظاہر کیے جاتے ہیں؟

ملک میں حالات کے پیش نظر، اور بعد میں، بلکہ پوری دُنیا میں معاشی نظام، پیشہ ورانہ اداروں اور صحت کے حوالے سے بڑے پیمانے میں اصلاحات اور پالیسیون میں تبدیلی کی گنجائش ہے۔ اب یہ تبدیلی لوگوں کی زندگی کے حوالے سے کس طرح ہوسکتے ہیں جو کہ لوگوں کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ وہ وقت ہی بتائے گا۔

پاکستان جیسے غریب ملک جس میں عام آدمی کی اکثریت ہے وہاں لوگ اگر ذہنی اور نفسیاتی کوفت کا شکار اگر نہیں بھِی ہے تو اُن پر دباؤ آنے کی گنجائش موجود ہے جو کہ ایک طرف کورونا وائرس کی وبا اور اس سے منسلک زندگی کے مسائل جنم لے سکتے ہیں تو دوسری طرف ملک میں معاشی اور سیاسی تبدیلی سامنے آ سکتی ہے۔

لوگوں میں ذہنی کوفت، نفسیاتی تناو، اور معاشی دباؤ سے نمٹنے کے لئے ملک میں ریاستی اور نجی اداروں کو مل کرابھی سے کام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ وقت کے ساتھ اور حالات کے مطابق لوگوں کی ذہن سازی کا عمل بھی جاری رہے کیونکہ بیمار اور ذہنی تناؤ کا شکار معاشرہ ترقی کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments