پاکستان کی جنگ صرف کورونا سے نہیں ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند ماہ پہلے چین سے خبریں آنی شروع ہوئیں کے ووہان میں کوئی پراسرار وبا پھیل رہی ہے، لوگ اس پر تبصرے کرتے رہے، خبریں بڑھتی چلی گئیں اور چائنہ میں موجود پاکستانی طلبہ کے حوالے سے حکومت اقدامات پر سیاسی اور سماجی فورمز پر بحث بھی جاری رہی، پاکستانیوں کی اکثریت کا خیال تھا کہ اگر چائنہ سے آنے والے لوگوں کے حوالے سے ہم نے اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اور چوکس رہے تو یہ جو بھی وبا ہے یہ پاکستان تک نہیں آئے گی۔ تب تک یہ عالمی وبا قرار نہیں دی گئی تھی۔

چائنہ نے اپنی پوری طاقت سے اس کو روکنے اور اپنے ملک کے دوسرے حصوں میں پھیلنے سے بچانے کے لیے اقدامات کیے مگر دنیا کے دوسرے حصے میں اٹلی کے اندر کورونا وائرس کی گونج سنائی دینے لگی، پھر ایران اور سعودی عرب کا نام آیا اور ایک وقت آیا کہ پاکستان بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا جس میں کورونا وائرس کے کنفرم کیس رپورٹ ہوئے۔

کالم لکھتے وقت موجود تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دنیا میں کورونا وائرس کے کل کیسز کی تعداد پانچ لاکھ سے بڑھ چکی ہے جس میں آخری ایک لاکھ کا اضافہ پچھلے چوبیس گھنٹوں میں ہوا۔ امریکہ چائنہ اور اٹلی تینوں میں 80 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ کل 25 ہزار اموات میں سب سے زیادہ اٹلی اسپین اور چائنہ میں رپورٹ ہوئیں، پاکستان میں مریضوں کی تعداد تقریباً پندرہ سو ہے جس میں سے دس افراد جانبر نہ ہو سکے۔

پاکستان کو کورونا سے نمٹنے کے لیے محض کورونا کا چیلنج ہی درپیش نہیں ہے بلکہ معیشت، غربت، سماج، عقائد اور کئی دیگر مسائل بھی درپیش ہیں، اب تک کی صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کی انتظامیہ بیماری سے زیادہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عوامی رویے سے نبرد آزما ہے۔

سب سے پہلے تو اس کو محض چائنہ پر ایک وبا سمجھا گیا کہ وہ مذہبی آزادیوں کے خلاف ہیں سو یہ ہوا، جب یہ پاکستان میں آ گیا تو فرقوں نے ایک دوسرے پر انگلی اٹھانا شروع کر دی۔ جب ”مردم گریزی“ یعنی سوشل ڈسٹنسنگ کا کہا گیا تو عبادات کے اجتماعات پر اصرار کیا گیا جو کہ نہ صرف مسلم علماء بلکہ مسیحی علماء کی طرف سے بھی ہوا۔

عام لوگوں نے جب کسی سے ہاتھ ملانے کو منع کیا تو تعلقات میں دراڑ آ گئی، لوگوں کو جنازے محدود کرنے کا کہا تو بے عزتی کروا بیٹھے۔ شادیوں کے اجتماعات کو پولیس کے سخت چھاپوں کے ذریعے روکنا پڑا۔ ندیم افضل چن کو بار بار مہذب انداز میں جمع ہونے سے منع کرنے پر مختارے کا طعنہ سننا پڑا کہ اگر ڈیرے بند ہی کرنے ہیں تو سیاست چھوڑ کے گھر بیٹھ جائیں، جس کے جواب میں انہوں نے جو کہا وہ زبان زد عام ہو گیا۔

یعنی لوگ از خود معاملے کی سنجیدگی کو سمجھنے کو تیار نہیں ہوئے اس کی چند وجوہات ہیں

پہلی بات پاکستان میں حکومت کی کریڈیبلٹی کبھی بھی نہیں بننے دی گئی، ہمیشہ یہ تاثر رہا کہ حکومت درست بات نہیں کرتی اصل حقائق چھپا لیتی ہے، عام شہری اور ریاست کے کرتا دھرتا لوگوں میں اعتماد کا فقدان ہے،

دوسری بات، موجودہ حکومت کی ڈیڑھ سال کی کارکردگی ان کے دکھائے خوابوں کی مسلسل نفی تھی تو جب انہوں نے اس پر بات کی تو عوام جو ان سے متنفر تھے بات کو اہمیت دینے کو تیار نہیں ہوئے، یعنی حکومت اپنی زبان کی ساکھ قائم رکھنے میں کامیاب نہیں رہی تھی

تیسری بات ہمارے مذہبی طبقات نے ہمیشہ لوگوں کو بتایا کہ زندگی کے مطلق رہن سہن کے متعلق ہم بتائیں گے تو کورونا کے معاملے میں جو کہ صرف اور صرف لائف سٹائل کو تبدیل کرنے کا معاملہ ہے، مذہبی طبقات نے سمجھا کے حکومت ہماری حدود میں داخل ہورہی ہے اور بجائے اس کے کہ حکومت سے پہلے اعلان کر کے اعتماد قائم رکھتے حکومت اور اپنے آپ کو الگ الگ رکھا جس سے لوگوں میں حکومتی اعلانات کی پذیرائی نہ ہوئی، اورجب عبادت گاہیں بند ہوئیں تو اس اقدام کو بھی اچھے انداز سے نہیں لیا گیا۔

چوتھی بات یہ کہ پاکستان ایک ابتر معاشی حالت میں ہے، بہت بڑی آبادی خط غربت سے نیچے گزر بسر کر رہی ہے، ان کے لیے ملک بندی یعنی لاک ڈاؤن شاید کورونا سے نہیں بلکہ غربت اور بھوک سے موت کاپیغام ہو۔ ان کی سپلائز کا سوچنا اور ساتھ ملک بندی کا سوچنا کوئی آسان فیصلہ نہیں۔

پانچویں بات کہ اسکولوں کے معاشرتی علوم کے نصاب کی ماندگی کھل کر سامنے آئی، ہم دراصل معاشرتی علوم میں جدید رجحانات سکھانے میں ناکام رہے، ہم تعلیم دینے میں مجموعی طور پر اور معاشرت سکھانے میں بالخصوص ناکام رہے،

اب جب کہ یہ افتاد آن پڑی ہے تو ہمیں اس سے نکلنے کے لیے اقدامات کرنے ہیں، مگر یہ ضروری ہے کہ ہم آئندہ کے لیے اپنے قومی نصاب اور نظریہ حیات پر پھر سے گفتگو کریں، اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی طرف قدم بڑھائیں جو لکیر کا فقیر نہ ہو بلکہ عقل نئی ہوجانے سے اپنی صورت تبدیل کر سکے۔ خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *