ست ربڑی گیند اور گھڑوں کے ٹکڑے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پورا گاؤں ہی ہمارا کھیل کا میدان تھا۔ ہم بچے جہاں کھیلنے لگتے وہی ہمارا گراونڈ بن جاتا۔ کھیلنے کی ایک جگہ تو ایسی تھی کہ دنیا بھر میں ایسا خوبصورت اور موزوں گراؤنڈ کہیں نہ ہوگا۔ گورنمنٹ پرائمری سکول کا صحن۔ صحن کیا تھا جی! رب نے بچوں کے لئے جنت کا ایک ٹکڑا توڑ کر ہمارے گاؤں رکھ دیا تھا۔ نیم، بیری، شرینہہ، لسوڑی اور ٹاہلی کے ’ساوے کچوچ‘ ، ٹھنڈے ٹھار، سایہ دار پیڑ تھے۔ گرما کی چھٹیوں میں جون، جولائی کی دہکتی دوپہروں میں بھی سکول کے صحن میں یوں ٹھنڈک رہتی جیسے گاؤں کی عورتیں روٹیاں لگانے کے بعد تندور کی آگ پہ چلو بھر بھر پانی چھڑک جاتیں۔

سکول کے یہ پیڑ ہمارے ساتھ مل کر فیلڈنگ بھی کرتے تھے۔ ہم سے زیادہ وہ گیندیں روکتے۔ تماشائیوں کے بیٹھنے کا ساماں بھی ہوتے۔ آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں کا پویلین بھی نیم کی موٹی شاخوں کے درمیان سنگھاسن ہوتا جہاں ہم نیم دراز ہو جاتے۔ نیم کے پیڑ نے بھی شاخوں کی بانہیں کسی شفیق باپ کی طرح پھیلا رکھی تھیں جس میں ہم دبک کر بیٹھ رہتے۔ اس پہ چڑھنا بھی اتنا آسان تھا جیسے پکی جماعت کے بچے کے لئے پانچ تک گنتی سنانا۔ زمین کے قریب ہی اس کے تنے کے دو ’سانگ‘ بن گئے تھے۔ ہم اس پہ یوں بھاگ کے چڑھ جاتے جیسے چونترے کی سیڑھی ہو۔ قدرت نے شاید وہ پیڑ بچوں ہی کی سہولت کی خاطر اگایا تھا۔

سکول میں دو چار کھلاڑیوں سے بھی کھیل جم جاتا۔ لیگ سائیڈ پہ اسکول کی پانچ کمروں پر مشتمل بلڈنگ تھی۔ مشرق سے مغرب۔ مغرب کی جانب ایک چھوٹا سا کمرہ۔ عمارت یوں تھی جیسے انگریزی کا ایل یا پھر گنتی کے سات کا ہندسہ۔ اینٹوں کے درمیان لگے پلستر پر لائنیں کھینچ کر ہر اینٹ کو واضح کیا گیا تھا۔ کمروں کی عقبی دیواروں پر لوہے کی کھڑکیاں تھیں جن میں کبھی جالیاں اور شیشے بھی رہے ہوں گے۔ صرف ایک کمرہ بند رہتا تھا جس کی کھڑکیاں بھی پختہ اینٹوں سے چن دی گئی تھیں۔ شاید کچھ میز، کرسیاں، الماری، رجسٹر و دیگر کاغذات بند رہتے تھے۔ لیگ سائیڈ کی ہر شاٹ کمرے روک لیتے تھے۔ پھر درخت، چھوٹی، ٹوٹی پھوٹی چاردیواری، سب ہی تو تھے۔ گیند کو نکلنے کی جگہ مشکل سے ہی ملتی تھی۔

کرکٹ کھیلنے کے لئے ایک بلا اور ایک گیند کافی ہوتے۔ گیند بھی ’گھونی‘ ہوتی جسے ہم ’ست ربڑی‘ بھی کہتے تھے۔ وہ تو اب کہیں جا کے معلوم ہوا کہ ربڑ کی سات تہیں ہونے کی وجہ سے ست ربڑی نام پڑا تھا۔ تب ہم یہی سمجھتے تھے کہ شاید اچھی گیند شہر سے سات روپے میں ملتی ہوگی۔ وہ گیند بہت ڈھیٹ ہوا کرتی تھی۔ مار کھا کھا کے گنجی ہوجاتی۔ بالکل ویسے جیسے گرمی یا جوئیں زیادہ پڑنے کی وجہ سے ہم گاؤں کے بچے ٹنڈ کروا لیتے تھے۔ وہ گیند پھٹتی نہیں تھی۔ البتہ گیند گم ہو جانے کا دھڑکا تو سبھی بچوں کو لگا ہی رہتا۔

ہماری پچ بہت شاندار تھی۔ بارش، ہوا، دھوپ، چھاؤں، مٹی کا کچھ ایسا تال میل تھا کہ پچ ہموار اور سخت بن گئی تھی۔

ہم کھلاڑی برابر بانٹ لیتے اور جو بچ جاتا وہ ریلوکٹا دونوں ٹیموں کی طرف کھیل سکتا۔

ٹاس کرنے کو سکے تو ہوتے نہیں تھے۔ گھر سے جو ٹکی، ڈوڈھا، چوانی، اٹھانی یا روپیہ ملتا اس سے فوری مرنڈا ٹافیاں اڑا لیتے تھے۔ جو کھوٹاسکہ ہٹی والا نہ لیتا وہ جیب میں رہ جاتا۔ اس سے کبھی ٹاس کر لیتے۔ کھوٹے سکے بھی چل جایا کرتے تھے۔ سکہ اچھالتے۔ چن یا بت؟ ہر سکے کے ایک رخ پہ چاند ہوتا اور دوسری طرف پیسے لکھے ہوتے۔ رب جانے ہم اسے بت کیوں کہتے تھے۔

کھوٹا سکہ بھی نہ ہوتا تو ٹوٹے گھڑے کی ’بکری‘ (ٹکڑا) کی ایک طرف تھوک لگا کر اچھالتے۔ سن یا سک؟ گیلا یا خشک؟

ٹوٹے گھڑوں کے ٹکڑوں کی اسکول میں کمی نہ تھی۔ سکول کے پڑوس میں بابا محمد یار کمہار کا گھر تھا۔ بے چارے کی آوی سے ٹوٹے یا پلے گھڑے نکلتے ہوں گے۔ کھوٹے سکوں کی طرح ان کی بھی کوئی قدر نہیں ہوتی ہوگی۔ تڑکے ہوئے بھانڈے بھلا بابے ممے کے کس کام کے۔ وہ بیکار گھڑے ٹکڑے ٹکڑے ہو جا بجا بکھر جاتے تھے۔ انہیں سے ٹاس کرتے ہم۔ سن یا سک؟

یہی ٹکڑے مارمار ہم بیریوں سے بیر گراتے۔ برکھا رُت میں بارش کے کھڑے پانی میں بھی یہی ’بیکریاں‘ مارکر اچھالتے تھے۔ پانی کی سطح پر ٹکرا کر کیسے اچھلتیں، گرتیں، پھر اچھلتیں اور گرتیں تھیں۔ پانی پہ کتنے دائرے ابھر آتے تھے اور ان کی لہریں کناروں سے ٹکرا کر دم توڑ دیتی تھیں۔ کس کی بکری پانی پہ زیادہ ٹھپے کھائے گی۔ یہ مقابلے ہوتے تھے۔ کوئی جیت ہار نہیں ہوتی تھی۔ بس سبھی جیت سے جاتے تھے۔

سکول کے پچھواڑے جب واٹر سپلائی کی ساٹھ فٹ اونچی ٹینکی بنی تھی تب یہی گھڑوں کے ٹکڑے ہم ٹینکی کے اوپرسے گزارتے تھے۔ ہوا کے دوش کیسے سنسناتی تیرتی جاتی تھیں یہ بیکریاں۔ کبھی بلا نہ ہوتا تو یہی بکریاں جوڑ کر ہم پٹھو گرم کھیلتے۔ ننگے پاؤں بھاگتے دوڑتے یہ بکریاں تلووں میں دھنس جاتی تھیں اور وہ زخم کئی کئی دن نہ بھرتا۔ ہم لنگڑاتے پھرتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

احمد نعیم چشتی

احمد نعیم چشتی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ سادہ اور چھوٹے جملوں میں بات کہتے ہیں۔ کائنات اور زندگی کو انگشت بدنداں تکتے رہتے ہیں۔ ذہن میں اتنے سوال ہیں جتنے کائنات میں ستارے۔ شومئی قسمت جواب کی تلاش میں خاک چھانتے مزید سوالوں سے دامن بھر لیا ہے۔

ahmad-naeem-chishti has 52 posts and counting.See all posts by ahmad-naeem-chishti

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *