کورونا وائرس کی فکر نہ کی جائے، وزیر اعظم اپنا کام کر رہے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم نے کورونا وائرس سے پیدا شدہ بحران سے نمٹنے کے لئے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے اور کہاہے کہ ان کی حکومت بدترین صورت حال کا مقابلہ کرنے کی تیاری کررہی ہے اور اس کی منصوبہ بندی کرلی گئی ہے۔ اس منصوبہ بندی کی تفصیل تو سامنے نہیں آئی تاہم سینئر صحافیوں کے ایک گروپ سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے امدادی فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا تاکہ مخیر حضرات اس میں رقوم جمع کرواسکیں۔ اس کے علاوہ اوورسیز پاکستانیز کے لئے ایک خصوصی اکاؤنٹ کھولا جائے گا۔ وزیر اعظم نے بیرون ملک پاکستانیوں سے اپیل کی ہے کہ اس بحران میں زیادہ سے زیادہ زر مبادلہ پاکستان بھیجیں تاکہ ملک زرمبادلہ کے بحران سے بچ سکے۔

اس سے قبل حکومت آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کا فوری پیکیج مانگ چکی ہے۔ اطلاع ہے کہ آئی ایم ایف ہنگامی بنیادوں پر یہ فنڈ فراہم کرنے کے لئے اقدام کرے گا۔ وزیر اعظم نے بحران سنگین ہونے پر غریبوں کو گھروں تک اشیائے خورد و نوش پہنچانے کے لئے ایک خصوصی یوتھ فورس منظم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فورس میں رضاکاروں کی رجسٹریشن براہ راست وزیر اعظم ہاؤس کے سٹی پورٹل سے کی جائے گی۔ عمران خان کا خیال ہے کہ بحران کی صورت میں یہ ’شیردل جوان‘ متاثرہ علاقوں میں سپلائیز بحال رکھنے کا کام کریں گے۔ وزیر اعظم نے ملک میں خوراک کی ترسیل کے لئے ٹرانسپورٹ بحال کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ ان اقدامات کا اعلان کرنے کے باوجود وفاقی حکومت بدستور اس بے یقینی کا شکار ہے کہ ملک میں لاک ڈاؤن کس حد تک مسئلہ کا حل ہوسکتا ہے۔

وفاقی یا صوبائی حکومتوں کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ کورونا وائرس پھیلنے کی صورت میں عوام کو کوئی ریلیف فراہم کرسکیں۔ اس وقت امریکہ اور یورپی ممالک جیسے کثیروسائل کے حامل ممالک میں بھی متاثرین کو طبی سہولتیں فراہم کرنے کے میں شدید مشکلات کا سامناہے۔ اس وبا کے سبب اٹلی اس وقت دنیا میں کےسب ملکوں سے زیادہ متاثر ہؤا ہے۔ اس کے پاس کورونا وائرس سے بیمار ہونے والوں کی مناسب دیکھ بھال کا انتظام نہیں ہے۔ خاص طور سے تنفس بحال کرنے کی مشینیں وینٹی لیٹرز کی شدید کمی محسوس کی جارہی ہے۔ سانس کی تکلیف میں مبتلا ہونے والے سب مریضوں کو وینٹی لیٹر نہیں مل سکتا جس کے سبب متعدد لوگ ضروری امداد کے بغیر ہلاک ہورہے ہیں۔ وہاں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ایک ہزار کے لگ بھگ افراد کورونا کے سبب ہلاک ہوئے۔ اس طرح صرف اس ایک ملک میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد دس ہزار تک پہنچنے والی ہے جبکہ دنیا میں اس وباکے سبب پچیس ہزار کے لگ بھگ لوگ جان سے گئے ہیں۔

دنیا کےسب سے طاقت ور اور باوسیلہ ملک امریکہ کا یہ عالم ہے کہ وہاں پر کورونا کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث ایک وینٹی لیٹر کو دو افراد کے لئے استعمال کرنے کا تجربہ کیا جارہا ہے۔ خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بعض امریکی ریاستوں میں بنیادی طبی ساز و سامان کی اتنی کمی ہے کہ نرسیں اور ڈاکٹر استعمال شدہ ماسک استعمال کرنے پر مجبور ہیں یا پلاسٹک کے تھیلوں کو حفاظتی کٹ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ کووڈ۔19 نام کی وبا نے پوری دنیا کو یوں اپنے شکنجے میں لیا ہے کہ ہر ملک اپنے لوگوں کی دیکھ بھال کرنے میں مصروف ہے اور اس کے پاس غریب ملکو ں کو تکنیکی یا عملی طبی امداد فراہم کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ چین نے اس وائرس کا سب سے پہلے سامنا کرتے ہوئے فروری کے دوران اس پر قابو پالیا تھا ، اس لئے وہ دنیا کو وائرس سے بچاؤ کے لئے درکار ساز و سامان فراہم کررہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی گزشتہ روز چینی صدر زی جن پنگ سے ٹیلی فون پر طویل گفتگو کی اور کورونا کا مقابلہ کرنے کے لئے تعاون پر آمادگی ظاہر کی۔ اس گفتگو کا بنیادی مقصد امریکہ کے لئے ضروری طبی و حفاظتی ساز وسامان کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔ اس سے قبل امریکہ جنوبی کوریا کے ساتھ بھی طبی آلات و ساز وسامان فراہم کرنے کا معاہدہ کرچکا ہے تاکہ ملک میں مریضوں تعداد میں اضافہ کی وجہ سے بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو پورا کیا جاسکے۔

یورپ اور امریکہ کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ پاکستان جیسے غریب ممالک جن کے وسائل بھی کم ہیں اور معاشی ترجیحات بھی عوام دوست نہیں رہیں، کیوں کر اس شدید بحران کا سامنا کرسکیں گے۔ اسی لئے گزشتہ کئی ہفتوں سے لاک ڈاؤن کی اہمیت اور اس وبا کے پھیلنے کی صورت میں پیدا ہونے والے سماجی اور معاشی بحران کا سامنا کرنے کے لئے قومی یک جہتی کی ضرورت پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نہ صرف اس مقصد میں ناکام رہے ہیں بلکہ وہ ہر گفتگو میں اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ان کی سوچ درست ہے اور انہیں کورونا سے پیدا ہونے والے بحران میں کسی کی رائے یا تعاون کی ضرورت نہیں ہے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کی طرف سے پارلیمانی لیڈروں کے اجلاس کو وزیر اعظم نے خود اپنے متکبرانہ رویہ کی وجہ سے سبوتاژ کیا۔ اسی طرح وہ یا تو قوم کے نام ویڈیو پیغام جاری کرتے ہیں یا من پسند صحافیوں کو طلب کرکے کورونا پر حکومتی پالیسی کے بارے میں’ لیکچر‘ دیتے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی صحافی متنازعہ یا چبھتا ہؤا سوال پوچھ لے تو تحریک انصاف کا جنگجو سوشل میڈیا بریگیڈ اس کی گت بنانے پر تیار رہتا ہے۔

وزیر اعظم نے اس شدید بحران کے دوران ایک بار بھی باقاعدہ پریس کانفرنس کرنے اور صحافیوں کے سوالوں کا کھلے دل سے جواب دینے کی کوشش نہیں کی۔ ان کے مقابلے میں امریکی صدر اپنے تمام تر تکبر اور منہ زوری کے باوجود روزانہ کی بنیاد پر میڈیا کے نمائیندوں سے بات کرتے ہیں اور صدر کے معاونین حکومت کی عملی و معاشی اقدامات کے بارے میں مطلع کرتے ہیں۔ عمران خان اس کے برعکس روز اوّل سے یہ باور کروانے کی کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان کے پاس کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کے وسائل اور صلاحیت نہیں ہے۔ آج بھی انہوں نے واضح کیا کہ امریکی صدر نے کورونا مالی پیکیج کے تحت دو کھرب ڈالر فراہم کئے ہیں جبکہ پاکستان کی سالانہ آمدنی کا تخمینہ 45 ارب ڈالر ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس صورت میں جو کرنا ہے وہ دوسروں نے ہی کرنا ہے۔ امیر ملک امداد کریں، اوور سیز پاکستانی ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کریں اور مخیر حضرات چندہ دیں تاکہ بحران زدہ غریبوں کے کھانے پینے کا اہتمام ہوسکے۔ ایسے میں سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ کیا وزیر اعظم کا کام صرف کاسہ گدائی لے کر دست سوال دراز کرنا ہی رہ جاتا ہے؟ حالانکہ اقتدار میں آنے سے پہلے وزیر اعظم قرض نہ لینے اور قوم کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے دعوے کرتے رہے تھے۔

غریب ملکوں کی کم تر مالی استطاعت اور ناقص طبی نظام کی وجہ سے کورونا وائرس کی روک تھام کا ہی ایک آپشن باقی رہ جاتا ہے۔ اس کے لئے قومی سطح پر وہی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت تھی جو سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے ایک ماہ پہلے سے اختیار کرنے کی کوشش کی اور وزیر اعظم جس کی بدستور مخالفت کررہے ہیں۔ یہی حکمت عملی بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے تین روز پہلے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے اختیار کی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ پاکستان ہو یا بھارت، اس قسم کے فوری اور شدید لاک ڈاؤن سے وسیع غریب آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہوگا۔ لیکن کورونا وائرس جس تیزی سے پھیلتا ہے اور اس کی گرفت جس سرعت سے مضبوط ہوتی ہے، اس کی روشنی میں کم وسیلہ ملکوں کے پاس ایسے انتہائی اقدام کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔ یہ وائرس پلاننگ کرنے یا سیاسی دشمنیاں نمٹانے کا موقع نہیں دیتا اور نہ ہی اللہ پر توکل کے ذریعے اس کی زد سے بچنے کی امید کی جاسکتی ہے۔

چین میں وائرس پھیلنے کے بعد سے پاکستان کے پاس اس وائرس سے بچاؤ اور روک تھام کی منصوبہ بندی کرنے کے لئے مناسب وقت تھا۔ خاص طور سے ووہان میں سینکڑوں پاکستانی طلبہ کو واپس بلانے سے انکار کرتے ہوئے حکومت کو اس بات سے آگاہ ہونا چاہئے تھا کہ کسی بھی ذریعہ سے جلد یا بدیر یہ وائرس پاکستان بھی پہنچے گا۔ اس وقت اگر سرحدوں کو کنٹرول کرنے اور زمینی سرحدوں پر کورونا ٹیسٹ اور قرنطینہ کی سہولتوں کا انتظام کر لیا جاتا تو اس مشکل سے بچا جاسکتا تھا جو اب کسی بھی وقت پاکستانیوں کا مقدر بن سکتی ہے۔پریشانی کی بات یہی ہے کہ اس وائرس کے 1300 سے زائد کیس سامنے آنے کے باوجود حکومت کوئی مبسوط اور ہمہ جہت حکمت عملی بنانے میں کامیاب نہیں ہے۔ ایک طرف ملک کے ملاّ اس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ مساجد میں نماز باجماعت کا اہتمام ترک نہیں کیاجاسکتا اور صدر مملکت انہیں الازہر کا فتویٰ دکھا کر اور مشاورت سے قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یا وزیر اعظم سرکاری مولویوں سے دعاؤں کا اہتمام کرواکے ، اس بات پر مطمئن ہیں کہ اب یہ وبا ٹل جائے گی۔

اس وبا نے ایک طرف حکومت کی نااہلی اور بدانتظامی کا پول کھولا ہے تو دوسری طرف پاکستان میں معاشی ترجیحات کے حوالے سے بھی سنگین سوالات سامنے آئے ہیں۔ کیا کوئی ایسا ملک بھاری بھر کم فوج کھڑی کرنے اور ایٹمی ہتھیار بنانے کا متحمل ہوسکتا ہے جس کے پاس اپنے لوگوں کی زندگی بچانے کے انتظامات بھی نہ ہوں۔ موجودہ صورت میں ملک میں موجود وینٹی لیٹرز اور پاک فوج کو دستیاب ٹینکرز کا موازنہ بھی کیا جارہا ہے۔ قیاس ہے کہ ملک میں وینٹی لیٹرز کی تعداد ٹینکوں سے کم ہے۔ بدنصیبی سے کوئی ٹینک کورونا وائرس کا شکار کسی مریض کی جان بچانے کے کام نہیں آسکتا۔ یہ بحران گزر جانے کے بعد اہل پاکستان کو ان ترجیحات پر غور کرنا ہوگا۔ سوچنا پڑے گا کہ کیاعسکری تیاری کی بجائے صحت و تعلیم کے لئے وسائل فراہم کرنا بہتر نہیں ہوگا۔

ترجیحات تبدیل کرنے کی بات کرنا آسان ہے لیکن موجودہ حالات میں ان پر عمل درآمد کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ وجہ صاف ظاہر ہے۔ کورونا پھیلے یا یہ ہزاروں لوگوں کی جان لے لے قومی سلامتی و مفاد کے نام سے جاری پالیسیوں میں تبدیلی کے لئے جس مزاج اور قومی شعور کی ضرورت ہے، وہ دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف نیب کراچی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری سے یہ بات مزید واضح ہوتی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایل ان جی کیس میں شاہد خاقان عباسی کی ضمانت لیتے ہوئے یہ سوال اٹھایا تھا کہ نیب کس طرح محض مفروضوں کی بنیاد پر کسی شہری کو طویل عرصہ تک حراست میں رکھ سکتی ہے۔ نیب کراچی کا اعلامیہ اس بات کا ثبوت فراہم کرتا ہے کہ ملک کا نظام بدستور پرانی روش پر رواں دواں ہے۔ اس کے لئے نہ کورونا کے پھیلاؤ کی سنگین صورت حال کوئی اہمیت رکھتی ہے اور نہ ہی کسی عدالت کے ریمارکس اس کا راستہ تبدیل کرسکتے ہیں۔

اس پس منظر میں کورونا کے عذاب سے بخیریت نکلنے کی دعا کرتے ہوئے اہل پاکستان اس حقیقت سے ’اطمینان ‘ حاصل کرسکتے ہیں کہ ملک کے وزیر اعظم مستعدی سے اپنے طے شدہ اہداف پر کام کررہے ہیں۔ کورونا وائرس کا بحران بھی نکل جائے گا، گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1504 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *