محسن داوڑ سے ماریہ بی تک : کہانی ”ایک پیج“ پھٹنے کی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ملک میں قائم سویلین سیٹ اپ اور مقتدر حلقوں میں اس وقت ایک دوسرے کے خلاف کشمکش نظر آتی ہے، جس کا تازہ ترین مظاہرہ بدھ کے روز پارلیمانی ”آل پارٹیز کانفرنس“ سے وزیراعظم کا درمیان ہی میں آٹھ کر چلے جانے سے ہوا، ذرائع کے مطابق مقتدر حلقوں نے بڑے جتن کر کے حکومتی و اپوزیشن جماعتوں سمیت سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈروں کی وڈیو لنک پر یہ کانفرنس منعقد کروائی تھی تاکہ ملک کو درپیش کرونا وائرس کے سنگین قومی بحران پر قومی یکجہتی، ہم آہنگی اور ملی یک سوئی عمل میں لائی جا سکے اور ایک متفقہ لائحہ عمل مرتب کیا جا سکے۔ ۔

اس سلسلے میں جہاں ایک طرف سب سے بڑی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (نون) کے صدر شہبازشریف کو پاکستان آنے والی آخری پرواز سے لندن سے بلایا گیا تو دوسری طرف دوسری بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو یہ کہہ دینے تک پہ رام کیا گیا ”یہ میرا وزیراعظم ہے“ مگر ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان اس اے پی سی کے حق میں ہی نہیں تھے۔ ۔

ذرائع کے مطابق شہبازشریف کو غیر علانیہ پنجاب کو سنبھالنے اور ”کرونا بحران“ سے بچانے کا ”خاموش مینڈیٹ“ دیتے ہوئے صوبے میں اہم انتظامی عہدے داروں کو خاموشی کے ساتھ شہبازشریف کو رپورٹ کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں، چنانچہ مبینہ طور پر کم از کم تین اہم بیورو کریٹس نے صورت حال پر باری باری شہباز شریف کو بریفنگ دی۔ ۔

بتایا جاتا ہے کہ جب وزیراعظم کو اس کا پتہ چلا کہ جو حقائق ملک کے وزیراعظم اور سی ایم پنجاب عثمان بزدار کو بھی نہیں بتائے گئے ان سے سابق وزیراعلیٰ پنجاب کو آگاہ کیا گیا ہے تو وزیراعظم اس پر اپنا ردعمل دکھاتے ہوئے پارلیمانی APC چھوڑ کر چلے گئے، اور یوں بالادست قوتوں کی انتھک کوششوں سے وزیراعظم کی منشا کے خلاف انعقاد پذیر ہونے والی یہ اے پی سی ناکامی سے دوچار ہوگئی۔ ۔ ۔

دوسری طرف بدھ ہی کے روز جہاں پرائم منسٹر ہاؤس ملک بھر میں لاک ڈاؤن جاری رکھنے اور ٹرانسپورٹ کی بندش سمیت اسے مزید سخت کرنے کی مخالفت پر ڈٹا ہوا تھا وہیں چاروں صوبوں کے حکومتی نمائندے اسے جاری رکھنے کی ”آن ایئر“ حمایت کرتے نظر آئے۔ اس صورتحال میں حکمت عملی کے بارے میں وفاق کا کنفیوژن لوگوں کے ذہنوں میں کئی اھم سوالات کو جنم دے رہا ہے

ذرائع کا کہنا ہے کہ کل تک بے مثال انداز میں ”ایک پیج“ پر ہونے والوں کے درمیان دوریوں اور آج ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہو جانے کی کہانی دو ہفتے قبل اس وقت واضح ہونا شروع ہوگئی تھی جب وزیراعظم نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اپنے وزیر داخلہ کو ہنگامی ہدایات جاری کیں کہ فاٹا کے دو اراکین قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کو افغان صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے کابل جانے دیا جائے حالانکہ ان کے نام ای سی ایل میں شامل تھے اور مقتدر حلقے ان دونوں ایم این ایز کو افغانستان جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ ۔

بتایا جاتا ہے کہ دو روز قبل ”فریق ثانی“ نے مقامی افسران کے ذریعے فیشن ڈیزائنر ماریہ بی کے شوہر کو فوری رہائی دلوا کر گھر بھجوا دیا جس کے خلاف سنگین کوتاہی کے ذریعے کرونا وائرس پھیلانے میں مددگار ہوسکنے کے جرم کا مقدمہ درج تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *