آقا و غلام: کرونا اور انسان‎

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اچھا انسان اچھائی اور برا انسان برائی سے دور نہیں رہ سکتا۔ ایمان ‎والا ایمان قائم رکھتا ہے اور میرا یہ ایمان ہے کہ زندگی اس کی عطا کردہ ہے سو جس نے عطا کی ہے اس کو واپس لینے کا حق ہے، جو بر حق ہے۔ مگر انسان تو اپنے ادھر مختصر دررانیئے میں کبھی مالک بن بیٹھتا ہے تو کبھی propagation کے سبب خالق کے منصب کا حق بھی مانگتا ہے۔ تماشا لگاتا ہے، ہر طرح کی منڈیوں کے بھاؤ بناتا ہے۔ جب کسی کو اپنے سے اوپر سر اٹھاتا دیکھ لے تو قسی القلب اور کٹھور بن جاتا ہے۔ حتی کہ اپنے ہاتھ سے لگائے پودوں کو پھلتا پھولتا ذات باری تعالی کے سوا کوئی بھی نہیں دیکھ سکتا۔

بنی نوع انسان سے لے کر چھوٹے چھوٹے جانداروں میں بھی کینہ پروری اور بغض کا جذبہ حسد کی شکل میں اس کی بربادی اور بدسگالی کا آرزومند ہونے لگتا ہے۔ پچھلے ایک زمانے سے انسان اس کرۂ ارض ہر دندناتا پھر رہا ہے اپنی حاکمیت کو برقرار رکھنے کے لئے قوانین کی ترتیب و تعبیر بھی اپنے وسیع تر مفادات، منفعت اور لابھ کے لئے ہی بناتا ہے۔ زمین کی حد سے پار نکل کر چاند کو چاندنی کے ساتھ زمین پر اتارنا چاہ رہا ہے، سورج کی تپش میں شجر سایہ دار اور گل و لالہ کے بیج بونے کا خواۂاں رہا ہے۔ دفعتا قدرت میں بگاڑ سے کہیں زیادہ ہمارے دلوں، ذہنوں اور میتوں میں بد خواہی کے جذبے پروان چڑھنے لگے۔ جو ایک ترقی یافتہ انسان کے دوسرے انسان کے لئے تھے۔ اس کی قوت کے کھممنڈ نے دنیا کو اندھا کرتے کرتے خود اسے ہی نابینا کردیا۔ بھاگتے، دوڑتے، اُڑتے جدید انسان کے پاس پل

بھر کی فرصت نہیں تھی کہ رک کر کچھ اپنے گرد دیکھتا کہ اس کی ترقی انفرادی نہیں بلکہ پورے ماحول کی ترقی ہو رہی ہے۔ بالفاظ دیگر ترقی کی محفل صرف اس ہی کے طecological systemکو نہیں گرنا رہی وہ باقی ماندہ میں بھی تبدیلیاں (mutations ) لا رہی ہیں۔ تب ہی تو انسان سے بھی نہ ڈرنے والا انسان آج ایک یک خلوی وائرس سے ڈر رہا ہے یہ کرونا ”covid 19“ جو ہم تک 2020 میں پہنچا مگر چین اور ایران میں 2019 میں حملہ آور ہو چکا تھا۔

یہ ناتواں یک خلوی وائرس جس کا اپنا خوراک بنانے کا نظام بھی نہیں، جس میں ڈی این اے بھی نہیں بس messenger RNA ہی ہے، اس میں cytoplasm بھئی نہیں ہوتا، بس یہ تو ایک جرثومہ ہے جو اپنی خوراک بھی کسے دوسرے جاندار کے اندر جاکر بناتا ہے اس کی زندگی کی بقا کا انحصار اپنے میزبان (host ) پر حملہ کر کے اس جاندار کو اپنا غلام (Slave) بنا کر (host slave relationship) سپنا لیتا ہے۔ اب اس جاندار کے اندر اس حملہ آور یعنی نئے مالک کا حکم چلنے لگتا ہے۔ حتی کہ وہ غلام جاندار کے اندراپنی خوراک کی فیکٹریاں لگا لیتا ہے ؛ اور یوں میزبان (host) کے جسم کے اندر اس حملہ آور وائرس کا مکمل قبضہ ہو جاتا ہے۔ چند ہی دنوں میں غلام جاندار ( بشمول انسان ) جس میں قوت مدافعت میں کمی ہونے کے باعث اس حملہ آور کے خلاف لڑنے کی قوت ختم ہونے لگتی ہے۔ اس طرح کرناوائرس انسان کے نظام تنفس سے لے کر جسم کے ہر حصے میں اپنی کالونیاں بنا کر غلام (انسان) کی بربادی (موت) کا باعث بن جاتا ہے۔

بات صرف یہاں تک ختم نہیں ہوتی ہر ”غلام“ یعنی وائرس کے حملے کی زد میں آنے والا انسان دوسرے اپنے گرد کے انسانوں جو یہ تحفہ (کرونا وائرس کی وبا)

کسی بھی تعلق سے باآسانی منتقل کرتا ہے۔ جس میں منہ، ناک، آنکھوں حتی کہ چند صورتوں میں جلد کی جھلیوں سے بھی اپنے میزبان کے اندر داخل ہو سکتا ہے۔

کرونا وائرس 19 گتے کے بورڈ پر چار گھنٹے، شیشے کی سطح پر نو دن، پلاسٹک اور سٹیل کی سطح پر تین دن تک رہتا ہے۔ یہ وائرس ایک سے گیارہ ماہ کے نومولود بچوں پر بہت کم حملہ آور ہو سکتا ہے کہ ان کے پھیپھڑوں میں دوآذر ( receptors) نہیں ہوتے۔ اس کے برخلاف ایک سال سی لے کر بارہ سال اور پھر پچاس سے اوپر کی تمام کی تمام عمروں میں قوت مدافعت کے کم ہونے کی وجہ سے یہ وائرس حملہ آور ہو کر جسم میں افزائش کو تیز رفتاری سے بڑھاتا ہے اور یوں چودہ دن میں آقا اور غلام کی اس جنگ میں علامات بھی ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ جس میں حملے کی صورت میں مریض کو کھانسی، بخار، نزلہ اور جسم میں درد ہوتا ہے اور بالآخر سانس لینے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔

کیونکہ کرونا وائرس سانس کی نالی میں ہی اپنی کاکونیں کے ہیڈ کوارٹر بناتا ہے اور یوں وہ پھیپھڑوں کو اندر ہی اندر سے ناکارہ بنا کر نظام تنفس کو تباہی برباد کر کے ساتھ ہی ساتھ یہ پورے جسم میں اپنی کالونیاں بنا کر اس جسم کو ہی صرف غم نہیں دیتا بلکہ مرنے والا انسان ( غلام ) دوہرا غم دے جاتا ہے۔ اوّل تو عزیزوں سے جدائی کا غم اور دوسرے ”غمزدہ امانت“ کی لاش کا بوجھ جس کو ہر صورت جلد از جلد سپرد خاک یا سپرد نار کرنا اشد ضروری ہو جاتا ہے، وہ اس لئے کہ اس جسم میں پرورش پانے والے آقا کرونا وائرس نے اپنی جنگ جیت لی تھی 1793 جے ایچ پاول نے فلاڈیلفیا کی وبا

Yellow fever

پر ایک ناول Bring out your dead

لکھا، جس میں مرنے والا وباء کی موت سے پہلے اپنوں کی جدائی اور بے رحمی کے غم سے مر جاتا ہے ؛ گویا دوہری موت کا غم بھی وباؤں کے موسموں میں نصیب بنتے ہیں۔

آج 22 مارچ ہے اور موسم بہار ہے مگر آج کا ترقی یافتہ انسان احساس محرومی اور خوف وحزن کے بالکل ایک نئے مقام پر کھڑا ہے جہاں پر غم کے لامتناہی سلسلے اسے نظر آرہے ہیں۔ وہ بے بس ہے وہ ان حملہ آوروں کو انسانی رویوں سے ہی ٹریٹ کر رہا ہے، وہ کھلی آنکھ سے نظر آنے والے عظیم الجثہ کو طاقت ماننے کا عادی رہا ہے، مگر وہ بھول جاتا ہے کہ قدرت میں پائے جانے والے ذرے ذرے کو حساب دینا ہے اور اپنے اپنے مدار میں رہ کر عمل کی چکی کو کلاک وائز چلانا ہے۔

ذات مطلق نے یہ سب اپنی صفات تجلی کے واسطے بنایا ہے، جیسے روشنی کو دیکھنے کے لئے سورج کے ساتھ ساتھ بصارت چاہیے، مگر انسان تو بصارت کے بل بوتے پر روشنی کو نیچا دکھانے لگا تھا۔ کیوں ہر مرتبہ بھول جاتے ہیں کہ یہ کائنات ایک مکمل توازن کے ساتھ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنی بقا کے ساتھ ساتھ اپنے گرد پائے جانی والی قدرت کی بقا میں دخل اندازی نا کرے، ورنہ یہ قدرت جو آج کل کرونا وائرس 19 کی شکل میں ترقی یافتہ نسل انسانی کی تباہی کا باعث بنتی اور کسی بھئی میزائل اور مہلک ہتھیار سے زیاد طاقت طور ثابت ہو رہی ہے۔

اقبال زبور عجم میں بیان کرتے ہیں
می ود پردۂ چشم پر کاہے گاہے

دیدہ ان ہر دو جہاں رابنگاہے گاہے ہر ذی شعور کے ذہن میں بے شمار سوال اٹھ رہے ہیں کہ آخر اس ”mutant virus“ کو بنانے اور ساری دنیا میں یکساں انداز میں پھیلانے والا کون ہے ؛؟ جواب کے لئے ہر مرتبہ ہر انسان اپنا دشمن انسان کو ہی سمجھتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے سے زیادہ عقل ودانش اور طاقتور کسی دوسری مخلوق کو سمجھتے ہی نہیں۔ ایک لمحے کو مان لیں کہ یہ حیاتیاتی جنگ کا آغاز ہے اور دنیا پر بالا دست طاقتوں کا ہی ایک عمل ہے۔

ہم یہ بھی مان لیں کہ کسی نئی ابھرتی سپر پاور کو روکنے کی تاویل ہے یا نئی سیاسی و سماجی تہذیبوں کی کروٹ ہے۔ ہر کسی صورت میں اس ابتلائے ناگہانی میں صرف اور صرف بنی نوع انسان ہی پریشان نظر آرہا ہے۔ باغوں میں بہار ہے، جنگلوں میں عالم حیوانات ہے، آسمانوں پہ چرند پرند لمبی پروازوں پر ہیں اور سمندروں میں آب حیات موج مستی سے کاروبار حیات میں مست ہے۔ مگر بے کس انسان تو کسی سے کیا اپنے آپ سے خوفزدہ ہے۔ امیرو غریب سب کو اس آقا نے غلام بنانے کے امکانات بھی یکساں رکھے ہیں۔ ایسے ماحول میں لاچار وبے بس انسان کا دھیان منفعت پروری اور سرور زندگی کی طرف نہیں، بس سانسوں کی بھیک مانگ رہا ہے اور وہ بھی صرف اپنے لئے نہیں بلکہ نیو یارک مین ہیٹن اور براڈ وے سے لے کر نیو یارک بروکلن اور برونکس کے گوروں، سیاہ فام، مسلمانوں، یہودیوں، عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی۔

اٹلی کے شہر میلان اور دیگر شہریوں کی۔ ایران کے مسلمانوں کی۔ چین کے باسیوں کی۔ فرانس لندن، اسپین، آسٹریا، ترکی اور پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ زمین پر پائے جانے والے تمام انسانوں کی بقا کی۔ زندگی دیپک راگ گانے پر مصر ہے، مگر اس سیارے پر لطفوسرور ر بہار کا مزہ انسانی بقا سے ہی قائم ہے۔ زندگی سے اگر زندگی ملے تو افزائش بہار ہے مگر اب تو زندگی موت بانٹتی نظر آرہی ہے، زندگی اندیشہ ء زیاں کا پیام بانٹ رہی ہے۔

ارے رکو رکو ابھی وہ ایک انسان جسے ”آدم“ نے جنا تھا وہ ابھی زندہ ہے۔ وہ ”ایک“ ہے مگر اپنے اندر جھانک کر دیکھ رہا ہے تو اپنے ہی طرح کے بے شمار نوری وجود اس کو نظر آرہے ہیں۔ جو ترانۂ فضیلت، ترانۂ فوقیت اور ترانۂ سبقت نہیں ترانۂ خیر گا رہے ہیں۔ تب ہی تو روشنی اندھیرے میں چپ سادھ کھڑی دوسروں کو روشن کر رہی ہے، اور عبادت گزار سجدہ کرنے والے زمین ہر خدا کو نہیں بلاتے بلکہ اس تک پرواز کرنے کے لئے خود کو مٹا دیتے ہیں۔ ہر طرف شور مچا ہے کہ جان سے ہاتھ دھونے سی بچنے کے لیے پانی اور صابن سے ہاتھ دھوئیں ؛دشمن سے بچنے کے لئے ہمارا اندر بھی دھلا اور شفاف ہونا چائیے۔ پس ”احساس پروگرام“ ہو یا احساس دل میں ہو آقا حکام اور حکام آقا بن جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply