All The Light We Can not See: محبت اور جنگ کی ایک عجب کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انتھونی ڈوئر عصر حاضر کے ابھرتے ہوئے امریکی ادیب ہیں۔ جن کی اب تک ایک سوانح عمری، دو افسانوی مجموعے اور دو ناول منظر عام پر آ چکے ہیں۔ ”آل دا لائٹ وی کین نوٹ سی“ ان کا دوسرا ناول ہے جو 2014 ء میں شائع ہوا۔ اور 2015 ء میں اس ناول نے پلتزر انعام اور اینڈریو کارنیج میڈل جیسے انعامات جیتے۔ اس ناول میں دوسری جنگ عظیم کے دوران دو نو عمروں کی کہانی بیان کی گئی ہے، ایک نازی قبضے میں آئے فرانس کی نابینا لڑکی اور دوسرا جرمن یتیم لڑکا جسے نازی فوج میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ ناول جنگ کے المیے کی ایک تحقیق ہے۔ امیدوں سے بھرپور کردار اپنے اردگرد کے تشدد سے دل دہلا دینے والی یاسیت میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس ناول نے مشترکہ انسانیت کی طرف توجہ مبذول کی ہے جو ہمیں اختلافات سے ابھر کر ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

کہانی کچھ یوں ہے کہ 1934 ء میں چھ سالہ نابینا لڑکی ”میری لوری لی بلینک“ پیرس میں اپنے والد کے ساتھ رہ رہی ہے جو پیرس کے میوزیم آف نیچرل ہسٹری میں قفل ساز ہے۔ اس نے میوزیم میں چھپائے گئے پتھر ”سی آف فلیمز“ کے بارے میں کئی کہانیاں سن رکھی ہیں۔ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے مالک کے آس پاس کے لوگوں کو شدید بدبختی میں مبتلا کر دیتا ہے اور مالک کو لافانی زندگی عطا کرتا ہے۔ مبینہ طور پر اس لعنت کو ختم کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اس کو اس کے صحیح مالک یعنی سمندر کو لوٹایا جائے۔

کہانی کا دوسرا اہم کردار جرمنی میں کوئلے کی کان کنی کرنے والے قصبے زولویرین میں مقیم آٹھ سالہ یتیم لڑکا ”ورنر فیننگ“ ہے۔ ورنر غیر معمولی طور پر ذہین ہے اور ریڈیو کی مرمت کرنے کی اس میں قدرتی مہارت ہے اور اسے ایک روز اپنی بہن جتٹا کے ساتھ ایک خراب ریڈیو مل جاتا ہے جسے وہ ٹھیک کرتا ہے اور وہ اس سے پورے یورپ سے نشر ہونے والے سائنس اور موسیقی کے پروگرام سنتا ہے۔

جب جرمنی سن 1940 ء میں فرانس پر حملہ کرتا ہے تو میری لوری اور اس کے والد اپنے بڑے چچا ایٹین کے ہاں پناہ لینے کے لئے ساحلی شہر سینٹ۔ مالو بھاگ جاتے ہیں، ایٹین جو کہ ایک ریٹائرڈ فوجی ہے، اپنی وقت گزاری کے لئے اپنے مرحوم بھائی کے پرانے ریکارڈ ریڈیو پر نشر کرتا ہے۔ میوزیم چھوڑنے سے پہلے اس کی انتطامیہ ”سی آف فائر“ کی تین نقلیں تیار کر کے مختلف ملازمین کو دیتے ہیں، (کسی کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اصل کس کے پاس ہے ) جن میں سے ایک میری لوری کے باپ کے حصے آتی، ایسا اس لئے کیا جاتا تاکہ پتھر کی حفاظت کی جا سکے، میری اس سب سے بے خبر ہوتی ہے۔

مہینوں بعد میری لوری کے لئے سینٹ۔ مالو کا ایک ماڈل ٹاؤن بناتے ہوئے، میری لوری کے والد کو گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ اور پھر اس کی کوئی خبر نہیں آتی۔ میری لوری بوڑھے ایٹین اور اس کی دیرینہ ملازمہ میڈم مانیک کے ساتھ تنہا رہ جاتی ہے۔ دریں اثنا، ایک نازی ماہرِ جواہرات ”رین ہولڈ وون رمپل“ پتھر کی تلاش میں نکلتا ہے، وہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہے اور چاہتا ہے کہ پتھر کا مالک بن کر وہ ہمیشہ کے لئے لافانی ہو جائے۔

واپس آتے ہیں ورنر کی کہانی کی طرف جو شالفورٹا کے نیشنل پولیٹیکل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن میں اپنی مہارت کے بل بوتے پر اپنی جگہ بنا چکا ہے، یہ ایک بورڈنگ اسکول ہے جو نازی اقدار کی تعلیم دیتا ہے۔ ورنر فرمانبردار اور تکنیکی کام میں انتہائی موثر ہے۔ اس کو اسکول سے باہر رکھنے کے لئے کاغذات میں غلطی سے اس کی عمر بڑھا دی جاتی ہے اور اسے جلد ہی وہرمچٹ کے ساتھ شامل کر دیا جاتا ہے، جو شالفورٹا سے تعلق رکھنے والا نرم مزاج فوجی ہے، وہ دشمن کے غیرقانونی سگنلز کی کھوج کرتا ہے۔ ورنر اپنے آپ سے تیزی سے مایوس ہوجاتا ہے، خاص طور پر اس کے بعد جب ایک نوجوان لڑکی کو اس کے گروپ کے ذریعہ غلط طریقے سے سگنل کا پتہ لگانے کے بعد ہلاک کردیا جاتا ہے۔

ادھر میڈم مانیک دیگر مقامی خواتین کے ساتھ مزاحمت میں بھی حصہ لیتی ہیں۔ ان سرگرمیوں کو کچھ کامیابی ملی ہے، لیکن میڈم مانیک بیمار ہوکر انتقال کر جاتی ہیں۔ میری لوری اور ایٹین اپنی کوششیں جاری رکھتے ہیں اور پیانو ریکارڈنگ اور مورس کوڈ کے ذریعے اہم معلومات کے خفیہ پیغامات بھیجتے ہیں۔ ایٹین کے سگنلز کا نازیوں کو علم ہو جاتا ہے اور ورنر کے گروپ کو کہا جاتا ہے کہ وہ اس براڈکاسٹ کو ٹریک کریں۔ ورنر سگنل کا ماخذ ڈھونڈ نکالتا ہے، لیکن پیانو ریکارڈنگ ”کلیئر ڈی لون“، جسے ایٹین اپنی ایک نشریات کے بعد بجاتا ہے، وہ اس موسیقی کو پہچان لیتا ہے، جو وہ اپنے بچپن میں طلسماتی سائنس پروگراموں کے بعد سنتا تھا۔ اس طرح وہ اپنے ساتھیوں کو ان کے مقام کے متعلق نہیں بتاتا۔

جنگ عظیم دوئم کے اختتام کے قریب جب اتحادی افواج سینٹ۔ مالو کا محاصرہ کرلیتی ہیں۔ ورنر ملبے کے ڈھیر کے نیچے پھنس جاتا ہے، جہاں وہ میری لوری کے ریڈیو نشریات کو سن کر صرف کئی دن کھانے پانی کے بغیر زندہ رہتا ہے۔ وہ ان نشریات میں جیولز ورنے کا ناول ”ٹوئنٹی تھاوزند لیگز انڈر دا سی“ پڑھ کر نشر کرتی ہے، جو اس کے پاس بریل میں موجود ہے۔

اس دوران ایک روز میری لوری نے ایٹین کے گھر کا ماڈل کھولا اور اسے ”سی آف فلیمز“ مل گیا۔

کئی دن تک وہاں پھنسے رہنے کے بعد، ورنر وہاں سے بمشکل نکلتا ہے اور میری لوری اور اس کے ساتھ اس فرانسیسی بوڑھے کو ڈھونڈنے نکلتا ہے، جن کی نشریات نے اس کا تاریک بچپن امیدوں سے بھر دیا تھا۔ وہاں اس کا سامنا وان رمپل سے ہوتا ہے جو پتھر کی تلاش میں ہے۔ ایک مختصر تعطل کے بعد، اس نے وان رمپل کو مار ڈالا اور میری لوری سے ملاقات کی، جو رمپل سے بچنے اور پتھر کی حفاظت کے لئے اٹاری میں چھپی ہوتی ہے۔ حالانکہ وہ بہت مختصر وقت ایک ساتھ گزارتے ہیں لیکن ورنر میری کی طرف کشش محسوس کرتا ہے اور اسے لگتا ہے کہ یہ محبت کا جذبہ ہے جو اس میں انگڑائی لے رہا ہے۔

جب وہ سینٹ مالو سے بھاگتے ہیں، میری لوری ”سی آف فلیمز“ کو ماڈل ہاؤس سمیت سمندری غار (گروٹو) میں چھپاتی ہے۔ ورنر کو امریکی افواج گرفتار کر کے کیمپ میں بھیج دیتی ہیں، جہاں وہ شدید بیمار ہو جاتا ہے۔ جس وقت وہ صحت یابی کی طرف گامزن ہوتا ہے ایک روز غلطی سے اس کا پیر جرمن لینڈ مائن پر آ جاتا ہے اور اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

تیس سال بعد، وولکیمر جتٹا کو ڈھونڈ نکالتا ہے اور ورنر کا سامان جو موت کے وقت اس کے پاس تھا اس کے حوالے کر دیتا ہے، جس میں وہ ماڈل ہاؤس بھی شامل ہے جس کے اندر ”سی آف فلیمز“ موجود تھا۔ جتٹا اپنے بیٹے میکس کے ساتھ فرانس کا سفر کرتے ہیں، جہاں اس کی ملاقات پیرس میں میری لوری سے ہوتی ہے، جو اب میوزیم آف نیچرل ہسٹری میں بحری ماہر حیاتیات کی حیثیت سے کام کرتی ہے۔ میری لوری نے ماڈل کھولا اور اس میں موجود گروٹو کی چابی تلاش کی۔ میری لوری کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ورنر نے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد اسے گوروٹو سے بازیافت کر لیا ہو گا۔ یہ کہانی 2014 ء میں میری لوری کے ساتھ اختتام پزیر ہوتی ہے، جو اب 86 سال کی ہے اور پیرس کی گلیوں میں اپنے پوتے مشیل کے ساتھ چل رہی ہے جہاں وہ بڑا ہوا ہے اور اسے اپنی کہانی سنا رہی ہے۔

انتھونی ڈوئر کا کام اس پیرائے سے بھی تعریف کے قابل ہے انہوں نے ایک طویل کہانی کو پڑھے جانے کے قابل بنایا، اس میں بہت ہی مختصر ابواب ہیں جن میں سے کچھ ایک صفحے تک مختصر ہیں۔ ڈوئر اسے اپنے قارئین کی طرف دوستی کا ہاتھ سمجھتے ہیں، تو آئیے وبا کے ان دونوں میں انتھونی ڈوئر سے ہاتھ ملائیے اور ان کے اور اس کتاب کے دوست بن جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *