امریکا میں کورونا بحران کے باعث جرائم، مرکزی فراڈ ہاٹ لائن قائم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بہت سے ممالک میں معمول کی زندگی کافی حد تک مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ کچھ مخصوص جرائم کم ہوئے ہیں لیکن منافرت پر مبنی جرائم اور دھوکہ دہی کے واقعات میں واضح اضافہ ہوا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کورونا وائرس کو ’چینی وائرس‘ قرار دیے جانے اور اس پر کی جانے والی تنقید کے باوجود انہوں نے اس اصطلاح کا دفاع کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکا میں نسل پرستانہ نفرت انگیزی بھی دیکھنے میں آرہی ہے۔ اس کے سبب نیو یارک کی اٹارنی جنرل لیٹیا جیمز نے نفرت انگیز جرائم اور تعصب پر مبنی واقعات کی اطلاع دینے کے لیے ہاٹ لائن شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ ہاٹ لائن غیر معینہ مدت کے لیے قائم کی گئی ہے اور ایسا کووِڈ انیس نامی وبائی مرض کے پھیلاؤ کے دوران ایشیائی نژاد امریکی شہریوں کے خلاف بار بار بیان بازی اور ممکنہ نسل پرستانہ حملوں کے نتیجے میں کیا گیا ہے۔

ڈیلس ٹیکساس میں مقیم معروف پاکستانی سینیئر صحافی اور تحفظ ماحول کی سرگرم کارکن عافیہ اسلام نے اس بارے میں ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”دنیا بھر میں اپنے آپ سے مختلف لوگوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کی ایک وبا سی پھیلی ہوئی ہے۔ لیکن جب ارباب اختیار اس کو ہوا دیتے ہیں، تو یہ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ جس طرح حال ہی میں امریکی صدر ٹرمپ نے کورونا وائرس کو ’چینی وائرس‘ کہا اور اس کے بعد انتہا پسندوں کی جانب سے چینی نژاد باشندوں پر حملوں کی خبریں آنا شروع ہو گئیں۔ اس صورت حال کی تمام تر ذمہ داری ٹرمپ کے اسی نا مناسب بیان پر عائد ہوتی ہے۔ “

امریکا میں ہتک عزت کے واقعات کے خلاف قائم ’ڈیفیمیشن لیگ‘ نفرت انگیز گروپوں کا سراغ لگاتی ہے۔ یہ تنظیم کورونا وائرس کے موجودہ بحران کے دوران اب اور بھی فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ اس لیگ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا بحران نسل پرستی اور سامیت دشمن پیغامات، جن میں اس وائرس کا ذمہ دار یہودی برادری کو ٹھہرایا جا رہا ہے، کا باعث بن رہا ہے۔ کچھ نفرت انگیز گروپوں کی طرف سے مختلف عوامی مقامات اور عمارات کے دروازوں کو جراثیم سے آلودہ کر دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے تاکہ ایف بی آئی کے اہلکار اور ریاستی پولیس افسران بیمار پڑ جائیں۔

کورونا وائرس کی آڑ میں دیگر جرائم

پورٹ لینڈ، اوریگون، میسوری، پینسلوانیا اور ٹیکساس سمیت کئی ریاستوں اور شہروں میں صحت کی شعبے کے کارکنوں کی کمی اور سرجیکل ماسک چوری کرنے کے واقعات کے علاوہ کووِڈ انیس کا مریض ہونے کا جھوٹ بول کر دوا خانوں کے کارکنوں کو کورونا وائرس منتقل کرنے کی دھمکی دینے جیسے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ریاست ٹیکساس کے پراسیکیوٹرز نے حال ہی میں ایک ایسے شخص پر جرم کے ارتکاب کا الزام بھی عائد کر دیا جس نے سوشل میڈیا پر یہ جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ اس کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا ہے۔

دریں اثنا امریکی ڈپٹی اٹارنی جنرل جیفری روزن نے ملکی ماہرین استغاثہ سے کہا ہے کہ امریکا کے دہشت گردی سے متعلق قانون کے تحت کورونا وائرس پھیلانے کی دھمکی دینے کے عمل کو محکمہ انصاف ’حیاتیاتی ایجنٹ‘ سے حملہ کرنے کی دھمکی تسلیم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں مشتبہ افراد پر متعدد جرائم کے باقاعدہ الزامات عائد کیے جا سکتے ہیں، بشمول بائیولوجیکل ایجنٹ اپنے پاس رکھنے یا اسے بطور اسلحہ استعمال کرنے کے الزام کے۔

عافیہ اسلام امریکا میں جرائم کی موجودہ صورت حال اور ملکی قوانین اور معاشرتی رجحانات پر گہری نظر رکھتی ہیں۔ انہوں نے ڈپٹی اٹارنی جنرل جیفری روزن کے احکامات کے بارے میں کہا، ”معاشرے میں ہر مزاج کے لوگ موجود ہیں، جن میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی طرف توجہ مبذول کرانے کے شوقین ہوتے ہیں۔ اس رجحان کو متعلقہ افراد کی شخصیت میں خامی بھی کہا جا سکتا ہے لیکن موجودہ بحرانی حالات میں بلاوجہ اپنی جانب توجہ مبذول کروانے کا مطلب محدود وسائل سے کسی مستحق کو محروم کرنا بھی ہے، جس کے لیے قانون کا حرکت میں آنا ایک درست اور لازمی سا عمل ہے۔ “

آن لائن علاج اور ادویات کی پیشکش

عالمی اداراہ صحت (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ) اور دیگر ادارے بھی انٹرنیٹ پر کورونا وائرس کے کئی طرح کے ممکنہ علاج کے بارے میں پرجوش دعووں کے خلاف خبردار کر رہے ہیں۔ ان میں ایسے غلط دعوے بھی شامل ہیں کہ مثلاً چاندی، بلیچ یا لہسن وغیرہ سے کورونا وائرس سے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ افراد ڈبلیو ایچ او کے نام پر فون کالزاور ای میلز کے ذریعے معلومات یا پیسہ جمع کرنے کی کوششوں میں بھی مصروف ہیں۔ اقوام متحدہ نے اس سلسلے میں دھوکا دہی سے بچاؤ میں مدد کے لیے ایک خصوصی ویب سائٹ بھی بنا دی ہے۔

امریکا میں ملکی محکمہ انصاف نے بھی دھوکا دہی کی روک تھام کے لیے ایک مرکزی ہاٹ لائن قائم کر دی ہے اور ملکی وکلا کو کورونا وائرس کے حوالے سے خاص طرح کے فراڈ کے خلاف کوآرڈینیٹر مقرر کرنے کا حکم بھی دے دیا ہے۔
بشکریہ ڈوئچے ویلے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *