وبا کے زمانے میں ایک نظم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خدا بخشے نانی ہماری بتاتی تھیں

 جس سال نانا تمہارے زیارات پر تھے

وبا ایسی آئی

 کسی شہر و قریہ کو اس نے نہ چھوڑا

وبا پہلے پھوٹی اناجوں کے گودام اور منڈیوں سے

مگر دیکھتے دیکھتے بستیوں کا صفایا ہوا

عجب ہو کا عالم تھا

کوئی جنازے کو کاندھا نہیں دینے والا رہا تھا

منادی ہوئی پھر

کہ سب بستیاں چھوڑ میدان میں ڈیرہ ڈالیں

کھلے آسماں کے تلے جانے کب تک بسیرا رہا تھا

مرے گھر کے سب بوریا بسترا باندھ نکلے

مگر میں نہ نکلی

کہ نانا تمہارے زیارات پر تھے

خدا بخشے نانی ہماری بتاتی تھیں

 جس روز نانا تمہارے زیارت سے لوٹے

یہ قدرت خدا کی

اسی روز” ڈُگّی پٹِی “جس کا مطلب یہ تھا

مبارک ہو لوگو!

وبا شہر و قریہ سے رخصت ہوئی

خدا رحم فرمائے میں دیکھتی ہوں

وبا آج پھر شہر و قریہ پہ منڈلا رہی ہے

نہیں خطہ ارض محفوظ کوئی

ہر اک شے پراسرار ہوتی چلی جا رہی ہے

نہ مشرق نہ مغرب ، نہ کعبہ ،کلیسا

کہیں پر بھی جائے اماں اب نہیں ہے

منادی ہوئی ہے

کوئی گھر سے باہر نہ نکلے

خصوصاً زیارات سے آنے والے

خدا رحم فرمائے حالت پہ ان کی

عجب بے بسی ہے

مجھے آج نانی بہت یاد آئیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *