وزیراعظم اپنا لہجہ بدلیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دُنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد چھ لاکھ کو چھونے والی ہے۔ ان میں سے ایک لاکھ 33 ہزار سے زائد صحت مند ہو چکے ہیں۔ 27 ہزار سے کچھ زائد لقمہ اجل بن گئے ہیں، چار لاکھ سے زائد روبصحت ہیں جبکہ 23 ہزار کے لگ بھگ کی حالت نازک ہے۔ چین ’جہاں سے اس وبا کا آغاز ہوا تھا، وہاں چین کی بانسری بجائی جا رہی ہے۔ ووہان میں کاروبارِ زندگی معمول پر آ رہا ہے۔ امریکی سٹورز بھی کاروبار کا آغاز کر چکے ہیں۔

وہاں موجود پاکستانی طلبہ کے والدین‘ جو اس دوران شدید اضطراب کا شکار رہے، اور پاکستانی حکام سے ان کی واپسی کے پُر جوش مطالبات کرتے رہے۔ ان کی طرف سے مثبت جواب نہ پا کر شدید غم و غصے کا اظہار بھی کر گزرے، عدالتوں کے دروازے بھی زور زور سے کھٹکھٹانے سے باز نہ رہے، اب مسرور مطمئن ہیں کہ ان کے نورِ نظر محفوظ ہیں۔ وہ اپنی تعلیمی سرگرمیاں شروع کر چکے ہیں۔ دو پاکستانی طالبات نے جناب کامران خان کے شو میں انٹرویو دیتے ہوئے اپنے قیامِ چین پر شدید مسرت کا اظہار کیا، اور چینی حکام نے جس طرح ان کا خیال رکھا، اس کے لئے سراپا سپاس بنی رہیں۔ ان کے چہروں پر جو مسکراہٹ کھلی ہوئی تھی، وہ دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔

امریکہ پر کورونا حملہ شدید ہو چکا ہے، اور اسے چینی وائرس قرار دے کر چینی حکام کو مشتعل کرنے والے صدر ٹرمپ اب چینی صدر سے میٹھی میٹھی باتیں کر کے اس بَلا سے نمٹنے کے مشترکہ عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔ یورپ میں بھی اس کا حملہ شدید ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ’جو چند روز پہلے تک فخریہ کورونا متاثرین سے مصافحہ کا اعلان کر رہے تھے، کا ٹیسٹ بھی مثبت آ چکا ہے۔ اب وہ اپنی قیام گاہ میں محبوس ہو کر اپنے فرائض ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ ولی عہد شہزادہ چارلس بھی کورونا کی زد میں ہیں، اور ملکہ برطانیہ اپنا محل چھوڑ کر اپنے آپ کو قرنطینہ کے سپرد کر چکی ہیں۔

پاکستان میں بھی مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ عالم اسلام کے اکثر ممالک اس کی زد میں ہیں۔ بیت اللہ اور مسجدِ نبوی تک میں نماز باجماعت ادا نہیں کی جا رہی۔ تمام متاثرہ ممالک میں یہی کیفیت ہے۔ ترکی سے انڈونیشیا تک اور ملائیشیا سے مصر تک با جماعت نماز پر پابندی عائد کی جا چکی ہے، کہیں بھی نمازِ جمعہ کا اجتماع منعقد نہیں ہوا۔ حکومتی زعما اور علما اپنے ہم وطنوں کی حفاظت کے لیے یک زبان ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ مارچ کے وسط میں پاکستان میں منعقد ہونے والے تبلیغی جماعت کے لاہور اجتماع سے بہت سے حضرات یہ ”سوغات“ لے کر اپنے اپنے وطن پہنچے ہیں۔

پاکستان کی حکومت اور عوام بھی سینہ سپر ہیں اور کورونا سے ڈرنے کے بجائے لڑنے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔ صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے جامعہ ازہر سے رابطہ کر کے یہ فتویٰ حاصل کیا کہ غیر معمولی حالات میں با جماعت نماز پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ حکومتِ وقت کو اس کا اختیار ہے۔ یہ فتویٰ انہوں نے وڈیو کانفرنس کے ذریعے مختلف علمائے کرام کے سامنے رکھا۔ اس سے پہلے کراچی میں شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی اور حضرت مفتی منیب الرحمن کے ساتھ مختلف مسالک کے علماء کی ایک نشست منعقد ہو کر اس نتیجے پر پہنچ چکی تھی کہ مساجد میں اذان اور با جماعت نماز پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، لیکن حکومت چاہے تو نمازیوں کی تعداد محدود کر سکتی ہے۔

سندھ کی صوبائی حکومت نے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مساجد میں نماز با جماعت کو پانچ افراد تک محدود کر دیا تاکہ مسجد عملہ اپنے طور پر یہ فریضہ ادا کر کے سرخرو ہو جائے۔ دوسرے نمازیوں پر پابندی لگا دی گئی۔ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے نمازیوں کی محدود تعداد کو ناکافی قرار دینے کے باوجود اس حکم کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا، اور یوں لوگوں کی صحت کو پیدا ہونے والے ایک بڑے خطرے کا سدِ باب کر دیا گیا۔ بد قسمتی سے کئی آئمہ مساجد نے کنفیوژن پیدا کیا، اور مساجد میں اجتماعات کا انعقاد کر لیا۔

حکومت نے اپنی ذمہ داری اپیل تک محدود رکھی، پولیس بھی لوگوں کی منت سماجت کر کے انہیں واپس بھجواتی رہی، لیکن تمام علماء کی طرف سے دو ٹوک اعلان نہ ہونے کے باعث مشکلات بہرحال پیدا ہوئیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس معاملے میں اپنی ذمہ داری موثر طور پر ادا نہیں کر پائیں تو بے جا نہیں ہو گا۔ کورونا وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل ہونے کی شدید صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی لیے اس کا مداوا تنہائی کو قرار دیا جا رہا ہے۔

اگر وائرس کا متاثر کسی دوسرے شخص سے نہ مل پائے تو ہی اسے پھیلنے سے روکنا ممکن ہے۔ ملنے جلنے سے گریز کیجیے اور فاصلہ برقرار رکھیے۔ دو افراد کے درمیان تین سے چھ میٹر کے فاصلے پر زور دیا جا رہا ہے۔ دُنیا بھر میں لوگوں نے اپنی نقل و حرکت محدود کر دی ہے۔ سماجی اور مذہبی اجتماعات پر پابندی لگ چکی ہے۔ عبادت گاہوں میں داخلے کی اجازت بھی نہیں ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کے اندر یہ معاملہ ہر مسجد کے منتظمین پر نہیں چھوڑ جا سکتا۔

اس معاملے میں حکام اور علماء کی طرف سے دو ٹوک اور واضح اعلانات ضروری ہیں، تاکہ نمازی محفوظ رہیں، اور اپنے اپنے گھروں کو عبادت گاہ بنا لیں۔ پاکستان میں حکومت کی رٹ کا مذاق بہت اڑایا جا چکا، اب اس سے توبہ کرنا ہو گی، اور مختلف گروپوں کو حکومتی اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کی روش ترک کرنا ہو گی۔ جب حج تک پر پابندی کے خدشات پیدا ہو گئے ہوں تو کسی دوسرے اجتماع کا معاملہ کیونکر خاطر میں لایا جا سکتا ہے۔ اگر نقل و حرکت محدود کر دی جائے تو اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے، چین نے اسی طرح اس پر قابو پایا ہے۔

پاکستانی ریاست اپنے فرائض ادا کرنے میں کس قدر کامیاب ہو رہی ہے، اس بحث کو کسی اور موقع پر اُٹھا رکھتے ہوئے وزیر اعظم سے یہ توقع ضرور لگائی جائے گی کہ وہ اس بَلا سے نمٹنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے بڑھے ہوئے ہاتھ گرم جوشی سے تھام لیں۔ کل جماعتی پارلیمانی اجلاس میں جو سپیکر قومی اسمبلی جناب اسد قیصر کی کاوشوں سے منعقد ہوا تھا، وزیراعظم کا رویہ ان کے منصب کے شایانِ شان نہیں تھا۔ انہوں نے اجلاس کے شرکا کا شکریہ ادا کرنے کی ضرورت سمجھی، نہ ان کی تجاویز سننے کے لئے چند منٹ رکنا گوارا کیا۔

اس سے اپوزیشن رہنماؤں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی اور وہ واک آؤٹ کر گئے۔ ہر باشعور پاکستانی کو اس سے صدمہ پہنچا، کورونا کا نشانہ کوئی ایک جماعت یا گروہ نہیں، دُنیا بھر کی طرح پورا پاکستان ہے۔ اس کے متاثرین وہ تو ہیں ہی جو بستر پر ہیں، جو لاک ڈاؤن کی وجہ سے روزی نہیں کما پا رہے، وہ بھی توجہ چاہتے ہیں۔ ان کو ضروریاتِ زندگی کی فراہمی سب مل کر ہی ممکن بنا سکتے ہیں۔ مقام شکر ہے کہ مختلف سماجی اور سیاسی تنظیمیں میدان میں ہیں، اور مقدور بھر لوگوں کی مشکلات میں کمی کے لیے کوشاں ہیں، لیکن ان کے درمیان رابطہ موثر بنانے کی ضرورت ہے۔

یہ درست ہے کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے، اس کے وسائل کم ہیں، لیکن جب بھی کوئی آزمائش کی گھڑی آئی ہے، پاکستانی قیادت نے وسائل کی کمی کا رونا رو کر اپنے فرائض ادا کرنے میں کوتاہی نہیں کی۔ پاکستانی عوام نے بھی ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے، اب بھی ان شاء اللہ ہم وسائل کی کمی کے باوجود مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہماری مسلح افواج، ہماری انتظامیہ، ہمارے ڈاکٹر، ہمارے با وسیلہ افراد، ہماری سماجی تنظیمیں، ہمارے سیاسی رہنما پہلے بھی معجزے کر کے دکھا چکے ہیں، اور اب بھی ان شاء اللہ نظم و ضبط کے ساتھ خدمات بجا لانے کے نئے ریکارڈ قائم کر کے دکھا سکتے ہیں۔ وزیر اعظم اپنا دِل کشادہ کریں، اپنا لہجہ بدلیں اور انتخابی مہم کے الفاظ کا استعمال یکسر ترک کر دیں۔

بشکریہ: روزنامہ پاکستان

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *