کیا عمران خان سبق سیکھ سکتے ہیں!


\"edited\"وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی اس بات سے اختلاف ممکن نہیں ہے کہ 2 نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کی دھمکیوں اور حکومت کی طرف سے تحریک انصاف کے مظاہرین کو دارالحکومت میں آنے سے روکنے کےلئے تشدد کے استعمال کی صورتحال میں سپریم کورٹ کے فیصلہ سے اتفاق رائے کی جو فضا پیدا ہوئی ہے، اس میں پاکستان فاتح بن کر نکلا ہے۔ انتہائی مایوسی اور کشیدگی کے ماحول میں سپریم کورٹ نے آج صبح پاناما لیکس کے مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے اس کام کی ذمہ داری قبول کی ہے جو سیاستدان کرنے میں ناکام رہے تھے۔ یعنی پاناما پیپرز میں سامنے آنی والی معلومات کے بعد وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے علاوہ آف شور کمپنیاں قائم کرنے والے دیگر پاکستانی باشندوں کے ذرائع آمدنی کے بارے میں تحقیقات کرنے کےلئے کمیشن کا قیام اور اس کے قواعد پر اتفاق رائے۔ اگرچہ وزیراعظم نے اپریل میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو کمیشن قائم کرنے کےلئے خط بھیجنے کا وعدہ کیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے اس وقت وزیراعظم کی درخواست کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ پہلے اس کمیشن کے دائرہ اختیار کے بارے میں قواعد سامنے لائے جائیں، تب ہی عدالت کمیشن مقرر کرے گی۔ تاہم آج کا عدالتی فیصلہ اس کے برعکس ہے اور اب وہ کمیشن کے قواعد یا ٹی او آرز فریقین میں اختلاف کی صورت میں خود تیار کرنے پر راضی ہو گئی ہے۔ اس طرح دارالحکومت بند کرنے کے اعلان کو یوم تشکر سے بدل کر عمران خان نے ہی یو ٹرن نہیں لیا بلکہ سپریم کورٹ نے بھی پاناما لیکس کے سوال پر ایسا ہی یوٹرن لیا ہے۔

البتہ عدالتی یوٹرن کا ملک بھر میں خیر مقدم کیا گیا ہے جبکہ تحریک انصاف کے یوٹرن کو ان کی سیاسی ناکامی اور عجلت بازی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ عمران خان نے سپریم کورٹ کے آج کے فیصلہ کو عذر کے طور پر استعمال کرتے ہوئے 2 نومبر کو یوں یوم یشکر منانے کا اعلان کیا ہے گویا عدالت نے ان کا موقف قبول کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو سبکدوش ہونے کا حکم دیا ہو۔ حالانکہ عدالتی حکم صرف اتنا ہے کہ اب سپریم کورٹ تحقیقاتی کمیشن مقرر کرے گی جس کی قیادت سپریم کورٹ کا جج کرے گا اور جس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے حکم ہی کی طرح فریقین کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ سیاسی جماعتیں چونکہ ایسے عدالتی کمیشن کے قواعد و ضوابط یعنی ٹی او آرز کے سوال پر گزشتہ چھ ماہ سے دست و گریبان رہی ہیں، اس لئے عدالت نے اب حکم دیا ہے کہ اپوزیشن اور حکومت اپنی تجاویز عدالت میں جمع کروائیں۔ اگر تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) اس معاملہ پر اتفاق رائے پیدا نہیں کر سکتیں تو سپریم کورٹ حتمی قواعد کا فیصلہ کرے گی۔ ان قواعد کے حوالے سے اپوزیشن اور حکومت میں بنیادی وجہ نزاع یہ اصول ہے کہ اپوزیشن آف شور کمپنیوں کی ملکیت کے حوالے سے وزیراعظم اور ان کے خاندان کا احتساب چاہتی ہے جبکہ حکمران جماعت کا کہنا ہے کہ نہ صرف پاناما پیپرز میں سامنے آنے والے آف شور کمپنیوں کے مالکان بلکہ ماضی میں بھی جو لوگ کسی بھی قسم کی بدعنوانی میں ملوث رہے ہیں، ان کے خلاف بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اگرچہ سیاسی زیرکی سے ان اختلافات کو ختم کیا جا سکتا تھا لیکن تحریک انصاف اس معاملہ کو صرف بدعنوانی کی تحقیقات کا مقدمہ بنانے کی بجائے اس کا سیاسی فائدہ اٹھاتے ہوئے نواز شریف کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے لگی تھی۔

اسی لئے تحریک انصاف نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل کر ٹی او آرز پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی اور وزیراعظم کو بدعنوان ، لٹیرا اور چور قرار دیتے ہوئے عوامی رابطہ کی مہم شروع کر دی گئی۔ پیپلز پارٹی ایک طرف اپنے قائدین کی بدعنوانیوں کی تحقیقات سے بچنا چاہتی تھی تو دوسری طرف نواز شریف کے ساتھ سیاسی حساب بھی برابر کرنے کی خواہشمند تھی۔ حکومت کے پیش کردہ ٹی او آرز کو تسلیم کرنے کی صورت میں ماضی میں ہر قسم کی بدعنوانی کرنے والوں کے خلاف تحقیقات کا دروازہ کھل سکتا تھا۔ اگرچہ بعض ماہرین کے نزدیک اس طرح ایک ایسا پنڈورا بکس کھل سکتا ہے جسے سمیٹنا ممکن نہیں ہوگا اور اس قسم کی کاوش سعی لاحاصل ہو گی۔ تاہم پیپلز پارٹی نے حکومتی پارٹی کی ہچکچاہٹ اور تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست کے ماحول میں سینیٹ میں اپنی اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یک طرفہ طور سے اپنے تیارکردہ ٹی او آرز کے بل کو منظور کر لیا تھا۔

عمران خان نے 2 نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کی دھمکی دے کر حکومت کو بدحواس کیا تو پیپلز پارٹی اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکمران جماعت سے اپنا سینیٹ میں منظور کردہ بل قومی اسمبلی سے منظور کروانے کا مطالبہ کرنے لگی تھی۔ اب سپریم کورٹ نے اس معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لے کر ملک میں کئی ماہ سے جاری سیاسی دنگل میں ایک موثر وقفہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ فی الوقت حکومت اور تحریک انصاف اس فیصلہ سے مطمئن ہیں۔ تاہم شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا ہے کہ تحریک انصاف صرف اپوزیشن کے تجویز کردہ ٹی او آرز کی بنیاد پر کمیشن کا قیام قبول کرے گی۔ تحریک انصاف نے اس مقدمہ کی سماعت کے دوران اگر اس حوالے سے سپریم کورٹ کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی تو اسے عدالت عظمیٰ سے اختلاف بھی پیدا ہو سکتا ہے اور وہ اس وقت جس مسرت اور کامیابی کا اظہار کررہی ہے ، وہ پشیمانی اور احتجاج میں بھی بدل سکتا ہے۔ عمران خان ماضی میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے صرف اس لئے خلاف ہو گئے تھے کہ انہوں نے غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے تحریک انصاف کی اس درخواست کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ سپریم کورٹ چار انتخابی حلقوں میں بیلٹ بکس کھولنے اور دوبارہ گنتی اور کنٹرول کا حکم جاری کرے۔ افتخار چوہدری کا موقف تھا کہ جب تک الیکشن ٹربیونلز میں اس معاملہ کا فیصلہ نہیں ہو جاتا، سپریم کورٹ اس میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ عمران خان کا خیال تھا کہ عدلیہ بحالی تحریک میں انہوں نے چونکہ افتخار چوہدری کی حمایت کی تھی، اس لئے وہ ان کی درخواست خصوصی معاملہ کے طور پر قبول کر لیں گے۔ اس سے مایوس ہو کر عمران خان نے افتخار چوہدری کے خلاف مہم چلانا شروع کر دی تھی۔

گزشتہ چند برس میں عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف نے صرف احتجاجی سیاست کی ہے۔ 2013 کے انتخاب میں شرکت کرتے ہوئے عمران خان کا دعویٰ تھا کہ ان کی حمایت کا سونامی ملک کی باقی سب سیاسی قوتوں کو بہا کر لے جائے گا اور ان کی پارٹی کو شاندار کامیابی حاصل ہوگی۔ انتخابات میں عمران خان کا یہ خواب پورا نہ ہوا تو انہوں نے دھاندلی کا شور مچا کر احتجاجی تحریک کا آغاز کیا۔ 2014 میں ہونے والا طویل دھرنا دراصل عمران خان کی اسی مایوسی کا نتیجہ تھا جو انہیں 2013 کے انتخاب میں وزیراعظم نہ بننے کی صورت میں لاحق ہوئی تھی۔ حالانکہ سب سیاسی مبصر اس بات پر متفق ہیں کہ تحریک انصاف نے مختصر وقت میں شاندار انتخابی کامیابی حاصل کی تھی۔ اسے خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے کا موقع ملا اور قومی اسمبلی میں 30 سے زائد نشستیں حاصل ہوئیں۔ اگرچہ دو تین زیادہ نشستوں کی وجہ سے پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ اپوزیشن لیڈر منتخب ہونے میں کامیاب ہو گئے لیکن عام طور سے یہ امید کی جا رہی تھی کہ تحریک انصاف حقیقی اپوزیشن کا رول ادا کرے گی۔ لیکن انتخابی نتائج چونکہ عمران خان کی امید کے برعکس تھے اور وہ برسر اقتدار آ کر ملک کی کایا پلٹ دینا چاہتے تھے، لہٰذا اپوزیشن کے طور پر مثبت پارلیمانی کردار ادا کرنے کی بجائے انہوں نے پارلیمنٹ کو ہی جعلی اور بوگس قرار دے کر نواز شریف کی حکومت ختم کروانے کےلئے مہم کا آغاز کیا۔ انتخابی دھاندلی کے الزام میں شروع کی گئی مہم کے خاتمہ پر اس سال پاناما پیپرز کی صورت میں نواز شریف پر براہ راست حملے کرنے اور ان کی حکومت گرانے کی جہدوجہد کرنے کا نعرہ ان کے ہاتھ آ گیا تھا۔

عمران خان نے اس جدوجہد میں دو باتوں پر انحصار کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ ملک کے نوجوان طبقے کو اپنی شخصیت کے سحر میں مبتلا کر کے سیاسی طور سے متحرک کر چکے ہیں۔ اس لئے وہ جب بھی چاہیں گے کوئی ایسا مظاہرہ منظم کر سکیں گے جس میں کئی لاکھ لوگ شریک ہوں اور وہ ان کے اشارے پر حکومت کو لاچار کر دیں۔ اسی لئے ستمبر میں رائے ونڈ میں جلسہ کے دوران جب انہوں نے اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا تو اسے انہوں نے اپنی جدوجہد کا آخری دھرنا قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس روز کے بعد وہ حکومت کو کام نہیں کرنے دیں گے۔ اس کے بعد وہ مسلسل اپنی یہ بات دہراتے رہے کہ اسلام آباد میں دس لاکھ لوگ جمع ہوں گے۔ تمام سرکاری دفاتر کے راستے روک لئے جائیں گے اور حکومت کا پہیہ جام کر دیا جائے گا۔ عمران خان کی اس ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے ہی پیپلز پارٹی اور متعدد دوسری پارٹیاں ان کی حکمت عملی کی تائید کرنے سے قاصر رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا درست ہے لیکن حکومت کو کام نہ کرنے کی غرض سے اسلام آباد کو بند کرنے کی دھمکی جائز حکمت عملی نہیں ہے۔ عمران خان نے آج دوپہر سے قبل اس بارے میں کوئی مشورہ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ انہیں اپنے مشیروں کی سرگوشیوں اور اپنی اولاالعزمی پر اتنا بھروسہ تھا کہ وہ یہ یقین کرنے لگے تھے کہ حکومت کی کھڑی کی ہوئی رکاوٹوں کے باوجود ان کی حمایت میں آنے والے لاکھوں لوگ اسلام آباد کو جام کر دیں گے۔

عمران خان کو دوسری غلط فہمی یہ تھی کہ وہ اپنے حامیوں کے ساتھ جب حکومت کو عاجز کر دیں گے تو اس ہنگامی صورتحال میں فوج مداخلت کرے گی اور اس طرح نواز شریف کی حکومت ختم ہو جائے گی۔ اور ان کےلئے (ممکنہ نئے انتخابات میں یک طرفہ کامیابی کی صورت میں) وزیراعظم بننا آسان ہو جائے گا۔ اسی لئے انہوں نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ اگر تیسری قوت مداخلت کرتی ہے تو اس کی ذمہ داری صرف نواز شریف پر عائد ہو گی۔ حالانکہ تحریک انصاف ایسے حالات پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی جن کے نتیجے میں فوج کےلئے سیاسی بحران کو بہانہ بنا کر قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے آئین معطل کرنے اور جمہوریت کو لپیٹنے کا اقدام کرنا آسان ہو سکتا تھا۔ حکومت اور فوج کے درمیان اختلافات کو ہمیشہ سے ہی موجود تھے لیکن ڈان لیکس کے تناظر میں یہ اختلافات کھل کر سامنے آ گئے تھے۔ ان حالات میں عمران خان زیادہ پرامید ہو چکے تھے کہ فوج جلد ہی ان کی ’’مدد‘‘ کےلئے پہنچ جائے گی۔

ملک سپریم کورٹ کے بروقت فیصلہ سے اس قسم کی انتہائی صورتحال سے محفوظ رہا ہے۔ لیکن عمران خان اور تحریک انصاف کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نہ انہیں عوام میں اتنی مقبولیت حاصل ہے کہ وہ لاکھوں لوگوں کو غیر معینہ مدت کےلئے گھروں سے نکل کر احتجاج کرنے پر آمادہ کر لیں اور نہ فوج عمران خان کے سیاسی عزائم کی تکمیل کےلئے جمہوری عمل میں مداخلت کرنے پر تیار ہے۔ اگر عمران خان ٹھنڈے دل سے گزشتہ چند ہفتے کے دوران رونما ہونے والے حالات کا جائزہ لیں تو انہیں اپنی غلطیوں سے سیکھنے اور غیر ضروری توقعات باندھنے کے طرز عمل سے نجات مل سکے گی۔ تب وہ شاید ملک میں صحت مند جمہوری روایات کےلئے کوئی مثبت کردار ادا کرسکیں۔ بصورت دیگر وہ ایک احتجاج کے بعد دوسرے کی تیاری کرتے رہیں گے اور ان کے حامی مایوس ہو کر کم ہوتے رہیں گے۔ لیکن سوال ہے کہ کیا عمران خان اپنی ناکامیوں اور غلط اندازوں سے سبق سیکھ سکتے ہیں یا اسی سراب میں مبتلا رہیں گے اور ان لوگوں کی مایوسی کا سبب بنتے رہیں گے جو ان سے نیا پاکستان بنانے کی امید لگائے بیٹھے تھے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “کیا عمران خان سبق سیکھ سکتے ہیں!

  • 02/11/2016 at 9:21 صبح
    Permalink

    Imran khan ki nakamiyon or galtiyon ka zikar aap ny farma diya, kuch PMNS ke bary main bhi farmin gy??

Comments are closed.