اپنے غیر ضروری خرچے روکیں، بچوں کی فیس نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسکول کی لمبی تعطیلات، اور اس خود ساختہ قید میں میں بچوں کے مزاج میں چڑ چڑا پن، ہٹ دھرمی اور عجیب سا بدلاؤ آگیا ہے۔ ان کے باغیانے رویے سے بعض اوقات آپ بھی اپنے اعصاب کھونے لگتے ہیں۔ اور بے ساختہ آپ کی زبان سے نکلتا ہے۔

اسکول کھلیں تو جان چھوٹے۔

اسکول کھلیں گے، اور آپ کے جگر گوشے پوری آب و تاب سے اسکول بھی جا ئیں گے۔ لیکن آپ کچھ بھول رہے ہیں۔ آپ نے پچھلے ماہ سے اپنے بچوں کی فیس ادا نہیں کی ہے۔

کیا کہا۔ کس بات کی فیس، بچے اسکول تو گئے نہیں۔

ایک ماہ سے اآپ کے بچے اسکول نہیں گئے ذرا حساب تو لگا ئیے آپ نے اس ایک ماہ میں کتنی بچت کی۔ روزانہ بچوں کے لنچ کے پیسوں کی بچت۔ غیر تدریسی سرگرمیوں اور اسٹیشنری کے لیے آئے دن بچوں کے لیے کچھ نہ کچھ خریدنے کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ بڑے بچوں کے لیے کوچنگ آنا جانا الگ۔ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں سر جھکا یے اور سوچیے اس ماہ آپ نے کتنے پیسے بچائے؟ یہ سوچ کر جان نہ جلائیے اور فیس نہ دینے کے لیے یہ عذر تراشنا کہ بچے تو اسکول گئے نہیں کس بات کی فیس دیں۔ بچے بڑے ماسی، نوکر سب گھروں میں بیٹھے ہیں۔ لیکن بنیا دی ضروریات نے چھٹی نہیں کی۔ بجلی پانی ٹیلی فون کے بلوں کے علاوہ راشن اور روز مرہ کے خرچوں نے بھی لاک ڈاؤن نہیں کیا۔

پھر سب خیریت رہے گی اسکول بھی کھلیں گے اور اب تک بچوں کی پڑھائی کا جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ بھی یہ ہی اساتذہ کریں گے۔ جو اس وقت تنخواہوں کے منتظر ہیں۔ آپ کی لاپروائی نے اس سفید پوش شریف النفس اور خود دار طبقے کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر دیے ہیں۔

اپنی سنگ دلی اور بے رحمانہ سوچ پر نظر ثانی کیجیے۔ آپ کے بچے اسکول نہیں گئے لیکن کچھ اسکول مالکان، آپ کا دل پرچانے کے لیے اپنے اسکول کی بقا کو داؤ پر لگا کر، ورک شیٹ تیار کرنے کے لیے اساتذہ کو اسکول بلاتے رہے تاکہ آپ کے بچوں کو آن لائن کام مل سکے۔ اور آپ بچوں کی فیس اسکول بھیجنے کو جسٹیفائی کر سکیں۔

ہمارے ہاں کسی کو سزا دینا مقصود ہو تو سب سے پہلے اسے پیسوں سے تنگ کرتے ہیں۔ دینے والا ہاتھ اپنی مٹھی بند کر لیتا ہے۔ وبا کے دنوں میں اپنے دل نرم کر دیں لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ ان ا سکولوں اورساتذہ کے لیے آسانیاں پیدا کریں جو آپ کے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ اور آپ بھی ان پر اتنا بھروسا کرتے ہیں کہ آنکھیں بند کر کے بچوں کو کچھ گھنٹے کے لیے ان کے پاس چھوڑ دیتے ہیں آپ کا یہ بھروسا کچھ غلط بھی نہیں۔ اسکول کی عمارت، بچوں کے اسکول کے ساتھی اور ان کے اساتذہ بچوں کی متوازن شخصیت اور بہتر مستقبل کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *