موسمِ یاس میں خود سے ملنے کے دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شکر ہے کہ کرونا وائرس کی وبا سوشل میڈیا کی وبا پھیلنے کے بعد پھوٹی ہے۔ اسی لئے یاس کے اس موسم میں واٹس ایپ، فیس بک اور ٹویٹر جیسی سماجی اپلیکیشنز کی وجہ سے سماجی دوری کچھ خاص پریشان کن محسوس نہیں ہورہی ہے۔ اگر یہی وبا 1990 میں پھوٹتی تو ہمارے کئی لوگ اس پریشانی سے مرجاتے کہ ہم یہاں قید میں پڑے ہیں جب کہ ہمارے چاچے کا بیٹا لندن میں عیاشی مار رہا ہوگا۔ اب کم از کم یہ سکون ضرور ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ اس وقت تمام رشتہ داروں کے بیٹے انہی حالات میں ہیں، جن سے ہم گزر رہے ہیں۔ اللّہ تیرا شکر!

ہم محلے داروں نے بھی ایک واٹس ایپ گروپ بنایا ہوا ہے جس سے سب کی خیریت معلوم ہوتی رہتی ہے۔ پچھلے دنوں سلیم نے اس گروپ میں تجویز پیش کی کہ مایوسی اور فراغت کے ان لمحات میں اتوار کو ہم سب اپنے آپ سے ملتے ہیں۔ جمال نے اس سے پوچھا کہ تم انجنئیرنگ کے بعد پچھلے دو سال سے فارغ پھر رہے ہو تو اس دوران تمہیں اپنے آپ سے ملنے میں کیا مسئلہ تھا۔ ہم نے جمال کو سمجھایا کہ کسی کی بے روزگاری کا ایسے مذاق نہیں اڑانا چاہیے زمانہ پہلے ہی ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ پھر سلیم چاہتا ہے کہ ہم سب بھی اپنے آپ سے مل لیں کیونکہ زندگی میں ضروری نہیں کے آپ ہمیشہ اچھے انسانوں سے ہی ملیں کبھی کبھار کسی برے کو بھی منہ لگا لینا چاہیے۔

گزشتہ اتوار کو جب صبح دو بجے میں ظہر کی اذان کے ساتھ جاگا تو تب تک گروپ کے کافی لوگ خود سے ملاقات کر چکے تھے۔ میں نے ہمیشہ کی طرح فیصلہ کیا کہ ابھی کافی دن پڑا ہے شام کو آرام سے مل لوں گا۔ ویسے بھی ایک سیانے کا مشہور قول ہے کہ دنیا میں مطمئن انسان وہ ہے جو گھڑی کے بجائے سستی کا غلام ہے۔ اس سیانے کا نام اس لئے معلوم نہیں ہو سکا کیونکہ وہ یہ مشہور بیان دینے کے فوراً بعد، اپنا نام بتائے بغیر، کمبل اوڑھ کر نیند کی آغوش میں چلا گیا تھا۔

خیر میں نے اچھی صحت کے لئے اپنے دن کا آغاز اپنے گھر کی چھت پرصبح کی سیر سے کیا۔ چھت پر پہنچا تو پڑوس کے شیخ صاحب اپنی چھت پر ٹہلتے نظر آگئے۔ میں نے ان کو سلام کیا اور استفسار کیا کہ آپ صبح صبح چھت پر کیا کر رہے ہیں۔ شیخ صاحب نے پتے کی بات بتائی کہ ہمارا پورا محلہ ایک ہی ٹائم زون میں ہے اور یہ دوپہر کا وقت ہے، صبح کا نہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ اپنے آپ سے ملنے چھت پر آگئے ہیں۔

شیخ صاحب علاقے کے مشہور ٹھیکہ دار ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں سینکڑوں گھر بنا ئے۔ چونکہ ان کی زندگی مکانوں کی چھتیں ڈلواتے گزری ہے اس لئے ان کو اپنے آپ سے ملنے کے لئے چھت سے بہتر کوئی جگہ نہیں ملی۔ خود سے ملتے ہی ان کے ذہن میں پہلا سوال آیا، ”شیخ تم نے اپنے گھر کی چھت کے علاوہ کبھی کوئی مضبوط چھت نہیں ڈالی، ہمیشہ سریا اور سیمنٹ ہضم کرگئے۔ تم انسان ہو یا جن جو لوہا، تاریں، ٹائیلیں اور لکڑی تک کھا جاتے ہو؟”

انہوں نے جواب کی تلاش میں میری مدد چاہی، میں نے انہیں بتایا کہ آپ پریشان نہ ہوں کرونا نے ثابت کردیا ہے کہ دنیا میں مضبوطی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ان کو میرے جواب سے تشفی نہیں ہوئی اور وہی کھڑے کھڑے با آواز بلند توبہ کی اور اعلان کیا کہ وہ آج سے اپنا کاروبار ختم کر رہے ہیں۔ ویسے بھی خراب معاشی حالات کی وجہ سے ان کا کاروبار نقصان میں جارہا تھا۔

توبہ کی آواز سنتے ہی پچھلی گلی کے حاجی صاحب سخت پریشانی کے عالم میں اپنی چھت پر آگئے۔ حاجی صاحب کا چونکہ عمر ہ و حج کا کاروبار ہے اس لئے اگر کوئی شخص حجازِمقدس کے علاوہ کسی اور مقام پر توبہ کرے تو انہیں کاروباری نقصان محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے شیخ صاحب کو سمجھایا کہ پاکستان میں توبہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اگر کرنی ہے تو ان سے عمرے کا وی آئی پی پیکج لیں۔ حاجی صاحب نے اپنے بارے میں بتایا کہ کون سا ایسا عیب تھا جو ان کی ذات میں نہیں تھا۔

وہ جوانی میں جوا، ذخیرہ اندوزی، قبضہ، دھوکا اور ہر غلط کام کیا کرتے تھے۔ جب سے انہوں نے عمرہ و حج کے کام کا آغاز کیا ہے، سب برے کام چھوڑ دیے ہیں۔ اب وہ سال میں صرف ایک ہی گناہ کرتے ہیں، حاجیوں سے قربانی کے پیسے لے کر قربانی کئیے بغیر اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں۔ ہم نے ان سے درخواست کی کہ آپ بھی اس موذی وبا کے موسم میں اپنے آپ سے مل لیں۔ حاجی صاحب سخت الجھن میں بولے کہ چھوڑو یار دفع کرو مل کر کیا کرنا ہے۔

شیخ صاحب کی توبہ اور حاجی کی الجھن نے میری صبح کی سیر کا سارا مزا کرکرا کردیا۔ میری ہمیشہ سے یہ عادت رہی ہے کہ اگرکسی وجہ سے صبح کی سیر نہ کر پاؤں تو دوبارہ سو جاتا ہوں۔ یہ عادت میری ان چند عادتوں میں شامل ہے جنہیں نہ ہی میں چھوڑ سکتا ہوں اور نہ ہی چھوڑنا چاہتا ہوں۔ رات ایک بجے جب میری آنکھ کھلی تو اتوار کا دن گزر چکا تھا اس لئے اپنے آپ سے ملاقات نہیں ہو سکی۔ واٹس ایپ چیک کیا تو معلوم ہوا کہ حاجی صاحب کو تیز بخار اور خشک کھانسی ہے۔

میرا مفروضہ ہے کرونا وائرس میری طرف آیا ہوگا لیکن میں چونکہ سویا ہوا تھا اس لئے شیخ صاحب کے گھر چلا گیا ہوگا۔ وہاں جاکر اسے معلوم ہوا ہوگا کہ شیخ صاحب تو تائب ہو چکے ہیں اس لئے پتلی گلی سے گزر کر حاجی صاحب کو چمٹ گیا ہوگا۔ اللّہ حاجی صاحب کو صحت یاب کرے اور اگر ان کا وقت برابر آ ہی گیا ہے تو ان کی مغفرت فرمائے۔ گزارش ہے کہ آپ سب لوگ بھی اپنے اپنے گھروں میں سوئے رہیں یا پھر توبہ کر لیں۔ بس رہے نام اللّہ کا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *