یوول نوح حراری: کرونا وائرس کے بعد کی دنیا کیسی ہوگی؟ دوسرا حصہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

درحقیقت اگر لوگوں سے یہ پوچھا جائے وہ صحت اور پرائیویسی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلیں تو یہ ایک درست عمل نہ ہوگا، کیونکہ ہم دونوں چیزوں سے ایک ساتھ فیض یاب ہو سکتے ہیں۔ مطلق العنان احکامات کو نافذ کرنے کی بجائے عوام کو طاقتور بنا کر ہم کرونا وائرس کے خلاف زیادہ صحت مندانہ طریقے سے لڑ سکتے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں جنوبی کوریا، تائیوان اور سنگاپور کی حکومتوں نے کرونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں کامیاب کوششیں کی ہیں۔

اگرچہ ان ممالک نے ٹریکنگ ایپلیکشنز کا استعمال بھی کیا ہے، مگر انہوں نے زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کروانے، ایمان دارانہ رپورٹنگ اور مکمل طور پر باخبر عوام کے تعاون پر زیادہ انحصار کیا۔ لوگوں کو ان کی فلاح و بہود کے پیش نظر دی جانے والی ہدایات پر عمل کروانے کے لیے انہیں مکمل طور پر مانیٹر کرنا اور سخت سزائیں دینا واحد حل نہیں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کو سائنسی حقائق سے آگاہ رکھے، ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے کہ جب حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم ہوگا تو کسی کو بھی ان کی نگرانی کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

مکمل طور پر باخبر اور رضاکارانہ طورپر ہدایات پر عمل کرنے والے باشعور افراد پولیس کے زیر اثر ہانکے جانے والے لاعلم لوگوں کی نسبت زیادہ موثر اور قوی انداز میں کام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر صابن سے اپنے ہاتھ دھونے کی مثال کو دیکھیں، یہ انسانی حفظان صحت کے اصولوں میں سب سے بنیادی چیز ہے اور یہ سادہ سا عمل ہر سال لاکھوں زندگیوں کو بچالیتا ہے۔ انیسویں صدی میں ہی ڈاکٹروں نے ہمیں صابن سے ہاتھ دھونے کی اہمیت سے آگا ہ کردیاتھا، حالانکہ اس سے پہلے ڈاکٹر اور نرسیں بھی ایک آپریشن کے بعد دوسرا آپریشن بغیر ہاتھ دھوئے کر دیتے تھے۔

آج لاکھوں لوگ صابن سے ہاتھ دھورہے ہیں، لیکن اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ حکومتی اداروں سے خوفزدہ ہیں بلکہ اس لیے ایسا کر رہے ہیں کیونکہ وہ حقائق سے واقف ہیں۔ میں نے وائرس اور بیکٹریا کے بارے میں سن رکھا ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے جانداربیماریاں پھیلاتے ہیں، لہذا میں اپنے ہاتھ صابن سے اس لیے دھوتا ہوں تاکہ صابن ان جراثیموں کو دو ر کردے۔

اس سطح تک ہدایات پر عمل کرنے اور تعاون حاصل کرنے کے لیے اعتماد کے رشتہ کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو سائنس، حکومتی کارندوں اور میڈیا پر اعتماد کرنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ سالوں میں غیر ذمہ دار سیاستدانوں نے سائنس، عوامی نمائندوں اور میڈیا پر جان بوجھ کر مکمل اعتماد نہیں کیا ہے۔ اب یہی غیر ذمہ دار نمائندے آمرانہ راستوں پر چلتے ہوئے دلائل دیتے ہیں کہ عوام کی اس بات پر یقین نہیں کیا جا سکتا ہے کہ وہ درست عمل کر رہی ہے۔

عام طور پر جب اعتماد کی بنیادیں سالوں پہلے اکھاڑ پھینکی گئی ہوں ان کو راتوں رات دوبارہ تعمیر نہیں کیا جا سکتاہے۔ لیکن آج صورتحال نارمل نہیں ہے۔ بحران کی گھڑی میں دماغ بھی تیزی سے بدلتے ہیں۔ ایسا عین ممکن ہے کہ آپ کے اپنے بہن بھائیوں میں سے کسی کے ساتھ سالہا سال سے اچھے تعلقات نہ ہوں مگر جیسے ہی کوئی ہنگامی صورتحال کا سامنا ہوتاہے تو آپ کے اندر محبت اور اعتماد ابھرتا ہے اور آپ فوراً مدد کرنے کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔

ابھی بہت دیر نہیں ہوئی ہے اسی لیے نگرانی کے دستور واضح کرنے سے بہت بہتر ہے کہ عوام کا سائنس، حکومتی کارندوں اور میڈیا پر اعتماد بحال کیا جائے۔ یقینا ہمیں جدید ٹیکنالوجیز کو استعمال کرنا چاہیے مگر ان کا مقصد کلی طور پر عوام کو با اختیار اور مضبوط بنانا ہونا چاہیے۔ میں اس بات کی حمایت کرتا ہوں کہ میرے جسم کے درجہ حرارت اور بلڈ پریشر کو مانیٹر کیا جائے مگر یہ سارا ڈیٹا ایک طاقتور حکومت کو جنم دینے کے لیے استعمال نہ کیا جائے، بلکہ اس ڈیٹا کا مقصد مجھے ذاتی پسند ناپسند کا تعین کرنے کے لیے زیادہ باخبر شخص بنانے کے لیے ہونا چاہیے۔ مزید یہ ڈیٹا مجھے اس قابل بھی بنائے کہ میں حکومت سے اس کے کیے گئے اقدامات کے بارے باز پرس کرسکوں۔

اگر میں دن میں چوبیس گھنٹے اپنی طبی حالت کا جائزہ لے سکوں تو اس سے میں نہ صرف میں یہ جان سکوں گا کہ کیا میں دوسرے لوگوں کی صحت کے لیے مسئلہ بن گیا ہوں، بلکہ میں اپنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات بھی کر سکوں گا۔ اس لیے اگر میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے قابل اعتماد اعدادو شمار تک رسائی حاصل کر سکوں تو میں یہ ذاتی طور پر جانچ سکوں گا کہ کیا حکومت سچ بتا رہی ہے اور کیا وہ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے درست اقدامات اٹھا رہی ہے۔ جب کبھی لوگوں کی نگرانی کی بات کی جاتی ہے تو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جو ٹیکنالوجی حکومت عوام کی نگرانی کے لیے استعمال کرتی ہے وہی ٹیکنالوجی عوام حکومت کی نگرانی کے لیے بھی استعمال کر سکتی ہے۔

کرونا وائرس کی یہ وبا آپ کی شہریت کا سب سے بڑا امتحان ہے۔ آنے والے چند دنوں میں ہمیں سائنسی اعداد و شمار اور صحت کے ماہرین، اور بے بنیاد سازشی تھیوریاں اور خود غرض سیاستدانوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ اگر ہم درست انتخاب کرنے میں ناکا م ہو گئے اور موخر ذکر امر کو ہماری صحت کا واحد محافظ مان لیا تو ہم اپنی بیش قیمت آزادی اور فکر سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

yuval noah harari

ہمیں عالمگیر منصوبے کی ضرورت ہے

وائرس کو شکست دینے کے لیے اولین کوشش یہ ہے کہ عالمی سطح پر معلومات کا تبادلہ کیا جائے اور انسان کو اس لحاظ سے وائرس پہ فوقیت حاصل ہے۔ کیونکہ چینی کرونا وائرس اور امریکی کرونا وائرس انسانوں کو زیادہ بہتر انداز میں متاثر کرنے کے لیے آپس میں معلومات کا تبادلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ لیکن چین اور امریکہ کرونا وائرس سے نپٹنے کے لیے کافی کارآمد معلومات کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔ ایسا عین ممکن ہے کہ اٹلی کے ایک ڈاکٹر نے میلان کے شہر میں صبح کے وقت جو سیکھا ہو اس سے تہران میں شام کے وقت زندگیوں کو بچایا جا سکے۔

جب برطانوی حکومت کچھ اقدامات کو اٹھانے سے ہچکچا رہی ہو تو وہ کوریا کی حکومت سے مشورہ لے سکتی ہے، کیونکہ ٹھیک ایک مہینہ پہلے اسے بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا تھا۔ لیکن اس خواب کے شرمندہ تعبیر ہونے کے لیے عالمی تعاون اور اعتماد کے رشتہ کی ضرورت ہے۔ ممالک کو چاہیے کہ کھلے دل سے معلومات کا تبادلہ کریں، انکساری سے مشورہ مانگیں اور ملنے والی معلومات پر اعتماد کریں۔ ہمیں میڈیکل آلات خاص طور پر ٹیسٹنگ کٹس اور وینٹی لیٹر بنانے اور تقسیم کرنے کے لیے عالمگیر کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔

اگر ہر ملک اپنی سطح پر ان آلات کو بنانے کی کوشش کرے گا تو پھر اسے جس طرح کا بھی میڑیل ملے اسی پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ اس لیے عالمی برادری کی مشترکہ کوشش پیداوار کو بہت زیادہ تیز کر سکتی ہے۔ جس کی بدولت زندگی بچانے والے آلات کی تقسیم احسن انداز میں طیکی جا سکے گی۔ جس طرح ملک جنگ کے دوران اہم صنعتوں کو قومیالیتے ہیں۔ عین اسی طرح کرونا وائرس کے خلاف ہمیں انسانوں کو ایک ساتھ متحدہ کرکے یہ اہم ترین آلات بنانے ہوں گے۔ ایک امیر ملک جسے چند کرونا وائرس مریضوں کا سامنا ہے وہ کسی بھی غریب ملک کو یہ قیمتی آلات بھجوا سکتا ہے۔ ایسا صرف اس وقت ممکن ہے جب اس ملک کو یہ اعتماد ہوگا کہ جب اسے مدد کی ضرورت ہوگی تو باقی ممالک اس کی مدد کے لیے آئیں گے۔

بالکل اسی طرز کی ایک عالمی کوشش میڈیکل عملہ کا گروہ بنانے کی ہے۔ ایسے ممالک جہاں ابھی اس وباء نے زیادہ لوگوں کو متاثر نہ کیا ہو وہ اپنا میڈیکل عملہ زیادہ متاثرہ علاقوں میں بھیج دیں تاکہ وہ دوسروں کی مدد کے ساتھ ساتھ تجربہ بھی حاصل کرسکیں اور اگر بعد میں یہ وباء اسی ملک میں پھیل جائے جہاں سے یہ عملہ آیا تھا تو ساری امداد کا رخ اس ملک کی طرف ہو جانا چاہیے۔

معاشی سطح پر بھی عالمگیر تعاون کی ضرورت ہے۔ معیشت اور اس کی رسد کو عالمگیر سطح پردیکھے جانے کی ضرورت ہے، کیونکہ ہر حکومت مکمل طور پر صرف اپنے بارے میں سوچے گی تو نتیجتاً بحران کے اثرات زیادہ گھمبیر اور تباہ کن ہوں گے۔ ہمیں ایک عالمی لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے اور ہمیں یہ سب جلد از جلد کرنا ہوگا۔

اس کے علاوہ سفرکے حوالے سے عالمی معاہدہ ہونے کی ضرورت ہے۔ انٹرنیشنل سفر کی بند ش سے ان گنت مشکلات پیدا ہوں گی اور کرونا وائرس کے خلاف لڑائی میں یہ ایک بہت بڑی رکاوٹ ہوگی۔ ممالک کو سائنسدانوں، ڈاکٹروں، صحافیوں، سیاستدانوں اور کاروباری حضرات سمیت چند ایک اہم افراد کے بین الاقوامی سفر کے لیے تعاون کی ضرورت ہے۔ عالمی معاہدہ کے ذریعے ایسا ممکن ہے کہ ہر مسافر اپنے ملک سے سکریننگ کے عمل سے گزر کر آیا ہے۔ اگر آپ کو علم ہو کہ صرف محتاط سکریننگ کے عمل سے گزرے مسافروں کو ہی جہاز پر اجازت دی گئی ہے تو آپ بخوشی انہیں اپنے ملک میں داخلہ کی اجازت دے دیں گے۔

بدقسمتی سے اس وقت کوئی بھی ملک ان میں سے کسی بھی لائحہ عمل پر غور نہیں کر رہا ہے۔ ایک مشترکہ فالج نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ان حالات میں کوئی بھی بالغ العقل راہنما نظر نہیں آتا ہے۔ مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کے لیے کچھ ہفتے پہلے عالمی راہنماؤں کی ہنگامی میٹنگ متوقع تھی۔ حالیہ ہفتہ میں جی سیون کے ارکان کی ویڈیو کانفرنس میٹنگ ترتیب دی گئی مگر کوئی کارآمد نتیجہ سامنے نہ آسکا۔

yuval harari

2008 کا معاشی بحران اور 2014 کی ایبولا وبا ء میں امریکی صدر نے عالمی راہنما کا کردار ادا کیا تھا، لیکن موجودہ امریکی انتظامیہ نے اس منصب کو سنبھالنے سے انکار کردیا ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسے محض امریکہ کو بہتر سے بہتر تر بنانے کی فکر ہے اور باقی انسانیت کے مستقبل کی انہیں کوئی فکر نہیں ہے۔

موجودہ انتظامیہ نے اپنے قریب ترین اتحادی کو بھی چھوڑ دیا ہے۔ جب اس نے یورپی یونین کے ساتھ ہر قسم کا سفر بند کردیا تو اس نے ان ریاستوں کو پیشگی اطلاع دینا بھی ضروری نہ سمجھا۔ کم از کم یہ سنگین اقدامات اٹھاتے ہوئے یورپی یونین سے تو ایک بار پوچھا جانا چاہیے تھا۔ اس نے جرمنی کی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے غیر قانونی طور پر جرمن فارماسیوٹیکل کمپنی کو ایک بلین ڈالر دے کر نول کووڈ نائنٹین کی ویکسین پراجارہ داری کے حقوق خریدے ہیں۔

اگرچہ ابھی بھی یہ انتظامیہ بتدریج اپنا طریقہ کار بدل لیتی ہے اور بین الاقوامی لائحہ عمل ترتیب دے لیتی ہے، تب بھی چند ایک ممالک ہی ایک ایسے راہنما کے ساتھ چلیں گے جو کبھی بھی اپنی ذمہ داری قبول نہیں کرتا ہے اور نہ ہی اپنی غلطی مانتا ہے، بلکہ وہ تمام تر نیک نامی اپنے لیے رکھ کر دوسرے لوگوں پر الزامات لگا دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے نا صرف اس وبا ء کو روکنا مشکل ہو جائے گا بلکہ اس امر کے اثرات بین الاقوامی تعلقات کو بھی زہر آلود کردیں گے۔ تاہم ہر بحران کے اندر ایک موقع بھی ہوتا ہے۔ ہمیں ضرور یہ امید رکھنی چاہیے کہ حالیہ وباء انسانیت کو یہ باور کروا دے گی کہ عالمی سطح پر نفاق شدید نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

انسانیت کو انتخاب کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم باہمی تفرقے اور پھوٹ کے راستے پر چلیں گے یا پھر ہم عالمگیر یکجہتی کی راہ اپنائیں گے۔ اگر ہم تفرقہ کی راہ کو اپنائیں گے تو اس سے ناصرف بحران کا دورانیہ لمبا ہو جائے گا بلکہ مستقبل میں بھیانک نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ اگرہم بین الاقوامی اتحاد کو اپنائیں گے تو یہناصرف ہماری کرونا وائرس کے خلاف فتح ہوگی بلکہ ان تمام وباؤں اور بحرانوں کے خلاف فتح ہوگی جن کا اکیسویں صدی میں انسانیت کو سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

ترجمہ: زبیر لودھی

یوول نوح حراری کا یہ آرٹیکل Financial Times میں شائع ہوا تھا جس کا لنک نیچے دیا جا رہا ہے

https://www.ft.com/content/19d90308-6858-11ea-a3c9-1fe6fedcca75

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *