وبا کا ایک دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فجرکے بعد سونا بھی ایک طرح سے فرائض میں شامل ہے۔نیند پوری کر کے میں اٹھا اور مچی مچی آنکھوں کے ساتھ دروازہ کھول کر بالکونی تک پہنچا، اخبار ابھی تک نہیں آیا تھا۔اخبار اور ناشتے کے درمیان ایک نامعلوم سا وقفہ ہوتا ہے لیکن یہ وقفہ طویل ہوگیا توآنکھیں کھل گئیں۔لاک ڈاؤن کی بات کئی روز سے چل رہی تھی ، ہو گا یا نہیں ہو گا،واضح نہیں تھا۔

کراچی سے کچھ آواز آتی تھی ،اسلام آباد سے کچھ اور۔ایک بزرگ ہوا کرتے تھے، میر نبی بخش خان زہری۔ یہ صاحب بھٹو صاحب کے زمانے میں ان ہی کی جماعت کی طرف سے سینیٹر تھے۔یہ زمانہ گزرا اور جنرل ضیا کے زیر انتظام جمہوریت ’’جڑ ‘‘پکڑنے لگی تو انھوں نے اس کا ساتھ بھی پرجوش طریقے سے دیا ۔کراچی کی شاہراہ فیصل پر جہاں ’’مشرق‘‘ مرحوم کا دفتر ہوا کرتا تھا، اس کے تقریباً سامنے ہی ایک گلی ان کے نام سے منسوب تھی۔اسی گلی کے ایک عظیم الشان بنگلے میں وہ رہا کرتے تھے۔

ایک پریس کانفرنس میں کسی گستاخ نے عجب سوال پوچھا کہ میر صاحب! یہ کیا ہوا کہ کل تک آپ کسی اور کا گیت گاتے تھے، آج کسی اور کا گارہے ہیں تو مسکرا دیے اور کہا کہ قوم کی خدمت کرنے کے لیے طاقت کا ساتھ بھی ضروری ہوتا ہے۔بس، یہی اصول اپنے ذہن میں بھی تھا،اس لیے سوچا کہ آج تو دفتر جاتے ہیں ،بعد کی بعد میںدیکھی جائے گی لیکن اس صبح نے تو سارا منظر ہی بدل ڈالا ہے۔

ٹیلی ویژن کی شہرت ایک زمانے میں خبر کے لیے معروف تھی، اب یہ آلہ انفوٹینمنٹ کا کام کرتا ہے ،ا س لیے صبح کی نشریات گھر کی بیبیاں تو توجہ سے دیکھتی ہیں لیکن مردوں نے کبھی نگاہ ڈالی کبھی نہ ڈالی لیکن آج میک اپ، رے سی پی اور ورزش کی نت نئی ترکیبیں بتانے والی اینکر کی سنجیدگی ختم ہونے کانام ہی نہ لیتی تھی ،تو کورونا سے اس نے بھی خوب اثر قبول کیا، میں نے سوچا۔ابھی چائے کی دو چسکیاں ہی لی ہوں گی کہ اخبارات کا بنڈل دھم سے بالکونی میں آگرا اور میں یہ سب چھوڑ چھاڑ باہر کی طرف بھاگا لیکن اہلیہ راستے میں آگئیں ، تنبیہ کی کہ خبردار جو ایک قدم بھی آگے بڑھایا۔

’’ بھلی مانس! اخبار تو پڑھنا ہی ہے نا!‘‘۔’’ضرور پڑھئے لیکن یہ اخبار تو ہرگز نہیں، جانے کس کس کے ہاتھوں سے گزر کر آئے ہوں گے؟‘‘۔ سانس لینے کو لحظہ رکیں پھر کہا کہ میں تو انھیں ہاتھ تک نہ لگانے دوں گی، ہاتھ کیا، گھر کے اندر نہیں آنے دوں گی۔لیجیے صاحب! ایک نئی مصیبت آکھڑی ہوئی ہے۔اب بتائیے بھلا، اخبار کے بغیر صبح کیسے شروع ہو؟رنج کے اس عالم میں خیال کی رو جانے کہاں کہاں تک پہنچی ۔ توجہ پھر ٹیلی ویژن کی طرف مبذول ہوئی تو جانے کیا بات کان میں پڑی اور کیا منظر دیکھا کہ جذبات ذرا تھم گئے اور میں نے سوچا کہ اِن حالات میں کہتی تو یہ خاتون ٹھیک ہی ہیں لیکن۔۔۔لیکن والی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ اس منظر میں ایک بچہ بھی داخل ہوگیا۔ کورونا کے غلغلے میں جب سے چھٹیاں ہوئی ہیں، بچوں نے بھی دیر سے اٹھنا شروع کردیا ہے۔

کچھ باتیں سامنے کی ہوتی ہیں لیکن ان کا سبب یا بنیاد معلوم نہیں ہوتی یا ہم ان کے اتنے عادی ہوجاتے ہیں کہ جاننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے لیکن جیسے ہی معمول میں کچھ فرق پڑتا ہے،دل پر گھونسہ سا آلگتا ہے۔اب میں یاد کرتا ہوں تو ذہن میں بالکل نہیں آتا کہ یہ روایت ہمارے گھر میں کب اور کیسے پڑی کہ بچہ جب صبح اٹھتا تو سب سے پہلے لپک کر بزرگوں کی گود میں آگرتا۔ بچے بڑے ہوئے تو اس معمول میں ذرا تبدیلی آئی اور انھوں نے گلے ملنا شروع کردیا۔

بیٹی کو دیکھ کر ماں نے بازو پھیلا دیے لیکن بیٹی نے دور ہی سے انگشت شہادت کو دائیں سے بائیں حرکت دیتے ہوئے اعلان کیا کہ Social Distanceاماں، Social Distance، لیجیے صاحب، دیکھتے ہی دیکھتے گھر کی اقداراور روایات بھی بدلنے لگی ہیں۔ ہماری نسل کو نوجوانی کے زمانے میں باغی اور ناراض نسل گردانا گیا تھالیکن آج اسی باغی نسل کا ایک نمایندہ گھر کی ایک پرانی روایت کے یوں یکایک بدل جانے پر دل مسوس کر بیٹھا ہے۔

تعلیمی اداروں کے کیمپس جب سے بند ہوئے ہیں، انھوں نے فاصلاتی تعلیم کا نظام قائم کردیا ہے جب دیکھو بچے لیپ ٹاپ لگا کر بیٹھے ہیں اور اس کی اسکرین پر بچوں کے ہم جماعت جگمگا رہے ہیں۔کیمپس کی زندگی کی اپنی آب و تاب ہوتی ہے جن دنوں کراچی میں فسادات ہوا کرتے تھے،ہم لوگ اس زمانے میں بھی کسی نہ کسی طریقے سے کیمپس پہنچ ہی جایا کرتے، خاص طور پر لڑکے ۔ چند ایک لڑکیاں بھی ہوتیں،ان میں ایک عشرت معین بھی تھی، دوستوں نے جانے کیوں اسے سیمی کہنا شروع کردیا تھا،وہ دن اور آج کا دن، دنیا بھر میں اب وہ سیمی کے نام ہی سے جانی جاتی ہے۔اللہ اسے سلامت رکھے، جرمنی میں اس نے اردو کا پرچم بلند کر رکھا ہے۔حالات میں کتنی ہی خرابی کیوں نہ ہو، سیمی ہمیشہ یونیورسٹی پہنچ جاتی۔

ایک روز میں نے اس سے پوچھا کہ یار، ہم تو چلو ہاسٹل والے ہیں، تم کیسے پہنچ جاتی ہو ، گھر والے تمھیں روکتے نہیں؟ ’’ ان کا بس چلے تو گھر سے نکلنے ہی نہ دیں، میں صبح ہی صبح اخبار اٹھا کر دوچھتی پر پھینک دیتی ہوں تاکہ انھیںحالات کی خبر نہ ہونے پائے اور خود پوائنٹ پکڑ کر یہاں آجاتی ہوں، اس نے راز کھولا۔ اب اِس نسل کو دیکھیے، اخبار کے معاملے میں ماں کی ہم خیال ہے اور کیمپس میں اس کا دل خال ہی لگتا ہے، گویا اس وبا نے تعلیم کی دنیا ہی بدل ڈالی ہے۔

یہ دیکھیے، ٹیلی ویژن نے کیا خبر دے دی؟ ابھی تک کراچی والے ہی تھے جو زہری صاحب کی زبان میں طاقت کے مرکز کی مان کر نہیں دے رہے تھے لیکن اب تو لاہور، پشاوراور کوئٹہ، گلگت حتیٰ کہ مظفر آباد  والے بھی اسی زبان میں بات کررہے ہیں، یہ کیا کایا کلپ ہوئی ہے؟ اللہ ہی جانے لگتا ہے وبا جمی جمائی روایات ہی کو تلپٹ نہیں کر رہی ، سیاست میں بھی نئے حقائق شامل کررہی ہے،کیا سائبر ٹیکنالوجی کی معرفت متعارف ہونے والی ورچوئل دنیا میں ایک صفحے کا تصور بھی بدل رہا ہے؟واللہ اعلم۔

ماسی کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لفظ ماںسی تھا جو سمٹ کر ماسی بنا تو اس کی قدر ہی نہ رہی اور یہ لفظ گھرمیں صفائی ستھرائی کرنے والی مزدور خواتین کے لیے استعمال ہونے لگا۔ کئی روز ہوگئے، ماسی کو گھر میں داخلے کی اجازت نہیں ، لہٰذا خاتون خانہ کی مصروفیت بڑھ چکی ہے۔ تھکن اعصاب کے لیے مناسب نہیں ہوتی ،کیا خبر اس کے اثرات کیسے ہوں اور کیاخبر لائیں؟ اللہ خیر کرے۔کہنے لگیں کہ کچھ گروسری کرنی ہے۔ ذرا مارکیٹ تک ہو آؤں، پھر خود ہی کچھ سوچ کر فیصلہ بدلا اور ایک ایپ کی مدد سے آلو ، پیاز، سبزی ،دال چاول وغیرہ کا آرڈر کیا۔ سامان پہنچانے والا ہر کارہ جلد ہی لدا پھندا آن پہنچا۔اب ایک نئی پریشانی ہے، اس سے سامان کون وصول کرے؟

یہ کام مارے باندھے میں نے کر ڈالا ہے لیکن ادائیگی کے بعد کچھ رقم اس نے واپس بھی کی تھی، خاتون کو اس کی ’’پاکیزگی‘‘ پر شبہ ہے۔ اللہ کی شان ہے،پیسہ کبھی ہاتھ کا میل ہوا کرتا تھا، اب اسی میل سے ڈر لگ رہا ہے؟ کیا کرنسی کی شکل بھی بدلے گی؟ ابھی ابھی بینکوں نے کچھ نئے قوانین کا اعلان کیا ہے جن سے نوٹوں کی گردش محدود ہو جائے گی، آگے کیا ہونے والا ہے؟خدا جانے۔

کچھ دن ہوئے ایک فلم دیکھی تھی، چین یا شاید امریکا نے ایک روبوٹ بنایا تھا جو دکان سے سودا سلف اٹھاتا،ڈبے میں بند کرتا اور راستے ٹٹولتا ہواگاہک کے دروازے تک جا پہنچتا۔ آج میں نے سامان پہنچانے والے لڑ کے کا سامنا کرنے اور اس سے سامان وصول کرنے میں جو رد وقدح دیکھی ، اِس نے اُس روبوٹ کی یاد دلا دی۔ کیا ایسے روبوٹ ہماری زندگیوں میں داخل ہو جائیں گے؟برتن دھونے اور صفائی ستھرائی والے روبوٹ تو بہت پہلے ہی آزمائے جاچکے ہیں۔

لیجیے، ایک اور ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے، کورونا کے ہنگامے میں دفتر جانے کے ارادے پر تو اوس پڑ ہی چکی تھی لیکن اب اس دوا کا کیا کریں جو دوپہر کے بعد لینی ہوتی ہے؟ ابھی کوئی ایسی ایپ نہیں بنی جس کے ذریعے دوائیں منگوائی جاسکیں۔میں نے کان لپیٹے، دراز سے ماسک نکالا اورخاموشی کے ساتھ مارکیٹ چلا گیا،بڑی احتیاط سے فاصلے پر کھڑے ہو کردوائیں خریدلی ہیں لیکن گھر پہنچتے پہنچتے چھینکیں شروع ہو چکی ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ ہوا میں خنکی تھی اور آسمان سے پانی بھی برس رہا تھا لیکن وہم کا کیا کروں؟ کورونا کے خوف نے عجیب بے چینی پیدا کر رکھی ہے۔

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *